جمعہ‬‮   19   جنوری‬‮   2018
خلافت کی تنسیخ
  12  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

3مارچ خلافت کا یوم تنسیخ ہے۔ اسی مناسبت سے خلافت کے موضوع پر کچھ مطالعہ ہم نے قبل ازیں کیا تھا۔ آج ان شاء اللہ اسی موضوع پر مزید مطالعہ کریں گے۔خلافت کا اصل مفہوم کیا ہے؟ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں اس کی کتنی ضرورت اور اہمیت ہے اور موجودہ دور میں خلافت کے دعویداروں کی اصل حقیقت کیا ہے ؟یہ سب ہم جاننے کی کوشش کریں گے لیکن ساتھ اس اہم پہلو کا بھی جائزہ لیں گے کہ آج لفظِ خلافت کو اتنا خوفناک اور دہشت ناک بنا کر کیوں پیش کیا جارہاہے ؟بالفاظ دیگر خلافت کے نام سے لوگوں کو کیوں ڈرایا جارہاہے ؟ ہم مطالعہ کر چکے ہیں کہ خلیفہ خلف سے ہے جس کے معنی ہیں پیچھے آنے والا یا بعد میں آنے والا۔ ''اور یاد کرو جب کہ کہا تھا تمہارے ربّ نے فرشتوں سے کہ میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ۔'' (البقرہ۔٠٣) حضرت انسان کی پیدائش سے قبل زمین کا چارج جنات کے ہاتھ میں تھا لیکن حضرت آدم کی پیدائش کے بعد اللہ نے زمین کا چارج جنات سے لے کر حضرت آدم کے حوالے کردیا اور اعلان کیا کہ آج کے بعد زمین پر میں اپنا خلیفہ انسان کو بنارہا ہوں۔ اس لحاظ سے خلیفہ کا ایک مفہوم ہوا بعد میں آنے والا اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ انسان زمین پر اللہ کا نمائندہ ہے۔ چنانچہ خلافت کی اصطلاح میں انسان زمین پر خود حاکم یا مختار کل نہیں ہے ، بلکہ اصل اور حقیقی حاکم اور مختار کل یعنی خالق کائنات کا نمائندہ ہے۔ اللہ نے انسان کو زمین پر رہنے کے لیے تمام ہدایات دے دی ہیں اور ایک مکمل نظام اس زمین پر قائم کرنے کے لیے دیا ہے۔ اب یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بحیثیت خلیفہ یعنی اللہ کے نمائندہ یا نائب کے زمین پر اللہ کا دیا ہو ا نظام قائم کرے۔ یہی دنیا میں اس کا اصل امتحان ہے کہ وہ بحیثیت خلیفہ یعنی اللہ کے نائب کے زمین پر رہتے ہوئے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں دین کو قائم کرتا ہے یا پھر اللہ سے سرکشی اور بغاوت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے ،اللہ کے دین کو رد کرتے ہوئے خدا کی دھرتی پر خود مختار حاکم بن جاتاہے اور اپنا من پسند اور اپنی مرضی کا نظام نافذ کرتا ہے؟ چنانچہ انسان کی فلاح اور حقیقی کامیابی کا راز تو اسی میں ہے کہ وہ دھرتی پر رب کا دیا ہوا نظام نافذ کرے۔ کیونکہ وہ رب پوری کائنات کا خالق و مالک ہے اور ارض و سماء کا اصل حاکم ہے لہٰذا قانون بنانے کا اصل اختیار بھی اسی کے پاس ہے اور اسی کا بنایا ہوا نظام ہی حقیقت میں عدل و انصاف کے تقاضے پورے کر سکتا ہے، انسان کی نفسیات سے ہم آہنگ اور ہر لحاظ سے متوازن بھی ہو سکتا ہے۔ ورنہ اگر کوئی انسان قانون بنائے تو وہ کسی نہ کسی معاملے میں ڈنڈی ضرور مارے گا۔ مثلاً قانون بنانے والا اگر سرمایہ دار طبقہ ہے تو وہ اپنے مفادات کے تحفظ کو ہی ترجیح دے گا اور کوشش کرے گا کہ ایسا قانون بنایا جائے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ سرمایہ عام آدمی کے جیب سے نکل کر سرمایہ دار کے پاس آجائے۔اسی طرح اگر مرد قانون بنائے گا تو عورتوں کے حقوق کا پورا خیال نہیں رکھ پائے گا۔عورت اگر نظام بنائے گی تو وہ مردوں کو پورا انصاف نہیں دے سکے گی۔ چنانچہ واحد ہستی وہ رب ہے جو تمام انسانوں کے لیے ایک متوازن اور عدل و انصاف پر مبنی نظام بنا سکتا ہے۔اس نے یہ نظام حضرت انسان کو دے کر زمین پر اپنا نائب یعنی خلیفہ بنایا۔یہ ایسا نظام ہے جس میں کوئی کسی پر ظلم نہیں کر سکتا اور نہ کسی کا حق مارے جانے کا کوئی احتمال ہے۔جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقh نے خلیفہ بننے کے بعد جو پہلا آفیشل خطاب کیاتھا اس کے الفاظ یہ تھے :'' تم میں سے ہر کمزور میرے نزدیک قوی ہے جب تک کہ میں اس کو اس کا حق نہ دلا دوں اور تم میں سے ہر قوی میرے نزدیک کمزور ہے جب تک میں اس سے حق لے نہ لوں''۔ یعنی خلافت نام ہے اللہ کے دیے ہوئے عدل و انصاف پر مبنی نظام کو قائم کرنے کا اور یہی اسلام کا اصل ماٹو ہے۔اسی کے نتیجے میں پھر یہ دنیا جنت بنتی ہے ، انسانوں کو حقوق ملتے ہیں ، عدل و انصاف یقینی بنتا ہے اور ہر انسان کو وہ ماحول میسر آتا ہے جس میںدنیا کے اس امتحان میں کامیابی کے تمام مواقع اور سہولیات موجود ہوتی ہیں۔اس لیے کہ جب اللہ کا دین قائم ہوگا تو وہ منکرات کا سدباب کرے گا ، ہر برائی کو اس کی جڑ سے اکھیڑ نے کی کوشش ہو گی۔ (جاری ہے) اس کے بدلے میں نیکی اور خیر کے در کھلیں گے اور ہر انسان کو دین پر عمل پیرا ہونے میں آسانی ہوگی۔عمارت ِخلافت کی سب سے اوپر والی منزل سیاست ہے۔خلافت کے سیاسی نظام میں سیاست کا اہل وہ شخص ہوتا ہے جو سب سے زیادہ متقی ، پرہیز گار ،دیانت دار ، صاحب علم، نیک سیرت اور نیک کردار والا ہو۔ یہ نہیں کہ باپ کے بعد بیٹااور بیٹے کے بعد اس کا بیٹا۔ بلکہ یہ اہلیت صرف سیرت ، تقویٰ اور کردارکی بنیاد پر ہوگی۔جیسے حضرت ابوبکر صدیقh کے بعد حضرت عمرh خلیفہ بنے ، ان کے بعد حضرت عثمان اور پھر حضرت علی۔ اس بنیاد پر خلیفہ جتنا متقی اور پرہیز گار ہوگا اتنا ہی وہ اللہ سے ڈرنے والا ہوگا اور مخلوق خدا کے بارے میں اللہ کو حساب دینے کے معاملے میں خوف کھانے والا ہوگا۔اسی خوف کی بدولت حضرت عمرنے فرمایا تھا کہ اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو عمرh سے پوچھ ہوگی۔ لہٰذاجس نظام میں حکمرانوں کوجوابدہی کا اتنا خوف اور اتنی فکر ہو تو کیا اس معاشرے میں کرپشن ، بددیانتی ، لوٹ مار ، ظلم و زیادتی کا کوئی تصور کر سکتا ہے؟ چنانچہ یہی وجہ تھی کہ دور خلافت راشدہ میں عام انسان کو اتنے حقوق حاصل تھے اور وہ اتنا خوشحال تھا کہ کوئی زکوٰة لینے والا نہ ملتا تھا اور امن و امان کا یہ عالم تھا کہ اکیلی عورت کئی کئی میل سفر کر کے ایک شہر سے دوسرے شہر پہنچتی تھی اور اُسے کسی کے شر کا اندیشہ نہ ہوتا تھا۔اسی عدل و انصاف ، حقوق کی فراوانی ، مساوات اور اخوت جیسے سنہری اُصولوں کو دیکھتے ہوئے ایک دنیا اسلام میں داخل ہوگئی۔خلافت راشدہ کے دورمیں گھر گھر تبلیغ نہ تو ممکن تھی ، نہ ہی صحابہ کرام کے پاس اس کی فرصت تھی اور نہ کسی کو بھی جبراً اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا لیکن اس کے باوجود ایک عالم اسلام میں داخل ہوگیا تو اس کی بنیادی وجہ نظام خلافت کی برکات تھیں۔ خلافت راشدہ کے بعد 41ھ میں بنو اُمیہ کا دور خلافت شروع ہوااور 133ھ تک رہا یعنی 92برس۔ لیکن اس کے اندر ایک درجہ تنزل آگیا تھا یعنی ملوکیت کاایک عنصر شامل ہوگیاتھا کہ خلیفہ کا تقرر اہلیت کی بجائے خلیفہ کی مرضی سے ہونے لگا۔لیکن یہ تنزل صرف اوپر کی سطح پر تھا باقی نیچے کا سارا نظام وہی تھا جو خلافت راشدہ کے دور میں تھا۔چنانچہ خلافت راشدہ کے بعد یہ اُمت مسلمہ کا بہترین دور تھا۔ اس میں اسلام مزید پھیلا اور اسلامی نظام بھی نچلی سطح پر قائم رہا اور اس کی برکات بھی موجود رہیں۔اس کے بعد بنو عباس کا دور خلافت آیا اور اسی دور میں بنواُمیہ کی ایک شاخ نے سپین میں خلافت قائم کی لیکن جیسا کہ شاعر نے کہا میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر اُمم کیا ہے شمشیر و سناں اوّل ، طائوس و رباب آخر! جب ہر طرح کی خوشحالی ہو تو رب کی یاد اور ایمانی جذبات میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ خلافت عباسیہ میں ایک طرف بڑے بڑے محلات تعمیر ہورہے تھے ، طاؤس و رباب کا دور آرہا تھا ، لونڈیوں، غلاموں کی بھر مار تھی اور اوپر کی سطح پر عیاشیاں ہو رہی تھیں اور دوسری طرف نیچے کی سطح پر ایمانی جذبات بھی کم ہورہے تھے۔ یہاں تک کہ خلافت عباسیہ اپنے منطقی انجام کو پہنچی اور اللہ تعالیٰ کی ایک سنت کا ظہور ہوا ہے عیاں فتنۂ تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے یعنی ہلاکو خان اور چنگیز خان کا حملہ ہوالیکن ڈاکٹر اسرار احمد فرمایا کرتے تھے کہ تاتاریوں نے مسلمانوں کو مغلوب کیا لیکن اسلام نے تاتاریوں کو فتح کرلیا۔وہ خود مسلمان ہوگئے۔پھر اس کے کچھ عرصہ بعد عثمانی سلطنت کا دور آیا جس میں خلافت کا ادارہ نہیں تھا البتہ بعد (923ھ ) میں دوبارہ خلافت قائم ہوئی جسے خلافت عثمانیہ کہا جاتا ہے۔اس دور میں دوبارہ پوری امت خلافت کے اندر آگئی لیکن آہستہ آہستہ زوال آتے آتے بالآخر 1342ھ یعنی 3مارچ 1924ء کوخلافت کا یہ عظیم ادارہ ایک گہری سازش کے تحت ختم کر دیا گیا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اتاترک جو اس وقت مسلمانوں کا سب سے بڑا راہنما تھا اسی نے خلافت کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔جس پر اقبال نے کہا تھا چاک کر دی ترک ناداں نے خلافت کی قبا سادگی اپنوں کی دیکھ ، اوروں کی عیاری بھی دیکھ نظام خلافت کے ذریعے اللہ نے مسلمانوں کو زمین پر غلبہ عطا کیا تھااور یہی وہ منصب تھا کہ جس کی بدولت انہیں برتری حاصل تھی۔ ''تم وہ بہترین اُمت ہو جسے لوگوں کے لیے برپا کیا گیا ہے'تم حکم کرتے ہو نیکی کا'اور تم روکتے ہو بدی سے'اور تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر۔'' (آل عمران۔٠١١) یعنی صرف حکومت کرنا نہیں بلکہ اللہ کی دھرتی پر اللہ کا دین قائم کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری تھی۔ اسی منصب کی بدولت تقریباً سات صدیوں تک مسلمان سپریم پاور آن ارتھ رہے۔آج سائنس جہاں پہنچی ہوئی ہے اس کی بنیاد مسلمانوں نے رکھی تھی۔ٹیکنالوجی کے اعتبار سے، علوم کے اعتبار سے، یعنی ہر اعتبار سے ترقی مسلمانوں کی تھی۔ یورپ ہی میں ایک کتاب One thousand Oneشائع ہوئی ہے اور اس میں باقاعدہ اعتراف کیا گیا ہے کہ ایک ہزار ایک ایجادات مسلمانوں کی تھیں ، یورپ نے انہیں کو آگے بڑھایا ہے تو یہاں تک پہنچے ہیں۔یعنی ترقی کی ساری بنیادی مسلمانوں نے فراہم کی تھیں لیکن اللہ کی سنت ہے کہ اگر دین سے بے وفائی اور غداری کرو گے تو پھراللہ تعالیٰ تمہیں دنیا میں بھی سزا دے گا۔چنانچہ یہ پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ :''اور اگر تم پیٹھ پھیر لو گے تو وہ تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو لے آئے گا' پھر وہ تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔''(سورہ محمد(ۖ) جب مسلمانوں نے اپنے منصب سے روگردانی اختیارکرتے ہوئے محض حصول اقتدار کو اپنا مقصد بنالیا تو اللہ نے ان سے ان کا منصب چھین لیا اور دشمنوں نے جب یہ دیکھا کہ یہ کمزور پڑ رہے ہیں تو پھر خلافت کے ادارے کو ختم کرنے کی سازش کی گئی۔''استنبو ل سے رباط تک'' ایک کتاب ہے جس میں پوری ہسٹری موجود ہے کہ خلافت کو ختم کرنے کے لیے کس طرح سازشوں کا جال بچھایا گیا اور کس طرح ترکوں اور عربوں کو لڑایا گیا۔ اس پوری سازش کے سرغنہ یہودی تھے اوروہ اس کے بعد آج تک پوری طرح الرٹ ہیں کہ مسلمان دوبارہ خلافت کے لیے نہ اُٹھ کھڑے ہوں۔اس کا اندازہ شیخ الہند مولانا محمود حسن کے ایک واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے جب وہ تحریک ریشمی رومال جو آزادی کی تحریک تھی کے الزام میں مالٹا میں اسیر تھے۔اس وقت خلافت کا ادارہ قائم تھا لیکن اس کو ختم کرنے کی سازشیں ہو رہی تھیں۔تو شیخ الہند نے انگریز جیلر ( نگران ) سے پوچھا کہ بھئی ہماری خلافت کی تو اس وقت کوئی حیثیت نہیں ہے تم لوگ کیوں اس کے درپے ہو رہے ہو؟ اس نے جواب دیا: حضرت آپ اتنے بھولے نہ بنیے ،ہمیں خوب پتا ہے کہ اگر خلافت کا ادارہ قائم رہاتو جب کبھی بھی خلیفہ کی طرف سے جہاد کی کال آئے گی تو پور اعالم اسلام اٹھ کھڑا ہو گاجو کہ ہم برداشت نہیں کرسکتے۔ اسی طرح جب انہوں نے دیکھا کہ افغانستان میں خلافت کی بنیاد رکھ دی گئی ہے جس کا مزید پھیلنے کا امکان ہے تو انہوں نے نائن الیون کا ڈراما رچا کر وہ ماحول پیدا کر دیا کہ پوری دنیا اس بات کی قائل ہوگئی کہ مسلمان اسی قابل ہیں کہ ان کو کیڑے مکوڑوں کی طرح مار دیا جائے۔اس وقت کے امریکی صدرجارج ڈبلیو بش نے کہا تھا کہ القاعدہ کے لوگ فارایسٹ سے لے کرموریطانیہ تک خلافت کا نظا م قائم کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ یہی وہ اصل الزام تھا جس کی بنیاد پر نائن الیون کے بعد مسلمان ممالک پر حملے شروع کر دیئے۔افغانستان میں طالبان کی انتہائی کمزور سی حکومت تھی جس کے پاس نہ وسائل تھے، نہ ہتھیار اور نہ ہی فوجی طاقت۔ مگر پوری دنیا کی افواج کو امریکہ اکٹھا کر کے وہاں لے آیا۔ اس لیے کہ ان کی لمبی پلاننگ ہے۔ انہیں پتا ہے اور انہوں نے احادیث کا بھی مطالعہ کر رکھا ہے کہ خلافت کا دور ایک مرتبہ پھر آئے گا اور وہ خلافت عین خلافت راشدہ کے منہج پر ہوگی جو بالآخر پوری دنیا پر قائم ہوگی ،یعنی پورے گلوب پر ایک ہی ورلڈ آرڈر ہوگا اور وہ اللہ کا ہوگا۔باقی سب نیچے لگ کر رہیں گے۔جبکہ امریکہ پیشگی اعلان کر چکا ہے کہ نہیں ورلڈ آرڈر صرف ہمارا چلے گا۔اللہ کو بھول جاؤ۔ اس زمین پر ہمارا اختیار ہے۔ نیوورلڈ آرڈر کا مطلب کیا ہے؟یعنی کسی مذہب کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔پوری دنیا میں جو ہم چاہیں وہ نظام قائم ہوگا اور وہ جو چاہ رہے ہیں وہ نظام کیا ہے؟ وہ قرآن نے ہمیں پہلے سے بتا دیا ہے کہ وہ شیطان کی پیروی کر رہے ہیں، وہ شیطانی نظام چاہتے ہیں اور اس شیطنت کے مظاہر آپ دیکھ ہی رہے ہیں۔ اس وقت دنیا میں جو برائیوں کا طوفان اُمڈ آیا ہے کیا آج سے 50سال پہلے والا انسان سوچ سکتا تھا کہ یہ کچھ ہو گا؟ کیا نظر نہیں آرہا اس وقت؟ ساری دنیا میں ابلیس ننگا ناچ رہا ہے اور سب اس کے آگے سجدہ ریز ہیں۔ کہنے کو تو یہ دنیا کی ترقی کا دور ہے، تمدن میں، ٹیکنالوجی میںہم کہاںپہنچے ہوئے ہیں۔ بڑی بڑی ریاستیں ہیں لیکن انسانیت کے اعتبار سے سب سے بھیانک اور مکروہ دور یہ ہے۔ نہ عدل ہے اور نہ انصاف ہے اور شیطنت ہر جگہ ننگا ناچ رہی ہے۔ آج ہمارے وزیراعظم صاحب بھی جو بیانات دیتے ہیں اس کے اندربھی اسی خواہش کی جھلک نظر آتی ہے کہ لبرل ازم کو فروغ دیا جائے اور یہ کہ ہم اور ہندو ایک ہی ہیں۔ سبحان اللہ! قرآن کہتا ہے :

''وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے' پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مؤمن۔''(التغابن۔٢) قرآن بتا رہاہے کہ ہم بالکل الگ الگ ہیں اور یہاں فرمایا جا رہا ہے ہم ایک ہیں۔ یعنی دو قومی نظریہ کی بھی نفی کر دی جو قائداعظم کہتے رہے کہ ہم ایک نہیں ہیں، ہم ہر اعتبار سے مختلف ہیں، ہماری سوچ، ہمارا عقیدہ، ہمارا کلچر، یہاں تک کہ ایک جگہ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ہمارے پانی بھی الگ ہیں۔ آج کا پاکستانی شاید یہ نہ سمجھ سکے لیکن بزرگوں سے یہ باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ڈاکٹر اسرار احمد صاحب بتاتے تھے کہ تقسیم ہند سے قبل اسٹیشن پر ''ہندو پانی '' اور'' مسلم پانی '' کے نام سے دو الگ الگ پانی کے مٹکے رکھے ہوتے تھے اور دونوں کا فاصلہ اتنا تھا کہ ایک ایک کونے میں اور دوسرا دوسرے کونے میں تھا تاکہ ہندو اور مسلم قریب نہ آنے پائیں۔لیکن وزیر اعظم فرماتے ہیں کہ ہم ایک ہیں۔کیوں؟ اس لیے کہ ورلڈ آرڈر ہے کہ مذہب کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے اور اس ورلڈ آرڈر پوری دنیا میں نافذ کرنے کے لیے یہود پوری پلاننگ کر رہے ہیں۔کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ آئندہ کیا ہونا ہے ، تورات میں پیشن گوئیاں ہیں ، احادیث بتاتی ہیں اور اب تک کے معاملات تو اسی کے مطابق چل رہے ہیں۔لیکن پلاننگ ان کی ہوتی ہے۔اسی پلاننگ کے تحت انہوںنے افغانستان پر حملہ کیا۔اس کے بعد یہودیوں کو سب سے زیادہ خطرہ عراق سے تھا جو عرب ورلڈ کی ایک مضبوط فوجی قوت تھی۔اس پر بھی حملہ کرنے کے لیے نائن الیون کی طرح کا ہی جھوٹ گھڑا گیا کہ عراق میں کیمیائی ہتھیار ہیں۔ لیکن جب عراق کو بھی کچل دیا گیا اور لاکھوں مسلمانوںکو قتل کر دیا تو پھر خود ہی اعتراف بھی کر لیا کہ وہاں کوئی کیمیائی ہتھیار نہیں ملے اور اس وقت عراق کی جنگ میں جو امریکی کمانڈر تھا ،اس نے بعد میں خود کہا کہ ہم نے یہ جنگ اسرائیل کے تحفظ کے لیے لڑی ہے۔چنانچہ اسلام کو کچلنے کے لیے یہ ساری پلاننگ ہے اور اس کے پیچھے یہودی ہیں۔انہوں نے اپنا تھرڈ ٹیمپل بنانا ہے۔اس کے لیے مسجداقصیٰ کو گرانے کی پہلے بھی کوششیں ہوتی رہی ہیں اور اب وہ اتنے مضبوط ہوچکے ہیں کہ اسرائیل کے اندر سے پریشر آرہا ہے کہ مسجد اقصیٰ کو گرا کر اس کی اصل بنیادوں پر تھرڈ ٹیمپل تعمیر کیا جائے۔لیکن انہیں خطرہ ہے کہ وہ جو مسلمانوں میںدینی جذبہ رکھنے والے لوگ ہیں وہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور عربوں کے اندر بھی ایک بڑا ہیجان آئے گا اور ان کے لیے ایک مسئلہ کھڑا ہوگا۔لہٰذا چن چن کر ایسے لوگوں کو جو دینی جذبہ رکھتے ہوں ،جہاد اور خلافت کا نام لیتے ہوں ان کو ختم کرو۔اس کے لیے انہوں نے داعش کی بنیاد ڈالی تاکہ خلافت کے نام پر دنیا بھر سے دینی جذبہ رکھنے والے اور خلافت کے لیے جان دینے والے مسلمان ایک جگہ جمع ہو جائیں اور پھرآسانی سے انہیں کچل دیا جائے۔چنانچہ داعش بھی یہودی سازش کا حصہ ہے۔ انٹر نیشنل کالم نویس لکھتے ہیں کہ حیر ت ہے کہ امریکہ داعش کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہا حالانکہ سب سے بڑے مجرم تو وہ ہیں جو خلافت کا نام لے رہے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج کا دور دجالی دور ہے اور دجال کا مطلب ہے دھوکہ اور فریب۔ ایک فریبی خلافت قائم کرکے اپنے مقاصد پورے کیے جارہے ہیں جو اصل میں ان کا ہدف ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں ان سازشوں سے محفوظ رکھے اور حقیقی خلافت کا فہم اور اس کے قیام کے لیے جدوجہد کی توفیق عطا فرمائے۔آمین!


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved