قومی ایئر لائن اور توقعات
  9  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

قومی اسمبلی کی ایک شائستہ اور شستہ لہجے والی باوقار خاتون رکن عارفہ خالد پرویز ٹورنٹو ائیر پورٹ پر ملیں تو کچھ پریشان نظر آ رہی تھیں ، میں حیران ہوا کہ اتنی ہنس مکھ خاتون افسردہ کیوں ہے ؟ وہ امریکہ سے یہاں پہنچی تھیں اور اب پی آئی اے کے ذریعے پاکستان جا رہی تھیں مگر ان کا سامان ابھی تک جہاز میں لوڈ نہیں ہو سکا تھا ۔انکی پریشانی درست تھی، ہم جہاز میں سوار ہو چکے تھے ۔ ہمارا پہلا خیال تھا کہ یہ پی آئی اے کی نااہلی ہو گی، ایک اور خبر بنے گی پی آئی اے مسافر لے آئی مگر ان کا سامان چھوڑ آئی۔ میں اور میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھے لاہور کے ایک صنعتکار اور گولفر ضیا صاحب انہی معاملات پر گفتگو کر رہے تھے کہ اتفاق سے جہاز میں ہمیں پی آئی اے ٹورنٹو کے سٹیشن مینجرڈاکٹر مقدم نظر آگئے انہیں سارا ماجرہ بتایا تو معلوم ہوا کہ چونکہ خالدہ صاحبہ امریکہ سے ائیر کینیڈا کے ذریعے آئی تھیں اور ائیر کینیڈا نے ان کا سامان پی آئی اے کو منتقل کرنا تھا جو ابھی تک نہ ہو سکا تھا۔پی آئی اے کا کوئی قصور نہیں تھا جب تک مسافر یا کنیکٹنگ ائیر لائن سامان پی آئی کو منتقل نہ کریں وہ سامان لوڈ نہیں ہو سکتا تھا اور جہاز نے وقت مقررہ پر روانہ بھی ہونا تھا ۔ میں نے عارفہ صاحبہ سے کہا پریشان نہ ہوں اگلی پرواز سے آپ کا سامان پہنچ جائے گا تو وہ روہانسی ہو کر بولیں ایسی بات نہ کریں میرا اس میں ضروری سامان ہے۔ ڈاکٹر مقدم نے معاملہ جاننے کے بعد وہاں سے ہی اپنے سیل فون پر آپریشن ریسکیو لگیج شروع کر دیااور تھوڑی دیر کے لئے وہ جہاز سے باہر چلے گئے۔ پرواز کی روانگی میں بہت تھوڑا وقت باقی تھا اس لئے مجھے امید نہیں تھی کہ سامان اسی پرواز سے جا سکے گا۔ ٹورنٹو میں شدید سردی کی وجہ سے ائیر پورٹ سروسز کیلئے زمینی عملے کو شدید مشکلات پیش آ رہی تھیں جسکی وجہ سے کچھ تاخیر ہوتی نظر آ رہی تھی۔اسی اثنا میں ڈاکٹر مقدم جہاز پر پہنچے اور بتایا کہ عارفہ صاحبہ کا سامان ائیر کینیڈا سے حاصل کر کے ہمارے جہاز میں لوڈ کر دیا گیا ہے۔ مجھے اکثر مختلف ائیر لائینز کے ذریعے غیر ملکی سفر کا اتفاق ہوتا ہے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ پی آئی اے میں سفر کرنا میرے لیے باعث فخر ہوتا ہے کیونکہ یہ ہماری قومی ائیر لائن ہے، لیکن ہمارے ہی پاکستانی جو کہ بطور عملہ کام کررہے ہوتے ہیں ان کی کسی بات یا حرکت کی وجہ سے ہمارے سفر کا مزہ خراب ہوجاتا ہے اور ہم اس کی ذمہ داری پورے پی آئی اے پر ڈال دیتے ہیں بطور ایک قومی اثاثہ پی آئی اے کے اہلکاروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ادارے کو جو ان کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے اپنی بہترین خدمات مہیا کریں۔نئے سی ای او پی آئی اے ڈاکٹر مشرف سیان کے لیے جہاں دیگر بہت سے چیلنجز موجود ہیں وہیں انہیں اپنے ادارے کے ملازمین کے مورال کو بہتر کرنے اور مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کے لیے بھی بہت سے اقدامات کرنا پڑیں گے کیونکہ کہیں بھی تبدیلی تب تک ممکن نہیں جب تک اندر سے تبدیلی نہ لائی جائے۔ پی آئی اے کے ہر اہلکار کے لیے ضروری ہے کہ اسے ریفریشر کورسز کروائے جائیں اور ان کی اس طرح کی کیپیسٹی بلڈنگ کی جائے کہ وہ اپنا کام عبادت سمجھ کرکریں۔ میرے مشاہدے میں یہ بھی آیا ہے کہ جب ہم اپنی قومی ائیر لائن میں سفر کر رہے ہوتے ہیں تو ہماری امیدیں اور توقعات بڑھ جاتی ہیں اس لئے عملے کیلئے یہ صرف سمجھنے کی بات ہے کہ اکثر بڑے بڑے مسائل کا حل ایک سادہ سی مسکراہٹ ہوتی ہے۔ڈاکٹر مقدم کے ایک چھوٹے سے کام نے میرے اور میرے ساتھ بیٹھے مسافروں کے دل میں پی آئی اے اور ڈاکٹر مقدم کیلئے بڑے اچھے جذبات پیدا کر دئیے۔ ائیر لائن انڈسٹری ایک بہت ہی پیچیدہ فیلڈ ہے ، ایک ایسی کمرشل ائیرلائن جو کہ ساتھ ہی ساتھ نیشنل کیرئیر بھی ہوتو اس کیلئے بزنس میں مزید مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں۔ اس کی واضع مثال پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن ہے جو کہ اپنے بے مثال ماضی کے برعکس گزشتہ کچھ سالوں سے انتہائی خسارے میں جارہی ہے اس خسارے کی جہاں بہت سی دیگر وجوہات ہیں وہیں سب سے اہم عنصر پی آئی اے کے شعبوں میں موجود یونینیں بھی ہیں جن کی بدولت پی آئی اے کو فائدہ تو کیا خاک ہوتا الٹا ہمیشہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جب بھی کسی طرح کی انتظامی بدمزگی یا مجرمانہ غفلت پر انتظامیہ کوئی ایکشن لے تو فوراً احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ شروع کردیا جاتا ہے۔یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ یونینز نے کیا آج تک پی آئی اے کی ترقی میں کوئی حصہ ڈالا ہے؟

پی آئی اے کے لیے ایک اور بڑا چیلنج بطور ایک کمرشل ادارہ یہ ہے کہ آئے روز اس ادارے کے حوالے سے قومی میڈیا میں کردارکشی کی مہمات چلائی جاتی ہیں جس میں سب سے زیادہ عمل پی آئی اے کے اپنے اہلکاروں کا ہوتا ہے۔ ایک صحافی اور آزاد صحافت کا داعی ہونے کے ناطے میں معاملات کی درست نشاندھی اور کرپشن کے معاملات کو سامنے لانے کا حامی ہوں مگر اکثر اوقات معاملہ چاہے دھند کی وجہ سے فلائٹیوں میں تاخیر ہو یا امریکہ جیسے خسارے والے روٹ پر پرواز بند کرنے کا تو ہمیشہ بے پر کی اڑ ا دی جاتی ہے اور کھلم کھلا پی آئی اے کا نام لے کر کردار کشی کی مہم شروع کردی جاتی ہے۔ یہ عجیب نہیں لگتا کہ پی آئی اے کے خسارے کا بھی ذکر کیا جاتا رہے اور اسے مجبور بھی کیا جائے کہ وہ ایسے ایسے روٹس پر پروازیں جاری رکھے جہاں پر منافع کی بجائے ائیر لائن کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لحاظ سے حال ہی میں امریکہ کے روٹ کی مثال لے لیں جہاں پی آئی اے کو ایک ارب سے زائد کا خسارہ اٹھانا پڑرہا تھا اس روٹ کی فلائٹ بند کرکے اس طیارے کو اب سعودی عرب کے روٹ پر لگا دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اس ایک فلائٹ کا نہ صرف خسارہ ختم ہوگیا ہے بلکہ وہ فلائٹ جو پہلے پچاس فیصدسے بھی کم بھرتی تھی اب وہ اسی سے نوے فیصد بھر کر جارہی ہے۔ پی آئی اے کے نئے چیف ایگزیکٹو افسر کو یقینی طور پر کئی محاذوں پر ایک ہی وقت میں لڑناہے ،فنانشل مینجمنٹ کے وہ ماہر بھی ہیں اور اس پر انہیں سب سے زیادہ توجہ بھی دینا ہے اگر وہ اس ایک کام کو کر گئے تو وہ وقت دور نہیں جب پی آئی اے ایک بار پھر قابل فخر اور منافع بخش لاجواب سروس بن جائے گی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved