امریکہ کی ایک اورشکست !
  7  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭میں ایئر مارشل اصغر خاں کا آخری سفر دیکھ رہاہوں۔ ملک کا قومی پرچم سرنگوں ہے۔ ایک جنازہ راولپنڈی میں ایئر پورٹ پر، وزیراعظم پاکستان، تینوں افواج کے سربراہ ،چیئرمین جائنٹ چیفس، وفاقی وزراء اور بہت سے دوسرے لوگ نماز میں شریک ہیں۔ مرحوم کے جسد خاکی کو پاک فضائیہ اور مسلح افواج کے سربراہان سلامی دے رہے ہیں۔ اس شخص کو سلام کررہے ہیں۔ جس نے پوری عمر دیانت داری، صداقت اور بے پناہ پر خلوص حب وطن سے سرشار گزاری۔ صاف ستھری زندگی! ایسے لوگ ہمیشہ زند ہ رہتے ہیں۔ ٭اصغرخاں توچلے گئے مگرانہوں نے قومی خزانے کے لوٹ مار کے خلاف عدالت عظمیٰ میں جو کیس دائر کیا وہ اب بھی موجودہے۔1990ء کے انتخابات میں ایک فوجی طبقے نے مسلم لیگ، جماعت اسلامی اور دائیں بازو کے کچھ لوگوں کو ملا کر آئی جے آئی نام کا ایک اتحاد قائم کیااور اس میں شامل جماعتوں کو مہران بینک کے ذریعے 9 کروڑ روپے کے فنڈز بھی فراہم کیے۔ یہ صریح بدعنوانی تھی۔ اس میں جنرل اسلم بیگ کا نام بھی آتارہا۔ ایئر مارشل اصغرخاں نے اس بدعنوانی کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس دائر کردیا جودس برس سے زیادہ عرصے سے عدالت میں زیر تصفیہ چلا آرہاہے۔ اصغرخاں انتہائی ضعیفی کے عالم میں بھی واکنگ سٹک کے ساتھ عدالت میں جاتے رہے مگر بات آگے بڑھ نہ سکی۔ انہوں نے اپنی پارٹی تحریک استقلال کو عمران خاں کی تحریک انصاف میں شامل کردیاتھا۔ عمران خاں نے اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی اس کیس کی پیروی کرے گی مگر عمران خاں کی سرگرمیاں کچھ اورنوعیت کی ہیں، یہ کیس شائد ہی ان کی توجہ حاصل کرسکے ! ٭ عمران خاں کا ذکر آیا ہے تو ان کی مبینہ تیسری شادی کی خبر نمایاں ہوگئی ہے۔ خبر کے ذریعے کے مطابق یہ شادی خفیہ طورپر یکم جنوری کو لاہورکے گلبرگ علاقے میں ایک ایسی خاتون کے ساتھ ہوئی ہے جو عمران خاں کے لیے روحانی رہنما کی حیثیت رکھتی ہیں۔ عمران خاں کی طرف سے تاد م تحریر کوئی تصدیق یا تردید نہیں آئی تاہم ان کے قریبی ساتھی عَون محمد چودھری اور نعیم الحق نے اس کی تردید کردی ہے۔ خبر دینے والے ایک سینئرصحافی ہیں وہ اپنی خبرکے درست ہونے پر اصرار کررہے ہیں۔ شادی ہوئی ہے یانہیں بالآخرحقیقت سامنے آجائے گی مگر عجیب بات کہ شادی جیسے پاک صاف عمل کو پراسرار کیوں بنادیاجاتا ہے؟ عمران خاں کی ریحام خاں کے ساتھ شادی خفیہ رہی پھر سامنے آگئی۔ اب بھی ابہام پیدا کیاجارہاہے۔ خبر نگار کاکہنا ہے کہ نکاح عمران خاں کے ساتھ مفتی محمد سعید نے پڑھایا ہے۔ وہ اس کی نہ تصدیق کررہے ہیں نہ تردید ! ٭امریکہ نے پاکستان کی امداد اور فوجی تعاون ختم کرنے کا اعلان کیا البتہ اتنی گنجائش رکھی ہے کہ پاکستان کی ایٹمی تنصیبات کے تحفظ کے لیے مالی امداد جاری رہے گی۔ پاک فوج کے ترجمان کا بیان آیاہے کہ ہمیں کسی تعاون کی ضرورت نہیں، پاک فوج امریکی تعاون کے بغیر طاقت ور اورمضبوط ہے! اب پاک فوج تو اعلان کررہی ہے کہ ملک میں دہشت گردوںکے کوئی ٹھکانے موجود نہیںہیں اور پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف کیا کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں داعش موجود ہوسکتی ہے مگر یہ منظم نہیں ہے! استغفار! ایسے وزیر خارجہ کی موجودگی میں ملک کاکیا دفاع کیاجاسکتا ہے؟ فوج جس بات کی دوٹوک تردید اور انکار کررہی ہے اسے وزیر خارجہ تسلیم کررہاہے! منظم یا غیر منظم،مسئلہ تو کسی چیز کی موجودگی کا ہے، تھوڑی ہو یا زیادہ ،ایک ہی بات ہے۔ وزیر خارجہ کے اس بیان کے بعدامریکہ کے بارے میں کیا سخت رویہ اختیار کیاجا سکتا ہے!؟ کیسے کیسے لوگ اس ملک کی قسمت کے وارث بنے ہوئے ہیں۔ ٭عالمی سطح پر امریکہ کو ایک اور ذلت آمیز شکست! اس نے عالمی تھانیدار کی حیثیت سے سلامتی کونسل میں ایران میں ہونے والے ہنگاموںپر ایران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ سلامتی کونسل میں روس اورفرانس نے امریکہ پر شدید تنقید کی کہ ایران میں مظاہرے اس ملک کا اندرونی معاملہ ہے اس پر امریکہ کو کیوں تکلیف ہورہی ہے؟ روس اورفرانس کی سخت تنقید کے بعد سلامتی کونسل کااجلاس کسی نتیجہ کے بغیر ختم ہوگیا۔اقوام متحدہ میں اوپرتلے امریکہ کی یہ تیسری شکست ہے۔ ادھر ایران میں مخالف مظاہروں کے جواب میں حکومت کے حق میں بھی مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ اس سے کسی وقت بھی خطرناک تصادم کی فضا پیدا ہوسکتی ہے۔ ایران میں امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی واحد خاتون شیریں عبادی نے حکومت ے خلاف مظاہروں کی حمائت کرتے ہوئے عوام سے سول نافرمانی کی اپیل کردی ہے اور کہا ہے کہ عوام حکومت کو بجلی، پانی ،ٹیلی فون وغیرہ کے بلوں کی ادائیگی بندکردیں! اس اعلان پر یاد آیاکہ عمران خاں نے بھی اسلام آباد والے دھرنے میں عوام کو ہدائت کی تھی کہ حکومت کو بجلی کے بلوں کی ادائیگی بند کردی جائے۔ اگلے روز عمران خاں کی پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین نے اپنی ساری فیکٹریوں کے بل جمع کرائے اور پھر خود عمران خاں کی رہائش گاہ کے بل بھی جمع ہوگئے تھے! ٭اخبارات میں وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک اشتہارشائع ہوا ہے ۔ اس میں 72 سیاسی ، سماجی ، رفاہی تنظیموں کے نام دیئے گئے ہیں جنہیں غیر قانونی اور کالعدم قرار دے کر ان کے چندہ جمع کرنے پر پابندی لگادی گئی ہے اور انتباہ کیا گیا ہے کہ ان میں سے کسی تنظیم کو کوئی چندہ یا امداد دینے پر بھاری جرمانہ ہوگا۔ ان تنظیموں میں تازہ ترین نام الدعوة اور فلاح انسانیت تنظیم کے ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ کوئی بھی شخص ان72 تنظیموں کے نام کیسے یاد رکھ سکتا ہے!کسی اخبار میں ایک اشتہار شائع ہونے سے عوام تک کیسے بات پہنچ سکتی ہے؟ اس طرح تو عام مستحق اورحقدار اداروں کی امداد بھی رُک سکتی ہے! ٭خوش آئند بات کہ ملک کی تمام اپوزیشن پارٹیوں نے امریکہ کی پابندیوں کے خلاف حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کااعلان کیا ہے۔ سید خورشید شاہ اور عمران خاں کے بعد ایک پریس کانفرنس میں ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی دوٹوک اعلان کیا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملہ پر ہم حکومت کے ساتھ ہیں۔ یہ بہت حوصلہ افزااور امید افزا رویہ ہے۔ البتہ قوم کی یہ خواہش کہ کاش ہم دوسرے تمام قومی معاملات میں بھی ایک دوسرے کو برداشت کرنااور مل کر کام کرنے کا رویہ اپنا سکیں۔ ٭ایک خبر: متروکہ اوقاف بورڈ کی ایک سابق انتظامیہ نے ایک ایسے بینک میں 19 کروڑ روپے کی سرکاری رقم جمع کرائی جس کا کوئی وجود ہی نہیںتھا! یہ کوئی بینک نہیں تھاایک فرضی قسم کی کمپنی تھی جو پیسے لے کر غائب ہوگئی! اس ملک کے ساتھ کیا کچھ ہوتا آیا ہے، اب بھی کیاکچھ ہورہاہے! ٭اور سنئے! دوسروں کے فریب اور بدعنوانیوں کی تفتیش کرنے والا ایف آئی کا ایک ڈپٹی ڈائریکٹر خود جعل سازاور بدعنوان نکلا۔ اس کی ڈگری جعلی نکلی ، اس پراسے گرفتار کرلیاگیا ہے۔ ویسے آج کل بڑے بڑے نام گرفت میں آرہے ہیں۔ فرنیچر پاکستان کے بڑے سرکاری ادارے کے چیف ایگزیکٹو کو بھی کروڑوں کے فراڈ کے جرم میں گرفتارکر لیاگیا ہے۔ بہت اور بڑے گُرگے بھی پھنس رہے ہیں۔ قدرت کے ہاں دیر ہوسکتی ہے، اندھیر نہیںہوتا۔یوں لگتا ہے کہ وسیع پیمانہ پر صفائی شروع ہوگئی ہے۔ میں نے ایک بہت دولت مند ، بہت طاقت ور شخص کو سول لائنز تھانہ لاہور کی حوالات میں ایک دری پر بیٹھے دیکھا۔ داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور وہ میرے ساتھ جانے والے ایک نوجوان سے کہہ رہا تھا کہ صبح سے کچھ نہیں کھایا، تھانے کے باہر سے مکئی کے بھٹے بیچنے والے کی آواز آرہی ہے، اس سے دو بھُٹے لادو!

٭نہ صرف لاہور بلکہ ہر شہر میں ناجائز اور غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ وسیع پیمانہ پر پھیل چکا ہے۔ لاہور میں سپریم کورٹ نے اس معاملہ کاجائزہ لیتے ہوئے شہر کی ایک بڑی سڑک پر تعمیر شدہ بہت بڑے اور مشہور نجی ہسپتال کے بارے میں استفسار کیا۔ لاہور کے ترقیاتی ادارہ کے سربراہ نے گزشتہ روز عدالت میں سرکاری طورپر بیان کیا کہ یہ ہسپتال غیر قانونی طورپر تعمیر کیاگیا ہے۔ فاضل عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ اسے گرادیاجائے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس ہسپتال کی تعمیر کی ابتدا میں ہی لاہور کاترقیاتی ادارہ کیوں خاموش رہا؟ ٭آخری سطر لکھتے وقت اطلاع آئی ہے کہ لاہور میں بزرگ صحافی محترم محبوب سبحانی انتقال کر گئے ہیں۔ 80 سال سے زیادہ عمرتھی۔ تقریباً 40برس مختلف اخبارات سے وابستہ رہے۔ خدا تعالیٰ مغفرت فرمائے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved