اصغرخاں:ایک مخلص، محب وطن، سچے کھرے شخص کی رحلت!
  6  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭ایئر مارشل اصغرخاںنے بھی رخت سفر باندھ لیا۔ ملک ایک بہت بہادر ،نہائت دیانتد ار ،مخلص ،محب وطن سے محروم ہوگیا جس نے آخری سانس تک نیک نام زندگی گزاری۔21جنوری1921ء سے5جنوری2018ء تک 97 برس کی پاک صاف شاندار زندگی! 35 برس کی عمر میں پاکستان ایئر فورس کی قیادت سنبھالی اسے عروج پر پہنچایا۔ اسی ایئر فورس نے بعد میں ایئر مارشل نور خاں کی بہادرانہ قیادت میں1965ء کی جنگ میں دلیری اور فتح مندی کی لازوال مثالیں قائم کیں۔ ایئر مارشل اصغرخاںکی زندگی کے بہت سے روشن پہلو ہیں۔ ایئر فورس کی قیادت کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرویز کو مثالی ترقی دی۔ سرکاری ملازمت سے فراغت کے بعد 1968ء میں تحریک استقلال قائم کرکے ایوب خاں کے آمرانہ دور کے خلاف جمہوری عمل کی جدوجہد شروع کی، جو بہت جلد بہت زور پکڑ گئی۔ ایک دور ایسا بھی آیا کہ تحریک استقلال میں چودھری اعتزاز احسن ، خورشیدمحمودقصوری، مہنازرفیع،نوازشریف، منظور وٹو،ملک حامد سرفرازاوردوسرے بہت سے بڑے لیڈر شامل تھے۔ کراچی میں ایئر مارشل اصغرخاںکی زیر قیادت تحریک استقلال کا جلوس دس گھنٹے میں ہوائی اڈے سے صدر بازار تک پہنچاتھا۔ بعدمیں یحییٰ خاں کے مارشل لا اور ذوالفقار علی بھٹو کی زیرقیادت پیپلز پارٹی کے زور پکڑنے کے بعدتحریک استقلال نرم پڑ گئی۔( اب یہ تحریک انصاف کا حصہ بن چکی ہے)۔ایئرمارشل اصغرخاںکی سیاست بالکل سیدھی کھری، صاف اور دوٹوک تھی۔ اس میں کوئی مصلحت کار فرمانہیں ہوتی تھی۔ لاہور میں ایئرمارشل صاحب سے اکثر ملاقاتیں رہیں۔ ان کے بڑے سے بڑے مخالفین بھی ان کی شرافت اور دیانت داری کا کھلا اعتراف کرتے تھے۔ انہیں زندگی میں اپنے بڑے بیٹے عمر اصغر کی مبینہ خودکشی کے سانحہ کا شدید صدمہ سہنا پڑا۔ 48 سالہ عمر اصغر کا سانحہ کراچی میں اس کے سسرال کے گھر میں واقع ہوا جہاں ان کا جسم چھت کے پنکھے کے ساتھ لٹکتاپایا گیا۔ اس پر اسرار موت کی وجہ آج تک سامنے نہ آسکی۔ اس صدمے نے اصغرخاںپرگہرااثر کیا اور وہ زندگی کی عام سرگرمیوں سے کنارہ کش ہوگئے۔ راولپنڈی میں پاک فضائیہ کاہوائی اڈا ان کے نام سے منسوب ہے۔ ملک کا سچا وفادار، مخلص محب وطن کردار چلا گیا۔ ایسے لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں!آج ایبٹ آباد میں ان کی تدفین ہے۔ خدا رحمت کند اِیں عاشقان پاک طینت را! ٭امریکہ نے پاکستان کی امداد بند کرکے اسے واچ لسٹ میں شامل کرلیا ہے۔ واچ لسٹ کے سادہ معنی ہیں کہ وہ پاکستان کی امریکہ کے بارے میں آئندہ پالیسیوں اور کردار پر نظر رکھے گا! امداد کی بندش تو رسمی بات ہے۔ اگست میں ہی بند ہوگئی تھی اور واچ لسٹ بھی کوئی نئی بات نہیں ،امریکہ نے پہلے روز ہی واچ لسٹ میں میں رکھا ہواہے۔ ایک امکان یہ ہے کہ وہ بعض دوسرے مسلم ممالک کی طرح پاکستانی افراد پر بھی ویزوں کی پابندی لگا سکتا ہے مگر یہ انتہائی اقدام ہوگا، اس کے جواب میں پاکستان کراچی سے افغانستان کو امریکی اسلحہ امریکی فوج کے لیے خوراک وغیرہ کی راہداری بند کردے تو اسے لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ ویسے بھی امریکی ماہرین جانتے ہیں کہ پاکستان کے عملی اور موثر تعاون کے بغیر امریکہ افغانستان میں امن وغیرہ کے قیام کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتا جہاں عملی طورپر ملک کا 43 فیصد حصہ طالبان اور9فیصد حصہ داعش کے قبضے میں ہے اور افغان حکومت صرف کابل شہر تک سمٹ کررہ گئی ہے۔پاکستان کے وزیر دفاع رانا تنویر نے امریکہ کو دعوت دی ہے کہ آؤ، جو کرنا ہے کرکے دیکھو ، ہم تیار ہیں۔ پاک فوج کی طرف سے اعلا ن آچکا ہے کہ حکومت کہے گی تو امریکی ڈرون طیارے گرادیں گے۔ زیادہ سخت اور جاندار رویہ وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے اختیار کیا ہے او رکھلے الفاظ میں امریکہ کی پاکستان دشمن کارروائیوں کی تفصیل بیان کردی ہے۔ عمران خاں ، سید خورشید شاہ، طاہر القادری اور دوسرے اپوزیشن لیڈروں نے بھی امریکہ کو کھری کھری سنادی ہیں حتیٰ کہ امریکہ کے قدموں میں لوٹنے والی لا ل حویلی بھی کہنے پر مجبور ہوگئی کہ امریکہ آئے گاتو آسانی سے واپس نہیں جائے گا۔( اسی لال حویلی نے ڈرایا تھا کہ امریکہ پاکستان کا آملیٹ بنا سکتا ہے)۔البتہ آصف زرداری کی طرف سے امریکہ کے بارے میں کوئی بات سامنے نہیںآئی( وہاں37 کاروبار ہیں) ۔ وہ اسی طرح خاموش ہیں جس طرح میاں نوازشریف نے آج تک اپنی زبان سے کل بھوشن کا نام نہیں لیا ۔ ٭میاں نوازشریف بار بارانتباہ کررہے ہیں کہ وہ گزشتہ ساڑھے چاربرسوںمیں اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کے راز کھول دیںگے۔ مجھے راز کھولنے کے بارے میں ایک پرانا دلچسپ لطیفہ یاد آگیا ہے ۔ کسی دیہات میں ایک جگہ ایک تقریب میں ایک رقاصہ ناچ رہی تھی۔ بہت سا ہجوم تھا۔ ایک شخص کواچانک پیٹ میں سخت آبی دباؤ محسوس ہوا۔ اردگرد کوئی واش روم وغیرہ نہیں تھا۔اسے دور کونے میں پانی کاایک گھڑا دکھائی دیا۔ بے تاب ہوکر اس نے خود کو اس گھڑے میں ہی فارغ کردیا۔ واپس آیا تو رقاصہ نے ایک بول اٹھایا کہ ''چھپایا ہے جو راز اب تک،بتادو نگی، بتادونگی! '' وہ شخص سمجھا کہ اس رقاصہ نے اس کی حرکت کو دیکھ لیا ہے۔ اس نے بٹو ے سے ایک نوٹ نکال کر اسے دیا کہ وہ چپ رہے۔ وہ سمجھی کہ اس شخص کو یہ بول بہت پسند آیا ہے۔ اُس نے پھراسے دہرایا۔ اس شخص نے پھر ایک نوٹ دیا۔ وہ مزید تیز ہوگئی اور باربار دہرانے لگی اس شخص کا بٹوا خالی ہو گیا مگر وہ بولے جارہی تھی۔ تنگ آکر وہ چیخ اٹھا کہ گانا بندکر! اتنا کچھ دے چکا ہوں بٹوا خالی ہوگیا ہے، توبند ہی نہیں ہو رہی ! تونے راز کیا بتانا ہے، میں خودبتا دیتاہوں کہ میں نے گھڑے میں …!! بات کہاں سے چلی کہاں پہنچ گئی ! چلئے دیکھتے ہیں میاں صاحب کیا کیا راز افشا کرتے ہیں! ٭کیا عجیب سیاست ہے ۔ جماعت اسلامی پاکستان میں ن لیگ کے خلاف آزاد کشمیر میں ن لیگ کے ساتھ! مولانا فضل الرحمان اسلام آباد میں ن لیگ کے اتحادی، کوئٹہ میں ن لیگ کے خلاف اپوزیشن میں! کوئی نظریہ! کوئی اصول! صرف موقع پرستی! فرماتے ہیں کہ بلوچستان اسمبلی میں ن لیگ کی حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی حمائت کر رہے ہیں اس لیے کہ ہم یہاں اپوزیشن میں ہیں۔ اس وقت بلوچستان اسمبلی کے اندر ہیجان کی کیفیت ہے اور ستم یہ کہ خود ن لیگ کے ارکان ہی اپنی پارٹی کے وزیراعلیٰ سردار زہری کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ جب کہ عام انتخابات سے پہلے اسمبلی تحلیل ہونے میں صرف ساڑھے چار ماہ رہ گئے ہیں۔ اس مختصر عرصے کے لیے حکومت کی تبدیلی سے کیا حاصل ہوگا؟ کوئی نئی حکومت اس مختصر مدت میں کیاکام کرے گی؟ دوسرا امکان گورنر راج کاہوگا۔ مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان قبائلی خطہ ہے ۔ بے شمار قبیلے ہیں۔ ہر اک کا اپناسردار ہے۔ سردار لوگ بہت کم ایک دوسرے کی قیادت کو قبول کرتے ہیں۔ اسمبلی میں بھی سردار بھرے ہوئے ہیں۔ ہر کوئی خود کووزیراعلیٰ دیکھناچاہتاہے۔ اسمبلی کااجلاس چندروز میں منعقد ہونے والا ہے۔ زیادہ امکان یہی دکھائی دے رہا ہے کہ وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا میاب نہیں ہوسکے گی۔65ارکان کی اسمبلی میں کم ازکم 33 ارکان کی حمائت ضروری ہے جو آسان دکھائی نہیں دے رہی۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمان اچانک حکومت کا ساتھ دے کر اس کا کام آسان بناسکتے ہیںمگر یہ کام کسی 'اجر' کے بغیر تو نہیں ہوسکتا! ٭ پنجاب کی حکومت نے انگریزی میں ایک سرکلر جاری کیا ہے کہ تمام سرکاری دفاتر کے باہرافسروں کے ناموں کی پلیٹیں اُردو میں لکھی جائیں! ٭ایس ایم ایس: وفاقی وزیر مذہبی امور سرداریوسف 35 برسوں سے اقتدار میں چلے آرہے ہیں۔ اپنے گاؤں جال گلیJALGALI میں آج تک سڑک نہ بنوا سکے۔ ایم آصف یونین کونسل بٹل۔ جال گلی مانسہرہ ،(0333-3292354) ٭ہمارے علاقے کی لہڑیLEHRI ڈسپنسری میں کوئی ادویات موجود نہیں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دوسال سے کوئی دوائی نہیں آئی۔ آزا د کشمیر کی حکومت زندہ باد! فرقان الحق، موضع نکی NAKKI، میر پور آزاد کشمیر(0306-8983667)

٭کراچی میں عجیب ڈراماہورہاہے۔ وہاں اپنے مطالبات کے لیے اساتذہ گیارہ روز سے ہڑتال کررہے ہیں اور ریلیاں نکال رہے ہیں۔ حکومت کے حکم پر پولیس ان پر لاٹھی چارج کرتی ہے، آنسو گیس برساتی ہے اورگرفتاریاں شروع کردیتی ہے اور پھر حکومت پولیس کی جواب طلبی شروع کردیتی ہے کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ کیا پولیس اوپر کی ہدایات کے بغیر خود کوئی کارروائی کرسکتی ہے ؟کیاوزیراعلیٰ کے علم میں نہیں ہے کہ گیارہ روز سے روزانہ کیا ہورہاہے؟ کیا ڈرامے ہورہے ہیں؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved