ہر شخص وہاں لٹیرا ہے
  7  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ جو کچھ ہم سیاست میں اپنی جماعت، سیاسی سرگرمیوں اور حصول اقتدار کے لیے کرتے ہیںاگر وہی کچھ اپنی ذات کے لیے کریں تو سب سے بڑے شیطان کہلائیں۔ اگر اس تجزیہ پر غور کریں تو بات بالکل درست نظر آتی ہے ۔ اپنے اہل سیاست پر نگاہ دوڑا لیںکہ کیا دور حاضر میں کوئی ایک بھی سیاست دان جھوٹ، ریاکاری، منافقت، ہوس اقتدار، الزام تراشیوں اور دوسری برائیوں سے مبرا نہیں ہے۔بدقسمتی سے اس فہرست میں وہ سب بھی شامل ہیں جو نظریاتی سیاست کے دعویٰ دار ہیں اور وہ بھی جو مذہب کے نام پر کارزار سیاست میں سرگرم عمل ہیں۔ کوئی خال خال مثال ان برائیوں سے ماورا ہوسکتی ہے جو میدان سیاست میں بھی اعلیٰ اوصاف کی حامل ہو لیکن غالب اکثریت تو میکاولی سیاست کی امین ہے۔ جب وہ جزب اختلاف میں ہوتے ہیں تو ان کی سیاست کا ہدف اور مطالبات اور ہوتے ہیں اور انہیں ہرطرح کا احتجاج او ر جدوجہد عین عبادت نظر آتی ہے لیکن جب انہی کے سر پر اقتدار کا ہما بیٹھتا ہے تو پھر سارے معیار بدل جاتے ہیں اور ہر سیاسی جدوجہد کو وہ ملک دشمنی سے تعبیر کرتے ہیں۔ اپنی جماعت کی قیادت کی ہر بات عطر وگلاب میں دھلی ہوئی اور سچ نظر آتی ہے جبکہ مخالف کی درست بات کو بھی جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہیں۔انہیں اپنی آنکھ کاشہتیر بھی دکھائی نہیں دیتا لیکن دوسرے کی آنکھ کا تنکا بھی واضح نظر آتا ہے۔ ہمارے سیاسی رہنما اس قدر اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار کیوںہیں۔ اس فہرست میں صرف سیاستدان ہی نہیں باقی سب لوگ بھی شامل ہیں لیکن رہنماء اس لیے زیاد اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ وہ ملک و قوم کی قیادت کرتے ہیں اور قوم ان کے پیچھے چلتی ہے اس لیے ان پر عام لوگوں سے کہیں زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمارے راہنماء کردار میں اسلام کے بد ترین دشمنوں سے بھی گئے گذرے ہیں۔ بات بہت سخت ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ رسولۖ کا بدترین دشمن اور کفار مکہ کا سردارابوسفیان کا کردار بھی سچ بولنے کے حوالے سے ہمارے ان لوگوں سب سے کہیں بہتر تھا۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بازنطینی بادشاہ ہرقل روم نے اہل دربار کے سامنے (اُس وقت کے) دشمن رسولۖ ابوسفیان سے پوچھا کہ محمدۖ کیسے انسان ہیں، کیا وہ جھوٹ بولتے ہیں، کیا امانت دار ہیں، کیا وہ عدوہ پورا کرتے ہیں؟ ابوسفیان نے بلا تعامل کہا کہ محمدۖ سچے انسان ہیں اور جھوٹ نہیں بولتے، امانت دار ہیں اور وعدہ خلافی نہیں کرتے۔اگر ہرقل روم کے دربار میںابوسفیان کی جگہ آج کا کوئی بھی سیاستدان ہوتا تو کیا جواب دیتا؟وہ تو اپنے پاس سے مزید جھوٹ اور الزامات شامل کر نہیںلیتا ۔ ہمارے سیاست دان توکفار مکہ کے سردار ابو سفیان جتنے بھی صاحب کردار نہیں۔ ساغر صدیقی نے درست ہی کہا تھا کہ رہبروں کے ضمیر مجرم ہیں ، ہر شخص وہاں لٹیرا ہے معبدوں کے چراغ گل کردو قلب انساں میں اندھیرا ہے لیڈر کیا اور عوام کیا ، اس حمام میں سب ننگے ہیں۔عام آدمی سے لیکر اوپر تک سب ہی اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔ کہنے کو کہا جاتا ہے کہ ہم زندہ وقوم ہیں۔ لیکن زندہ قوم کیا ایسی ہوتی ہیں کہ ہر برائی ہمارے اندر موجود ہے۔قرآن حکیم نے اقوام سابقہ اور ان کے جرائم کی فہرست بھی دی ہے جن کے باعث وہ ہلاک ہوئے اور نشان عبرت بنے۔ ان سب جرائم کی ایک فہرست مرتب کرلیں اور ہم اپنا جائیزہ لیں، وہ تما م برائیاں اور جرائم ہمارے اندر موجود ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمیں احساس تک نہیں بقول حکیم الامت وائے ناکامی! متاع کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا ہم ایک نظریہ اور ضابطہ حیات کے مطابق زندگی بسر کرنے کے دعویٰ دار ہیں لیکن اُس کی معمولی سی بھی جھلک ہمارے اندر نظر نہیں آتی۔ اس کے بر عکس دنیا کی بہت سی اقوام اخلاق و کردار میں کیوںبہت بہتر ہیں۔ ادویات میں ملاوٹ کرنے والوں، مردہ گوشت بیچنے والوں، مصنوعی دودھ بنانے والوں ، انتڑیوں سے گھی تیار کرنے والوں، کھانے پینے کی چیزوں میں ملاوٹ ، جھوٹ بول کر مال فرخت کرنے والوں اور رشوت لینے والوں کے ضمیر کیوں نہیں جاگتے۔ قومی خزانے کو بے دریغ ہڑپ کیاجارہاہے پوری دنیا میںہمارے راہنمائوں کی کرپشن کی داستانیں عام ہیں ۔ ہمارے اساتذہ کلاس میں پڑھانے کی بجائے ٹیوشن میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں، ڈاکٹر مریضوں کو ہسپتال کی بجائے پرائیویٹ دیکھیں، جہاں نکاح خواں بھی حکومتی متعین شدہ فیس سے زائد لیں، جہاں مذہبی رہنماء قوم کو فرقوں میں بانٹ دیں اور حرام مال شیر مادر کی طر ح حلال سمجھا جائے وہاں کیا ضمیر زندہ رہے گا۔ زندگی کا کوئی سا بھی شعبہ لے لیں یہی صورت حال نظر آئے گی۔قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں۔ تبدیلی اور انقلاب صرف حکومتوں کے بدلنے سے ہی نہیں آتے بلکہ جب تک قلب و ذہن میں تبدیلی نہیں آتی حقیقی انقلاب نہیں آسکتا ۔ جہاں باکردار اور سچی قیادت انقلاب اور تبدیلی کے لیے ضروری ہے وہیں عوام کے فکر و نظرکو بھی بدلنا اتنا ہی ضروری ہے۔

قرآن نے بالکل واضع بتا دیا ہے کہ جب تک کوئی قوم اپنے قلب و ذہن میں اور اپنے سوچنے کے انداز میں تبدیلی نہیں لاتی،اپنی طرز فکر کو بدلتی نہیں تو خدا بھی اُس قوم کے حالات نہیں بدلتا۔ یہ وہ ذمہ داری ہے جو سب پر عائد ہوتی ہے اور ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہے بصورت دیگر ہم اسی دلدل میں ہی پھنستے چلے جائیں گے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved