رائے شماری ایڈمنسٹریٹرز کب نامزد ہوں گے؟
  6  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

آج ایک ایسے موقع پریوم حق خود ارادیت منایا گیا ہے،جب آزاد کشمیر میں راجہ فاروق حیدر حکومت ایڈمنسٹریٹر تعینات کر رہی ہے۔ جب کہ رائے شماری ایڈمنسٹریٹرز کی تعیناتی کا 70سال بعد بھی امکان نظر نہیں آتا۔ آزاد اسمبلی صرف اجلاس پر اکتفا کرے گی۔ امریکہ، بھارت، افغانستان کی جانب سے پاکستان کو دھمکیاں مل رہی ہیں۔نریندر مودی کی سرپرستی میں بی جے پی بھارت کو ہندو راشٹریہ بنانے کے ایجنڈے پر گامزن ہے۔ 5جنوری 1949کواقوام متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی تھی۔ جس میں جموں کشمیر میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی غیر جانبدارانہ اور شفاف رائے شماری کرانے کا کہا گیا۔ لیکن بھارت کشمیر میں نام نہاد الیکشن کو ہی رائے شماری کے متبادل کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔ 5جنوری 1949 کی قراداد اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاکستان اور بھارت نے منظور کی۔کمیشن امریکہ کی سربراہی میں تشکیل دیا گیا۔ جس کے ارکان میں ارجنٹائن، بیلجیئم، کولمبیا اورچیکو سلواکیہ شامل تھے۔کمیشن نے پاکستان اور بھارت کی جانب سے کشمیر میں رائے شماری کرانے کے اصول اور طریقہ کارتسلیم کرنے کے بعد ہی سلامتی کونسل میں قراردادپیش کی ۔بھارت نے 23دسمبر 1948اور پاکستان نے25دسمبر1948کو اقوام متحدہ کے کمیشن کو لکھے گئے اپنے مکتوبات میں رائے شماری کے طریقہ کار کو تسلیم کیا۔بھارت اور پاکستان کی جانب سے تحریری طور پر تسلیم شدہ اصول جن کی اقوام متحدہ نے توثیق کی، کا خلاصہ ذیل میں ہے: 1۔ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان یا بھارت سے الحاق کے سوال کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے ہو گا۔2۔رائے شماری،یو این کمیشن کے 3اگست1948کی قرارداد کے پہلے اور دوسرے حصہ کے تحت انتظامات مکمل ہونے پر ہو گی۔3۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کمیشن کی رضامندی سے رائے شماری کرانے کے لئے ایڈمنسٹریٹر نامزد کریں گے۔4۔ رائے شماری ایڈمنسٹریٹر جموں و کشمیر کی حکومت سے وہ تمام اختیارات حاصل کریں گے جو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے لئے موزوں ہوں گے۔ 5۔ رائے شماری ایڈمنسٹریٹر اپنے معاونین اور مبصرین کے تقرر کا اختیار ہو گا۔6۔جموں و کشمیر سے تمام بیرونی عناصر کا انخلاء کیا جائے گا۔-7جموں وکشمیر کے مہاجرین کو واپس گھروں کو آنے کی آزادی ہو گی۔8۔تما م قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔9۔اقلیتوں کو تحفظ دیا جائے گا۔ اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاکستان و بھارت نے قراداد میں پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بندی کرنے،جنگ بندی کی نگرانی کے لئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی تعیناتی اور مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی بات کی تھی۔لیکن 5جنوری 1949 کی قرارداد میں پاکستانی وزیر خارجہ ظفر اللہ خان کے اقوام متحدہ کو مکتوب کے بعد رائے شماری کو پاکستان اور بھارت سے الحاق تک محدود کر دیا گیا۔جبکہ جموں و کشمیر کے عوام غیر محدود و غیر مشروط رائے شماری کا مطالبہ کر رہے تھے۔یہی وجہ ہے کہ قوم پرست جماعتیں یوم حق خود ارادیت کو یوم سیاہ کے طور پر مناتی ہیں۔تا ہم 5جنوری 1949 کی قرارداد میں مشروط الحاق کی شق کو چھوڑ کر تمام شقوں سے کشمیریوں کی اکژیت اتفاق کرتی ہے۔ 13اگست1948کی قراررداد کی روشنی میں آج بھی اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین جنگ بندی لائن پر دونوں ممالک کے سیز فائر کی نگرانی کر رہے ہیں۔بھارت کی کوشش ہے کہ یہ فوجی مبصرین واپس چلے جائیں۔بھارتی حکمرانوں نے اس سلسلے میں اسلام آباد کو بار ہا سبز باغ دکھائے۔معاشی اور سیاسی رعایتیں دینے کا جھانسہ دیا،دوستی کی باتیں کیں،وفود کے تبادلے کئے، بیک چینل ڈپلومیسی کا سہارا لیا، لیکن بات نہ بنی۔ بھارت چاہتا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کے تعاون سے سلامتی کونس کے زریعے فوجی مبصرین واپس چلے جائیں۔ وہ سرحدوں کو گرم کر رہا ہے۔ اس کا زور اب جنگ بندی لائن، ورکنگ بائونڈری پر ہے۔

اتفاق سے پاکستان اور بھارت دونوں ایک ساتھ 2013کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل ممبر رہے ۔بھارت سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے لئے سر گرم لابی میں مصروف ہے۔ افغانستان امریکہ اور نیٹو کو شکست ہو چکی ہے ۔جس کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔دنیا افغانستان میں بھارت کو بڑا کردار دے کر اسے اس خطے کا چوکیدار بنا رہی ہے۔افغان فورسز اور پرائیویٹ ملیشیا کو بھارت تربیت دے رہا ہے۔افغانوں کو ڈیورنڈ لائن توڑنے پر تیار کیا جا رہاہے۔ پاکستان معاشی اوردھرنوںجیسے اندرونی معاملات میں ایسے پھنسا ہے کہ اس کی دنیا کے تیزی سے بدلتے سنگین حالات پر شاید بہت کم توجہ ہے۔ آصف علی زرداری،عمران خان اور علامہ طاہر القادری، چودھری برادران کی جانب سے دھرنا سیاست کی حمایت سے ایسا لگتا ہے کہ سیاستدانوں کو ایک دوسرے کا تختہ الٹنے اور اقتدار کے حصول کی زیادہ فکر ہے۔اس صورتحال میںکشمیر ی عوام کایوم حق خود ارادیت منانا دلچسپ بات ہے۔الحاق پاکستان کے حامیوں کے لئے اس کو منانے کی اہمیت اس لئے بھی بڑھ گئی ہے کہ بھارت اشتعال پر اتر آیا ہے۔ جنگ پر اکسا رہا ہے۔پاکستان میں مشاورت یا کسی اجلاس کی کارروائی یا پارلیمنٹ میں بحث یا منظوری یا پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کی کارروائی میں مسئلہ کشمیر پر بحث کی کسی کو فرصت نہیں۔ جبکہ اس پر بحث کی ضرورت ہے۔اگر ایسا نہ ہوا تو یہ موجودہ حکومت کی مجبوریوں اور کمزوریوں کے ساتھ ساتھ حماقتوں کو آشکار کرے گا۔اسلام آباد حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو گمان ہے کہ آج کا وقت ملک کے لئے سنجیدہ فیصلوں کا تقاضا نہیں کرتا ۔ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے۔ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین اب بھی بھارت کی مخالفت کے باوجودجموں وکشمیر کی جنگ بندی لائن کی نگرانی کر رہے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved