ٹرمپ کے بعد ’’ قبلہ ‘‘نوازشریف کی دھمکیاں
  8  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

عدالت عظمیٰ سے نااہلی کی سند پانے والے نواز شریف یہ کس سے مخاطب ہوکر کہہ رہے ہیں کہ ’’سازشیں بند کریں ورنہ چار سال کی پردے کے پیچھے ہونے والی کارروائیاں ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کر دوں گا۔ 70 سال سے عوامی رائے غلط ثابت کرنے کے لئے کام ہو رہا ہے تین بار وزیراعظم رہا ہوں تب سے حقائق سامنے ہیں بڑی دردمندی سے کہتا ہوں کہ ہمیں اپنے گھر کی خبر ضرور لینی چاہیے‘‘ تجزیہ نگاروں اور مبصرین کے خیال میں نواز شریف پاک فوج اور عدلیہ کے خلاف دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیارکرکے اداروں سے ٹکراؤ کی طرف بڑھ رہے ہیں ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکیاں اور دوسری طرف نواز شریف کی فوج اور عدلیہ کو دھمکیاں عوام یہ سب کچھ حیرت کے ساتھ دیکھ اور سن رہے ہیں سعودی عرب کے پراسرار دورے سے واپسی کے بعد نواز شریف کے لہجے کی مایوسی بتا رہی ہے کہ دال میں کافی کچھ کالا ہے‘ یار لوگ تو امرکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کے خلاف کیے جانے والے حالیہ ٹویٹ کو بھی ’’ڈان لیکس‘‘ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور جمعرات کے دن امریکہ نے بالکل اچانک اور غیر متوقع طور پر پاکستان کا نام ’’مذہبی آزادیوں‘‘ کی سنگین خلاف ورزیاں کرنے والے ممالک کی ایک واچ لسٹ میں جو شامل کیا ہے ۔۔۔ یار لوگ اسے ختم نبوت ﷺ کے حلف نامے میں تبدیلی کی ناکام حکومتی کوششوں کے ساتھ ملا کر دیکھ رہے ہیں‘ ورنہ کسے معلوم نہیں ہے کہ پاکستان میں بسنے والی اقلیتی برادریاں اور انہیں حاصل ہونے والی مذہبی آزادیاں بھار ت سے تو سو گنا بہتر ہیں۔۔۔ صرف بھارت ہی نہیں بلکہ خود امریکہ میں شاید اقلیتوں کو اتنا تحفظ حاصل نہ ہو جتنا تحفظ اقلیتی برادری کو پاکستان میں حاصل ہے۔امریکہ میں تو آئے روز مسلمانوں پر حملے ہو رہے ہیں بعض امریکی ریاستوں میں مسلمانوں کی مساجد پر بھی حملے ہوچکے ہیں حتیٰ کہ امریکی سکولوں میں زیر تعلیم مسلمان طالبعلموں کو صرف اس وجہ سے مشکوک گردانا جاتا ہے کیونکہ وہ ’’مسلمان‘‘ ہیں۔یار لوگ کہتے ہیں کہ ن لیگی حکومت نے نہایت خاموشی سے ختم نبوتؐ کے حلف نامے کو جو اقرار نامے میں بدل کر منکرین ختم نبوت کو جو ریلیف دینے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ پاکستان کے مذہبی عوام کے شدید ردعمل کی وجہ سے ن لیگی حکومت کو اپنی اس کوشش میں ناکامی کا سامناکرنا پڑا۔ اس کے بعد پاکستان کو مذہبی آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیاں کرنے والے ممالک کی لسٹ میں امریکہ نے شامل کرنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔ ’’واللہ اعلم‘‘ ویسے آپس کی بات ہے کہ جناب نواز شریف! قوم کو بتاتے کیوں نہیں کہ آخر چار سال تک پردے کے پیچھے ان کی حکومت کے خلاف کیا سازشیں ہوتی رہیں اور کون کرتا رہا؟نواز شریف کوئی پرویز مشرف کی طرح ’’بزدل‘‘ تو ہیں نہیں اس لئے انہیں چاہیے کہ اگر ان کے سینے میں دفن کچھ ایسے راز ہیں کہ جن سے ملک و قوم کی تقدیر وابستہ ہے تو انہیں چاہیے کہ فوری طور پر ان رازوں کو بے نقاب کرکے ثواب داریں حاصل کریں۔ ’’بہادر‘‘ نواز شریف اگر چار سالہ رازوں سے پردہ ہٹانے کی ہمت نہیں کرپارہے تو انہیں چاہیے کہ وہ کم از کم اپنے حالیہ دورہ سعودی عرب کے حوالے سے ہی قوم کو ’’راز‘‘ میں شریک کرلیں ۔ سوال یہ ہے کہ اگر نواز شریف ایسا نہیں کرنا چاہتے تو پھر ’’دھمکیاں‘‘ کیوں دیتے رہتے ہیں؟ ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان کو دھمکیوں کے بعد’’قبلہ‘‘ نواز شریف کی ’’دھمکیاں‘‘ کس جانب اشارہ کررہی ہیں عقل والوں کے لئے اشارہ ہی کافی ہوا کرتا ہے۔ رہ گئی بات گھر (پاکستان) کی خبر لینے کی تو ’’مجھے کیوں نکالا گیا‘‘ کے مشہور زمانہ جملے کے خالق سے کوئی پوچھے کہ آخر گھر (پاکستان) کی خبر کس نے لینی تھی ؟ قوم نے تو نواز شریف کو تین مرتبہ وزیراعظم بنایا ہی اس لئے تھا کہ وہ گھر ’’پاکستان‘‘ کی خبر لیتے پاکستان میں گڈ گورننس بحال کرتے پاکستانی قوم کو پینے کا صاف پانی مہیا کرتے جو ڈھائی کروڑ سے زائد پاکستانی بچے ابھی تک تعلیم سے محروم ہیں انہیں تعلیم سے روشناس کرتے‘ نواز شریف کو تین مرتبہ عوام نے اپنے ووٹوں سے پاکستان کا وزیراعظم بنایا ہی اس لئے تھا کہ وہ پاکستان کو اپنے اقدامات سے بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرتے ۔۔۔ لیکن اگر انہوں نے تین دفعہ وزیراعظم بننے کے بعد پاکستان پر توجہ دینے کی بجائے صرف شریف خاندان کے ’’گھروں‘‘ کو بہتر کرنے پر ہی توجہ مرکوز کئے رکھی‘ تو اس میں کس کا قصور ہے؟ چنانچہ لاہور ماڈل ٹاؤن کے بنگلوں سے لے کر ۔۔۔ رائے ونڈ جاتی امراء کے محل تک ۔۔۔ اسلام آباد کی کوٹھیوں سے لے کر لندن کے مہنگے ترین اور پرآسائشفلیٹس تک ۔۔۔ وزیراعظم ہاؤس سے لے کر ۔۔۔ مری کے بنگلوں تک ’’گھروں‘‘ کی بہتری کی اک ایسی منفرد داستان ہے کہ جسے اگر عام آدمی سن لے تو دل تھام کے رہ جائے‘ گھر (پاکستان) کی خبر لینے کی بات نواز شریف نے پہلی مرتبہ نہیں کی ۔۔۔ بلکہ اس سے قبل خواجہ آصف امریکہ کے دورے کے دوران بھی یہی بات کرچکے ہیں ۔۔۔ تو گھر (پاکستان) کو بہتر کیا امریکہ نے کرنا ہے؟ اگر نہیں یقیناًنہیں‘ تو آخر گھر کو بہتر کرے گا کون؟ یقیناًیہ ذمہ داری وقت کے حکمرانوں کی ہوا کرتی ہے ۔۔۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میاں نواز شریف عالمی قوتوں کو بتانے کی کوشش کرتے کہ مسلم لیگ ن نے اپنے ساڑھے چار سالہ دور اقتدار میں گھر (پاکستان) کو درست کرنے کے لئے بہت سے اقدامات کیے ہیں‘ آپریشن ضرب عضب سے لے کر آپریشن ردالفساد تک کراچی میں بھتہ خوری‘ قتل و قتال کے ساتھ ساتھ لسانیت کے نام پر نفرتیں پھیلانے والوں کو بھی لگام ڈالنے کی کوششیں کی ہیں مسلم لیگ ن نے اپنے ساڑھے چار سالہ دور اقتدار میں قبائلی علاقوں میں روپوش ’’امریکہ‘‘ کے دشمنوں کو ڈھونڈ‘ ڈھونڈ کر مارا ہے جس کی وجہ سے قبائلی علاقے دہشت گردوں سے بالکل خالی ہوچکے ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر نواز شریف بڑے پراسرار انداز میں گھر ’’پاکستان‘‘ کی جس صفائی کی بات کررہے ہیں آخر وہ کیا ہے؟کہیں یہ ’’ڈان لیکس‘‘ کی طرح کا کوئی معاملہ تو نہیں کہ جس میں امریکہ اور دیگر عالمی قوتوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ ۔۔۔ حکومت تو کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنا چاہتی ہے مگر فوج کرنے نہیں دیتی؟ اگر گھر (پاکستان) کی صفائی سے مراد یہ ہے تو پھر انا للہ و انا الیہ راجعون ہی پڑھا جاسکتاہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
50%
ٹھیک ہے
50%
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved