ثابت قدمی........کامیابی کی نوید
  11  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

آپ توقعات کم رکھیں تو مایوس نہیں ہوں گے۔جب امریکااور بھارت کے ناجائز مطالبات کے جواب میں ہمارے پالیسی سازوں کا یہ ایک معمول بن جائے گاتوحالات کی بہتری کے امکان بھی بڑھ جائیں گے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کو نئی دہلی کے دورے پر بھارتی قیادت نے کیاسنہری خواب دکھائے ،خطے کے موجودہ حالات سے سب واضح ہے لیکن مودی کے گرم جوش استقبال، گاندھی سمرتی کی خوشگوار مثالیں اور روشن مستقبل کے وعدوں کے باوجود امریکی پالیسی میں بنیادی تبدیلیوں کی توقع نہیں رکھی جانی چاہیے۔بھارت کی ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ توقعات کو حقیقت پسند بنانے کی کئی وجوہا ت ہیں،قطع نظر اس بات کے کہ امریکی صدر یا وزیر خارجہ کیا کر سکتے ہیں۔ امریکا کی پاکستان کیلئے کوئی نئی پالیسی نہیں اور نہ ہی مستقبل قریب میں ہوگی۔اگست کوٹرمپ نے پاکستان سے نمٹنے کیلئے نئی پالیسی اپنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاتھا: ''ہم زیادہ عرصے خاموش نہیں رہ سکتے''اس بیان پر اسلام آباد اور نئی دہلی کے کان کھڑے ہوگئے لیکن امریکا کی نئی جنوب ایشیائی پالیسی کے اعلان کے چارماہ گزرنے کے باوجود عوامی سطح پر پاکستان کے خلاف کو ئی اہم قدم نہیں اٹھاسکا۔ اگر زیر سمندر تبدیلی کا کوئی عمل جاری ہے تو وہ لہروں کے نیچے پوشیدہ ہے، اس پر حیرت نہیں کی جانی چاہیے۔جب تک پاکستان کے پڑوس افغانستان میں امریکی فوجی موجود رہیں گے، پاکستان کی لاجسٹک سپورٹ اور زمینی راستوں پر امریکا کا انحصار رہے گا۔امریکاسمجھتاہے کہ پاکستان کا طالبان اور حقانی نیٹ ورک پر اثرورسوخ سب سے اہم ہے اورمزید فوجی بھیجنے کے بعد افغانستان میں امریکا کا کردار کم ہونے کے بجائے بڑھ جائے گااورموجودہ ٹویٹ بھی اسی ردی کی ٹوکری کی نذرہو جائے گا۔ اکتوبر کے وسط میں ایک زبردست مظاہرہ دیکھنے میں آیاجب اکتوبرکوایک امریکی خاتون اوران کے کینیڈین شوہر کو بچوں سمیت پانچ سال بعد حقانیوں کی قید سے آزاد کرالیا گیا، خواہ یہ ایک مناسب وقت پر کی گئی فوجی کارروائی ہو یا خفیہ بات چیت کے بعد کیاگیا آپریشن، اس کارروائی سے امریکا کو پاکستان کے مددگار ہونے اور نقصان پہنچانے کی صلاحیت کااندازہ ہوگیا،جس کے بعد ٹیلرسن نے پاکستانی حکومت اور فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس کارروائی کو پاک امریکا مضبوط تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف عزم کیلئے اہم قرار دیا۔ امریکا اور بھارت چین کے حوالے سے پالیسی پر بھی متفق نہیں ہیں، اکتوبر کے آغاز میں ٹیلرسن نے چین اور بھارت کے ساتھ امریکا کے تعلقات کے تناظر میں اہم تقریر کرتے ہوئے کہاتھا کہ ''ہمارے چین کے ساتھ بھارت جیسے تعلقات نہیں ہوسکتے، چین ایک غیر جمہوری معاشرہ اور بھارت ایک جمہوریت ہے''۔انہوں نے چین کے بیلٹ اور روڈ منصوبے پر بھی شدید تنقید کی،انہوں نے اس منصوبے کے متبادل کیلئے فنڈز کے حوالے سے امریکا اور بھارت کی مشترکہ کوششوں کی پیشکش بھی کی لیکن ٹیلرسن نے نہیں بتایا کہ اس طرح کے کسی منصوبے کیلئے فنڈز کہاں سے آسکتے ہیں۔ چین پر بیلٹ اور روڈ منصوبے کے ایک ٹکڑے کیلئے پاکستان میں٦٤/ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کے منصوبوں میں عملًاشریک ہے،ادھرامریکی انتظامیہ نے خارجی امور کے حوالے سے٨٢ فیصد بجٹ کٹوتی کا منصوبہ بنایا ہے اور ٹیلرسن اس منصوبے کی مکمل حمایت کررہے ہیں۔بھارت کی جانب سے بھی دوسرے ملکوں میں سڑکوں اور ریلوے انفرااسٹرکچر کی تعمیر پر اربوں خرچ کرنے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ بھارت کو خود بنیادی ڈھانچے کی ضرورت ہے، اس کے علاوہ بھارت چین کے کردار کو محدود کرنے کیلئے اتحاد بنانے کے مشورے پر عمل کرنے سے نہ صرف مسلسل گریزاں بلکہ ناکام ہوچکا ہے،اس موسم گرما میں ڈوکلام میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد بھارتی اپنی اوقات پہچان چکاہے۔ اس عمل کے بعددہلی کویہ فکرکھائے جارہی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس کے برعکس جاسکتی ہے، مثال کے طور پر چین کے ساتھ گزشتہ٥٢برسوں کے بدترین تنازعے کے باوجود جاپانی وزیراعظم نے بھارت کے حق میں ایک بیان تک نہ دیا۔امریکا اور بھارت، افغانستان اور ایران کے معاملے پر مختلف مؤقف رکھتے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کی نظر میں افغانستان ایک امریکی پراجیکٹ ہے، وہ افغان معاملے میں بھارت کے ساتھ سودے بازی کرنا چاہتے ہیں۔اگست کی تقریرمیں ٹرمپ کاکہنا تھا کہ'' بھارت امریکاسے تجارت کرکے اربوں ڈالر کماتا ہے، ہم افغانستان میں بھارت کی مزیدمددچاہتے ہیں''مگر بھارت کا اپنا ایجنڈاہے اوروہ امریکاکاحشردیکھ رہاہے۔بھارت نے افغانستان کو تین ارب ڈالرامداداور سرمایہ کاری کی شکل میں فراہم کیے ہیں، اس میں زیادہ رقم افغانستان کو ایرانی بندرگاہ چاہ بہار سے منسلک کرنے پر خرچ ہوگی، چاہ بہار کی تعمیر کا بھارتی منصوبہ چین کے بیلٹ اور روڈ منصوبے کے توڑ کیلئے ہے، یہ منصوبہ پاکستان سے گزرے بغیر خشکی میں گھرے افغانستان تک روڈ، ریل اور سمندری راستے سے رسائی کو محفوظ بناتا ہے،یہ بھارت، ایران اور افغانستان کیلئے ایک بہترمگرمہنگا راستہ ثابت ہوگا، لیکن مشکل یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کی عالمی تجارتی سرگرمیوں کوروکنے کی پوری کوشش کررہی ہے۔ ٣١/ اکتوبرکو صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ٥١٠٢ء میں ہونے والے اہم جوہری معاہدے کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا، یہ معاہدہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ہوا تھا، ٹرمپ نے اس معاہدے کو امریکی تاریخ کا بدترین یکطرفہ سمجھوتہ قرار دیا اور ایران پر نئی پابندیوں کا اعلان بھی کیا، اس اقدام سے ٹرمپ کے تہران پر معاشی دباؤ ڈالنے کی پالیسی کا اظہار بھی ہوگیاجس کے بعدایران اورافغانستان کے درمیان سڑکوں اور ریل منصوبوں پر بھارت کی جانب سے کی جانی والی ہرسرمایہ کاری کو امریکی مفاد کے خلاف تصور کیاجارہا ہے اور اس حوالے سے بھارت کی بھاری سرمایہ کاری ڈوبتی نظرآرہی ہے۔ابھی وزیر خارجہ ٹیلرسن کا دورہ ٔغیر حقیقت پسندانہ خواہشات کے انتہا پر جانے کا آخری موقع ثابت نہیں ہوا، موجودہ امریکی انتظامیہ کے دور میں ایسے مواقع ابھی اور بھی آئیں گے۔ ٹرمپ کے دورہ بھارت پر بھی یہی صورتحال پیش آسکتی ہے۔

اگر واشنگٹن میں گردش کرنے والی افواہیں درست ہیں تو اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نکی ہیلی ٹیلرسن کی جگہ لے سکتی ہیں، نکی پہلی بھارتی نژاد امریکی وزیر خارجہ ہوں گی، نکی ہیلی کے وزیر خارجہ بننے کی صورت میں بہت سے مبصرین امریکا بھارت تعلقات میں انقلابی تبدیلیوں کی پیش گوئی کررہے ہیں لیکن ان کی یہ پیش گوئی غلط ثابت ہوسکتی ہے۔ خاموشی کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنا اچھی خبر ہوگی، دونوں ممالک گزشتہ چندسالوں کے درمیان ایک دوسرے سے کافی قریب آگئے ہیں،اس دوران تین بھارتی وزیراعظم اور تین امریکی صدور نے اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کی، مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومت میں بھی یہ تعلقات آگے بڑھتے رہے،ان تعلقات میں کئی نشیب وفراز بھی آئے اور بین الاقوامی تعلقات میں ایسا ہی ہوتا ہے، بھارت اور امریکا تعلقات میں گرم جوشی کی یہ نئی لہراپنے اپنے مفادات کی اسیرہے، کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وائٹ ہاس میں کون بیٹھا ہے اور دہلی میں کس کی حکومت ہے لیکن پچھلی سات دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے "نومور"نے امریکاکواس خطے میں ایک ایسی آزمائش میں ڈال دیاہے جس کے جواب میں افغانستان میں اپنی شکست وہزیمت کوبچانے اور چھپانے کیلئے قصرسفیدکافرعون دھمکیوں پر اتر آیاہے لیکن اس مرتبہ پاکستان کی ثابت قدمی اس خطے میں ایک ایسی لازوال تبدیلی کی نویدثابت ہوگی جہاں دنیاایک نئے پاکستان سے متعارف ہوگی،ان شاء اللہ۔ اس اہم موقع پر ہمیں اشتعال کی نہیں بلکہ اپنی صفوں میں مکمل یکجہتی کااظہارکرناہوگا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved