قوم کے محسن لوگ…زندہ باد!
  5  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭بعض اوقات الفاظ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ ڈکشنریاں بھی ساتھ نہیں دیتیں ، سارے محاورے سارے استعارے کمزورپڑ جاتے ہیں۔ مجھے سمجھ میں نہیںآرہا کہ فاٹا کے علاقہ کرک کے اس خاندان کا ذکر کس طرح کروں جس کے پانچ بیٹے فوج میں شامل ہوکر وطن کی حرمت پر نثار ہوگئے اور ابھی مزید سات بیٹے فوج میں اسی جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بالکل درست کہا ہے کہ ایسے جانثاروں کے ہوتے ہوئے کوئی طاقت پاکستان کا بال بیکا نہیں کرسکتی۔ زندہ باداس خاندان کے سربراہ محمد علی اس کے سارے اہل خانہ! اس کے شہید ہونے والے تین بیٹے اور دو بھتیجے! شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اور کیا حوصلہ محمد علی خاں کا کہ باقی سارے بیٹے اور بھتیجے بھی وطن کے لیے حاضر ہیں! اس خاندان کے درمیان کھڑے ہوکر جنرل باجوہ بھی جذباتی ہوگئے، کہا کہ ان لوگوں کی وطن کے لیے قربانیوں کی کسی بڑے سے بڑے معاوضہ کے ساتھ بھی کوئی قیمت ادا نہیں کی جاسکتی۔ جنرل باجوہ نے اور بھی بہت کچھ کہا۔ انہوں نے اس خاندان کے لیے ایک خصوصی پیکیج کابھی اعلان کیا۔ پانچ بچوں کی شہادت والے اس خاندان کے لیے تو عام ایوارڈوں اور اعزازت سے ہٹ کر کوئی نئے غیر معمولی ایوارڈ تیار کرنا پڑیں گے! ایک طرف یہ عظیم لوگ جووطن کی عزت اور حرمت پر جانیں نثار کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ لیٹرے، خونخوارمگر مچھ جوملک وقوم کو لوٹ کر باہر محلات، پلازے، فلیٹ بناتے رہے، اربوں کھربوں کے کاروبار قائم کرتے رہے، ان کی اولادیں دوسری ملکوں میں پڑھتی اور کاروبار کرتی رہیں اور یہ لوگ باری باری ملک کے اقتدار پر قابض ہوتے رہے ،اب بھی قبضہ کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں۔ میں کرک کے پاکستان کے محسن اس عظیم خاندان کو پوری قوم کی طرف سے سلام کرتا ہوں۔ خدا تعالیٰ تمہیں سلامت رکھے! ٭پاکستان کو امریکہ کی دھمکیاں مزید تیز ہوگئی ہیں۔ اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ خاتون نکی ہیلی نے ٹرمپ سے بھی بڑھ کر پاکستان کو کھلی یک طرفہ کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل آرمک ماسٹر نے بھی پاکستان پر دھوکہ بازی کاالزام لگایا ہے اور اسے ناقابل برداشت قراردیاہے۔ پاکستان میں قومی سلامتی کونسل، کابینہ ،پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی اور کورکمانڈرز کے اجلاسوں کے بعد اب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جارہاہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ اس نازک مرحلہ پر حکومت ، افواج اور اپوزیشن پارٹیاں اکٹھی ہوگئی ہیں۔ اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے اس صورت حال کو ایک جامع جملے میں اداکردیا ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سیاست نہیں ہوسکتی! حالات ویسے بھی کافی حوصلہ افزا ہیں۔ چین اور روس کے بعد ترکی کے صدر اردگان نے بھی ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کو خطرناک دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے اور ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی عرب بدستور خاموش ہے۔ پاکستان کو ایک عرصے سے امریکی امداد اور اسلحہ کی ترسیل بند ہے۔ امریکہ نے اپنے خاص قسم کے ہیلی کاپٹر بھی واپس منگوا لیے ہیں۔ ٹرمپ کا پاگل پن بڑھتا جارہاہے، اس نے شمالی کوریا کو ایٹمی حملہ کی کھلی دھمکی دے دی ہے۔ شمالی کوریا کے صدر نے کہا کہ اس کی میز پر ایٹمی ہتھیار چلانے کا بٹن لگا ہواہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ میرے پاس زیادہ بڑا بٹن ہے جو ہر وقت میرے انگوٹھے کے نیچے رہتاہے۔ یہ بٹن دراصل ایک چھوٹے سے سرخ رنگ کے بکس میں ہے جو ہر وقت امریکی صدرکے دفتر میں موجود ہوتا ہے اور جب امریکہ کا صدر بیرون ملک دورے پر جاتا ہے تو ایک فوجی کمانڈر اس بکس کو اٹھا ئے اس کے ساتھ ساتھ رہتاہے۔ابتدا میں اس بٹن کا استعمال بہت آسان تھا۔ اسے دبانے سے اک دم دنیا بھرمیں نصب ایٹمی ہتھیار اپنے مخالف اہداف کی طرف چل پڑتے مگر اب اس کے استعمال پربعض پابندیاں لگ چکی ہیں۔ ٭پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمدآصف ٹرمپ کی ہرزہ سرائی پر بالآخر اُبل پڑے۔ ایک سخت بیان میں پاکستان کے ان ہزاروں شہریوں اورفوجیوں کا ذکر کیا جو امریکہ کی جنگ میں الجھ کر زندگیوں سے محروم ہوگئے۔ ان سڑکوں کا ذکر جو امریکی اسلحہ افغانستان پہنچاتے پہنچاتے کھنڈرات بن گئیں، ان امریکی فوجی اڈوں کا ذکر جنہیں ایک بزدل قوم فروش جرنیل پرویز مشرف نے پاکستان پر ہی حملے کرنے کے لیے امریکہ کے حوالے کردیا۔خواجہ محمد آصف کے مطابق امریکہ نے ہماری گزرگاہوں سے گزر کر افغانستان پر 57800حملے کیے۔ان ساری کارروائیوں کا معاوضہ، معمولی امداد تھی وہ بھی بند کر دی گئی۔123ارب ڈالر کے نقصانات کے بدلے صرف 33ارب ڈالر کے دعوے ! وہ بھی غلط ! اب حالات خاصے کشیدہ ہوچکے ہیں۔ امریکہ نے کچھ کرنا ہے تو کرکے دیکھ ہی لے! مگر اب اس کے لیے اسامہ بن لادن والی کارروائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ایسی کوئی بھی کارروائی محدود نہیں رہے گی، ساراخطہ خطرناک صورت حال سے دوچار ہوسکتاہے۔ چین، روس، ترکی خاموش نہیں رہیں گے۔ اس صورت حال پر جنرل مشرف کی زبان بند ہوچکی ہے۔ لال حویلی کی زبان لڑکھڑارہی ہے جس نے جنرل مشرف کے دستر خوان پر بیٹھے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان امریکہ کے قدموں پر نہ جھکتاتو وہ پاکستان کا تورابورا اور آملیٹ بنادیتا!

٭قارئین کرام! کڑوی کسیلی باتیں بہت ہوگئیں اب کچھ تفریحی قسم کی ایک بات ! سابق وزیراعظم نوازشریف نے سعودی عرب سے واپسی پر ایک پریس کانفرنس کی۔ اس میں پہلے سے لکھی ہوئی ایک تقریر پڑھی اور کسی سوال کا جواب دیئے بغیر پریس کانفرنس ختم کرکے چلے گئے۔ یوں یہ محض یک طرفہ بیان تھا۔ اس کا آغاز ہی نئی اصطلاح 'لاڈلے' کے ذکر سے کیا۔ معاملہ یہ ہے کہ نوازشریف اور مریم نواز ، عمران خاں کو عدلیہ کالاڈلا قراردے رہے ہیں۔ عمران خاں نے نوازشریف کو جنرل ضیاء الحق کی چوسنی والا 'لاڈلا'قراردیا ہے۔ مجھے اس پر ایک پرانا دلچسپ گیت 'انوکھا لاڈلا' یاد آگیاہے۔ یہ ایسا گیت ہے جسے برصغیر کے تقریباً تمام کلاسیکی ، نیم کلاسیکی اور غزل گوگلوکاروں اور موسیقاروں نے ایک بار ضرور گایا ہے۔ اس گیت کے ابتدائی بول ہیں 'انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند!''اسے مختلف موسیقاروں نے مختلف راگوں میں پیش کیا۔ ان میں بھیردیں ، بھوپالی اور جے جے ونتی راگ استعمال ہوئے مگر سب سے زیادہ درباری راگ میں گایاگیا ہے۔ درباری راگ کوراگوں کا بادشاہ کہاجاتا ہے۔ یہ راگ بہت مشکل اورخاصے رکھ رکھاؤ والا سات سروں کا سمپورن راگ ہے جو رات گئے شاہی درباروں میں گایا جاتا تھا۔ اسے مشہور گویے تان سین نے ایجاد کیا۔ اس میں بہت سے مشہور گانے گائے جاچکے ہیں ان میں بیجو باورا فلم کا مشہور گانا ''او دنیا کے رکھوالے، سن درد بھرے میرے نالے'' اور دوسرے گانے شامل ہیں۔ اس راگ میں ''انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند'' کے گانے نے بہت شہرت حاصل کی ہے۔ اس گانے کا پس منظر یہ ہے کہ ایک کم سن شہزادے نے آسمان پر چاند کو دیکھ کر ضد کی کہ اسے چاند چاہئے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آتاتھا کہ کیا کیا جائے۔ ایک سیانے وزیر نے اس کے سامنے آئینہ رکھ دیا۔ اس میں چاند دکھائی دے رہا تھا۔ اس پر شہزادہ خوش ہوگیا۔ اس کے ساتھ گاناابھرآیاکہ انوکھا لاڈلاکھیلن کو مانگے چاند! یہ گانااتنا مقبول ہوا کہ اسے بڑے بڑے موسیقار اور گلوکار گا چکے ہیں۔ ان میں استاد نزاکت علی سلامت علی، استاد امانت علی خان فتح علی خاں، شاہدہ منی، نیئرہ نور، ٹیناثانی ، بلقیس خانم گل بہار بیگم ، فریدہ خانم،طاہرہ سید ، باسط علی اور دوسرے بہت سے گلوکار اپنے اپنے انداز میں گا چکے ہیں۔ اس گانے کے بول بہت خوبصورت ہیں۔ ایک بول کا ٹکڑا پڑھئے، ''انوکھا لاڈلا، کھیلن کو مانگے چاند! کیسی انوکھی بات رے!''…اور یہ کہ ''جس تن بِیتی ، وہ تن جانے، جگ والے آئے سمجھانے ، پاگل من کوئی بات نہ مانے، کیسی انوکھی بات رے! انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند !''۔ ٭قارئین کرام!پتہ نہیں عمران خاں اور نوازشریف نے یہ گیت سنا ہے یا نہیں! اپنی باتوں میں زیادہ زور پیدا کرنے کے لیے انٹرنیٹ پر "ANOKHALADLA"لگالیں اس کے متعلق بہت کچھ سن سکیں گے!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved