خلافت
  6  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

3مارچ کا دن اُمت مسلمہ کی تاریخ میں اس نہایت بھیانک ، المناک اور سنگین دن کی یاد دلاتا ہے جب دنیا میں مسلمانوں کا واحد نمائندہ عالمی ادارہ(خلافت) ختم کر دیا گیا اور نتیجہ میں مسلمان طاغوتی و استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کے تسلط میں آگئے ۔ اس لیے آج خصوصی طور پر ہمارے مطالعے کا موضوع خلافت ہے ۔ چاک کر دی ترک ِناداں نے خلافت کی قبا سادگی مسلم کی دیکھ' اوروں کی عیاری بھی دیکھ خلافت ہے کیا ؟نبی اکرم ۖ کی 23سالہ جدو جہد کے نتیجے میں جو نظام قائم ہوا اسی کو نظام خلافت کا عنوان ملا۔آپ ۖ کے بعد آپ ۖ کے تربیت یافتہ لوگ ہی تھے جنہوں نے اس نظام کو باقاعدہ آگے بڑھایااوریہ نظام خلافتِ راشدہ کہلایا ۔یہ عنوان خود اللہ کے رسول ۖ نے دیا ۔ احادیث میں پانچ مسلم ادوار کا ذکر کرتے ہوئے حضور ۖ نے فرمایا کہ دور نبوت کے بعد خلافت راشدہ کا دور ہے ۔خلافت کا یہی وہ اصل دور ہے جسے خلافت علیٰ منہاج النبوة کہا جاتا ہے ۔یعنی جو نظام اللہ کے رسول ۖ اُمت کو دے کر گئے تھے وہ حقیقی اور خالص ترین شکل میں خلافت راشدہ میںقائم ہوا۔ خلافت راشدہ کا30سالہ دور ایک آئیڈیل دور تھا مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ خلافت راشدہ کے بعد خلافت کا نظام ایک دم زمین بوس ہوگیا تھا۔ نہیں۔ بلکہ اس کے اثرات تادیر باقی رہے ۔یہ اتنا بودا نظام نہیں تھا جو نبی اکرم ۖ نے بنایا تھا ۔صرف اوپر کی سطح پر کچھ تبدیلی آئی تھی کہ خلیفہ کے تقرر کا وہ طریقہ کار بدل گیا تھا جو حضورنبی اکرم ۖ اور خلفائے راشدین چھوڑکر گئے تھے لیکن باقی سارا نظام تقریباً وہی رہا جو دور خلافت راشدہ میں تھا ۔ یہاں ایک اصولی بات ذہن نشین رہے کہ اکثر لوگ خلافت راشدہ کے بعد کے دور کو ملکوکیت کا نام دیتے ہیں جبکہ ملوکیت حقیقی معنوں میں تو وہ ہے جس میں سارے کا سارا اختیار بادشاہ کے پاس ہو ، وہ جب چاہے اور جس طرح کا چاہے قانون بنا لے ۔جب چاہے اور جس قدر چاہے عوام پر ٹیکس لگا دے ۔چاہے تو صبح کوئی قانون بنائے اور شام کو اسے ختم کرکے دوسرا بنا لے ۔عوام کو اس کا حق دے تو اس کا احسان ورنہ کوئی اسے پوچھنے والا نہ ہو۔ سارے حقوق اس کے اور ا س کے خاندان کے ہوں۔ باقی عوام کا کام محنت کرنا اور بادشاہ کو لگان اور خراج دینا ہو۔ عدل و انصاف بھی بادشاہ کی صوابدید پر ہی ہو ۔ چاہے تو بڑے سے بڑے مجرم کو معاف کر دے اور چاہے تو بے گناہ کو سولی چڑھا دے ۔یعنی ملوکیت میں ٹوٹل اختیار بادشاہ کے پاس ہوتا ہے ۔چنانچہ ساری دنیا میں آپۖ سے پہلے یہی نظام چل رہا تھا ۔ آپ ۖ نے آکر اس کو بدلا ۔ آپ ۖ نے جو نظام دیا اس کے مطابق سارے کا سارا اختیار صرف اللہ کا ہے ۔ سارے کا سارا قانون اللہ کا بنایا ہوا ہے جس میں کسی ردو بدل کا کسی کو بھی اختیار نہیں۔ خلیفہ اللہ کی مخلوق کے معاملے میں روز قیامت اللہ کے سامنے جوابدہ ہو گا ۔ یہ نظام اپنی خالص ترین شکل میں دور خلافت راشدہ تک قائم رہا ہے ۔پھر اوپر کی سطح پر کچھ تبدیلی آگئی کہ خلیفہ کا تقرر منہج نبوی ۖ کے برعکس محض خلیفہ کی مرضی سے ہونے لگا لیکن نیچے کا سارا ڈھانچہ وہی رہا۔ یعنی قانون صرف قرآن و سنت کی شکل میں تھا جس میں کسی ترمیم کی نہ تو گنجائش ہے اور نہ کسی کو اختیار۔ عدالتی نظام وہی رہا جس میں قاضی شریعت کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔ زکوٰ ة و عشرکا نظام وہی رہا جو شریعت کے مطابق تھا ۔ یعنی قانون سارے کا سارا اللہ ہی کا چلتا تھا ۔ اگر کسی خلیفہ نے اللہ کے قانون کے مقابلے میں اپنی بات منوانے کی کوشش کی تو عدالتوں نے اس کے خلاف فیصلے دیے ۔ قاضی کو چاہے مار پڑے یا جیل جانا پڑے مگر وہ حاکم وقت کے سامنے اللہ کے قانون یعنی شریعت کی خاطر ڈٹ جاتے تھے ۔ گویا اوپر کی سطح پر ملوکیت کے آثار آگئے تھے لیکن نیچے کا پورا سٹریکچر وہی تھا جو نبی اکرم ۖ نے بنایا تھا۔ یہ نہیں تھا کہ نظام خلافت کی پوری عمارت ہی زمین بوس ہو گئی ہو۔اگر چہ اوپر کی سطح پر آنے والے تنزل کے اثرات آہستہ آہستہ نیچے بھی منتقل ہور ہے تھے لیکن اس کے باجود یہ حضور ۖ کے بنائے ہوئے نظام کی برکات تھیں کہ مسلمان اس نظام کی بدولت تقریباً آٹھ سو سال تک دنیا پر غالب رہے اورتیرا سو سال تک خلافت کا ادارہ دنیا میں قائم رہا جوکہ ایک بہت بڑی سازش کے بعد بالآخر 03مارچ 1924ء کو ختم کر دیا گیا ۔ یہ سارا پلان یہودی ساہو کاروں کا تھا جنہوں نے بڑی عیاری کے ساتھ جس طرح یورپی اقوام پر اپنا سرمایہ دارانہ تسلط قائم کیا اسی طرح نظام خلافت کو بھی ختم کرنے کے لیے انہوں نے پورا پلان بنایا اور سازشوں کے طویل دور کے بعد وہ کامیاب ہو گئے ۔بے شک اس عظیم سانحہ کی وجہ اپنوں کی سادگی بھی ہے اور غیروں کی عیاری بھی ۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا، نوآبادیاتی دور آیا، مغربی استعمار اپنی سفاکی کی انتہا کو پہنچا لیکن نظام خلافت کی تمام خوبیوں کے باوجود خلافت کو خوب بدنام کیا گیا ۔ ایسا کیوں تھا ؟اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان کا ذکر کرتے ہوئے ملکہ سبا کی زبان سے اس طرح کہلوایا ہے ۔ (جاری ہے) ''اُس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی بستی میںداخل ہوتے ہیں تو اس میں فساد برپا کر دیتے ہیںاور اس کے معزز لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں 'اور وہ ایسے ہی کرتے ہیں۔''(النمل) مغربی استعمار نے بھی یہی کیا ، نوآبادیات میں اپنے تمام تر ظلم و استحصال ، جبر و غلامی ، سفاکیوں اور خونریزیوں کے ساتھ ساتھ نظام خلافت کو بھی بدنام کرنے کے لیے ہر نیا حربہ آزمایا ۔نتیجہ میں آج ہمارے ہاں لوگوں کا تصور ِ خلافت ہی بگڑا ہوا ہے ۔ہمیں پتہ ہی نہیں کہ خلافت اصل میں ہے کیا شے ؟خلیفہ کس کو کہتے ہیں ؟ خلافت کتنے بڑی نعمت ہے ؟ کسی کو کوئی علم نہیں ۔ چنانچہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ رحمة للعالمین ۖ کے لائے ہوئے نظام کے متعلق لوگوں میں شعور کودوبارہ اُجاگر کیا جائے۔لفظ خلافت کی اصطلاح دراصل قرآن نے ہی استعمال کی ہے۔قرآن مجید کے شروع میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ ''اور یاد کرو جب کہ کہا تھا تمہارے ربّ نے فرشتوں سے کہ میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ۔'' (البقرہ۔٠٣) اب خلیفہ سے کیا مراد ہے؟اس کے دو مفہوم ہیں ۔ خلف کہتے ہیں پیچھے آنے والا۔یعنی ایک کے بعد دوسرا جو آئے گا۔ خلف الرشید کی اصطلاح ہمارے ہاں بھی مستعمل ہے ۔جبکہ بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ زمین کا چارج پہلے جنات کے پاس تھا۔ جب حضرت آدم کو پیدا کیا گیا تو اس دن اللہ نے فیصلہ کیا کہ اب زمین کا چارج جنات سے لے کرآدم کو دیا جائے گا ۔گویا اس لحاظ سے خلیفہ کا مطلب ہوا بعد میں آنے والا ۔ خلیفہ کا دوسرا مفہوم ہے نائب اور نائب کا تصور یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی ہستی کو Representکر رہا ہوتا ہے۔جیسے انگریزوں نے جب برصغیر پر قبضہ جما لیا تو یہاں ان کا ایک وائسرائے مقرر ہوا ۔جس کی حیثیت یہاں ملکہ برطانیہ کے نمائندے کی تھی ۔وہ خود اپنی مرضی نہیں چلا سکتا تھا ۔ سارا قانون ملکہ وکٹوریہ کا تھا ، پالیسیاں وہاں سے بن کر آتی تھیں ، احکام وہاں سے آتے تھے ۔ بالفرض اگر وائسرائے ملکہ وکٹوریہ کے احکام نہ مانتا ، اس کے بنائے ہوئے قوانین سے انحراف کرکے اپنی من مانی کرتا تو لازماً وہ باغی شمار ہوتا اور ملکہ وکٹوریہ کے لیے پہلی ترجیح اس بغاوت کو کچلنا ہوتا ۔ بالکل یہی مثال ہے زمین پر انسان کی نیابت کی بھی ہے ۔یہ زمین اللہ کی ملکیت ہے اور اللہ رب کائنات ہے ۔ اس نے انسان کو زمین پر خلیفہ یعنی اپنا نائب بنایا ہے اور اپنے اس نائب کو ہدایت اور قانون بھی دے دیا ہے ۔جو کہ مکمل اور جامع ہے : ''آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کر دیاہے''(المائدہ۔١٣) یہ آیت حجة الوداع کے موقع پر نازل ہوئی جب آپۖ کا مشن پورا ہو گیا اور دین ہر اعتبار سے مکمل ہوگیا۔معاشی نظام کیا ہوگا ، معاشرتی اورسیاسی نظام کیا ہو گا، عدالتی نظام کیا ہوگا ، سماجی نظام کیا ہوگا ، کون سے نارمز ہیں جن کو پھیلانا ہے اور کون سے منکرات ہیں جن کی بیخ کنی کی جائے گی ۔یہ سب ہدایات آخری نبی حضرت محمد ۖ پر آکر مکمل ہو گئیں اوراب قیامت تک کے لیے ایک جامع پروگرام حضرت انسان کو سونپ دیا گیا ہے ۔لہٰذا اب انسان بحیثیت نائب مکلف ہے کہ وہ اللہ کے قانون کو اللہ کی اس دھرتی پر نافذ کرے ۔یعنی انسان بذات خود حاکم نہیں ہے بلکہ حاکمِ کائنات کا خلیفہ یعنی نائب ہے ۔وہ اپنی مرضی اور اپناقانون نہیں چلا سکتا ۔بلکہ وہی قانون نافذ کرے گا جو اسے اللہ نے دیا ہے ۔یہ ہے تصور خلافت ۔ جبکہ اس کے برعکس جمہوریت ہو یا بادشاہت دونوں اپنی اصل کے اعتبار سے کفر و شرک ہیں۔ اس لیے کہ جمہوریت میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اللہ کے قانون کو ہم نہیں مانتے ، کیا حلال ہے ، کیا حرام ہے ، کیا جائز ہے اور کیا ناجائز ہے ا س کا فیصلہ ہم خود کریں گے۔ ہمارے نمائندوں کی اکثریت جو کہی گی وہ قانون بن جائے گا۔اسی طرح بادشاہت میں بھی قانون بنانے کا اختیار صرف بادشاہ کے پاس ہوتا ہے ۔ ہزاروں سال تک ساری دنیا میں بادشاہت رہی ۔کوئی اور نظام تھا ہی نہیں پھر جب لوگ باشعور ہو گئے تواسی بادشاہت نے جمہوریت کا لبادہ اوڑ ھ لیا ۔ ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر پہلے ایک شخص حاکم بن جاتا تھا۔ اب جمہورکے نمائندے حاکم ہیں۔ نوعیت کا کوئی فرق نہیں ہے۔ اللہ کی حاکمیت کا وہ بھی انکار تھا یہ بھی انکار ہے۔ جبکہ خلافت کا مطلب یہ ہے کہ حاکمیت انسان کی نہیں بلکہ صرف اللہ کی ہے ۔انسان زمین پر اللہ کا نمائندہ ہے ۔ اس کا کام اللہ کے دیے ہوئے نظام کو اس کی زمین پر قائم کرنا ہے ۔یہ نظام اپنی آئیڈیل شکل میں دور خلافت راشدہ میں قائم تھا ۔اس کے بعد بنو اُمیہ کا دور خلافت آیا ۔ پھر خلافت بنو عباس کا دور آیا اور آخری دور عثمانی خلافت کا تھا ۔ دورِ خلافت راشدہ میں اسلامی نظام کی حدود نوے لاکھ مربع کلو میٹر پر محیط تھیں۔اس دور میں ایران ، عراق ، شام ، شمالی افریقہ سمیت بہت سے علاقے فتح ہوئے ۔کیوں؟ اس لیے کہ مسلمانوں کی کوئی ذاتی غرض نہیں تھی بلکہ وہ کہتے تھے کہ یہ زمین اللہ کی ہے اور ہم اُس پر اللہ کے نمائندے ہیں ، اللہ کا دیا ہوا پورا نظام ہمارے پاس اس کی امانت ہے جسے ہم نے اللہ کی زمین پر قائم کرنا ہے کیونکہ یہ اللہ کے ساتھ ہماری وفاداری کا تقاضا ہے ۔ ہمارا تم سے اور کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ہم تمہیں اسلام کی دعوت دیتے ہیں، تمہاری مرضی ہے اسلام قبول کرو یا نہ کرو، زبردستی کسی کو مسلمان کرنا اسلام کا اصول نہیں۔ البتہ رب کی دھرتی پر رب کا نظام قائم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اب اس دھرتی پر صرف رب کا سچا اور عادل نظام چلے گا ۔ اگر تم نہیں مانتے تو پھر فیصلہ تلوار کرے گی کہ دھرتی پر رب کا قانون چلے گا یا تمہارا۔ چنانچہ مسلمان دور خلافت راشدہ میںدوسپر پاورز سے نبردآزما ہوئے۔ پرشین ایمپائرمکمل اور رومن ایمپائرکا 3/4حصہ اللہ کے قانون کی عملداری میں آگیا۔ ان مفتوحہ علاقوں میں لوگوں نے اب تک صرف بادشاہ کا قانون ہی دیکھا تھا ، جس میں عوام کو کوئی حقوق حاصل نہیں تھے ، تمام مراعات اور حقوق شاہی خاندان کے پاس ہوتے تھے۔ اب جب لوگوں نے اللہ کا دیا ہوا عدل و قسط پر مبنی فطری نظام دیکھا تو ان کی آنکھیں کھل گئیں ۔انہیں پہلی دفعہ معلوم ہوا تھا کہ عوام کے بھی حقوق ہوتے ہیں ۔ جب انہوں نے دیکھا کہ عدل و انصاف اس درجے کا ہے کہ عدالت میں ایک غیر مسلم شہری اور خلیفۂ وقت برابر بٹھائے جاتے ہیں اور دونوں کے لیے قانون برابرہے ۔پھر پوری ریاست کے شہری چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم ان کی سب بنیادی ضروریات پوری کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ ہر غیر مسلم کی بھی جان، مال، عزت، آبرو اسی طرح محترم ہے جیسے ایک مسلمان کی۔اسلام لانے میں کسی پر کوئی زبردستی نہیں ہے بلکہ غیر مسلموں کو اجازت ہے کہ جو تم نے کرنا ہے اپنے گھروں میں کرو ، بتوں کو پوجنا ہے تو اپنے مندروں میں پوجو ، ہم تمہاری عبادگاہوں کی حفاظت کریں گے۔ ہاں ! البتہ یہاں شراب فروخت نہیں ہو سکتی ، بے حیائی اور فحاشی کے کام تم نہیں کر سکتے کیونکہ یہ اللہ کا قانون ہے اور یہ قانون معاشرے پر عدل و انصاف کے لیے قائم کرنا ضروری ہے ۔بہرحال عدل وانصاف پر مبنی یہ نظام جب لوگوں نے دیکھا تو کروڑوں لوگ چند سالوں میں مسلمان ہوگئے ۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اس وقت تو مسلمان جہاد و قتال ہی میں لگے ہوئے تھے، کوئی تبلیغی جماعتیں وہاں بھیجنے کا موقع نہیں تھا۔ سب سے بڑی تبلیغ یہ تھی کہ اللہ کا دین یعنی نظام خلافت قائم ہو گیا تھا اور اس کی برکات کو دیکھ کر کوئی مسلمان ہوئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا تھا۔ چنانچہ یہ نظام خلافت بنو اُمیہ میں بھی آگے بڑھا ہے۔ اسلامی ریاست کی حدود اور پھیلی ہیں۔اگرچہ بنو اُمیہ کا نظام خلافت آئیڈیل تو نہیں تھا کیونکہ اوپر کی سطح پر خرابی آگئی تھی لیکن نیچے کا سارا نظام وہی تھا ۔یہی وجہ ہے کہ خلافت بنواُمیہ کے دور (91سال) میں اسلام ڈیڑھ کروڑ مربع کلومیٹر تک پھیل گیا ۔اس کے بعد بنو عباس کا دور خلافت 5سو سال پر محیط ہے لیکن جیسا کہ اقبال نے کہا میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے شمشیر و سناں اوّل' طاؤس و رباب آخر! وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زوال آنا شروع ہو گیا ۔لیکن یورپی مورخین بھی مانتے ہیں کہ خلافت راشدہ کے بعد بہترین دور بنو اُمیہ کا تھا ۔ حضورۖ کی احادیث سے بھی یہ بات نظر آئی ہے: میری اُمت کا سب سے بہترین زمانہ میرا ہے ، پھران کا جو میرے بعد آئیں گے ، پھر ان کے بعد والوں کا '' (متفق علیہ) اس لحاظ سے خلافت راشدہ کے بعد بہترین دور بنو اُمیہ کا دور خلافت تھا اور اس دور میں بھی اسلام کی بہت توسیع ہوئی اور اسلام بہت مضبوط قوت بنا ہے۔ اسی دور میں محمد بن قاسم ایک عورت کی پکار پر یہاں آئے اور پوری دنیا کو بتایا ہے کہ کسی مسلمان عورت کو میلی نگاہ سے دیکھنا بھی کتنا بڑا جرم ہے۔ اسی طرح سپین میں بھی اسی دور میں مسلمان فاتح کی حیثیت سے گئے اور انہوں نے ثابت کیا کہ مسلمان سپریم پاور آف دی آرتھ ہیں ۔ آج پوری دنیا میں ہم پونے دور ارب ہیں لیکن دشمن آنحضورۖ کے خاکے بنا رہا ہے اور ہم کچھ کر نہیں پا رہے۔ قرآن مجید کے ساتھ جوکچھ کیا گیا' زبان پر لاتے ہوئے زبان کانپتی ہے مگر ہم کچھ نہیں کر سکے۔ سوائے اس کے کہ ان کے خلاف دھواں دھار تقریریں کرلیںاور کچھ توڑ پھوڑ کر دی اور اس کے بعد پھر بیٹھ کر انتظار کر رہے ہیں اب دوبارہ کب ہو گا۔ بہرحال اللہ کی مدد ہمارے ساتھ نہیں ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ3مارچ 1924ء میں خلافت کی تنسیخ ہوئی اور اس کے بعد سے آج تک خلافت کا نام لینا بھی ہمارے لیے جرم بنا دیا گیا ہے۔ جبکہ عالمی طاقتیں بھی یہی چاہتی ہیں کہ مسلمان خلافت کا نام نہ لیں ۔آپ کو یاد ہو گا جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا تو بش نے کہا تھاکہ القاعدہ والے فارایسٹ سے لے کر موریطانیہ تک نظام خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں، ان کی یہ مجال؟جبکہ اب صرف امریکہ کا حکم چلے گا ، نیو ورلڈ آرڈر نافذ ہو گا لہٰذا اب کسی مذہب کاکوئی دخل نہیں ہوگا۔ چنانچہ یہ وہ حقیقت ہے جہاں آج ہم کھڑے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ یہ دن منا کر کم از کم ہم یاد کرلیں کہ وہ وقت بھی ہم پر گزرا تھا ۔

کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھی کیا تو نے؟ وہ کیا گردوں تھا'تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارہ؟ نبی اکرمۖ کی دی ہوئی خبر بالکل سچی ہے اور قرآن مجید کی بھی بہت سی آیات ایسی ہیں جن میں اشارہ ملتا ہے کہ قیامت سے قبل کل روئے ارضی پر نظام خلافت قائم ہو کر رہے گا۔ ان شاء اللہ۔ اسی مضمون کا مزید مطالعہ ان شاء اللہ آئندہ جمعہ کو کریں گے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح پیغام کو سننے اور دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved