فلسطینی سفیر ولید ابو علی کے خلاف بھارتی واویلا؟
  9  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

فلسطینی سفیر ولید ابو علی سے میری پہلی ملاقات 14دسمبر2017ء کو اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں ہوئی تھی... جہاں وہ بیت المقدس کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے تھے... اس آل پارٹیز کانفرنس کا دعوت نامہ نامور عالم دین مولانا سمیع الحق کے سیکرٹری خاص مولانا یوسف شاہ نے اس خاکسار تک پہنچایا تھا... یوں دیکھا جائے تو بیت المقدس کے حوالے سے اس آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی حضرت مولانا سمیع الحق کے ذمہ ہی تھی۔ اس کانفرنس میں پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے علاوہ ایران کے سفیر محترم مہدی ہنر دوست کے علاوہ فلسطینی سفیر بھی شریک ہوئے... ''ولید ابو علی،، کا خطاب عربی میں ہوا... لیکن ان کے لہجے کی گھن' گرج لفظوں کی حدت اور درد مندانہ انداز بیان نے عربی سے نابلد سامعین کو بھی متاثر کیا... فلسطینی سفیر نے اپنے متاثرکن درمندانہ انداز خطابت سے کئی سامعین کو رلا دیا۔ کانفرنس میں میرے بائیں جانب وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری مولانا قاضی عبدالرشید بیٹھے تھے... انہوں نے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا کہ ہاشمی صاحب! آج کا میلا تو فلسطینی سفیر ولید ابو علی نے لوٹ لیا' میں بھی ان کی اس بات سے سو فیصد متفق تھا... مجھے یاد ہے فلسطینی سفیر نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ''ہم پاکستان کے مسلمانوں کے مشکور ہیں کہ وہ بیت المقدس کی حفاظت کے لئے اپنے تن 'من' دھن کی قربانی دینے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں... لیکن میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ فلسطین کے مسلمان ابھی زندہ ہیں... ہم مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کٹ مریں گئے... ہمارے معصوم بچے اور بچیاں بھی مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لئے جانین قربان کرتی چلی آرہی ہیں... اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ سچی بات ہے کہ ابھی مجھے فلسطینی سفیر کے خطاب کے پورے الفاظ یاد نہیں... ورنہ وہ خطاب ایسا تھا کہ ... جس کی وجہ سے ہمارے رونگٹھے کھڑے ہوگئے تھے' پھر 29دسمبر کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں فلسطین کے حوالے سے ہی ایک کانفرنس کا اعلان ہوا... اس کانفرنس کی میزبانی دفاع پاکستان کونسل کے ذمہ تھی۔ ''دفاع پاکستان کونسل'' متعد دینی' سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے اکٹھ کا نام ہے' اس کونسل میں لبرل' غیر لبرل' سیاسی اور غیر سیاسی ہر طرح کی شخصیات شامل ہیں... اور ان سب شخصیات نے اپنی قیادت کا سہرا جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شیخ الحدیث بزرگ سیاست دان مولانا سمیع الحق کے سرسجا رکھا ہے۔ لیاقت باغ کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن خلیل' شیخ رشید'حافظ صاحب کے علاوہ متعدد سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے علاوہ فلسطینی سفیر ولید ابو علی بھی شریک ہوئے ۔ دوسروں کے ساتھ فلسطینی سفیر ولید ابو علی نے بھی لیاقت باغ کانفرنس میں خطاب کیا... اور یقینا انہوں نے فلسطین کی موجودہ صورتحال کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی ظلم و ستم کے خلاف بھی بات کی ہوگی... لیاقت باغ میں منعقدہ کانفرنس کے بعد ... بھارت نے فلسطینی سفیر کے حوالے سے فلسطین کی حکومت پر بے جا دبائو ڈالنا شروع کر دیا... اور پروپیگنڈہ یہ کیا گیا کہ ''ولید ابو علی'' کے تعلقات حافظ صاحب کے ساتھ ہیں۔ نجانے اقلیتوں کے حقوق کو کچلنے والے بھارت کے ہندو شدت پسند حکمرانوں کو یہ خبر کس نے دی کہ ... دفاع پاکستان کونسل مولانا سمیع الحق' فضل الرحمن خلیل' سراج الحق' شیخ رشید' مسلم لیگ (ق) وغیرہ وغیرہ کا نام نہیں... بلکہ یہ صرف اور صرف ان کا نام ہے؟ 30دسمبر کو یہ خاکسار جب گوجرانوالہ سے واپس اسلام آباد لوٹا... تو صحافتی' سیاسی اور سماجی حلقوں میں اس حوالے سے سرگوشیاں جاری تھیں... بعض کے خیال میں یہ سارا قصور ان کا تھا کہ جن کی وجہ سے ... فلسطین کے انتہائی قابل اور بین الاقوامی امور کے ماہر سفیر کو پاکستان چھوڑنا پڑا تھا' بعض سرگوشیاں کرنے والے یہ کہہ رہے تھے کہ مولانا سمیع الحق کو کیا ضرورت ہے... اقصیٰ کے نام پر ... کانفرنسیں کرنے کی؟ یہ خود تو کچھ کر نہیں سکتے... البتہ دوسروں کے بچوں کو مرواتے ہیں... غرضیکہ جتنے منہ اتنی باتیں... ناآنکہ ... کہ اس خاکسار کی رسائی اس دوست تک ہوگئی... جو اس ساری صورتحال کی اندرونی کہانی سے مکمل آگاہ تھا۔ اس ''دوست'' نے مجھے بتایا کہ فلسطینی سفیر ولید ابو علی اور ''حافظ صاحب'' کے کبھی بھی تعلقات نہیں رہے... بلکہ ان میں پہلا سرسری سا تعارف بھی 14دسمبر کے دن اسلام آباد کے ہوٹل میں منعقدہ کانفرنس میں ہوا تھا' اس آل پارٹیز کانفرنس میں جس وقت ولید ابو علی خطاب کر رہے تھے... حافظ صاحب ' مولانا سمیع الحق کے ساتھ بیٹھے ضرور تھے... مگر فلسطینی سفیر اپنا خطاب کرکے ... فوراً واپس روانہ ہوگے... اسی طرح 29دسمبر کو بھی فلسطینی سفیر حافظ صاحب کے خطاب کے بعد ... لیاقت باغ پنڈال میں پہنچے تھے۔ باخبر دوست کے مطابق ... 14دسمبر کو ہوٹل کا پروگرام ہو یا 29دسمبر لیاقت باغ کی کانفرنس... ان دونوں پروگراموں کی فلسطینی سفیر کو دعوت بھی ... حافظ صاحب نے نہیں دی... بلکہ ان دو پروگراموں کے علاوہ ... اس سے قبل کسی جگہ پر بھی ان دونوں شخصیات کی میل ملاقات کہیں بھی ثابت نہیں ہے... مگر اس کے باوجود شدت پسند بھارتی حکومت نے فلسطینی سفیر کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرکے فلسطین کی کمزور حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرکے اسرائیلی ایجنڈے کو جو آگے بڑھایا تو اس کی بھی ایک وجہ ہے... اور وجہ یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت ... فلسطینی سفیر ''ولید ابو علی'' کی کہنہ مشق سفارت کاری' فلسطینی کاز سے کمنمٹ' بین الاقوامی امور اور قو انین پہ عبور اور دوسروں کو قائل کرنے کی سحر انگیز صلاحیتوں سے خوفزدہ رہتی تھی۔

ولید ابو علی مسلم ممالک کے چوٹی کے رہنمائوں کے رابطوں میں رہنے کی شہرت بھی رکھتے تھے... اسرائیل ان کے خلاف موقع کی تلاش میں رہتا تھا... لیاقت باغ کی کانفرنس میں ''حافظ'' صاحب کے ساتھ ایک تصویر کو پا کر (حالانکہ اس تصویر میں دوسرے قائدین بھی ہیں) اسرائیل کو موقع مل گیا... موقع ملتے ہی اس نے بھارت کے ذریعے فلسطینی حکومت پر وار کرنے کی کوشش کی۔مورد الزام ٹھہرانے والے ... خاطر جمع رکھیں ولید ابو علی نے ... جب فلسطین کے صدر محمود عباس کو اصل حقائق سے آگاہ کیا تو خبر یہ ہے کہ انہیں دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے' اور وہ دس جنوری سے اسلام آباد میں اپنی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ اور اگر پاکستانی مسلمانوں کو یہودی سازشوں سے خبردار کرنے کے لئے دفاع پاکستان والے ملک میں کانفرنسیں کرتے ہیں تو یہ کوئی بری بات نہیں ... مولانا سمیع الحق یا دیگر قائدین کی تو اسلام اور پاکستان کی خدمت کرتے ہوئے... اک عمر گزر گئی... ان پہ ناروا اعتراضات کرنے والے ... ''زہریلے'' بتائیں ذرا کہ اسلام یا پاکستان کے لئے انہوں نے آج تک کیا قربانی دی ہے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved