عرب بہار یا بھیانک خزاں
  10  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) دراصل میرے رب نے قرآن حکیم میں واضح ارشادفرمایاہے کہ جوکوئی بری چال چلتاہے اس کاوبال اسی پرپڑتاہے۔ایران اسلامی وحدت سے نکلاتواب وہ امریکااوراسرائیل کیلئے نرم چارۂ ہوگیااوریہ دونوںملک اس کوماضی کی گستاخی کی سزادیکردوسروں کیلئے دیدۂ عبرت بناناچاہتے ہیں۔امریکانے ایران کے روّیے کی بدولت مسلم ممالک کوہتھیاروں کی فروخت سے خوب لوٹااوریوں ایران نے بالواسطہ امریکاکی ڈوبتی معیشت کوسہارادیا۔ہنری کسنجرنے ایران کی تباہی پرہی اکتفاکی بات نہیں کی بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے سات امیر ترین ممالک پرقبضہ کرنے اورمسلمانوں کاقتل عام کئے جانے کاکھلاعندیہ بھی دیا۔یمن کے ذریعے ایران نے سعودی عرب کوہراساں کیاجس کے نتیجے میں امریکاکی اسلحہ ساز کمپنیاں جودیوالیہ ہونے کو تھیںان کوکھربوں ڈالرکااسلحہ بنانے کے آرڈرمل گئے اورامریکاکے بینکوں میں پڑے ہوئے کھربوں ڈالرکے سعودی خزانے امریکاکے کھاتے میں منتقل ہو گئے۔ جنگ کانقارہ جوبقول ہنری کسنجرکے بہرے لوگ سن نہیں پارہے،بج رہاہے۔مشرقِ وسطیٰ لہومیں ڈوباہواہے ۔عرب بہارنے ایسی بھیانک خزاں کاروپ دھاراکہ پت جھڑکی طرح لاشیں گررہی ہیں۔ہنری نے روس اورچین کے بارے میں کہاکہ وہ اپنی حماقتوں کی وجہ سے کسی قابل نہیں رہیں گے یعنی اس حماقت کے حوالے سے اس کااشارہ اسلامی ممالک کے ساتھ ان دوممالک کی ہمدردی سے ہے جس کوہنری کسنجرحماقت قراردے رہاہے۔ کیاامریکا دس سال سے تیاری کررہاہے،حال ہی میں ''انفرڈمیک کائے''کی کتاب (I am the shadow of American Century)کے اقتباس بین الاقوامی جریدوں میں شائع ہوئے ہیں جس میں امریکااورچین کے درمیان ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے منظرنامے کے حوالے سے وارگیمزبیان کی گئی،جس میں ان کالب لباب یہ ہے کہ اس جنگ میں جدیدترین سائبراسپیس اورکیمونیکیشن ٹیکنالوجی کی بدولت کمپیوٹر،ڈیجیٹل سسٹم کوبلاک کردیاجائے گاجس کی وجہ سے جنگی طیارے،بحری جہاز،آبدوزیں،جدیدترین مسلح ڈرونزاورجدیدترین میزائل سسٹم بت بن جائیں اورناکارہ ہوکرکام چھوڑدیںگے اوریوں مٹی کے مادھوبنے یہ ہتھیارکسی کام کے نہیں رہیں گے اورپھروہ تباہی ہوگی جوہنری کہہ رہاہے جس نے پاکستان کوپل بناکرامریکااورچین کے درمیان تعلقات کی بنیادڈالی،جوکہتارہاہے کہ اسلام ہی ہمارے لئے سب سے بڑاخطرہ ہے۔حال اورمستقبل کی یہ تیسری عالمی جنگ ہونی ہے ۔مگراحادیث بتاتی ہیں کہ اس بڑی تباہی والے جنگ کے آخری فاتح مسلمان ہوں گے،ان شاء اللہ،مگراس تباہی میں افسوس کہ ایران کی مسلکی لڑائی کااہم رول ہوگا۔ کیاتیسری عالمی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے؟ مسلمانوں کی تباہی مقدرہوچکی ہے؟ امریکاایران کاخاتمہ بالخیرکرپائے گا؟ایران کی تنہائی برقراررہے گی اورمسلمان آپس میں برسرپیکار رہ کرآسان چارۂ کاربن جائیں گے؟اس کانفی میں ایک ہی جواب ہے کہ وہ مسلک کی جنگ چھوڑکراللہ کی رسی کومضبوطی سے تھام لیںتوپھروہ امریکاکاحشربھی روس جیساکرسکیں گے۔ایران بھارت کیلئے بندرگاہ چاہ بہارکے ذریعے بہارکاموسم بناہواہے جوپاکستان میں دہشتگردی ،قتل وغارت گری کاملزم کلبھوشن ایران میں پھلتا پھولتا رہا۔ ایران پاکستان کی سرحدپرگولہ باری کرتارہا اور ٥٧ ہزارافرادہتھیاربندکئے۔پاکستان میں اپنے تربیت یافتہ افراد کوتھپکی دیتارہا،اس سب کے باوجودپاکستان نے صبرسے کام لیا۔دشمن کادوست دشمن ہی ہوا کرتا ہے ،اتنی سی بات ایران کی سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ وہ مسلکی جنون میں اندھاہوچکاہے۔وہ عرب وعجم کے دفن شدہ مردے کواکھیڑکرپھرمعرکے میں مصروف ہے۔ پاکستان نے ایران کی تمامترریشہ دوانیوں کے باوجود آرمی چیف نے صبرسے کام لیتے ہوئے ایران کادورۂ کیا اورایران کے روحانی پیشواکوفوجی سلیوٹ کیاجوسوشل میڈیاپرکافی وائرل بھی ہوا تاکہ ایران کی بدگمانیوں کودورکیاجائے کہ حسن روحانی ایرانی صدرکے دورۂ پاکستان کے موقع پرکلبھوشن کی گرفتاری کی خبرکیوں منظرعام پرلائی گئی۔پاکستان ایٹمی قوت ہے ، امریکا نے پاکستان پرالزام لگایاکہ اس نے ایران کوایٹمی ٹیکنالوجی دی۔پاکستان نے اس الزام کی سختی کوبرداشت کیاحالانکہ یہ خبردوستوں نے اڑائی تھی مگراس کے باوجودایران کوکیاہوگیا،بھارت سے محبت کاکھیل کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔پتھروں کوپوجنے والوںسے ملاپ اللہ کوپوجنے والے کااچھاشگون تونہیں،بھارت کاانجام توپاکستان کے ہاتھوں لکھاہواہے۔فرمان مصطفوی ۖہے کہ جب ہندکے بادشاہ کومسلمان زنجیرمیں جکڑکرلائیں گے توایران کوبھی سوچناچاہئے کہ وہ اس جکڑبندی میں اغیارکے ساتھ جکڑانہ ہو ہنری کسنجرجواپنے پندارمیں داناوبیناکہلاتے ہیں اوران کویہ حق بھی ہے کہ وہ ایک سپرپاورکے وزیرخارجہ کے عہدے پررہ چکے ہیںاورانہوں نے دنیادیکھی ہے مگرتدبیراپنی جگہ کتنی ہی خوب نہ ہو،علم کے دروازے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایاکہ ''میں ارادوں کے ٹوٹنے سے اللہ کوپہچاناہے''امریکااوراسرائیل کے تمام ارادے خاک میں مل جائیں گے۔ان کاخوف دنیاکے دلوں سے نکل جائے گامگروہ مکمل طورپرجب نکلے گاجب مسلمانوں کے دلوں میں اللہ کاخوف اپنی جگہ بنالے گا۔

ہنری کسنجرکی دہمکی کوخالی خولی نہیں لیاجاناچاہئے ۔قرآن کریم میں میرے رب کے ارشادکامفہوم یوں بھی ہے کہ جوکچھ ان کی زبانوں میں ہے ،اس سے کہیں ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے ۔مسلک ایک پگڈنڈی ہے جومسالک کے ہاتھ ہوتی ہے۔اس دورمیں وہی کامیاب ہوگاجورب کی چھتری تلے ہوگا،جواس سے دورہوگااس کی چھترول ہوگی اورخوب دھواں دار ہوگی ۔ہمارے ایک باباجی جوایک عرصہ درازسے حرم کعبہ میں مقیم اورعلوم مخفی پرخاصی معلومات رکھتے ہیں،ان کاکہناہے کہ ہرہزارسال کے بعدتجدیدکامرحلہ ہوتاہے مگراللہ کے رسول محمدۖ کواللہ رب العزت نے خصوصی منصب عطاکیاہے ۔یوں پندرہویں صدی مکمل ہوگی توتجدیدکاعمل وقوع پذیرہوجائے گا۔سندھ میں کہاوت ہے کہ چودھویں صدی کے بعدکی صورتحال میں کتابیں خاموش ہیں۔کیایہ مرحلہ اب تیسری عالمی جنگ کی صورت میں سرپرمنڈلارہاہے؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved