عرب بہار یا بھیانک خزاں
  9  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٢/اگست ٠٩٩١ء کی رات صدام حسین کے حکم پرعراقی افواج نے اچانک دھاوابول کرکویت پرجب قبضہ کرلیاتوکویتی حکمران اوردیگراعلیٰ کویتی فرارہوکرسعودی عرب میں پناہ لینے کیلئے مجبورہوگئے توفوری طورپرسعودی عرب اورکویت کی درخواست پرقصرسفیدکے فرعون سنئیربش نے اپنے عالمی اتحادی دوستوں کے ساتھ کویت کوواگزارکرانے کیلئے عراق پرفوری چڑھائی کردی اوراس کے بعدنہ صرف کویت کوعراق سے نکال کرکویتی امیرکوواپس اس کے منصب پربحال کردیاگیابلکہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل اپنے اڈے قائم کرنے کیلئے آج تک امریکی افواج وہاں موجود ہیں اور انہی دنوں ''ورلڈآرڈر'' کو متعارف کرایاگیاجس کے بنیادی خدوخال مشہور زمانہ سابقہ خارجہ سیکرٹری یہودی النسل ہنری کسنجرنے تیارکئے جس میںدنیاکی بقاء کیلئے امریکاکوایک مسیحاکے طورپراپنا کردارسنبھالنے کے طورپرپیش کیاگیاجبکہ بعدازاں تحقیق سے انکشاف ہواکہ صدام حسین کو کس طرح عراق میں تعینات امریکی سفیرکے ذریعے کویت پر قبضے کیلئے نہ صرف اکسایاگیابلکہ اپنی پوری حمائت کابھی یقین دلایاگیاجس کے نتیجے میں صدام کی افواج نے کویت کے تیل کے چھ سوکنوؤں پرنہ صرف قبضہ کرلیابلکہ بعدازاں ان کنوؤں کوآگ لگانے کامجرم بھی عراق کوٹھہرایاگیاجس کے بدلے عراق سے ایک بھاری تاوان وصول کیاگیااوراس جنگ کے نتیجے میں امریکابہادرنے کویت اورسعودی عرب سے کئی کھرب ڈالرالگ سے وصول کئے اوراب تک کویت میں قائم امریکی اڈے کے اخراجات کویت اداکررہاہے۔ خودامریکااوردنیابھرسے درجنوں سیاسی تجزیہ نگاراورمحقق نائن الیون کوبھی اسی ''وارگیم''کاحصہ قراردیتے ہیں کہ ''ورلڈآرڈر''پرایک خاص پروگرام کے تحت آگے بڑھایاجارہاہے جس کی ایک خطرناک جھلک ایک مرتبہ پھرہنری کسنجرکے حالیہ انٹرویوکے بعدسامنے آئی ہے جس میں موصوف نے خطرناک حدتک مسلمانوں کی تباہی کے متعلق ہرزہ سرائی کی ہے، اوریہ انٹرویو ایسے وقت منظرعام پر آیاہے جب سعودی عرب میں شہزادوں کی گرفتاری کے ساتھ نئی منظرکشی ہورہی ہے۔سعودی عرب امریکاکے چنگل میں نظرآرہاہے اورپہلی مرتبہ ماڈریٹ پن کابھوت بوتل سے باہرآرہاہے۔ہنری کسنجرنے ایک روزنامے کوانٹرویودیتے ہوئے انکشاف کیاکہ تیسری عالمی جنگ کاآغازایران سے ہوگا،اسرائیل زیادہ سے زیادہ عرب مسلمانوں کوتہہ تیغ کرکے اسٹرٹیجک اہمیت،تیل اوردیگر اقتصادی وسائل کے حامل مشرقِ وسطیٰ کے سات ممالک پرقبضہ کرلے گا۔ ہنری نے دعویٰ کیا کہ تیسری عالمی جنگ ایک قدم کے فاصلے پرہے جوکہ ایران سے شروع ہوگی۔انہوں نے روس اورچین کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ'' وہ اپنی حماقتوں کی بناء کسی قابل نہیں رہیں گے اوریہ جنگ صرف اسرائیل اورامریکاجیتیں گے۔اسرائیل اپنی پوری طاقت اورجدیدترین جنگی ہتھیاروں کے ساتھ جنگ کانقارہ بجارہاہے ،جواس کوسن نہیں پا رہے وہ بہرے ہیں۔امریکااوریورپ کے نوجوانوں کوگزشتہ دس سالوں سے پوری طرح تربیت دی جارہی ہے اورجب ان کوحکم دیاجائے گاوہ اس کی تعمیل میں پاگلوں کی طرح لڑتے ہوئے مسلمانوں کوتباہ وبربادکردیں گے۔امریکااسرائیل نے روس اورایران کیلئے بے شمار تابوت تیارکرلئے ہیںاورایران کی تباہی لکھی جاچکی ہے۔ایران جوکبھی اسرائیل کی طرح امریکاکاانتہائی لاڈلا اور خطے کاامریکی پولیس مین ہواکرتاتھا اور رضاشاہ پہلوی کے دورِ حکمرانی میں امریکاکے پہلوبہ پہلوکھڑااپنے تمام ہمسایہ ممالک کے سامنے اپنی مونچھوں کوہمیشہ تاؤدیکراپنے دباؤ میں رکھنے کی کوششوں میں مگن رہتاتھالیکن خمینی انقلاب کے ساتھ ''مرگ برامریکا''کے نعرہ سے ایساآغاز ہوا کہ پہلے جتنی قربت تھی اب بظاہر اتنا ہی فاصلہ نظر آتاہے مگراس کے ساتھ جوبڑی خرابی بھی وقوع پذیرہوئی وہ یہ کہ اس کامیابی نے انقلاب کوبرآمدکرنے کی خرابی کوجنم دیاجس کوانقلاب کانام تودیاگیامگریہ اصل مسلک کومسلط کرنے کامنصوبہ تھا۔ اس منصوبے کے تحت ایران نے مسلک کی حکمرانی دنیاپرتھوپنے کیلئے ان ممالک میں اپنے ہم مسلک لوگوں پرمشتمل مسلح دستے ترتیب دیتے ہوئے انہیں باقاعدہ تربیت،ہتھیاراور وافرمالی امدادبھی مہیاکرناشروع کردی اورپوری دنیامیں حزب اللہ ،حوثی پاسداران انقلاب کے نام پرقائم اورمسلکی جارحیت نے عالم اسلام کوشدیدنقصان سے دوچارکیا۔ پاکستان میںتومسلک کے نام پرفتنہ پھیلانے کی سعی اوراعتراف بھی موجودہے ۔بے نظیربھٹوکے دورِ حکومت میں انہوں نے ظفرہلالی کے بقول پیغام بھجوایاکہ ایران پاکستان میں لٹریچراورکیسٹ کے ذریعے جن سرگرمیوں میں مصروف ہے،اس سے پاکستان میں مشکلات پیداہورہی ہیںتوایرانی سفیرمحمد مہدی اخوندزادہ نے اعتراف کیاکہ ٥٧ہزار مسلح تربیت یافتہ افراد کبھی بھی ہمارے حکم پرپاکستان میں ہتھیاراٹھاسکتے ہیںیہ پاکستان کاپڑوسی برادرِ یوسف والی اسلامی انقلابی حکومت کے سفیرکی برہنہ دہمکی تھی۔مزیداری کی بات یہ ہے کہ ایران کامحوراسلامی ممالک ہی رہے۔اسرائیل کودہمکی پرہی رکھاگیالیکن یہودیوں کوایران میں بالکل ستایانہیں گیابلکہ آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ان کوپارلیمنٹ میں نمائندگی دیکراسرائیل کوپس دیوارخیرسگالی کاپیغام پہنچادیاگیا ۔ توپھرکیاوجہ ہے کہ امریکااوراسرائیل اس کوصفحۂ ہستی سے مٹانے کی سوچ رہے ہیں؟ایران سے انہیں کیاخطرہ ہے، جومسلم ممالک کیلئے مسلکی انقلاب کے خبط میں خطرہ بھی بناہواہے ۔ ( جاری ہے ) دراصل میرے رب نے قرآن حکیم میں واضح ارشادفرمایاہے کہ جوکوئی بری چال چلتاہے اس کاوبال اسی پرپڑتاہے۔ایران اسلامی وحدت سے نکلاتواب وہ امریکااوراسرائیل کیلئے نرم چارۂ ہوگیااوریہ دونوںملک اس کوماضی کی گستاخی کی سزادیکردوسروں کیلئے دیدۂ عبرت بناناچاہتے ہیں۔امریکانے ایران کے روّیے کی بدولت مسلم ممالک کوہتھیاروں کی فروخت سے خوب لوٹااوریوں ایران نے بالواسطہ امریکاکی ڈوبتی معیشت کوسہارادیا۔ہنری کسنجرنے ایران کی تباہی پرہی اکتفاکی بات نہیں کی بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے سات امیر ترین ممالک پرقبضہ کرنے اورمسلمانوں کاقتل عام کئے جانے کاکھلاعندیہ بھی دیا۔یمن کے ذریعے ایران نے سعودی عرب کوہراساں کیاجس کے نتیجے میں امریکاکی اسلحہ ساز کمپنیاں جودیوالیہ ہونے کو تھیںان کوکھربوں ڈالرکااسلحہ بنانے کے آرڈرمل گئے اورامریکاکے بینکوں میں پڑے ہوئے کھربوں ڈالرکے سعودی خزانے امریکاکے کھاتے میں منتقل ہو گئے۔ جنگ کانقارہ جوبقول ہنری کسنجرکے بہرے لوگ سن نہیں پارہے،بج رہاہے۔مشرقِ وسطیٰ لہومیں ڈوباہواہے ۔عرب بہارنے ایسی بھیانک خزاں کاروپ دھاراکہ پت جھڑکی طرح لاشیں گررہی ہیں۔ہنری نے روس اورچین کے بارے میں کہاکہ وہ اپنی حماقتوں کی وجہ سے کسی قابل نہیں رہیں گے یعنی اس حماقت کے حوالے سے اس کااشارہ اسلامی ممالک کے ساتھ ان دوممالک کی ہمدردی سے ہے جس کوہنری کسنجرحماقت قراردے رہاہے۔ کیاامریکا دس سال سے تیاری کررہاہے،حال ہی میں ''انفرڈمیک کائے''کی کتاب (I am the shadow of American Century)کے اقتباس بین الاقوامی جریدوں میں شائع ہوئے ہیں جس میں امریکااورچین کے درمیان ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے منظرنامے کے حوالے سے وارگیمزبیان کی گئی،جس میں ان کالب لباب یہ ہے کہ اس جنگ میں جدیدترین سائبراسپیس اورکیمونیکیشن ٹیکنالوجی کی بدولت کمپیوٹر،ڈیجیٹل سسٹم کوبلاک کردیاجائے گاجس کی وجہ سے جنگی طیارے،بحری جہاز،آبدوزیں،جدیدترین مسلح ڈرونزاورجدیدترین میزائل سسٹم بت بن جائیں اورناکارہ ہوکرکام چھوڑدیںگے اوریوں مٹی کے مادھوبنے یہ ہتھیارکسی کام کے نہیں رہیں گے اورپھروہ تباہی ہوگی جوہنری کہہ رہاہے جس نے پاکستان کوپل بناکرامریکااورچین کے درمیان تعلقات کی بنیادڈالی،جوکہتارہاہے کہ اسلام ہی ہمارے لئے سب سے بڑاخطرہ ہے۔حال اورمستقبل کی یہ تیسری عالمی جنگ ہونی ہے ۔مگراحادیث بتاتی ہیں کہ اس بڑی تباہی والے جنگ کے آخری فاتح مسلمان ہوں گے،ان شاء اللہ،مگراس تباہی میں افسوس کہ ایران کی مسلکی لڑائی کااہم رول ہوگا۔ کیاتیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے؟ مسلمانوں کی تباہی مقدرہوچکی ہے؟ امریکاایران کاخاتمہ بالخیرکرپائے گا؟ایران کی تنہائی برقراررہے گی اورمسلمان آپس میں برسرپیکار رہ کرآسان چارۂ کاربن جائیں گے؟اس کانفی میں ایک ہی جواب ہے کہ وہ مسلک کی جنگ چھوڑکراللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لیںتوپھروہ امریکاکاحشربھی روس جیساکرسکیں گے۔ایران بھارت کیلئے بندرگاہ چاہ بہارکے ذریعے بہارکاموسم بناہواہے جوپاکستان میں دہشتگردی ،قتل وغارت گری کاملزم کلبھوشن ایران میں پھلتا پھولتا رہا۔ ایران پاکستان کی سرحدپرگولہ باری کرتارہا اور ٥٧ ہزارافرادہتھیاربندکئے۔پاکستان میں اپنے تربیت یافتہ افراد کوتھپکی دیتارہا،اس سب کے باوجودپاکستان نے صبرسے کام لیا۔دشمن کادوست دشمن ہی ہوا کرتا ہے ،اتنی سی بات ایران کی سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ وہ مسلکی جنون میں اندھاہوچکاہے۔وہ عرب وعجم کے دفن شدہ مردے کواکھیڑکرپھرمعرکے میں مصروف ہے۔ پاکستان نے ایران کی تمامترریشہ دوانیوں کے باوجود آرمی چیف نے صبرسے کام لیتے ہوئے ایران کادورۂ کیا اورایران کے روحانی پیشواکوفوجی سلیوٹ کیاجوسوشل میڈیاپرکافی وائرل بھی ہوا تاکہ ایران کی بدگمانیوں کودورکیاجائے کہ حسن روحانی ایرانی صدرکے دورۂ پاکستان کے موقع پرکلبھوشن کی گرفتاری کی خبرکیوں منظرعام پرلائی گئی۔پاکستان ایٹمی قوت ہے ، امریکا نے پاکستان پرالزام لگایاکہ اس نے ایران کوایٹمی ٹیکنالوجی دی۔پاکستان نے اس الزام کی سختی کوبرداشت کیاحالانکہ یہ خبردوستوں نے اڑائی تھی مگراس کے باوجودایران کوکیاہوگیا،بھارت سے محبت کاکھیل کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔پتھروں کوپوجنے والوںسے ملاپ اللہ کوپوجنے والے کااچھاشگون تونہیں،بھارت کاانجام توپاکستان کے ہاتھوں لکھاہواہے۔فرمان مصطفوی ۖہے کہ جب ہندکے بادشاہ کومسلمان زنجیرمیں جکڑکرلائیں گے توایران کوبھی سوچناچاہئے کہ وہ اس جکڑبندی میں اغیارکے ساتھ جکڑانہ ہو ہنری کسنجرجواپنے پندارمیں داناوبیناکہلاتے ہیں اوران کویہ حق بھی ہے کہ وہ ایک سپرپاورکے وزیرخارجہ کے عہدے پررہ چکے ہیںاورانہوں نے دنیادیکھی ہے مگرتدبیراپنی جگہ کتنی ہی خوب نہ ہو،علم کے دروازے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایاکہ ''میں ارادوں کے ٹوٹنے سے اللہ کوپہچاناہے''امریکااوراسرائیل کے تمام ارادے خاک میں مل جائیں گے۔ان کاخوف دنیاکے دلوں سے نکل جائے گامگروہ مکمل طورپرجب نکلے گاجب مسلمانوں کے دلوں میں اللہ کاخوف اپنی جگہ بنالے گا۔ ہنری کسنجرکی دہمکی کوخالی خولی نہیں لیاجاناچاہئے ۔قرآن کریم میں میرے رب کے ارشادکامفہوم یوں بھی ہے کہ جوکچھ ان کی زبانوں میں ہے ،اس سے کہیں ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے ۔مسلک ایک پگڈنڈی ہے جومسالک کے ہاتھ ہوتی ہے۔اس دورمیں وہی کامیاب ہوگاجورب کی چھتری تلے ہوگا،جواس سے دورہوگااس کی چھترول ہوگی اورخوب دھواں دار ہوگی ۔ہمارے ایک باباجی جوایک عرصہ درازسے حرم کعبہ میں مقیم اورعلوم مخفی پرخاصی معلومات رکھتے ہیں،ان کاکہناہے کہ ہرہزارسال کے بعدتجدیدکامرحلہ ہوتاہے مگراللہ کے رسول محمدۖ کواللہ رب العزت نے خصوصی منصب عطاکیاہے ۔یوں پندرہویں صدی مکمل ہوگی توتجدیدکاعمل وقوع پذیرہوجائے گا۔سندھ میں کہاوت ہے کہ چودھویں صدی کے بعدکی صورتحال میں کتابیں خاموش ہیں۔کیایہ مرحلہ اب تیسری عالمی جنگ کی صورت میں سرپرمنڈلارہاہے؟

سعودی عرب کے ولی عہدمحمدبن سلمان جوعملاًانتہائی طاقتورحکمران کا روپ دھارے ہوئے جدیداسلام کے جس وژن کے تحت اقدامات کررہے ہیںاورنئی مادرپدرپستی صرف پندرہ سوارب ڈالرزکے ذریعے بساکرسعودی عرب کی اسلامی شناخت کو تہہ وبالاکرنے کے عزائم دکھارہے ہیں،انہیں بھی سوچناچاہئے کہ ان اقدامات کی اسلام میں کہاں تک گنجائش ہے۔یہ اسلام کی ہی برکات ہیں کہ جب شاہ سعودنے مملکت سعودی عرب میں اسلامی اصلاحات کانفاذشروع کیاتوزمین نے خزانہ اگل کرسعودی عرب کومالامال کردیاورنہ اس سے پہلے سعودی عرب کی معاشی حالت اتنی دگرگوں تھی کہ برصغیرکی زکوٰة اورحجاج کی آمدپربصدمشکل گزارہ ہواکرتاتھا۔اب اگرسعودی حکمراں خودناخدابن کرخدااوراس کے رسولۖکی تعلیمات سے کنارہ کشی کررہے ہیںتوسوچ لیں کہ پھررحمت سے دوری کاکوئی کنارہ نہ ہوگا۔ حرمین شریفین کی سعادت کے حکمرانوں کوکیاہوگیاہے،ماڈریٹ بنناچاہتے ہواوربادشاہت کا بدبودارلباس اب تو ملوکیت میں تبدیل ہوگیا کہ شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کوتاج وتخت کاحقداربنادیااوراُن کی گرفتاریاں کرڈالیں جوکچھ کرسکتے تھے یارکاوٹ بن سکتے تھے۔رب کوراضی رکھوکہ اسی میں بقاء ہے ۔امریکاتوپٹاہوامہرہ ہے جوآج نہیں توکل اپنے ہی منہ کے بل گرکرخاک چاٹتاہوگا۔ رہے نام میرے رب کاجو ساری بلندیوں کاوہ واحدمالک ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved