2017ء کیسے گزرا
  4  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

صرف سال بدلتے ہیں خواہشیں نہیں بدلتیں ۔ حالات نہیں بدلتے۔ضرورتیں نہیں بدلتیں ۔خوشیاں زیادہ نہیں ہوتیں ۔غم کم نہیں ہوتے۔لیکن اس کے باوجود ہم نئے سال کے جشن مناتے ہیں ۔مبارکبادیں دیتے ہیں ۔اہلِ علم اور اہلِ دانش ہر سال کا حساب ضرور لگاتے ہیں کہ یکم جنوری سے لے کر 31دسمبر تک ہم نے کیا کھویا کیا پایا۔پاکستان کا2017ء غم و خوشی کے ملے جلے جذبات میں گزر گیا۔ہمیں غم میں مبتلا کرنے میں ہمارے دشمنوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ہمیں پریشان کر نے میں ہمارے اپنوں نے بھی کوئی دقیقہ ضائع نہیں کیا۔تمام تر کامیابیوں ، آسانیوں اور خوشیوں کے باوجود پاکستان کا ہر شہری پریشان ہی رہا۔پاکستان کبھی ناجائز بے انصاف فیصلوں کی زد میں رہا ۔ کبھی دھرنوں ، سڑکو ں پر رکاوٹوں اور میڈیا پر فضول گالیوں اور بے ہودہ گفتگو کی زد میں رہا۔کبھی آہستہ اور خاموشی سے موٹروے ٹیکس بڑھ جانے کا شکار ہوا۔اگر میں صرف غم کے ایام کو یاد کر وں تو21جنوری کو سبزی منڈی پارا چنار میں خود کش دھماکہ ہواجس میں25لوگ شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ 16فروری کو لال شہباز قلندر سیہون شریف پر خود کش حملہ ہوا جس میں 90لوگ شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔12مئی سینیٹ کے ڈپٹی چئیرمین مولانا عبدالغفور حیدری کے قافلے پر قاتلانہ حملہ ہوا۔جس میں وہ خود تو محفوظ رہے لیکن ان کے ساتھی شہید ہوگئے۔23جون کو کوئٹہ پارا چنار میں دھماکے ہوئے جس میں پھر90سے زیادہ لوگ شہید ہوئے۔28جولائی کو منتخب وزیراعظم میاں نواز شریف کو ناکردہ گناہ میں نااہل قرار دے کر پاکستان کی چولیں ہلا دی گئیں ۔24نومبر کو خودکش حملہ آور نے حیات آباد پشاور میں اے آئی جی اشرف نور کی گاڑی پر حملہ کر کے ان کو شہید کر دیا ۔9نومبر کو کوئٹہ میں ڈی آئی جی حامد شکیل کو شہید کر دیا گیا۔12اگست یعنی یومِ آزادی سے صرف ایک دن پہلے کوئٹہ میں خودکش حملہ کر کے درجنوں لوگوں کو شہید کر دیا گیا۔اکتوبر میں تربت بلوچستان کے قریب 20لوگوں کو بس سے اتار کر شہید کیا گیا۔یہ سارے لوگ پنجابی تھے۔انسانی سمگلروں کے جھانسے میں آکر ایران کے راستے ترکی اور پھر یورپ جانا چاہتے تھے ۔ 17دسمبر کو کوئٹہ چرچ پر خودکش حملہ کر کے تقریباً 9لوگوں کو شہید اور 57کو زخمی کیا گیا۔15اکتوبر میں ضلع جھل مگسی کے صدر مقام گندھاوا شہر میں ایک مزار کے عرس پر خودکش حملہ کر کے 18کے قریب لوگوں کو شہید اور200سے زائد لوگوں کو زخمی اور ناکارہ بنا دیاگیا۔18جون کو پارا چنار میں خود کش حملہ کر کے 80لوگوں کو شہید اور 190لوگوں کو زخمی کر دیا گیا۔الزام لگا کر ڈومو رکا کہتے ہیں انہیں بتایا جا سکے کہ پاکستان خود بہت بڑی دہشت گردی کا شکار ہے۔جو واقعات میں نے اپنے کالم میں لکھے ہیں یہ دہشت گردی کے واقعات میں سے شاید 25فیصد بھی نہیں ہیں ۔دہشت گردی کے ان واقعات میں خاران میں ایف سی کے پانچ اہلکار وں پر آئیل ٹینکر چڑھا کر شہید کرنے کا سب سے آخری واقعہ ہے۔غم کے تمام واقعات اور رکاوٹوں کے باوجود پاکستان ترقی کے زینے پر بھی اپنی پوری رفتار سے چڑھتا رہا۔سب سے پہلے بلوچستان کا ہی ذکر کرنا چاہتا ہوں کہ اس سال کچھی کینال کا افتتاح ہوا جس سے14لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہوگی۔اور یہ ساری زمین ڈیرہ بگٹی اور بگٹی قبائل کے علاوہ قریب ترین لوگوں کی زمینوں اور بنجر زمینوں کو سیراب کرنے سے علاقے میں ترقی کا انقلاب لا رہی ہے۔گوادر اور سی پیک پر بھی زور و شور سے کام جاری ہے۔پنجاب میں اوریج ٹرین کے پراجیکٹ کو تیز رفتاری سے مکمل کیا جا رہا ہے۔انرجی کے بہت سارے منصوبوں کا افتتاح کر کے وافر مقدار میں بجلی شامل کی گئی۔کئی یونیورسٹیوں یا یونیورسٹیوں کے کیمپس کا افتتاح کیا گیا۔جس میں پشین ، وڈھ اور نوشکی شامل ہیں ۔سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کے کیمپس بھی شامل ہیں ۔سبی سے ہرنائی تک ریلوے ٹریک کو دوبارہ بحال کیا گیا۔کئی سڑکوں ، پُلوں اور بائی پاسزکے افتتاح ہوئے۔27مئی کو اسلامی نظریاتی کونسل نے دہشت گردی کی کاروائیوں کو غیر شرعی قرار دیا۔انہی کی کامیابیوں میں 25جون کو چین کے لوگوں کی حفاظت کے لئے 1500اہلکار تعینات کئے گئے۔12جولائی اخبارات میں ہیڈ لائین کے ساتھ خبر شائع ہوئی کہ پاکستان میں 35فیصد دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔16جولائی کو آپریشن ردالفساد خیبر 4کا آغاز کیا گیا۔21جولائی کو ایک مشہور پہاڑی جس کا نام میں اب بھول رہا ہوںکو دہشت گردوںکے قبضے سے آزاد کرا لیا۔21اگست کو ایک مہینے سے زائد عرصے تک دہشت گردوں کے قبضے میں رہنے والے پولیس اہلکاروں کو رہا کرا لیا گیا۔28اگست کو پاکستان نے افغانستان سے تعلقات منقطع کر لئے جو بعد میں بحال ہو گئے۔31اگست کو بے نظیر بھٹو قتل کی تفتیش مکمل ہو گئی۔15ستمبر کو ورلڈ الیون کرکٹ میچ جیت کر پاکستانیوں کے دل جیت لئے۔اس میںپاکستان کے کھلاڑیوں نے لاجواب کھیل پیش کیا۔17ستمبر کو لاہور کے حلقہ این اے 120-جس حلقے میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا وہاں سے بیگم کلثوم نواز الیکشن میں کامیاب ہو گئیں ۔18اکتوبر کو جسٹس جاوید اقبال کو نیب کا چئیر مین منتخب کیا گیا۔اسی تاریخ کو امریکن فیملی کو دہشت گرد وں سے بازیاب کرا لیا گیا۔27اکتوبر کو پاکستان نے ہندوستان کا جاسوس طیارہ مار گرایا۔2نومبر کو قائدا عظم محمد علی جناح کی بیٹی دینا جناح انتقال کر گئیں ۔پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی معاہدوں میں اضافہ ہوا۔بورڈ آف انویسٹمنٹ کے تحت ان معاہدوں سے2030ء تک قومی بجٹ میں تین گنا ہ اضافہ متوقع ہے۔اسی حوالے سے چینی فرموں کے علاوہ وسطی ایشیاء کے ممالک روس اور یورپین یونین کے ملکوں نے پاکستان کا رخ کر لیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کو ایک عدالتی فیصلے سے نااہل قرار دیا۔جس فیصلے کو سابق وزیراعظم نے من و عن قبول کرتے ہوئے عمرہ چھوڑ دیا۔یکم اگست 2017ء کو شاہد خاقان عباسی نے بطور وزیراعظم حلف اٹھا لیا۔گلوبل دہشت گردی انڈیکس کے مطابق پاکستان میں 2017ء میں 12فیصد کمی آئی ہے اور اس کمی کی بنیادی وجہ تمام سیکیورٹی اداروں اور خاص طور پر پاکستانی افواج کی قربانیوں کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔اس حوالے سے حکومتی پالیسیوں کابھی بہت اہم کردار رہا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved