قومی سلامتی کونسل اور کور کمانڈرز کے اہم فیصلے
  4  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭ٹرمپ کے پاکستان مخالف بیان پر پوری قوم بھڑک اٹھی۔ اس پر قومی سلامتی کونسل اورکورکمانڈر کے اجلاس بھی ہوئے ۔دونوں اجلاسوں میں یکساں قسم کے فیصلے کیے گئے کہ ٹرمپ کے بیانات پر کسی فوری ردعمل کی بجائے پوری سنجیدگی ، ٹھنڈے دماغ ،تحمل اور تدبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ قومی اہمیت کے اہم معاملات پر اہم فیصلے فوری اشتعال کے ساتھ نہیں کئے جاتے۔ قومی سلامتی کونسل کا یہ فیصلہ درست ہے۔ یہ معاملہ ابھی پارلیمنٹ کے سامنے آنا ہے۔ ابتدائی طورپر حکومت اور کور کمانڈرز نے واضح کردیا ہے کہ پاکستان کی سلامتی کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتا اور یہ کہ پاکستان امریکی امداد کے بغیر بھی چل سکتا ہے۔ ہم بین الاقوامی طورپر مختلف معاہدوں اور الجھنوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم مکمل طورپر آزاد ملک نہیں ہیں۔ امریکہ کے زیر اثر چلنے والے آئی ایم ایف اورعالمی بینک کے ہزاروں ارب ڈالروں کے قرضوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ بیشترفوجی اسلحہ امریکی ہے۔ ملک کے اندر زراعت،تعلیم اور مواصلاتی شعبے امریکی امداد سے چل رہے ہیں۔ایک بار مجھے صوبائی سول سیکرٹریٹ جانے کااتفاق ہوا۔ محکمہ تعلیم کے ایک بڑے افسر نے بتایا کہ پنجاب کے40 ہزار ہائی سکولوں کی تنخواہیں ورلڈ بینک کے تعاون سے ادا کی جاتی ہیں۔ یہ صورت حال ایک طرف، سیاسی اور سماجی طورپر دیکھیں، اس وقت امریکہ میں تقریباً دس لاکھ پاکستانی افراد مقیم ہیں۔ کوئی نہ کوئی کام کررہے ہیں۔ حد یہ ہے کہ ہمارے بہت سے حکمرانوں اور عام بڑے لوگوں کے ذاتی مفادات امریکہ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ نیویارک میں آصف علی زرداری کے انتہائی مہنگے فلیٹ کے علاوہ امریکہ میں36 اہم کاروبار چل رہے ہیں۔ ان میں مختلف ریاستوں میں بڑے کاروباروں میں شراکت، گھوڑوں کے فارم وغیرہ شامل ہیں۔ سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی کاسارا خاندان امریکی شہریت اختیار کر چکا ہے۔ ذوالفقارعلی بھٹو، بے نظیر بھٹو کی اعلیٰ تعلیم صرف امریکہ میں ہی ممکن ہوسکی۔ جماعت اسلامی کے امیر مولانا مودودی کا علاج اور ان کی اولاد کی تعلیم بھی امریکہ میں ہی ہوئی۔ سابق وزیراعظم محمدخاں جونیجو نے بھی آخری سانس امریکہ میں گزارے۔ شریف خاندان کی کمر درد کا علاج بھی امریکہ میں ہی ہوسکتا ہے۔ اصل اور بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کی معیشت بری طرح زوال پذیر ہے۔ ایک طرف چین کے بھاری قرضے ہیں دوسری طرف آئی ایم ایف ، عالمی بینک اور ایشیا بینک کے لاتعداد قرضوں میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ان کی ادائیگی کے لئے دو ماہ تک پھر آئی ایم ایف کے پاس مزید قرضوں کے لیے جانا پڑے گا۔ ٭یہ اور بہت سے دوسرے حقائق نے ہماری قومی آزادی کو سلب کررکھا ہے۔ بلاشبہ پوری قوم دلیر، جانباز اور ہوشیار ہے مگراپنے موجودہ اور سابق حکمرانوں کے بارے میں کیا کہاجائے؟ جنہوں نے بیرونی قرضوں سے ملک سنوارنے کی بجائے بیرون ملک بھاری اثاثے بنالیے۔ میرے اس حقیقت پسندانہ تجزیے سے بعض حلقے اختلاف کرسکتے ہیں۔ مگر ماضی کے کچھ تجربات بھی سامنے رکھنے ہوں گے۔ انڈونیشیا کے پہلے صدرسوکار نو بڑی جذباتی شخصیت تھے۔ انہوں نے طویل جدوجہد اور لڑائی کے بعد انڈونیشیا کوآزاد کرایا۔ کسی بات پر اقوام متحدہ سے ناراض ہوگئے ۔اور انڈونیشیا کی اقوام متحدہ سے علیحدگی کا اعلان کردیا مگر جلد ہی اندازہ ہوگیا کہ عصر حاضر میں اکیلے چلنا ممکن نہیں۔ جلد ہی پھر اقوام متحدہ سے وابستہ ہوگئے۔1971ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد برطانیہ نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا تو صدر ذوالفقار علی بھٹو نے برطانیہ کے زیر انتظام قائم دولت مشترکہ کابائیکاٹ کرنے اور اس سے علیحدگی کا اعلان کردیا۔ پتہ چلا کہ پاکستان کے سینکڑوں طلباء دولت مشترکہ کے وظائف پر برطانیہ اور دولت مشترکہ کے دوسرے ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ ان کی تعلیم رک سکتی ہے اور مزید طلباء بھی رک جائیں گے۔ دولت مشترکہ کے ممالک کے ساتھ ٹیکسوں وغیرہ کی باہمی مراعات بھی چل رہی تھیں وہ بھی ختم ہو جائیں گی۔ ناچار علیحدگی کا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ یہ باتیں جیسی بھی ہیں، انہیں نظرانداز کرنا آسان نہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ٹرمپ کا امریکہ بیت المقدس کے معاملہ میں اقوام متحدہ کے دونوں اداروں میں بری طرح پِٹ چکا ہے۔اس ذلت آمیز شکست نے پہلے سے ہی پاگل ڈونالڈ ٹرمپ کو مزید ہذیان میں مبتلا کر دیا ہے ۔ اس نے صدارت کا ایک سال گزار لیا ہے۔تین سال باقی ہیں، یہ بھی اسی طرح احمقانہ حرکتوں کے ساتھ گزار لے گا۔ پھر کوئی اور آجائے گا۔ ٹرمپ نے اگست میں پاکستان کی امداد روکنے اور اس کی سر زمین پر سرجیکل سٹرائیک کا اعلان کیا، پھر کتنے حملے کرلئے؟افغانستان اسکی کٹھ پتلی بن چکا ہے مگر بالآخر افغان حکمرانوں کی بھی سمجھ میں بات آرہی ہے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر وہاں عمر بھر امن قائم نہیں ہو سکتا۔اس لیے وہ چین اور پاکستان کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کے لیے مجبور ہوگیاہے۔ کچھ عرصے سے افغان حکمرانوں کی پاکستان کے خلاف شعلہ بیانی بھی کم ہوئی ہے۔ یہ اچھی علامتیں ہیں۔ ایک اچھی بات یہ سامنے آئی ہے کہ ٹرمپ کی پاکستان کے خلاف بد زبانی پر چین فوری طورپر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوگیاہے جب کہ اسلامی ممالک خاص طورپر سعودی عرب کی طرف سے کوئی ایسا اعلان نہیںآیا ! مگر پھر ہمارے'اپنے' کیا کررہے ہیں! امریکہ میں پاکستان کے سابق سیکرٹری اطلاعات اور امریکہ میں آصف زرداری کے چہیتے سفیر حسین حقانی نے عین اس ہنگامی موقع پر واشنگٹن میں بھارتی عناصرکے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف انتہائی زہر یلا مذاکرہ منعقد کیا اور پاکستان کی افواج کے بارے میں زہر اگلا! پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما سید خورشید شاہ نے اسے ملک کاغدار قراردے دیا ہے! آصف زرداری نے اس کے بارے میں کبھی کچھ نہیں کہا۔ ٭قارئین کرام! آج زیادہ کالم ٹرمپ کی بے ہودگی کی نظر ہو گیا ۔ مگرپریشانی والی بھی ایسی بات نہیں ہے۔ ہماری بہادر جانباز افواج سامنے کھڑی ہیں، افواج اور قوم ملک کی سلامتی کے لیے عظیم قربانیاں دے رہی ہیں۔ عدلیہ مکمل طورپر آزاد ہوچکی ہے، اور خوش آئند بات یہ کہ حکومت تو مجبوراً ٹرمپ کی ہر زہ سرائی پر مصلحت سے کام لے رہی ہے مگر اپوزیشن پارٹیاں آزادانہ طورپر جس طرح امریکہ کی گوشمالی کررہی ہیں وہ بہت حوصلہ افزا ہے۔ یہ ملک انشاء اللہ آگے بڑھے گا ، مزید مضبوط ہوگا! ٭ایران کی صورت حال مزید بگڑ گئی ہے۔ حکومت کے خلاف مظاہروں میں خونریز شدت آگئی ہے۔ گزشتہ روز تک پولیس وغیرہ سے تصادم میں 23 افرادہلا ک سینکڑوں زخمی ہوگئے اور اتنی ہی گرفتاریوں کی اطلاع آچکی ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ ملک میں عملی طورپر جمہوریت برائے نام ہے۔290 ارکان اسمبلی پر88ارکان کی رہبری کونسل سوار ہے اسے ایران کے علی خامنہ ای نامزد اور کنٹرول کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی کا کوئی فیصلہ اس کونسل کی اجازت کے بغیر نافذ نہیںہوسکتا اور اس کونسل کے کسی بھی فیصلے کو رہبر علی خامنہ نہ صرف مسترد کرسکتا ہے وہ جب چاہے پوری کونسل ، اسمبلی اورفوجی سربراہوں کو برخاست بھی کرسکتا ہے۔ اور علی خامنہ ای کا معاملہ یہ ہے کہ 1979ء میں ایران کے انقلاب کے بعد1981ء سے1988ء تک ایران کے صدر رہے۔ 1988ء میں ایران کے رہبراعلیٰ بنے اور 30سال سے اب تک رہبری سنبھال رکھی ہے! کسی دوسرے شخص کو اس عہدے پر نہیںآنے دیا۔ اس عہدے کا انتخاب بھی عجیب ہے۔ رہبر اعلیٰ خود رہبری کونسل کا نامزد کرتا ہے اور کونسل اسے رہبر اعلیٰ مقرر کردیتی ہے!

٭ایس ایم ایس: ہمارے ضلع بنوں کی تمام سڑکیں خراب ہیں۔ ان پر سفر ممکن نہیں رہا خاص طورپر ہمارے علاقہ بازاراحمد خاں کی سڑک بہت عرصہ پہلے گیس پائپ لائن کے لیے کھودی گئی تھی۔ اب تک اسی طرح پڑی ہے اس پر سے گزرنا مشکل ہوگیا ہے۔ عوام سخت تکلیف میں ہیں۔ میری اپیل چھاپ دیں کہ سڑک ٹھیک کی جائے۔ نجیب اللہ خاں، بنوں (0349-1952683)چار ایس ایم ایس اس لیے شائع نہیں ہوسکے کہ نیچے کوئی نام پتہ نہیں تھا۔ ان کا جواب بھی نہیں دیاجاسکتا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved