چھ دن دبئی میں .....
  5  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

بہتیرے سال دبئی میں رہا مگر سردی نام کو نہیں تھی ،گزشتہ سے پیوستہ برس بھی دیرینہ دوست چوہدری نورالحسن تنویر نے میلاد کے پروگرام میں بلایا تھا تب دسمبر کا وسط تھا ،مگر جاڑے کا کہیں نام و نشان نہ تھا جبکہ یہاں سے جاتے ہوئے ڈیڑھ دن اور ایک رات ایئر پورٹ پر گزارنے پڑے ،اور اس سال دسمبرہی میں محفل میلاد اور خنکی اتنی کہ لوئی لینے کے باوجود بھی جسم ٹھنڈک سے ٹھٹھرا جا رہاتھا ،ہاں مگر محفلِ میلاد نبیۖ کی نشست کے اختتام کے کچھ ہی دیر بعد پاکستان کی سیاست پر بات شروع ہوئی تو رفتہ رفتہ رُت میں حدت سرایت کرتی چلی گئی ،چوہدری تنویر مسلم لیگ ن گلف ریجن کے صدر ہیں ،مسلم لیگ ن سعودی عرب کے سیکرٹری جنرل اصغر چشتی بھی بطورِ خاص بلائے گئے تھے اور امارات کی تو ساتوں ریاستوں کی تنظیمیں رونق محفل تھیں ۔ موضوع میاں محمد نواز شریف اور ان کی اب تک کی سیاسی پیش رفت ،عدلیہ کی کارکردگی اور ملکی سیاست میں فوج کا کردار ،خصوصاََ میاں صاحب کا سیاسی مستقبل اور آئیندہ کی ملکی صورت حال ،تعمیروترقی کی رفتار ودیگر سیاسی نقش ونگار،دھیمے لہجے کے افتخار بٹ جو ممبر پنجاب اسمبلی غزالی بٹ کے حقیقی بھائی ہیں ،ان کا یقین کی حد تک گمان کہ پاکستان کی سیاست سے میاں نواز شریف کو مائنس کیا ہی نہیں جا سکتا ،وہ ہونگے تو معیشت، معاشرت اور سیاست کا پہیہ چلے گا ،بصورتِ دیگر چہار سو اندھیرا، جمہوریت کی گاڑی پٹڑی سے ایسی اترے گی کہ قومی سالمیت کی عمارت تک کو منہدم کرکے رکھ دے گی '' چوہدری نورالحسن تنویر ،جن کا شمار میاں صاحب کے ان جان نثاروں میں ہوتا ہے جو ان کے انتہائی قابل اعتماد ساتھیوں میں شامل سمجھے جاتے ہیں ،ان کی پہلی اور آخری رائے تھی کہ میاں صاحب کے بغیر معاشی و اقتصادی بحران تو کیا ملک ٹکڑے ہونے کا امکان پتھر پر لکیر بن کر ابھرے گا ،چھوٹے صوبوں کے عوام کی وہ محرومیاں جن کے ازالے کے روشن عہد کا آغاز ہو چکا تھا وہ عہد دوغلی سیاست کی بھینٹ چڑھ جائے گا ،یوں عوام کے وہ سارے سہانے خواب جن کی تعبیر کے راستوں کے کانٹے میاں نواز شریف چن چکے ہیں ،وہ سب چکنا چور ہوجائیں گے،سرحدیں غیر محفوظ ہوجائیں گی ،آزادی کی جس نعمت سے ہم مالا مال دکھائی دیتے ہیں وہ ایک حسرتِ نا تمام بن کر رہ جائے گی اور اب کی بار جمہوریت کی بساط لپیٹی گئی تو ایک نسل اس کا چہرہ دیکھنے سے محروم رہے گی'' تند مزاج چوہدری نورالحسن تنویر ماحول میں بلا کی گرمی پیدا کئے ہوئے تھے ،مگر پولے پولے لفظوں میں بات کرنے والے افتخار بٹ کی گفتگو یوں جیسے ہرہر لفظ کو تولتے پھر بولتے یوں ماحول کی گرمی پل بھر میں کنٹرول کر لیتے اور ہر تخریب سے تعمیر کا پہلو نکال کر فضا مکدّر ہونے سے بچالیتے ،میلاد کی شمع محفل اویس نورانی اپنے دلائل آزمانے کی جستجو میں ہر بار مات کھا جاتے کہ چوہدری تنویر کی تُنک مزاجی ان کی بات میں حائل ہو جاتی۔ اگلے روز افتخار بٹ صاحب کے یہاں ایک پر تکلف ظہرانے کا اہتمام تھا ،لذت کام و دہن سے فراغت ہوئی تو پھر ایک بار سیاست کی بساط بچھادی گئی ،اویس نورانی اپنی فلائٹ کا جواز پیش کرتے ہوئے اپنی رائے کا حق مانگتے ،ایم ایم اے کے حوالے سے تو انہوں نے کوئی اشارہ تک نہ دیا بلکہ ایسے کسی اتحاد کی بے بضاعتی کا مژدہ ہی سناتے رہے ،احباب کے تحفظات کا خاطر خواہ جواب بھی نہیں دے پا رہے تھے،کسے معلوم تھا کہ ان کی اصل شتابی ہی ایم ایم اے سے متعلق اجلاس میں شرکت تھی ،جسے اپنے ساتھ چھپا لے گئے ،یہ الگ بات کہ اس نئی صف بندی کی کوئی حتمی شکل و صورت ابھی ظہور پذیر ہونا باقی ہے۔ یہ معاملہ تو یہیں تمام ہوا ،مگر ایک خلش جو میرے دل و دماغ میں پھانس کی طرح اٹکی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ اپنے احباب بہت ہی سفاکی سے پاک فوج کے کردار پر بات کرتے ہیں اور دوران گفتگو ان ساری قربانیوں کا سرِ مو خیال نہیں رکھتے کہ یہ پاک فوج ہی ہے جس کے نوجوان ہر دن نذرِ جاں کی رسم ادا کرتے ہیں ان ہی کے سروں کی فصل کٹتی ہے اور ہمارے شہر آباد رہتے ہیں ،ہمارا ہر سپاہی جاں ہتھیلی پر سجائے جیتا ہے ،ہماری بے احتیاط گفتگو شہیدوں کی روحوں کے چولے تار تار کرتی ہے تو ان معصوم ارواح پر کیا بیتتی ہوگی ،یہ فقط ہماری جغرافیائی سرحدوں کے محافظ ہی نہیں ،یہ ہر ہر کڑے وقت میں جمہور کے سر کا سائبان بھی بنتے رہے ہیں ،آج جو سیاست کے بڑے برج ہیں انہیں بنانے سنوارنے میں انہی کا ہاتھ ہے ۔ ہمارے ہر چراغ کی روشنی ان ہی سے ہے ،سیاستدانوں کے طرز عمل پر بھی شدید تحفظات پائے جاتے ہیں ،یہاں تک کہ ان کی حب الوطنی بھی کبھی کبھی دھند لی سی لگنے لگتی ہے مگر کوئی ان کی اس ادا کا اشتہار نہیں دیتا ،دیار غیر میں اس روش کا چرچا عام ،بس اسی پر افسوس ہے ،بنیادی حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے ،محب وطن حلقوں کو اس پر تشویش ہے ،جس کا اظہار وہ بر ملا الفاظ میں کرتے ہیں ،دبئی میں زیادہ تر مزدور طبقہ محنت مشقت کی زندگی بسر کر رہا ہے ،اسے اپنے ملک کی سیاسی صورت حال سے کوئی دلچسپی ہو یا نہیں ،اس امرکی فکر ہر ایک کو ہے کہ وطن جس میں ان کی جڑیں ہیں ،ان کے لہو کے سب رشتے جن کی خاطر وہ نگر نگر کی ریت چھانتے پھرتے ہیں جن کے لئے بے وطنی کے کشٹ کاٹ رہے ہیں اس کے محافظوں کی عزت پر آنچ نہیں آنی چاہیئے۔

بات تو سچ ہے ،کتنے سیاستدان ہیں جن کی اولادوں نے اس دھرتی کی حفاظت کا پرچم تھاما ،اس مٹی میں کس کا لہو زیادہ ہے ،یہاں کے تو دہشت گرد بھی اتنے بہیمت پسند ہیں کہ محاذجنگ پر کھڑے محافظوں کے بچوں کو نشانہ بناتے ہیں ،آج تک کسی سیاسی پارٹی کی قیادتوں کا اتنا لہو نہیں بہایا گیا ،جتنا ایک دن میں پاک فوج کے بچوں کا بہایا گیا ، دبئی میں چھ دن کے قیام کے دوران سیاسی رہنمائوں ہی سے نہیں عام سیاسی کارکنوں سے بھی ملاقاتیں رہیں ،وہ کارکن جو مصلحت کیشی کی زندگی بسر کر رہے ہیں ،مگر ذرا سی کوئی ہمدردی جتلائے اندر کھول کے رکھ دیتے ہیں ۔ان کے فگار دلوں میں جو ارمان پل رہے ہیں ،ان کے بارے بھی ان کے تحفظات ہیں ۔ وہاں موجود سیاسی بڑوں کا یہ فرض بنتا ہے کہ اپنی سیاسی مصلحتوں کا دھیان رکھتے ہوئے ان خانہ بدوشوں کے ملی جذبات و احساسات کا خون ہونے سے بچائیں ،کہ یہ سب ان کی ترقی کی گاڑیوں کا ایندھن ہیں ۔بہر حال چوہدری نورالحسن تنویر اور افتخار بٹ صاحب کی میزبانی خوب تھی اس پر مستزاد شارجہ کے ایک صالح نوجوان غوث محمد سے ملاقات جو دبئی میں مقیم میرے بیٹے حسین طلحہ الرومی اور حسن سرمدکے نئے نویلے دوست ٹھہرے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved