سیاسی بحران اور شادیاں
  9  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭مجھے بہت دکھ اور صدمہ پہنچا ہے۔ عمران خاں نے شادی کے موضوع کو پہلے بھی اور اب بھی جس طرح تفریح طبع کا موضوع بنا دیا ہے اور وہ بھی ایک قابل تعظیم بزرگ متقی عبادت گزار خاتون کے حوالے سے، اس کا ذکر کرتے ہوئے طبیعت بوجھل ہو رہی ہے۔ عمران خاں نے پہلی شادی پاکستان میں کسی خاندان کی بجائے برطانیہ کے ایک انگریز خاندان میں کی۔ دوسری شادی کو ایک عرصہ تک پراسرار بنا کر چھپائے رکھا۔ یہ بھی نہ چل سکی۔ اب ایک ایسی خاتون کو شادی کا موضوع بنا دیا جو ایک روحانی بزرگ ہے، جہاں لوگ عقیدت و احترام کے ساتھ روحانی فیض حاصل کرنے جاتے ہیں۔ اِس حرکت سے ایک متقی عبادت گزار خاتون کا جگہ جگہ ذکر ہو رہا ہے۔ اس خاتون کی عمر 50 سال ہے۔ پانچ جوان بچے ہیں۔ ایک بیٹی شادی شدہ ہے۔ ایک بیٹا کہہ رہا ہے کہ ہماری والدہ نے ساری عمر جانماز پر گزاری ہے۔ وہ کبھی بے پردہ باہر نہیں جاتیں۔ جانماز اور تسبیح ہر وقت ساتھ رہتے ہیں اور ہر وقت اللہ تعالیٰ اور رسولۖ پاک کے ناموں کا وظیفہ کرتی رہتی ہیں۔ اس خاتون کی اپنے خاوند خاور مانیکا سے علیحدگی ہو چکی ہے۔ خاور مانیکا نے بیان دیا ہے کہ علیحدگی کی وجوہ اپنی جگہ مگر عمر بھر ایسی پاک صاف متقی خاتون نہیں دیکھی۔ ایسی بزرگ ہستی کو جس طرح انہیں عمران خان نے اپنی دل پھینک سیاست کے ذریعے موضوع بحث بنا رہا ہے۔ اس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ ایک اخبار کی رپورٹر انٹرویو کرنے آئی تو اسے شادی کا پیغام دے دیا! اب بھی وہی انداز ہے۔ ایک خاتون کو کسی جلسے میں دیکھا تو تعاقب شروع کر دیا۔ یہ عمران خان کا ہی مسئلہ نہیں بہت سے دوسرے سیاست دانوں کا بھی دو دو تین تین شادیاں کرنا ایک تفریحی مشغلہ بن چکا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پہلی بیوی امیر بیگم کے ہوتے ہوئے نصرت بھٹو کے ساتھ شادی کی پھر حسنہ بیگم کا قصہ چل پڑا۔ شریف خاندان میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ ویسے عمران خان اپنی عمر ہی دیکھ لیتے۔ 66 سال کی عمر ہو چکی ہے۔ دو جوان بیٹے موجود ہیں۔ دن رات سیاسی ہنگاموں میں گزر رہے ہیں۔ آگے انتخابات کے ہنگامے آ رہے ہیں۔ ایسے میں شادی سوجھ رہی ہے۔!! شادی کا پیغام دیا ہی تھا تو اسے چھپانے اور پراسرار بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ کسی نے اس بارے پوچھا تو جواب دینے کے بجائے خاموش رہ کر اسے پراسرار بنا دیا! زندگی گزارنے کا یہ انداز قطعی نامناسب ہے خاں صاحب! آپ کے اس طرز عمل پر افسوس ہو رہا ہے۔ زندگی محض ذاتی کھیل تماشا نہیں، دوسروں کی عزت اور تکریم کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔ ٭پاکستان کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ہرزہ سرائی خود امریکہ کے لئے پریشانی کی باعث بن گئی ہے۔ وزیردفاع جیمزمٹز کی ہدائت پر امریکی جرنیل جوزف مرٹل نے پاکستان کی عسکری قیادت سے رابطہ کیا ہے کہ کراچی کے راستے افغانستان کو امریکی اسلحہ اور خوراک وغیرہ کی سپلائی بند نہ کی جائے۔ اس سے قبل 2011ء میں پاکستان نے یہ سپلائی بند کی تھی تو امریکہ کے ہوش ٹھکانے آ گئے تھے۔ افغانستان آنے کے لئے امریکہ کو پاکستان کے علاوہ ایران یا چین کی فضا میں گزرنا پڑتا ہے جو بالکل ناممکن ہے۔ تیسرا راستہ یورپ سے وسطی ایشیائی ریاستوں سے چارٹرڈ طیاروں کے ذریعے اختیار کیا جا سکتا ہے۔ یہ سفر نہائت مہنگا پڑتا ہے ویسے بھی کم از کم تین چار ممالک کی فضا استعمال ہوتی ہے، جس پر کوئی بھی ملک کسی وقت اعتراض کر سکتا ہے۔ فی الحال کراچی کے راستے امریکی فوج کو افغانستان میں سپلائی جاری ہے۔ پچھلے چودہ پندرہ برسوں سے بھاری امریکی ٹینکروں کی مسلسل آمدورفت سے پاکستان کی بیشتر اہم سڑکیں تباہ ہو چکی ہیں۔ امریکہ ان سڑکوں کی مرمت تو ایک طرف اپنے ٹینکروں وغیرہ کے کرایہ کے اربوں روپے بھی نہیں دے رہا۔ امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد کے مطابق امریکہ اس ضمن میں پاکستان کا ایک ارب ڈالر ( ایک کھرب بارہ ارب روپے) کا مقروض ہے۔ خود امریکی میڈیا ہی سخت اعتراض کر رہا ہے کہ ٹرمپ نے اپنی غیر متوازن عادت کے تحت پاکستان کے خلاف سخت بیان دے دیا اور امداد روک دی مگر یہ اندازہ نہ لگایا کہ ان اقدامات کے جواب میںپاکستان کا ردعمل کیا ہو سکتا ہے؟ ٭ایسے موقع پر پاکستان کا ردعمل تو جو بھی ہونا چاہئے تھا، معاملہ تو یہ ہے کہ ہم ملک کے اندر آپس میں جانوروں کی طرح لڑ رہے ہیں۔ بلوچستان میں بحران پیدا ہو چکا ہے۔ کراچی میں مسلسل اساتذہ اور کسانوں کے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ پنجاب میں کسانوں کو گنے کی قیمت 180 روپے من دی جا رہی ہے، سندھ میں شوگر ملوں کے مالک 130 روپے سے زیادہ دینے پر آمادہ نہیں۔ ہزاروں کسان خاندان بدحال ہو گئے ہیں (صوبے کا والی وارث دبئی میں نجی کاروبار نمٹا رہا ہے،خصوصی طیاروں کے ذریعے آتا جاتا ہے) پنجاب میں وزیر قانون اور وزیراعلیٰ کے استعفوں کا مسئلہ ہنگامہ خیز شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان کا علاقہ ایک عرصہ ہنگاموں اور دھرنوں کی زد میں رہا ہے۔ ہم عجب لوگ ہیں۔ امریکہ کا نام آنے پر 'ہم ایک ہیں' ہم ایک ہیں'' کے نعرے لگانے لگتے ہیں اور پھر ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو کر لاٹھیاں پکڑ لیتے ہیں۔ ٭بلوچستان میں جو کچھ افراتفری مچی ہوئی ہے، آج صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں اس کا نتیجہ سامنے آ جائے گا۔ فیصلہ ادھر یا اُدھر، جو بھی ہو گا، اس سے اسمبلی واضح طور پر تقریباً ایک جیسی تعداد کے دو حصوں میں بٹ جائے گی۔ یہ بحران اس وقت پیدا کیا گیا ہے جب عام انتخابات میں تقریباً چھ ماہ باقی رہ گئے ہیں جب کہ تمام اسمبلیاں مئی کے وسط میں تحلیل ہو جائیں گی۔ گویا اس اسمبلی کی مدت تقریباً چار ماہ باقی رہ گئی ہے۔ بالفرض موجودہ حکومت ختم ہو جاتی ہے تو نئی حکومت چار ماہ میں کیا کام دکھا سکے گی؟ جب کہ اسمبلیاں ختم ہونے والی ہوں تو انتظامیہ ایک عرصہ پہلے سے حکومت کے دائرہ اختیار سے خود کو الگ کر لیتی ہے اور سارا کام اگلی حکومت کے لئے التوا میں ڈال دیتی ہے۔ اس سارے ہنگامے سے اسلام آباد میں ن لیگ کے ساتھی فضل الرحمن بلوچستان میں ن لیگ کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو گئے ہیں۔ اخباری رپورٹوں کے مطابق ن لیگ کا ساتھ دینے کی ایک شرط رکھی ہے کہ65 ارکان کی اسمبلی میں ان کی چند ارکان پر مشتمل پارٹی کو وزیراعلیٰ کا عہدہ دے دیا جائے۔ مولانا ایک بار وزیراعظم بننے کی کوشش بھی کر چکے ہیں۔ اسلام آباد میں وزارتوں کے علاوہ سینٹ کے ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ بھی سنبھالا ہوا ہے، پانچ سال تک اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین کا عہدہ بھی ہاتھ میں رہا۔ ن لیگ سے ناراض کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نظریاتی کونسل کے اس عہدہ پر توسیع کیوں نہیں دی گئی! وہ ایک مذہبی جماعت کا سربراہ ہونے کے دعویدار ہیں مگر سیاسی عہدوں اور مفادات کو نظر انداز نہیں ہونے دیتے۔ ملک کے اردگرد کیا ہو رہا ہے اور ملک کے اندر حرص و ہوا کاکیا طوفان پیدا کیا جا رہا ہے! دین کم دنیا داری زیادہ! یہ سیاست ہے!

٭میاں نوازشریف اپنے دور حکومت میں اپنے خلاف سازشوں کا بار بار ذکر کر رہے ہیں۔ اب دھمکی دی ہے کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی ساری سازشوں کے راز کھول دیں گے۔ یہ دھمکی براہ راست عدلیہ اور فوج کو دی گئی ہے۔ زیادہ زور فوج کے خلاف ہے۔ پاکستان کے آئین کے تحت کوئی صدر، وزیراعظم، گورنر یا وزیراعلیٰ وغیرہ اپنے دور کے قومی رازوں کو افشا نہیں کر سکتے۔ ایسا کرنا ملک اور آئین کے خلاف سنگین بے وفائی (غداری) کا جرم بنتا ہے۔ آئین میں وزیراعظم کے حلف نامہ کا ایک اقتباس یوں ہے۔ ''…اور یہ کہ میں کسی شخص کو بلاواسطہ یا بالواسطہ کسی ایسے معاملے کی نہ اطلاع دوں گا نہ اسے ظاہر کروں گا جو بحیثیت وزیراعظم پاکستان میرے سامنے غور کے لئے پیش کیا جائے گا یا میرے علم میں آئے گا (یہ آخری سطر بہت اہم ہے) سوائے اس کے بحیثیت وزیراعظم اپنے فرائض کی کماحقہ انجام دہی کے لئے ایسا کرنا ضروری ہو۔'' قارئین کرام باقی تجزیہ خود کر لیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved