میرے وطن میں باروداورخون
  5  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

کوئی ہے کہ جو رسواکن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو پکڑ کر پاکستان لائے...اور انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرکے اس سے سوالات کرے کہ ... امریکہ کی بھڑکائی ہوئی دہشت گردی کی جنگ کا اتحادی بننے اور امریکہ کے ساتھ کئے جانے والے معاہدوں کی نسبت تم اور تمہارے ''طبلچی'' جو ''صلح حدیبیہ'' کی طرف کیا کرتے تھے ان کا کیا ہوا؟ خاتم الانبیائۖ نے جو صلح حدیبیہ کا معاہدہ فرمایا تھا... اس کے نتیجے میں تو اللہ نے ایمان والوں کے لئے فتوحات کے دروازے کھول دئیے تھے... اور بزدل کمانڈو کے امریکیوں کے ساتھ کئے جانے والے معاہدوں نے آج 16سال بعد پاکستان کو ایک ایسے خوفناک دوراہے پر لاکھڑا کیا ہے کہ ''نہ جائے رفتن اور نہ پائے ماندن '' والی کہانی نظر آرہی ہے... یعنی آگے گہری کھائیاں اور پیچھے سمندر کی موجیں... میں جب ماضی کے جھرونکوں میں جھانکتا ہوں تو مجھے کہیں لال حویلی والا شیخ رشید' کہیں شاہ جیونہ کا فیصل صالح حیات' کہیں گجرات کے چوہدری اور کہیں لنڈے کے سیکولر' کالم نگار اور لبرل دانش فروش نظر آتے ہیں کہ جو پرویز مشرف کا امریکہ کی جنگ کا فرنٹ مین اتحادی بننے کو... پاکستان کے لئے بہت مبارک قرار دیا کرتے تھے... اور شیخ رشید جیسے آج گلا پھاڑ پھاڑ کر یہ فرما رہے ہیں کہ سپر پاور امریکہ نہیں بلکہ صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے' اس وقت اسی طرح حلق کے بل چیختے ہوئے نہ صرف پرویز' بش معاہدوں کی حقانیت ثابت کرنے کے لئے ... صلح حدیبیہ کی مثالیں دیا کرتے تھے بلکہ امریکہ کی بھڑکائی ہوئی جنگ میں پاکستان کی شمولیت کے فوائد بھی گنوایا کرتے تھے۔ صرف شیخ رشید ہی نہیں... بلکہ پوری ق لیگ ... پرویز مشرف اور امریکی پٹاری کے دانش چوروں کے ساتھ مل کر... پاکستانی قوم کو امریکہ کی چوکھٹ پر جبین نیاز جھکانے کی ترغیب دیا کرتی تھی... 15سال پہیم ہم نے امریکہ کی چاکری کی' لیکن وقت اور حالات نے ثابت کر دیا کہ پرویز مشرف ' ق لیگی اور امریکی پٹاری کے دانش چور... مسلسل قوم سے جھوٹ بولتے رہے... قوم کو دھوکا دیتے رہے کہ امریکہ کا اتحادی بننے کے بعد پاکستان کو فوائد حاصل ہوں گے' وزیر خارجہ خواجہ آصف نے امریکی صدر کے بیانات کے ردعمل میں بدھ کے روز جو ٹوئٹس کئے ہیں... انہیں پڑھ کے کلیجہ منہ کو آتا ہے... خواجہ آصف کہتے ہیں کہ ''ایک آمر نے فون کال پر سر نڈر کیا' اور وطن کو بارود و خون سے نہلا دیا... تمہارے جنگی طیاروں نے ہمارے اڈوں سے اڑان بھر کر افغانستان پر 57800حملے کئے... ہمارے گزر گاہوں سے تمہارا اسلحہ و بارود گیا... ہزاروں سویلین' فوجی' بریگیڈئیر' جنرل' جوان سال لیفٹیننٹ آپ کی (امریکہ کی) چھیڑی ہوئی جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔'' خواجہ آصف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ '' جو تمہارا دشمن... وہ ہمارا دشمن' ہم نے گو انتاناموبے کو بھر دیا ہم آپ کی خدمت میںا تنے مگن ہوگئے کہ ... پورے ملک کو دس سال تک لوڈشیڈنگ اور گیس شارٹیج کے حوالے کئے رکھا... ہماری معیشت برباد ہوگئی... لیکن خواہش تھی کہ آپ (امریکہ) اراضی رہے... ہم نے لاکھوں ویزے پیش کئے... بلیک واٹر اور ریمنڈ ڈیوس ٹائپ نیٹ ورک جگہ جگہ پھیل گئے... انہوں نے کہا کہ چار سال سے کئی دہائیوں کا ملبہ صاف کر رہے ہیں۔ہماری افواج بے مثال جنگ لڑ رہی ہے ... قربانیوں کی لامتناہی داستان ہے... اس لئے ہماری دہلیز پر اپنی ناکامی کا ملبہ مت رکھو' آپ (امریکہ) اس کے باوجود خوش نہیں... افسوس' ہمارے وقار پہ اب کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔''خواجہ آصف نے کڑوا سچ بولا... جس جنگ کو زبردستی پاکستان کی جنگ بنانے کی کوششیں کی جاتی رہیں... وزیر خارجہ کا ٹویٹ بتا رہا ہے کہ وہ جنگ سرے سے پاکستان کی جنگ تھی ہی نہیں... ذرا ماضی کے اخبارات اٹھا کر دیکھئے کہ ... کون' کون سے کالم نگار اور دانش چور تھے کہ جو امریکہ کی جنگ کو پاکستان کی جنگ بنانے کے لئے ... کالم لکھ' لکھ کر اخبارات کے صفحے کالے کرتے رہے؟ وہ کون تھے کہ جو امریکہ سے چرایا ہوا روشن خیالی کا ایجنڈا زبردستی پاکستانی قوم پر مسلط کرنے کی کوششیں کیا کرتے تھے؟ وہ کون تھے کہ جنہوں نے امریکہ کو راضی کرنے کے لئے ... شعائر اسلام کا مذاق تک اڑانے سے دریغ نہ کیا۔آصف علی زرداری کی حکومت نے سوات آپریشن کیا' نواز حکومت نے آپریشن ضرب عضب کیا' آپریشن ردالفساد کیا ... بے چارے معصوم قبائلیوں کے سینکڑوں معصوم بچے امریکی ڈرون حملوں کی بھینٹ چڑھ گئے' اس کے باوجود... قبائلیوں نے اپنے گھر' بازار اور زمینیں چھوڑ کر عارضی طور پر ہجرت بھی کی... ہماری فوج کے جوانوں نے شمالی وزیرستان ہو یا جنوبی وزیرستان کہ جن کے نام سن کر امریکہ لرز جایا کرتا تھا ...نہ صرف یہ کہ وہاں خون ریز لڑائیاں لڑیں... بلکہ وہاں چھپے ہوئے دہشت گردوں کو بھی مار بھگایا۔ یہاں جید علماء شہید ہوتے رہے... سبزی منڈیوں' بازاروں' حتیٰ کہ عدالتوں میں بم پھٹتے رہے... مسجدوں اور امام بارگاہوں میں خودکش حملے ہوتے رہے... خون بہتا رہا' لاشیں گرتی رہیں... جسموں کے ٹکڑے سڑکوں پر پھیلتے رہے... تاجروں کا خون گرتا رہا' وکلاء کے لاشے تڑپتے رہے... سیکورٹی اداروں کے جانبازوں کے خون آلود جسم پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر... قبرستانوں کا رزق بنتے رہے' اس سب کے باوجود امریکہ اور اس کے حاشیہ نشین کہتے ہیں کہ ''پاکستان میں دہشت گردی کے اڈے ہیں'' افسوس صلیبی ذہنیت پر صد افسوس۔15سال تک... پاکستانی قوم امریکہ کے سامنے بکری بن کر گردنیں جھکانے کے مشورے دینے والے ڈکٹیٹر' سیاستدان اور امریکی پٹاری کے دانش چور سن لیں... پاک فوج کے سپہ سالار اعلیٰ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہہ دیا ہے کہ ''دھمکانے والے سن لیں... جس ملک میں عظیم والدین اور بہادر بیٹے ہوں... کوئی بھی اس کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔

ایسی فوج کا سربراہ ہوں... جس کے جوان ہر دم وطن کے لئے جان دینے کو تیار ہیں... کوئی ''رقم'' ان بہادروں کی حب الوطنی اور قربانیوں کی قیمت نہیں چکا سکتی۔''یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ ہمیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کو محض گیڈر بھبکی قرار دے کر ... بھولنے کی بجائے سنجیدگی سے پاکستان کے دفاع کی طرف توجہ دینی چاہیے... پاکستان کو ہر قیمت پر امریکی غلامی کی زنجیریں توڑ کر ... امریکی امداد لینے سے مکمل انکار کر دینا چاہیے۔اگر اب بھی پاکستان نے امریکہ سے مسلمانوں کے خلاف تعاون جاری رکھا تو مستقبل قریب میں اس کے نہایت مہلک نتائج نکلیں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved