جمعہ‬‮   19   جنوری‬‮   2018
اس موذی مرض کا علاج کیا ہے؟
  11  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

حکمران ہوں' اپوزیشن ہو' دانشور ہوں' وکلاء ہوں' ججز ہوں' جرنلسٹ ہوں' جرنیل ہوں یا ہم عوام! بحیثیت قوم ہم جانے انجانے میں بربادیوں کی طرف جارہے ہیں' دکھ کی بات یہ ہے کہ اب ہماے اندر سے گناہ کا احساس بھی مٹتا چلا جارہا ہے … ''گناہ'' اللہ اور اس کے رسول ۖ کی پیروی سے ہٹ جانے کا نام ہے … ہم بحیثیت قوم ''گناہوں'' میں ڈوبتے چلے جارہے ہیں …لیکن پھربھی سنبھلنے کے لئے تیار ہی نہیں۔ ہم میں سے ہر شخص دوسروں کی تو اصلاح چاہتا ہے … مگر خود اپنی اصلاح کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا … ذرا کالم نگاروں کی دنیا پر نظر دوڑائیے … ا ینکرز ' ا ینکرنیوں ' دانشوروں' حکمرانوں اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے روزمرہ کے معمولات اور محفلوں پر نظر دوڑائیے … ''گناہ'' کے نقصانات ماننے پر ہی آمادہ نہیں ہوتے … ہمارے معاشرے میں ہر برائی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کی جاتی ہے' اور جو جتنا برا اور لٹیرا ہے … وہ معاشرے میں اتنا ہی ''معزز'' اور قابل احترام سمجھا جاتا ہے… سوال یہ ہے کہ جب معاشرے سے گناہ اور ثواب کا احساس ہی ختم ہوجائے… جب معاشرے سے اچھائی اور برائی کی تمیز ہی ختم ہو جائے … تو سمجھ لیں کہ اب معاشرہ ''مردہ'' ہو چکا ہے … ایک مردہ معاشرہ اپنی سربراہی کے لئے پرویز مشر ف برداشت کرسکتا ہے' زرداری و گیلانی کو حاکم برداشت کرسکتا ہے' نواز شریف کو بھی اپنا حکمران مان سکتا ہے … کیونکہ جب اسلام کے نظام حیات ' اسلام کے معاشی اور معاشرتی نظام کو ہی لپیٹ کر رکھ دیا جائے تو پھر معاشرہ اپنے مردہ پن کو لیپا پوتی کے ذریعے چھپا نہیں سکتا' آج کے ''مینارہ نور'' میں ہمارے معاشرے میں گھسے ہوئے ایک بدترین مرض کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں … اس دعا کے ساتھ اللہ ہم سب کو اس موذی مرض سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمۖ نے فرمایا:کیا تم جانتے ہو کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اللہ کا رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپۖ نے فرمایاُکسی مسلمان کی پیٹھ پیچھے اس کے بارے میں ایسی بات کہنا جو اسے ناپسند ہو، تو غیبت ہے۔ ایک سائل نے عرض کیا : اگر وہ ناپسندیدہ بات اس کے اندر موجود ہو تو…آپۖ نے فرمایا: اگر وہ ناپسندیدہ بات اس کے اندر موجود ہے تو یہی تو غیبت ہے اور اگر وہ بات اس کے اندر موجود نہیں… تو وہ بہتان ہے… غیبت کی تعریف یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کی پیٹھ پیچھے اس کے متعلق ایسی بات کرے اگر اسے معلوم ہوتو اسے ناگوار گزرے، خاتم الانبیائۖ نے غیبت کی تعریف یوںبیان فرمائی ہے : غیبت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرے جو اسے ناگوار ہو، عرض کیا گیا : اگر میرے بھائی میں وہ بات پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو اس صورت میں… آپۖکا کیا خیال ہے؟ آپۖ نے فرمایا: اگر اس میں وہ بات پائی جاتی ہے تو تو نے اس کی غیبت کی اگر اس میں وہ موجود نہ ہو توتونے اس پر بہتان لگایا۔ یہ موذی مرض جسے غیبت کہا جاتا ہے' آج ہماری محفلوں کی جان ہے… (استغفراللہ)افسوس صد افسوس ہم بحیثیت مجموعی اس موذی مرض کا شکار بنے ہوئے ہیں… کوئی گھر ایسا نہیں ہے جہاں یہ موذی مرض موجود نہ ہو، کوئی بستی، کوئی قریہ، کوئی گائوں، گوٹھ اور کوئی شہر ایسا نہیں ہے کہ جہاںغیبت نے اپنا رنگ نہ جما رکھا ہو، دوسروں کی غیبت کر کے لوگ فخرمحسوس کرتے ہیں… بلکہ ایسے بدقسمت لوگ بھی پائے جاتے ہیں کہ جب تک وہ غیبت نہ کر لیں' اس وقت تک ان کے پیٹ کااپھارہ ہی کم نہیں ہوتا۔ کیا بے دین اور کیا دیندار؟ الغرض کہ ہر کوئی اس موذی مرض میں مبتلا نظر آرہا ہے… ظلم تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میںغیبت کو گناہ ہی نہیںسمجھا جاتا۔ خاتم النبیین ۖ فرماتے ہیں کہ جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا، میرا گزر کچھ ایسے لوگوں کی طرف سے ہوا… جو اپنے چہروں کو اپنے ناخنوں سے نوچ رہے تھے… میں نے جبرائیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ جبرائیل امین نے جواب دیا یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی غیبت کیا کرتے تھے، انہیںبے عزت کیا کرتے تھے… رسول اکرمۖ نے فرمایا غیبت سے اجتناب کرو، کیونکہ غیبت زنا سے زیادہ بری چیز ہے… غیبت کی توبہ قبول نہیں کی جاتی، جب تک وہ آدمی جس کی غیبت کی ہو…وہ اسے معاف نہ کر دے' کاش کہ ہم مسلمان غیبت، چغل خوری کوبھی گناہ سمجھنا شروع کر دیں!کاش… اے کاش! کہ ہم مسلمان بحیثیت قوم غیبت اورچغل خوری جیسی موذی بیماریوں سے نجات پالیں،تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم دینی اور دنیاوی ترقی کے راستے پر گامزن نہ ہو سکیں۔ غیبت نے ہمارے معاشرے کو بدبودار بنا کررکھ دیا ہے، غیبت نماز، روزہ جیسی عبادات کی نورانیت کو بھی ختم کرڈالتی ہے…غیبت دلوں کو زنگ آلود کر دیتی ہے…غیبت انسانوں کے درمیان نفرتوں کے بیج بوتی ہے،غیبت اللہ کی ناراضگی کاسبب بنتی ہے۔ ذرا سوچئے ! کہ کون ہوگا وہ بدقسمت کہ جو اللہ کی ناراضگی مول لینے کی سکت رکھتا ہو؟ جب ہم اللہ کی ناراضگی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے غیبت جیسے موذی مرض کاشکار بنے رہیں گے …اس وقت تک یہ موذی مرض ہمارے معاشرے پر مسلط رہے گا۔

قرآن مجیدمیں ارشاد خداوندی ہے کہ(ترجمہ)اے لوگو! جو ایمان لائے ہو بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو،بعض گمان گناہ ہوتے ہیں، تجسس نہ کرو اورتم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے… کیاتمہارے اندر کوئی ایسا ہے جواپنے مرے ہوئے بھائی کاگوشت کھاناپسند کرے گا؟ دیکھو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو، اللہ سے ڈرو، اللہ توبڑا توبہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے(سور الحجرات ایت12) اگر غیبت اورچغل خوری کے حوالے سے قرآن وسنت کے احکامات کی روشنی میں ہرایک اپنے اپنے کردار و عمل… کا جائزہ لینے کی کوشش کرے تو یقینا اسے شرمندگی ہی شرمندگی کاسامناکرنا پڑے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved