بلوچستان ایک بحران ختم دوسرا شروع
  11  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭جس روز بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ثناء اللہ زہری نے استعفا دیا، اسی روز کوئٹہ میں ایک اور خُوں فشاں دھماکہ ہوگیا۔ بلوچستان کانسٹیبلری کے پانچ اہلکار اور دو دوسرے افراد شہید، 25زخمی ہوگئے۔ اس پر انتظامیہ کے روائتی بیانات آرہے ہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ بھارت سے جب امن کے بارے میں کوئی بات کی جاتی ہے اس کا پہلے سے زیادہ سنگین نتیجہ سامنے آجاتا ہے۔ دسمبر کے آخر میں بنکاک میں پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر جنرل جنجوعہ اور بھارت کے مشیر اجیت دودل میں 'خیر سگالی' کے نام پر ملاقات ہوئی۔ اسے خوش گوار قرار دیا گیا اس کے بعد بھارتی 'را' نے بلوچستان میں تین دھماکے کر دیئے۔ آزاد کشمیر میں بھارتی اور پاکستان کے فوجی کمانڈروں میں فائرنگ بند کرنے کی بات چیت ہوئی ، اگلے روز بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پر فائرنگ کرکے تین شہری شہید کر دیئے۔یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ ایسی ملاقاتوں اور مذاکرات کا فائدہ ؟ بلوچستان میں خاص طورپر پولیس کونشانہ بنایا جارہاہے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بلوچستان میں کوئی وزیراعلیٰ، کوئی وزیر داخلہ نہیں۔ پاکستان کے وزیر داخلہ احسن اقبال کا بھی حالیہ دھماکا پر ہمدردی کا کوئی نمائشی بیان نہیںآیا ۔وہ دن رات نارووال میں پائے جاتے ہیں۔ پتہ نہیں اسلام آباد کب جاتے ہیں اور جاتے ہیں تو کیا کرتے ہیں؟ ٭بلوچستان میں وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سے جو بحران پیدا ہوا تھا، ان کے استعفا دینے سے مزید شدت اختیار کرنے والا ہے۔ تادم تحریر وزیراعلیٰ بننے کے پانچ امیدوار سامنے آچکے ہیں۔ ممکن ہے کالم کی اشاعت تک کوئی ایک نام سامنے آچکا ہو۔ عام طورپر عدم اعتماد کی تحریک اپوزیشن کی طرف سے آتی ہے۔ یہاں خود حکمران ن لیگ ہی وزیراعلیٰ کے پیچھے پڑ گئی۔ تحریک پیش کرنے والوں کا واحد اور یکساں اعتراض تھا کہ زہری حکومت کے دوران ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔ بلوچستان درجنوں قبائلی سرداروں کا خطہ ہے۔ ان لوگوں کا عوام سے کوئی تعلق نہیں ہوتا صرف ذاتی مالی فائدہ مدنظر رہتا ہے۔ وہاں کے عوام کی انتہائی ناگفتہ بہ حالت بچشم خوددیکھ چکا ہوں۔ ان کے علاقے سڑکوں، تعلیمی اداروں، علاج معالجہ کی سہولتوں سے محروم ہیں۔ یہ لوگ سرداروں کی اس حد تک غلامی سے دوچار ہیں کہ انہیں کسی دین، کسی مذہب کاکچھ علم نہیں، صرف سردار کا حکم ہی سب کچھ ہے۔ یہ غریب مظلوم لوگ اپنی مرضی سے شادیاں بھی نہیں کرسکتے، کسی سکول یا ہسپتال نہیں جاسکتے۔ سردار کی چاکری اورخدمت ہی ان کا مقدر ہے(یہ منظر میں ڈیر غازی خاں میں لغاریوں، مزاریوں کے ہاں بھی دیکھ چکا ہوں)۔ عام انتخابات میں اس محکوم غلام رعایا کوووٹ ڈالنے کے ساتھ سردار کے انتخابی اخراجات کے لیے اس کی بھیجی ہوئی پرات (بڑا تھال) میں نوٹ بھی ڈالنے ہوتے ہیں۔ قومی اسمبلی یا صوبائی اسمبلی انہی سرداروں سے بھری ہوتی ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے حریف ہوتے ہیں، ایک دوسرے کی قیادت کو برداشت نہیںکرتے۔ بلوچستان اسمبلی میں بھی یہی کچھ ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ ثناء اللہ زہری پر کروڑوں کی کرپشن کاالزام لگایا گیا۔اصل اعتراض یہ تھاکہ ہمیں حصہ کیوں نہیں ملا! ذرا جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا بیان دیکھیں کہ ساڑھے چار سال میں ہمار ے ارکان کوکچھ حاصل نہیں ہوا! اور اب! اس اسمبلی کے صرف چار ماہ باقی ہیں۔ یہ مئی میںتحلیل ہو جائے گی۔ صرف چار ماہ کے اقتدار سے ہر ممکن فائدہ اٹھانے کے لیے پانچ امیدوار سامنے آچکے ہیں! پہلا مسئلہ تو چار ماہ کے لیے نئی حکومت کی تشکیل کا ہے۔ محموداچکزئی کی پارٹی کے14 ارکان پر فضل الرحمان کے چار ارکان حاوی ہوگئے۔ محمود اچکزئی کے ارکان حکومت کو نہ بچا سکے اور وفاقی حکومت میں ن لیگ کے اتحادی فضل الرحمان نے اپنی سیاست کے ساتھ ن لیگ کی حکومت الٹا دی۔پہلے خبر آئی کہ اس 'خدمت' کے صلے میں اپوزیشن سے وزیراعلیٰ کا عہدہ مانگا جارہاہے۔ معلوم ہوا کہ وزیراعلیٰ کاعہدہ تو پھر ن لیگ کے پاس ہی رہے گا تو گورنری پر نظر رکھ دی ہے! اب اصل مسئلہ یہ ہے کہ نئی حکومت کیسے چلے گی ؟ اس کا دائرہ اثر کیا ہوگا؟ بلوچستان اسمبلی میں شدید کشیدگی پیدا ہوچکی ہے۔ خود ن لیگ دوحصوں میں بٹ چکی ہے۔ وفا داریاں تقسیم اور منتشر ہوگئی ہیں۔ اگلے چار ماہ پہلے سے زیادہ انتشار اور کشیدگی کے دکھائی دے رہے ہیں اور یہ سب کچھ ایسے عالم میں ہورہاہے کہ صرف دس رو ز میں تین دھماکے ہوچکے ہیں! سرداریاں آپس میں لڑ رہی ہیں،عوام کی کبھی کوئی حیثیت، اہمیت نہیں تھی، اب بھی نہیں ہے! خدا تعالیٰ رحم فرمائے! ٭ایک خبر: بھارت نے ایران میں اپنے زیر انتظام چاہ بہار کی بندرگاہ کے ذریعے افغانستان میں ایک لاکھ دس ہزار ٹن گلی سڑی ناقص گندم بھیج دی ۔ اس سے ہزاروں افغان باشندے پیٹ کی بیماریوں کے شکار ہوگئے ہیں۔ افغانستان کو پاکستان کی صاف ستھری گندم راس نہ آئی۔ مجھے پاکستان کا ابتدائی دور یاد آگیاہے جب1950ء میں امریکہ نے پاکستان کو میکسیکو نام کی مضر صحت گلی سڑی اس سُرخ گندم کے دوجہاز بھیج دیئے جسے وہ ہر سال سمندر میں پھینک دیتا تھا۔ یہ گندم کراچی کی بندرگاہ سے اونٹ گاڑیوں پر ریلوے سٹیشن تک لائی گئی۔ اونٹوں کے گلے میں ''تھینک یو امریکہ'' کی تختیاں لگا دی گئیں۔ گندم کے سرخ آٹے سے پوری قوم پیٹ کی مختلف بیماریوں کی شکار ہوگئی مگر ہم امریکی ڈالروں کے سایہ تلے احتجاج بھی نہ کرسکے!تھینک یو امریکہ کی گردان کرتے رہے۔ ٭ایک دلچسپ خبر: جمعہ کے روز امریکہ کے ایک فوجی میڈیکل سنٹر میںصدر ڈونالڈ ٹرمپ کا سالانہ طبی معائنہ ہوگا۔ اس بات کا خاص طورپر ذکر کیاگیا ہے کہ اس معائنہ میں دماغی معائنہ شامل نہیں ہوگا۔ اس پر امریکی میڈیا شور مچا رہاہے کہ اصل معائنہ تو اس کے دماغ کا ہوناچاہئے اس کے بغیر عام معائنہ کا کیا فائدہ ؟ ٭قصور میں ایک اور بچی کے ساتھ سنگین ہولناک واردات! مرحوم بچی کے والدین عمرہ پر گئے ہوئے تھے۔ مجھ میں تفصیل بیان کرنے کی تاب نہیں ۔ قصور کے علاقہ پر کیسی بدبختی سایہ کیے ہوئے ہے! بچوں کے ساتھ ناقابل بیان کئی وارداتیں ہوچکی ہیں۔ مختصر عرصے میں یہ ایک ہی نوعیت کی تیسری واردات ہے اور ظلم ، ستم، انتہائی ،بے حسی اور ڈھٹائی! پنجاب کے وزیراعلیٰ کا ملک احمدخاں نام کاایک مشیر کہہ رہا ہے کہ حکومت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہے ! کیا خاک احساس ہے! کئی وارداتوں کا کوئی ایک مجرم بھی پکڑا ؟ کسی کو سزا ہوئی؟

کردی ہی٭تھرمیں غذا کی کمی، بھوک اور پیاس سے مزید تین بچے جاں بحق ہوگئے۔ صرف دس دنوں میں مرنے والے بچوں کی تعداد 16ہوگئی ہے۔ آصف زرداری دبئی میں گُم، برخوردار رومن انگلش میں باربار وہی تقریر دہرا رہاہے جوپہلے کئی بار سنا چکا ہے۔ حکومت کے سر پرست باباآصف زرداری نے سیدمراد علی کوآئندہ بھی وزیراعلیٰ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ آج تک آصف زرداری نے تو تھرجاکر غریب عوام کا حال دیکھنا گوارا نہیں کیا۔ ٭ایک خبربلاتبصرہ: نیب نے میاں نوازشریف کے داماد کیپٹن(ر) صفدر کے خلاف مانسہرہ میں تین ارب روپے کے ٹھیکوں میں دو ارب روپے خورد برد کئے جانے کی تحقیقات شروع ں۔ ٭ایس ایم ایس: ''آپ نے راوی نامہ میں لکھاہے پنجاب میں کسانوں کوگنے کی 180روپے فی من قیمت دی جارہی ہے۔ بھکر اور اردگرد میں گنے کی سات ملیں ہیں۔یہ کسانوں کو140سے148 روپے فی من دے رہی ہیں۔ مگر ان سے180 روپے وصول کرنے کی رسیدوںپر انگوٹھے لگوائے جارہے ہیں۔فاروق حیدر خاں، دریا خاں، (0333-8059840) ٭بنوں سے شوکت (0346-5597372):'' 14 مختلف کیڈر کے صوبائی ملازمین کی اپ گریڈ یشن کی گئی ہے مگر محکمہ تعلیم کے سٹور کیپروں کو نظرانداز کردیاگیا ہے جب کہ یہ صرف 10 اسامیاں ہیں ۔ ہماری اپیل چھاپ دیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved