بیوقوف.....ہاہاہا
  4  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرنے کی بجائے... پاکستان کو سوکنوں کی طرح بار' بار ڈالر کھانے کے طعنے دنیا... بار' بار پاکستان کو دھمکیاں دینا' افغانستان میں امریکی کٹھ پتلی حکمرانوں کا ... ''را'' کو اڈے فراہم کرنا' پاکستان سے بھگوڑے دہشت گردوں کو افغانستان میں پناہ دینا' افغانستان کی سرزمین سے سرحد پار کرکے دہشت گردوں کا پاک فوج کے جوانوں پر حملے کرنا... آخر یہ سب کیا ہے؟ امریکہ کی بھڑکائی ہوئی اس بے چہرہ جنگ میں 6...ہزار سے زائد پاکستانی سیکورٹی اداروں کے جوان قربان ہوئے... ہزاروں جوان معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے... کیا یہ ساری قربانیاں آج اسی دن کے لئے تھیں کہ امریکہ پاکستان کو طعنے اور دھمکیاں دیتا پھرے؟ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون پر ہونے والے حملوں میں کوئی پاکستانی شامل تھا اور نہ شریک... مگر اس کے باوجود اس وقت کے امریکی صدر جارج دبلیو بش نے پرویز مشرف کی بزدلی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے ڈرا' دھمکا کر امریکہ کی بھڑکائی ہوئی دہشت گردی کی جنگ کا حصہ بننے پر مجبور کر دیا۔ پھر امریکہ نے پاکستان کی سرزمین کو افغان طالبان کے خلاف ... پوری دنیا کی دیکھتی آنکھوں کے سامنے استعمال کیا' امریکی جنگی طیارے پاکستانی اڈوں سے اڑان بھرتے... اور افغانستان میں مسلمانوں پر بمباری کرتے' امریکہ نے افغان مسلمانوں کے خلاف... مسلمانوں ہی کے ملک پاکستان کو استعمال کرکے ... دونوں مسلمان ملکوں کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کرنے کی کوششیں کیں۔ شہنشاہ عالم پناہ ! کو چاہیے تھا کہ وہ پاکستان پر دھوکے بازی کا الزام عائد کرنے سے پہلے اپنی چارپائی کے نیچے بھی ڈانگ پھیر لیتے تو ممکن ہے کہ انہیں پاکستان کو دھمکیاں دینے میں اپنی انرجی ضائع نہ کرنی پڑتی۔ اب بھی کچھ نہیں بگڑا... انہیں چاہیے کہ وہ اپنا خون جلانے کی بجائے... بدنام زمانہ جارج ڈبلیو بش کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے سوال کریں کہ اسے کس پاگل کتے نے کاٹا تھا کہ اس نے ''بیوقوفی'' کی انتہا کرتے ہوئے ''افغانوں'' سے پنگا لے لیا۔ ''بش'' کو اگر علم تھا کہ امریکہ لنڈے کی ''سپرپاور'' ہے تو پھر اس نے امریکہ کو افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں پھنسا یا ہی کیوں؟ ''شہنشاہ عالم پناہ'' نے اپنی اور امریکی حکمرانوں کی ''بیوقوفی'' کا تو خود اپنی زبان سے اعتراف کرلیا۔ اب آپ ہی بتائیے کہ جس ملک کے حکمران ''بیوقوف'' ہوں اس ملک کو ''سپرپاور'' کیسے کہاسکتا ہے؟ اور پھر وہ بھی ایک 'دو دن یا ایک دو ہفتوں کے لئے نہیں... بلکہ پورے 15سال جس ملک کے حکمران ''بیوقوف'' بنے رہے ہوں... اس ملک کا پھر خدا ہی حافظ ہوا کرتا ہے۔ پاکستانی قوم کو اپنی حکمران مافیا کی بیوقوفی پر بھی کوئی شک نہیں کہ جو ان امریکی حکمرانوں کو خوش کرنے کے لئے رات دن پاپڑ بیلتے رہے کہ جو حکمران تھے ہی ''بیوقوف'' یاد رہے کہ امریکی حکمرانوں کے لئے ... ''بیوقوفی'' کی اصطلاح اس خاکسار کی ایجاد نہیں... بلکہ مسٹر ''ٹرمپ'' کے زرخیز ذہن کی ایجاد ہے ' چلیں ... ماضی کو بھول جائیں اور پیارے پاکستان کو سنوارنے اور اس کے حسن کو نکھارنے کے لئے ضروری ہے کہ یہاں اسلامی تہذیب و تمدن کا بھرپور قوت سے احیاء کیا جائے' لنڈے کے لبریز اور سیکولرز جو یورپ کی چرائی ہوئی تہذیب پاکستان میں رائج کرکے یہاں فسادات برپا کرنا چاہتے ہیں... اس کا راستہ حکومتی طاقت سے روکا جائے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیان اور دھمکیوں کے جواب میں پاکستان نے امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کرکے ... شدید احتجاج ریکارڈ کروانا بھی اچھی علامت ہے... سیکرٹری خارجہ نے امریکی سفیر کو واضح الفاظ میں بتایا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی ... پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کرنا افسوسناک ہے' پاکستان کے وزیر دفاع خرم دستگیر کا بیان بھی خوب ہے وہ کہتے ہیں کہ ''پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا اتحادی رہا ہے' اتحادی کی حیثیت سے امریکہ کو زمینی اور فضائی حدود مفت میں استعمال کرنے کی اجازت دی۔ پاکستان نے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے اور عالمی سطح پر تعاون فراہم کیا... انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تعاون کی بدولت گزشتہ 16سال میں القاعدہ کا خاتمہ ممکن ہوا... جواب میں پاکستان کو دھونس ' دھمکی' عدم اعتماد اور الزام تراشیوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔

وزیر دفاع خرم دستگیر کا مندرجہ بالا بیان اپنے منہ سے بول رہا ہے کہ ''پاکستان کی حکومتوں نے یہاں کے عوام کی رائے اور مرضی کے خلاف امریکہ کو اسکے دشمنوں پر قابو پانے میں مرکزی کردار ادا کیا' جب امریکہ القاعدہ کی طرف سے فارغ ہوا... تو پھر اس نے پاکستان کو ہی آنکھیں دکھانا شروع کر دیں... قارئین کو اگر یاد ہو تو ابھی چند سال ہی کی تو بات ہے کہ جب سیاست دانوں' دانش فروشوں' کالم نگاروں ' اینکرز اور اینکرنیوں کی پوری فوج ظفر موج امریکہ کی طاقت' امریکی تہذیب اور روشن خیالی کے قصیدے پڑھنے میں مصروف رہتی تھی... ہم جو امریکی پالیسیوں پر اپنے کالموں میں تنقید کرتے تھے... ہمیں لنڈے کے سیکولر دانش فروشوں کی طرف سے ''غیرت برگیڈ'' اور شدت پسندی کے طعنے دئیے جاتے تھے... مگر 2017ء کے آخری دنوں اور 2018ء کے پہلے دن کے سورج نے ہی امریکہ اور اس کے حامیوں کی دہشت گردی' غنڈی گردی اور ہٹ دھرمی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ بے شک قرآن کا فرمایا ہوا... برحق اور سچ ثابت ہوا کہ یہود و نصاریٰ کبھی بھی ایمان والوں کے دوست نہیں ہوسکتے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
50%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved