نرا نا شکرا امریکا
  4  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

صدر ٹرمپ نئے سال کے آغاز پر اپنے پہلے ٹویٹر میں اچانک پاکستان پر برستے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے پاکستان کو گذشتہ پندرہ برس میں ٣٣ ارب ڈالر کی امداد دے کر بے وقوفی کی ہے ۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امداد کے بدلے میں جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا اور پاکستان امریکی حکام کو بے وقوف سمجھتا رہا۔ اب پاکستان کو کوئی امداد نہیں ملے گی۔ ٹرمپ کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ صدر بننے سے پہلے پراپرٹی ڈیلر ٹرمپ کو دنیا کی عصری تاریخ تو ایک طرف ، خود اپنے ملک کی تاریخ کا قطعی کوئی علم نہیںہے۔ انہیں اس حقیقت کا علم نہیں کہ 9/11کے بعد جب امریکی صدر بش نے افغانستان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا تو اس جنگ میں امریکا کی مدد کے لئے پاکستان پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی گئی تھی اور یہاں تک کہ پاکستان کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر اس نے اس جنگ میں امریکا کی مدد نہ کی تو اسے پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے گا۔اور جب پاکستان کے فوجی آمر پرویز مشرف نے ڈر کے مارے گھٹنے ٹیک دئے اور پاکستان کو اس جنگ کی آگ میں جھونک دیا تو اس کے نتیجہ میں پاکستان کے 80ہزار شہری اور فوجی امریکا کی اس آگ میں لقمہ اجل بن گئے۔ پاکستان نے افغانستان کے قریب اپنے تمام ہوائی اڈے ، امریکی بمبار طیاروں کے لئے امریکا کے حوالے کر دیئے ، امریکا کو پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملوں کی بلا مشروط اجازت دے دی تاکہ شدت پسندوں کے ساتھ بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں، بچوں ، خواتین اور معمر افراد کو نشانہ بنائیں اور افغانستان میں فوجی سازو سامان کی ترسیل کے لئے کراچی سے کابل تک سارے راستے کھلے صحن کی طرح کھول دیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کا علم نہیں کہ 9/11کے بعد ، گذشتہ سولہ برسوں میں امریکا کی نام نہاد دھشت گردی کے خلاف جنگ میں اگلے مورچوں پر لڑنے کی وجہ سے پاکستان کو 123ارب ڈالر کا تباہ کن نقصان برداشت کرنا پڑا پچھلے سولہ برسوں سے پاکستان کی معیشت ہر سال 7.7ارب ڈالر کا خسارہ برداشت کرتی رہی ہے ۔ اس کے مقابلہ میں ٹرمپ کا دعوی ہے کہ امریکا نے پاکستان کو ٣٣ ارب ڈالر کی امداد دی۔ غالبا ٹرمپ کو علم نہیں کہ خود امریکی وزارت خارجہ اور وزارت دفاع کے اعدادوشمار کے مطابق اس امداد میں سے ٤٤ فی صد رقم پاکستان نے افغانستان کی جنگ میں امریکا کی لاجسٹک امداد اور فضائی خدمات فراہم کرنے پر خرچ کی ہے۔ ٹرمپ نے امریکا کے پچھلے صدور پر الزام لگایا ہے کہ پچھلے پندرہ سال میں پاکستان کو٣٣ ارب ڈالر کی امداد دے کر انہوں نے بے وقوفی کی ہے ، لیکن یہ سابق صدور یہ کہنے میں غلط نہیں ہوں گے کہ ٹرمپ نے اس ضمن میں حقایق سے جس طرح لاعلمی ظاہر کی ہے اسے صرف جہالت کے زمرے میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ کاش کہ ڈونلڈ ٹرمپ جو آج کل شمالی کوریا سے جنگ پر تلے ہوئے ہیں سن پچاس کی تاریخ پر نظر ڈال لیں جب پاکستان نے کوریا کی جنگ میں امریکا کی بھر پور حمایت اور مدد کی تھی۔ اور ان کا کوئی مشیر انہیں یہ بتائے کہ سن 54میں پاکستان نے ایک اتحادی کی حیثیت سے امریکا کی سرد جنگ میں اولین مورچہ میں شمولیت کے لئے امریکا کے سینٹو اور سیاٹو کے فوجی معاہدوں کی رکنیت اختیار کی تھی اور ان معاہدوں کے تحت پشاور کے قریب بڈ بیر کے امریکی ہوائی اڈہ سے سوویت یونین پر جاسوسی کے لئے یو ٹو طیارہ نے پرواز کی تھی ، جس کی وجہ سے پاکستان کو سوویت حملہ کی دھمکی کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور سوویت یونین نے پاکستان کو زچ کرنے کے لئے ہندوستان سے فوجی تعاون کی نئی راہیں تراش لیں ۔ کاش ٹرمپ کے مشیر انہیں یہ بھی بتائیں کہ 1965میں پاکستان اور ہندوستان کی جنگ کے دوران جب پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا توامریکا نے اپنے فوجی اور سیاسی اتحادی پاکستان کواسلحہ کی سپلائی بند کر دی تھی یہ جانتے ہوئے کہ پاکستان کا حریف ہندوستان سوویت یونین سے بدستور اسلحہ حاصل کر رہا تھا ۔ امریکی اسلحہ کی ترسیل پر پابندی کھلم کھلا پاکستان کو نہتا کر کے اسے ہندوستان کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور کرنے کے مترادف تھی۔ پاکستان نے جب فوجی معاہدوں کی دُہائی دی تو امریکا نے کہا کہ یہ معاہدے ہندوستان خلاف نہیں ہیں بلکہ سوویت یونین کے خلاف ہیں ۔ لہٰذا امریکا ، پاکستان کا دفاع کرنے سے معذور ہے۔ ان حقائق کے پیش نظر اب کوئی ٹرمپ سے پوچھے کہ کیا پاکستان نے امریکا سے جھوٹ بولا ہے اور اسے دغا دی ہے یا اس کے برعکس امریکا نے ہر ہر قدم پر پاکستان کو دھوکہ دیا ہے۔ مشرقی پاکستان پر جب ہندوستان نے حملہ کیا تھا تو امریکا پاکستان کو تسلی دیتا رہا کہ اس کا ساتواں بحری بیڑہ مشرق بعید سے خلیج بنگال کی جانب روانہ ہو گیا ہے ۔45 سال ہو چکے ہیں اب تک تو یہ خلیج بنگال تک نہیں پہنچا ہے ۔ امریکا کے ان رہنمائوں نے جنہیں ٹرمپ نے بے وقوف قرارد یا ہے انہوں نے در حقیقت خود پاکستان کے ساتھ سخت ناشکری کی پالیسی اختیار کی ہے ۔ صدر اوباما ہی کو لیجیے ، انہوں نے اپنی صدارت کے دوسرے دور میں پاکستان کی امداد میں بڑے پیمانہ پر تخفیف کی ہے۔ 2014میں انہوں نے پاکستان کی امداد کم کر کے 2177ملین ڈالر کر دی تھی۔ اور 2015میں اس میں اور کمی کر کے 1404ملین ڈالر کردی تھی اور 2016 میں1118 ملین ڈالر تک کم کردی تھی۔ 2017میں امریکی امداد صرف 526ملین ڈالر رہ گئی تھی ۔ ان اعداد وشمار کے پیش نظر ٹرمپ کو یہ کہنا زیب نہیں دیتا کہ پاکستان نے امریکی رہنماوں کو بے وقوف بنا کر امداد اینٹھی اور اس کے بدلے جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں دیا۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

بہرحال صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد اب پاکستان کے حکمرانوں کی آنکھیں کھل جانی چاہیںکہ ان کا سامنا کیسے ناشکرے امریکی صدر سے ہے ۔ پاکستانی حکمرانوں کو اپنے ذاتی مفادات بالائے طاق رکھ کر پاکستان کی عزت نفس، قومی حمیت اوروقار کی خاطر اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر امریکی صدر کی توہین آمیز باتوں کا حقائق کا آئینہ دکھا کر مقابلہ کرنا چاہئے۔ اس وقت جب کہ ٹرمپ کے ہندوستان کو جنوبی ایشیا ء کا چوہدری بنانے کے عزائم ہیں ، ایک جوہری طاقت کی حیثیت سے پاکستان کو ڈٹ کر امریکی عزائم کا مقابلہ کرنا چاہئے اور اس سلسلہ میں ایک جامع حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔ بلاشبہ پاکستان کے غیور عوام اس حکمت عملی میں حکمرانوں کا بھر پور ساتھ دیں گے اور اس کی کامیابی اور سر فرازی کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ تو اے مسافرِ شب خود چراغ بن اپنا کر اپنی رات کو داغ ِجگر سے نورانی


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved