امریکی پابندیاں نعمت خداوندی
  11  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

امریکہ کی طر ف سے پاکستان کے خلاف طبل جنگ بجا دیا گیا ہے۔گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکی اعلیٰ عہدیداروں کے پے بہ پے پاکستان مخالف بیانات اور امریکی صدر کی نئے سال کی جو پہلی ٹویٹ سامنے آئی ہے اس نے ہر سوچنے سمجھنے والے پاکستانی کو اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور کردیا ہے کہ عنقریب امریکہ پاکستان کے خلاف عملی اقدامات کی طرف پیشرفت کرے گا ۔اسی سلسلے کی پہلی کڑی کل سامنے آچکی ہے جب امریکہ نے پاکستان سے سیکورٹی تعاون ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔فوجی سازوسامان اورسیکورٹی فنڈز بھی معطل کردئیے گئے ہیں۔امریکہ نے واشگاف طور پر اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے فیصلہ کن اقدامات پر ہی فنڈز فراہم کئے جائیں گے۔امریکہ کی یہ کھلی دھمکی بتارہی ہے کہ امریکہ کی اس جنگ میں ہم نے جو فرنٹ لائن اتحادی کا کردار ادا کیا تھااور جس کا فیصلہ پرویز مشرف نے اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے کیا تھا وہ بالآخرہمارے لئے نہایت نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔انہوں نے خود ہی فیصلہ کیا تھا لیکن اس کے بعد کچھ مشاورت کا ڈھونگ بھی رچایا تھا۔سیاستدانوں کے ساتھ ایک مشاورتی نشست منعقد کی گئی تھی ۔بعد از آں ایسی ہی ایک نشست علماء کے ساتھ رکھی گئی ۔اس موقع پر انہوں نے بانی تنظیم اسلامی ڈاکٹر اسرار احمد کو بھی شرکت کی دعوت دی تھی۔اس موقع پر پرویزمشرف نے اپنی گفتگو رکھی کہ ہم اس جنگ میں اس لئے شامل ہورہے ہیں کہ ہمیں کشمیر کاز میں فائدہ حاصل ہوگا ۔ہماری معیشت مضبوط ہوگی ۔ہمارے اسٹریٹجک اثاثوں کو تحفظ حاصل ہوگا۔ اسی طرح کے انہوں نے چا ر چھ فوائد گنوائے تھے۔ڈاکٹر اسرار احمد نے بہت سخت الفاظ میں کہا تھا کہ جب تک جرم ثابت نہیں ہوجاتا ، امریکہ کے ساتھ کسی قسم کا تعاون کرنادین ، ملک اور امت مسلمہ کے ساتھ غداری ہوگی۔انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں جو باتیں کہی تھیں اس کا ذکر علماء سے سناگیا کہ انہوں نے بہت سخت انداز میں وارننگ دی تھی ۔بہر حال یہ جو کچھ ہوا ہے اور ہماری ساٹھ ہزار افراد کی قربانی اور لاجسٹک سپورٹ اور دیگرسہولتیں امریکہ کو فراہم کرنے کے بعد بھی ہمارے مقدر میں امریکہ کی جانب سے سوپیاز اورسوجوتے ہی ہیں۔ امریکہ جونہایت توہین انداز میں پاکستان کو افغانستان میںاپنی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرارہا ہے یہ، ایک اعتبار سے ہمارے لئے رحمت خداوندی کا درجہ رکھتا ہے۔ہمیں امریکی دھمکی کا مقابلہ کرنا چاہئے ۔الحمد للہ ، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کوایٹمی قوت سے بھی نوازا ہے،تاہم امریکہ کے مقابلے میں ایمانی قوت اور اللہ کی نصرت بہت ضروری ہے۔ہمیں بھی جوابی اعلان کردینا چاہئے کہ جو لاجسٹک سپورٹ ہم آج تک امریکہ کو دیتے چلے آئے ہیں ،اسے آئندہ سے ختم سمجھا جائے۔الحمد للہ ، ہمارے ذمہ داران کی طرف سے بہت اچھا اورمناسب رد عمل سامنے آیا ہے۔یہ خوش آئند بات ہے۔اس سے ان کی ایمانی غیرت سامنے آئی ہے بشرطیکہ یہ برقرار رہے۔مالیاتی اور عسکری امداد بند ہونے پر پاکستانی قوم کو سجدئہ شکر بجالانا چاہئے۔یہ امداد ہمارے گلے کا لعنتی طوق بنی ہوئی تھی۔امداد میں کمی کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت نے بہتر طور پر امریکہ سے ڈیل کرنا شروع کردیا ہے۔یہ ایک نیک شگون ہے۔اگر امریکی امداد پر انحصار ترک کردیا جائے تو ہم خودمختاری کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔امریکہ کے ساتھ ہمیں اسی طرح سلوک کرنا چاہئے جو ہمارے دین کا تقاضا ہے اور جو قرآن وحدیث میں واضح کردئیے گئے ہیں۔ہم اللہ کے ساتھ اس کے مطابق معاملہ کریں گے تو اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہوگی ان شاء اللہ۔ ہم تحریک انصاف کے چیئرمین کی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ امریکہ کے غیر ضروری سفارتی عملے کو نکالنے کا اس سے مطالبہ کیا جائے ۔عمران خان نے یہ بہت اہم درست بات کہی گئی ہے۔اس میں یہ اضافہ بھی کیا جائے کہ امریکہ نے اسلام آباد میں جو ایک پورا قلعہ تعمیر کیا ہوا ہے ، اسے بھی کٹ ٹو سائز کرنا چاہئے۔حکمت یار صاحب کے اس بیان میں بھی وزن ہے کہ امریکہ پاکستان کے عدم تعاون کی وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان ، چین اور روس کے اتحاد کی وجہ سے غصے ہے۔ ہمیں تو امریکہ کی جانب سے مسلسل ڈانٹ پھٹکار پڑتی رہی ہے اور آئند ہ بھی رہے گی۔ بہرحال آج ہم ایک دوراہے پر کھڑے ہیں ۔ہمیں اللہ کی غلامی اختیار کرنی چاہئے یا امریکہ کی۔ہم اپنے دینی اصولوں پر چلیں اور صرف اللہ پر بھروسہ رکھیں کہ امریکہ بڑی قوت ہے لیکن اصل قوت تو اسی کی ہے۔علامہ اقبال نے کہا تھا دل کی آزادی شہنشاہی ، شکم سامان موت فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم

۔اگر تم اللہ کی مدد کروگے تو اللہ تمہاری مدد فرمائے گا۔یہ اللہ تعالیٰ کا قرآن میں وعدہ ہے۔ اللہ کی مدد کیا ہے؟زمین اللہ کی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے آزادی عطا کر رکھی ہے ۔یہاں جو لوگ بستے ہیں وہ اللہ کے نظام کو زمین پر قائم کرنا نہیں چاہیتے۔ہمارا امتحان یہ ہے کہ ہم اللہ کے نظام کو نافذ کریں۔یہ اللہ کی مدد ہوگی۔یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ نعوذباللہ تمہاری مدد کا محتاج ہے۔جس کے ذہن میں یہ بات آئی اس کا ایمان گیا۔وہ کل کائنات کا مالک ہے۔وہ نہ صرف کائنات کی سب سے بڑی قوت ہے بلکہ کائنات کی واحد قوت ہی وہ ہے۔اور اگر ہم اللہ کے نظام کو نافذ نہیں کرتے تو علامہ اقبال نے نظم شکوہ میں جو بات کہی تھی ،ہم اسے ہی دہراتے رہیں گے رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر۔اسلام کے نام پر قائم ہونے والے اس ملک ہم اللہ کے دین کو قائم ونافذ کرنے والے بن جائیں تو اللہ کی مدد ہمارے ساتھ ہوگی۔اگر اس کی مدد ہمارے شامل حال ہوجائے تو دنیا کی کوئی قوت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔یہ بڑا واضح ، سیدھا ،دو ٹوک ااور منطقی راستہ ہے۔ اللہ کرے کہ ہم اس راستے کی طرف پلٹیں اور اس کے تقاضوں کو پورا کریں۔ وما علینا الا البلاغ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved