عمل اورردّعمل
  6  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) ایک چینل نے تویہاں تک مضحکہ خیزاعتراض کرڈالاکہ کلبھوشن کی ملاقات کے دوران درمیان میں شیشہ کی رکاوٹ کیوں حائل تھی،کیمرے کیوں لگائے گئے ؟ ؟ بھارتی میڈیایکسربھول گیاکہ کلبھوشن ایک ہائی پروفائل بھارتی جاسوس ،قاتل اورسزایافتہ مجرم ہے جبکہ خودبھارت کاپاکستانی قیدیوں کے ساتھ نارواانسانیت سوزکی کہانیاں توزدعام ہیں کہ کس طرح ان پرتشددکرکے ان کومعذورتک کردیاجاتاہے اوربعض معاملات میں توتشددکی بناء پروہ قیدی اپنی یادداشت تک کھوبیٹھتے ہیں۔کیابھارتی بے شرم میڈیااپنے حکام سے استفسارکرے گاکہ کلبھوشن کی ماں اوربیوی کوپاکستانی میڈیاسے بات کرنے سے کیوں روکاگیا؟کیابھارتی متعصب،زہرافشاں ذرائع ابلاغ کبھی اس سوال کاجواب دیناپسندکریں گے کلبھوشن کے بھارتی پاسپورٹ جس پراس کی تصویرچسپاں تھی،حسین پٹیل کے نام سے کیوں جاری کیاگیااوروہ پاکستان میں کیاکررہاتھا؟ کلبھوشن کی گرفتاری کے کچھ عرصہ بعداپریل میں پاک فوج کے ایک سبکدوش لیفٹیننٹ کرنل حبیب نیپال کے ایک شہرسے پراسرارطورپرغائب کردیئے گئے،آج تک ان کے بارے میں کوئی خبرنہیں۔یہ شہرنیپال اورانڈیاکی سرحدپرواقع ہے اوردونوں ملکوں کے درمیان سب سے بڑی سرحدی چوکی ہے۔اس سرحدی چوکی سے بڑی تعدادمیں انڈین اورنیپالی شہری ہرروزایک دوسرے کے ہاں آتے جاتے ہیں اوراس سرحدی شہرکاہوائی اڈہ سرحدی چوکی سے چندکلومیٹرکے فاصلے پرواقع ہے۔کرنل حیبیب آخری باراسی ہوائی اڈے کے باہر دیکھے گئے تھے۔نیپال کی پولیس نے اس معاملے کی تفتیش کی تھی لیکن اس کی زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔نیپال کے ذرائع ابلاغ نے کرنل حبیب کی گمشدگی کے بارے میں جوقیاس آرائیاں کی تھیں اس میں واضح اشارہ کیاگیاتھاکہ اس پراسرارگمشدگی میں انڈین خفیہ ایجنسیوں کاہاتھ ہونے کاشک گزرتاہے۔اس معاملے کی حساس اوربین الاقوامی نوعیت کے پیش نظرنیپال کی سیاسی قیادت اورپولیس نے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی جس سے ان کی گمشدگی کے بارے میں کوئی عندیہ ملتاہو۔اس وقت انڈیاکے اخبارانڈین ایکسپریس میں شائع ایک مضمون میں کہاگیاتھاکہ کرنل حبیب پاکستان کی اس خفیہ ٹیم میں شامل تھے جنہوں نے کلبھوشن کورنگے ہاتھوںگرفتارکیاتھا۔پاکستان کے میانہ رواورمعتدل مبصرین بجاطورپریہ سوال بھی اٹھارہے ہیں کہ اس ملاقات سے پہلے کم ازکم پاکستان کے ایک سپوت کرنل حبیب کی رہائی کاتقاضہ ہی کرلیاجاتا۔

یہ امرانتہائی حیرت کاموجب ہے کہ پاکستان نے ملاقات کیلئے ٥٢دسمبرکاتاریخی دن مقررکیا۔میڈیاپر٥٢دسمبرکوبابائے قوم محمدعلی جناح کی زندگی کے مختلف پہلواجاگرکرنے کے پروگرام اورگفتگوہوتی ہے لیکن اس بارسارادن اس منحوس کلبھوشن کی ملاقات کاتذکرہ ہوتارہا۔پاکستانیوں نے جس اندازمیں یہ دن مناناتھا،میڈیااس کاساتھ نہ دے سکا۔اس سے بھی زیادہ توجہ طلب بات یہ ہے کہ بھارت میں کئی پاکستانی قیدہیں جن پربے پناہ تشددکیاجاتاہے،جوپاکستانی کبھی رہائی پاجائیں تویاوہ ادھ موئے اورظلم کی داستان منہ پرسجائے ارض وطن پہنچتے ہیں یاپھران میں اکثریت اپاہج کردی جاتی ہے لیکن پاکستان میں بھارتی قیدیوں کے ورثاء کوغیرمعمولی پروٹوکول دیکرملاقات کے مناظردکھائے جاتے ہیں جس سے بالخصوص پاکستانی قیدیوں کے رشتہ داراوربالعموم پاکستانی قوم کے اذہان میں یہ سوال ابھرتاہے کہ کیاہمیں بھارت کے ساتھ برابری کی سطح پربات چیت اورسلوک نہیں کرناچاہئے؟اگرپاکستان انسانی اوربین الاقوامی حقوق کی پاسداری کرتاہے تودوسری طرف سے ایسی ہی خیرسگالی کے جذبات کااظہارکیوں دکھائی نہیں دیتے؟مگریہاں توہندو کا بھیانک اورخونریزچہرہ ہی نظرآتاہے۔اقوام عالم نے پاکستان کی جانب سے اچھے برتاؤاورباہمی تعلقات بہتربنانے کی سعی دیکھ لی ہے ،اب عالمی برادری کافرض بنتاہے کہ وہ بھارت پرزوردے کہ وہ جموں وکشمیر میں قتل وغارت کاسلسلہ بندکرے اورپاکستان کلبھوشن کے مصدقہ اقبال جرم کے بعداس کوسنائی جانے والی سزاپرفوری عملدرآمدکیاجائے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved