آئند ہ چند روز بہت اہم ہیں
  10  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری نے اپنے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کاسامنا کرنے کی بجائے مستعفی ہوگئے۔گورنر نے ان کا استعفیٰ منظور کرلیا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی معاملہ سلجھانے کے لیے دوروز کوئٹہ میں رہے مگر اپوزیشن سے ملاقات سے انکار کردیا۔ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عباسی نے میاں نوازشریف کے کہنے پر وزیراعلیٰ زہری کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیاتھا ۔ 56سالہ ، بی اے پاس، ثناء اللہ زہری نے 24 دسمبر 2015ء کووزیراعلیٰ کاعہدہ کا حلف اٹھایا۔ اپوزیشن نے ان کے خلاف شدید کرپشن اور بدامنی وغیرہ کے الزامات لگائے ہیں۔ اتفاق یہ کہ اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش ہونے سے ایک روز پہلے ان کے سیکرٹری ایوب قریشی کو دوپولیس چوکیوں سے پانچ کروڑ روپے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کرلیاگیا۔ اپوزیشن کاالزام ہے کہ ایوب قریشی وزیراعلیٰ زہری کو ہر ماہ رشوت کے60کروڑ روپے پہنچایا کرتاتھا۔ سردار ثناء اللہ زہری خضدار بلوچستان کے معروف زہری قبیلے کے سردار اور چیف آف جھالاوان ہیں۔ ان کے والد سردار ڈوڈ ا خاں زہری بھی چیف آف جھالاوان تھے۔ثناء اللہ زہری 16 اپریل2013ء کو کوئٹہ سے خضدار جارہے تھے۔ بلوچستان لبریشن آرمی نے ان کے قافلے پر بم باری کردی۔ سردار ثناء اللہ تو بچ گئے مگر ان کے بیٹے سکندر زہری، بھائی مہر اللہ خان زہری اور بھتیجے میر زاہد زہری جاں بحق ہو گئے ۔ زہری خاندان بلوچستان میں مختلف قسم کی سنگ مرمر کی کانوں کامالک ہے۔ یہ سنگ مرمر زیادہ تر بلجیم کو برآمد کیاجاتا ہے وہاں سے دنیا بھر میں پھیلتا ہے۔ ٭ایک چھوٹی سی مگرعوام کے لیے اہم بات! کل سبزی لینے گیا۔ بھنڈی توری دوسو روپے کلو،کریلے بھی دوسو روپے کلو! شلجم30روپے کلو! میں نے دو کلو شلجم خرید لیے! ٭ڈاکٹر طاہر القادری کی پریس کانفرنس میں گزشتہ روز بھی پیپلزپارٹی اور تحریک استقلال کے نمائندے دائیں بائیں بیٹھے۔ اب اعلان کیاگیا ہے کہ اب کسی سے استعفا مانگنے کی بجائے شریف خاندان کی حکومتوں کا خاتمہ کیاجائے گا( وفاق، پنجاب، بلوچستان، گلگت، آزادکشمیر) ۔ یہ عمل 13جنوری سے شروع ہوگا۔ بڑا اجتماع لاہور میں ہوگا اور مقصد کے حصول تک جاری رہے گا۔ اعلان کے مطابق پنجاب کے دوسرے شہروں میں نظام حکومت ٹھپ کر دیا جائے گا۔ یہ کوئی نیا اعلان نہیں۔طاہر القادری کے پاس کینیڈا کی شہریت اور پاسپورٹ ہے وہ اسی پاسپورٹ پر ہر سال کچھ عرصہ کے لیے پاکستان آتے ہیں۔ اسلام آباد میں دو دھرنے دے چکے ہیں، ایک دھرنے میںاپنی اوردوسروں کی قبریں بھی کھدوا لی تھیں، دھرنا دینے والے رات بھرروتے رہے، یہ قبریں تو اسی طرح کھلی رہ گئیں اورطاہر القادری اپنے اعلیٰ درجے کی آسائشوں والے کنٹینر کو بھی وہیں چھوڑ کر کینیڈا چلے گئے۔ اب اس کنٹینر کو مزید آرام دہ اور پرآسائش بنا دیا گیاہے۔اس میں صوفے، ڈائننگ روم، ہر طرح کی مواصلاتی سہولتیں موجودہیں۔ اس کے ساتھ ایک سٹیج بھی لگا دی گئی ہے۔ یہ باتیں اپنی جگہ مگر اس سارے منظر نامہ کا انجام! حکومتیں ختم ہو جائیں گی یا دھرنا ناکام رہے گا۔ دونوں صورتوں میں کارروائی،جوابی کارروائی، افراتفری، شدید ہنگامے، شہروں کی ٹریفک جام، مخلوق خدا سڑکوں پر رُلتی رہے گی، ایمبولینسوں میں مریض زندگیوں سے محروم ہوتے رہیں گے۔ ہر طرف شدید بدامنی پھیل جائے گی۔ دفتروں میں کام بند ہو جائے گا۔ گرفتاریاں،آنسو گیس، لاٹھی چارج، توڑ پھوڑ ! اس سارے ہنگامے کے باعث سینٹ اور اسمبلیوں کے انتخابات غیر معینہ عرصے کے لیے ملتوی اور پھر'' عزیز ہم وطنو''کی آواز! شائد یہی مقصد ہے!طاہر القادری بہت اچھے عالم دین اور مقررہیں مگر بے ڈھنگی سیاست نے ان کے بھر م کو خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ ماڈل ٹاؤن میں14افراد کی شہادت نہایت سنگین مسئلہ ہے، اس کے ذمہ داروں کو استعفے ہی نہیں عبرت ناک سزا ملنا ضروری ہے۔ مگر کیا یہ مقصد حاصل کرنے کے لیے لاکھوں عوام کو عذاب میں ڈالنا ضروری ہے؟ ملک میں اسمبلیاں اور عدالتیں موجود ہیں۔ انتخابات آرہے ہیں انہیں اپنے حق میں استعمال کریں مگر اس کے لیے کینیڈا کی شہریت کی بجائے پاکستان کی شہریت اور پاکستانی ہونا ضروری ہے۔ قادری صاحب نے آج تک نئے وطن کینیڈا کی شہریت ختم کرنے کااعلان نہیں کیا!!

اس ساری ہنگامہ آرائی کی مکمل ذمہ داری پنجاب کے موجودہ حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ ماڈل ٹاؤن کے دلگداز سانحہ کے کتنے مجرم پکڑے گئے؟ کتنے لوگوں کو چند دنوں کی بھی سزا ہوئی؟ آج تک یہی دریافت نہ ہو سکا کہ خواتین سمیت 14 افراد کے قتل عام کا حکم کس نے دیا تھا؟ اس بات کا پتہ چلانااس وزیر قانون کافرض تھا جس نے ماڈل ٹاؤن میں آپریشن کا حکم دیا تھا ۔ پھراس نے تین برس گزر جانے کے باوجودکیا کارروائی کی؟ الٹا انٹ شنٹ باتوں سے سارا کیس بگاڑ دیا! ایسے لوگوں کا کیا ہے۔ عوام پر کوئی مصیبت آئی تو فیصل آباد میں اپنے پلازے سنبھال لیں گے! یہ ساری صورت حال انتہائی تکلیف د ہ ہے۔ اگلے چند روز بہت ناگفتہ بہ ثابت ہوسکتے ہیں مگر کسی کو کوئی پروانہیں، نہ الف کو نہ ب کو!! باہردشمن تیر کمان لیے کھڑے ہیںاورگھر کے اندر مرغوں کی لڑائی جاری ہے! خدا تعالیٰ ان سب کو عقل سلیم دے! ان میں سے کسی کو مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی مسلسل شہادتوں پر ایک جملہ کہنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی! ٭بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ ! نوازشریف اور مریم نواز نے عدلیہ کے خلاف بولتے بولتے اب براہ راست سپریم کورٹ کے ان پانچ ججوں سے جواب طلب کرلیا ہے جنہوں نے شریف خاندان کے30سالہ اقتدار کومسند سے اتارا ہے! عدلیہ ان باتوں پر بڑے تحمل کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اس سے شہ پاکر موجودہ عارضی وقائم مقام وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سابق وزیراعظم کو نذرانہ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس حد تک چلے گئے ہیںکہ ''عدلیہ کے فیصلوں کو ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیاجائے!''اس پر کیا تبصرہ کیا جائے؟ وزیراعظم ملک کے آئین، قانون، پارلیمنٹ، عدلیہ ،عسکری قیادت ، ان سب کے آئینی اور قانونی تحفظ کا کسٹوڈین ہوتاہے۔ یہاں وزیراعظم کہہ رہا ہے کہ آئین اور قانون کو ردّی کی ٹوکری میں ڈال دیاجائے! پھرآپ کا موجودہ اس عہدہ پر رہنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے شاہد خاقان عباسی صاحب! ٭عمران خاںکی مبینہ تیسری شادی کی خبروں پر میاں نوازشریف اوردوسرے لوگوں نے جوتبصرے کیے ہیں ان سے بات مزید بڑھ گئی ہے۔ خودمیرے کالم پر بھی سخت تبصرے آئے ہیں۔ مجھے کسی کی ایک یا دس شادیوں سے کوئی غرض نہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ شادی ایک باوقار اور مقدس فریضہ ہے۔ ہزاروں برسوں سے کروڑوں اربوں شادیاں طے ہوتی آئی ہیں۔ ہر مذہب میں اس کے لیے باقاعدہ طریقے مقرر ہیں۔ ایک خاندان کے معززین دوسرے خاندانوں سے باعزت انداز میں رابطہ قائم کرتے ہیں اور پھر معاملات طے پاتے ہیں۔ اپنے خاندانوں کو نظر اندازکرکے خود پھیرے شروع کرنے کا طریقہ کسی جگہ بھی پسندیدہ نہیں سمجھاجاتا ،خاص طورپر ایسے افراد کے لیے جو بہت اہم اور نمایاں حیثیت رکھتے ہوں۔ شادی کا پیغام مستحسن اور اچھی بات ہے مگر معاشرتی اقدار کی اپنی اہمیت ہے۔ عمران خاںکے اپنے خاندان کو پتہ نہیںکہ کیا ہورہاہے! کسی جگہ شادی کاارادہ ہے تو اپنے خاندان کی معزز خواتین کے ذریعے رابطہ کریں! اور اگر خود کوشش کی ہے تو اسے چھپانے اورپوچھے جانے پر خاموش رہنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس خاموشی نے ہی اس قصے کو مسئلہ بنادیاہے۔ توپھر اس معاملہ پر باتوں کو بھی برداشت کریں۔ ٭ایک خبر: امریکہ میں سکھوں کی گوردوارہ پر بندھک کمیٹی نے پورے امریکہ کے تمام96 گوردواروں میں بھارتی سفارت کاروں اور بھارتی حکومت کے طرف داروں کے داخلہ پر پابندی لگا دی ہے۔ ٭چین نے امریکی جارحانہ بیانات پر ایک بار پھر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved