متعصب مودی کی سیاسی ارتھی خوداپنے ہاتھوں
  1  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) عوام کب اپنی رائے بدل دیں ،یہ نہیں کہاجا سکتا ۔مسئلہ کسی ریاست میں کسی پارٹی کے برسراقتدارآنے یانہ آنے کانہیں ہے، بات یہ ہے کہ محض حصول اقتدارکیلئے ملک کوکتناکھوکھلاکیاجا رہاہے، یہ صورت حال یقیناًخطرناک بھی ہے اورپریشان کن بھی۔ نریندرمودی نے اپنے جلسوں میں پاکستان کے خلاف انتہائی بھونڈاالزام عائدکیا ہے۔اس سازش میں اپنی مخالف جماعت کانگرس اور پاکستان کے بعض ایسے زعماء پرالزامات کی بوچھاڑکی ہے جن پرخودبھارت میں معمولی فہم کامالک بھی انگلی نہیں اٹھاسکتا۔سابق پاکستانی وزیرخارجہ خورشیدمحمودقصوری بھارت کے بعض سنجیدہ فکررہنماؤں کی ایک ضیافت میں گئے تومودی نے الزام لگایاکہ اس ضیافت میں ان کی حکومت کے خلاف سازش کرکے انہیں گجرات کے الیکشن میں شکست سے دوچارکرنے کامنصوبہ بنایاگیاجبکہ قصوری صاحب نے اسے مستردکرتے ہوئے کہاکہ کیاضیافت میں شریک من موہن سنگھ اوردیگرسیاسی رہنماء بھی اس سازش میں شریک ہیں؟مودی کے اس بیہودہ الزام کاپاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی نوٹس لیتے ہوئے جواب دیاکہ مودی سرکاراوراس کے ذمہ داروں کو اپنے معاملات میں پاکستانی سازش دیکھنے کی بجائے یہ معاملات خودحل کرنے پرتوجہ مبذول کریں اوربھارت میں بسنے والی اقلیتوں سے تعصبات کاروّیہ ترک کرکے جمہوری روّیے پرتوجہ دیں۔ بھارتی صوبہ گجرات کے انتخابات کی مہم کے بعدبھی بی جے پی کااقتدارسنگین خطرات سے دوچار ہے اورتین گجراتی نوجوان بی جے پی کے ۲۲سالہ اقتدارکوزمین بوس کرتے نظرآرہے ہیں ۔ ان نوجوانوں میں ایک کم عمرباروک پٹیل ہے۔ پائیدارانامت اندولن سمتی(پی اے اے ایس..... (پاس).....)کے کنوینرباروک پٹیل کوسیاست کے میدان سے الگ کرنے کیلئے بی جے پی بزرجمہروں نے اس کوجنسی سکینڈل میں ملوث کرنے کی سازش کی۔اس کی شبیہ کے حامل نوجوان کی تین غیراخلاقی سی ڈیزجای کیں اوراگلے روزبھڑوج کے ایک موضع میں لگ بھگ دس ہزارلوگ جمع ہوئے۔لوگ دیکھناچاہتے تھے کہ ۴۲سالہ نوجوان سی ڈیزکی تشہیرکے بعد کیا ردّعمل ظاہرکرتاہے جیسے ہی باروک کی گاڑیوں کا قافلہ جلسہ گاہ پہنچا،پٹیل کمیونٹی کی ۰۱لڑکیوں نے باروک کے ماتھے پرتلک لگاتے ہوئے اس کااستقبال کیاجواس بات کاواضح اشارہ تھاکہ بی جے پی کی یہ گھناؤنی سازش دم توڑگئی ہے اورباروک کااپنی کیمونٹی سے رشتہ انتہائی مضبوط ہے۔باروک نے اپنی تقریرمیں بی جے پی کے کرداروعمل کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایسی دھجیاں اڑائیں کہ سارامجمع اچھل پڑا،یہ چال الٹی پڑگئی اورباروک کی مقبولیت میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوگیااوریوں وہ اب اپنی کیمونٹی کاہیروبن گیاہے۔ چندروزبعدباروک نے کانگرس کے ساتھ اتحادکااعلان کردیاکیونکہ کانگرس نے ان کے کلیدی مطالبات مان لئے مثلاً پٹیل کیمونٹی کیلئے ریزرویشن، احمدآبادمیں ۵۲/اگست ۵۱۰۲ء کی ریلی کے بعدسے پٹیل برادری پرمظالم کی تحقیقات کیلئے کمیشن کاقیام،بی جے پی کاسب سے بڑاانتخابی دردِ سربن جانابلاشبہ گجرات الیکشن کی سب سے بڑی کہانی ہے لیکن معاملہ تنہاباروک پٹیل تک محدودنہیں ہے،دودیگرسیاسی چیلنجزنے بی جے پی کیلئے مزیدمشکلات یقینی بنائے رکھیں۔دودیگرگجرانی نوجوانوں(اپیش ٹھاکور، جنیش میواتی) دہشتگردمودی کیلئے وبالِ جان بنے ہوئے ہیں۔چالیس سالہ اپیش ٹھاکورکمیونٹی لیڈرہے،اس نے اکتوبرمیں کانگرس میں شمولیت اختیارکی تھی۔وہ ضلع پٹن میں رادھن پورسیب الیکشن لڑا۔ ۶۲سالہ جنیش میواتی ایک دلت لیڈرہے،وہ اسمبلی کے حلقہ وڈکام سے آزادامیدوارکی حیثیت سے انتخابی میدان میں اترا،اس کی حمائت میں کانگرس نے کوئی امیدوارکھڑانہیں کیا۔تینوں نوجوانوں کی تثلیث کانگرس کیلئے انتہائی بروقت سہارااوربی جے پی کیلئے سوہان روح بن چکی ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات منعقدہ ۲۱۰۲ء میں بی جے پی اورکانگرس کے درمیان حاصل شدہ ووٹوں کے تناسب کافرق دس فیصدتھا۔بی جے پی نے۸۴222اور کانگرس نے ۸۳ 222ووٹ حاصل کیے تھے۔بی جے پی کی ۵۱۱نشستوں والی کامیابی کئی حلقوں میں کانٹے دارمقابلے کے بعدریکارڈ ہوئی تھی جہاں اس نے محض پانچ ہزاریااس سے کم ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔بی جے پی کی کامیابی کیلئے ایک اورپریشانی یہ ہے کہ کانگرس پارلیمانی انتخابات میں متواترپانچ بارشکست سے دوچارہونے کے باوجودبیباک حریف کے طورپرڈٹی رہی۔اس کے ووٹ کاتناسب بھی ۴۳222سے کم ترنہیں ہوا۔ مودی کے انتخابی جلسوں سے عوام کی بیزاری اورجلسہ گاہ میں خالی کرسیوں کے نظارے میڈیامیں ان کی تذلیل وتضحیک کاموضوع بنے ہوئے ہیں۔اگرچہ بی جے پی نے دھاندلی اوراداروں کی مددسے میدان مارلیاہے لیکن ایسی بھلاکامیابی بھی کس کام کی جہاں کامیاب ہونے کے بعدبھی شکست وریخت کاساعالم رہے۔ مودی کوموجودہ جیت پرہزیمت کاسامناہے کہ اس کے ریاستی صدر ستیال سنگھ ستی اورپریم کماردھومل بھی ریت کی دیوارکی طرح بری طرح زمین بوس ہوگئے اورپھروہ وقت دورنہیں جب گجرات کے عوام بی جے پی سے متنفرہوکرمودی کوشکست سے نہ صرف ہمکنارکریں گے بلکہ گجرات کے بیگناہ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے اس قصاب کاسیاسی جنازہ خودان کے عوام کے ہاتھوں بڑی دھوم دھام سے نکلے گا ۔ جب کوئی پارٹی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کومختلف مصائب میں مبتلاکرکے اپنے ایجنڈے کی تکمیل چاہتی ہے تویہ ملک کی ترقی کی علامت نہیں ہے۔پارٹی یاذاتی مفاد کی خاطرملک کے عظیم ترمفادات کو داؤ پرلگادیناکسی بھی طورپرملک کی خدمت قرارنہیں دی جاسکتی۔ملک کی روایتی رواداری آج ختم ہوتی جارہی ہے ۔تنقیدبرداشت نہیں کی جارہی اورصحافت کے کیااصول ہوں اس کادرس حکومت کے ایوانوں میں دیاجارہاہے۔۔ملکی سیاست کواس قدرآلودہ کردیاگیاہے کہ اب مسلمان صرف مسلمان کواورہندوصرف ہندوکو ووٹ دیناچاہتاہے اوراس کی تماترذمہ داری بی جے پی کے یکطرفہ اورمتعصبانہ روّیہ ہے۔تاریخی مقامات کوبیرونی حملہ آوروں کی نشانیاں قرار دیکرانہیں منہدم کرنے کا متعصبانہ بیانات جاری کرکے اپنے ہندوووٹرکو بیو قوف بنایا جارہا ہے۔کیابی جے پی کی حکومت ’’تاج محل‘‘ کوسیاحوں کیلئے بندکرکے اس سے حاصل ہونے والی آمدنی سے انکارکرکے اپنے اخلاص کاثبوت دے سکتی ہے؟آئندہ کیلئے دہلی کے لال قلعے میں کسی بھی سرکاری تقریب کے انعقادسے انکار کا اعلان کرنے سے انہیں بھلاکس نے روک رکھاہے؟سوال یہ ہے کہ آیااب یہی مسائل رہ گئے ہیں جس پرعوام کی توجہ مرکوزکرکے انہیں حقیقی مسائل پرغوروفکرکرنے کابھی موقع نہیں دیاجارہا؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved