کشمیر کی فصلیں خون سے سیراب ہوتی ہیں
  12  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

جوں ہی انسان دنیا میں آتا ہے تو اس قدرت کاملہ کے عنایت کردہ اجزاء اور خواص سے اپنے عملی سفر کا آغاز کرتا ہے۔اس کے جسم میں حرکت دینے والا خون اپنے اثرات سے اس کی فطرت میں نیک و بد کی خو پیدا کرتا ہے۔جونہی اس کی سوچ اور عمل کا دائرہ معاشرتی پھیلاؤ میں داخل ہوتا ہے تو اپنی حرکات میں پھیلاؤ مانگتا ہے۔کبھی گھر میں بڑوں کے عمل دہرانے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی سوچ کے دائروں کو وسعت دے کر نئے اعمال کا مظاہرہ کرتا ہے۔اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی خواہش کبھی زخمی کرتی ہے اور کبھی گھریلو نقصان کا مؤجب بنتی ہے۔ عمل میں رکاوٹ اور جھجھک اس کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے جو اس کی سوچ کا رخ موڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اسے جرأت اور دلیری کی منزل سے دورلے جانے کی کوشش کرتے ہیں ۔آئندہ زندگی میں اسے معاشرتی بہاؤ کا پابند بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ماحولیاتی رویوں میں رکاوٹیں کبھی اس کی شخصیت کو مسخ کرتی ہیں اور کبھی انتقامی اور مقابلے کے جذبے بڑھانے کا مؤجب بنتے ہیں ۔کبھی محنت کا احسا س اسے بلندیوں کے نظارے کراتا ہے اور کبھی کاہلی، سستی اور تساہل پسندی کے جذبے اسے بے عملیوں کی گہرائیوں میں گھسیٹنے کی کوشش کرتے ہیں جو بچے محنت اور خود اعتمادی کی فضا میں مشکلات سے نہیں گھبراتے وہ ضمیر کی آواز پر مشکل سفر اپنانے سے نہیں بھاگتے۔جو آسان راستوں کے عادی ہوتے ہیں وہ اخلاقیات کا سبق بھول کر شارٹ کٹ کے راستے اختیار کرتے ہیں ۔یہ کٹھن ترین منزل ہوتی ہے۔یہی وہ وقت ہے جب انسانی رویوں کی ہلچل پورے انسانی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔یہاں نہ کوئی دارو سکہ چلتا ہے نہ وعظ نصیحت کارگر ہوتی ہے۔بعض اوقات انسان لالچ کے تالاب میں غوطے لگاتے ہوئے تاریکی کی وہ منزل اختیار کر لیتا ہے جو معاشرتی نظام میں فتنوں کا طوفان برپا کر دیتے ہیں اور انسان کی پر سکون زندگی کی تمام رعنائیاں دکھوں میں بدل جاتی ہیں ۔محبتیں اور سوچیں دم تو ڑ دیتی ہیں ۔ خون ارزاں ہوتے ہیں ۔ انسانیت کی قدریں بدل جاتی ہیں ۔ ادارے بے بس ہو جاتے ہیں۔قانون مذاق بن جاتا ہے۔انسانی اکائی پورے معاشرے میں فساد کا مؤجب بن جاتی ہے ۔ انسانوں کا شکار کیا جاتا ہے۔حرص اور لالچ خون کی قدر کھو دیتا ہے۔ کشمیر کا ہر بچہ آج سختیوں کی آگ میں جھلس جھلس کر کندن ہو چکا ہے۔ کشمیری نوجوانوں نے کشمیر کی آزادی کے لئے آنے والی نسلوں کی اپنے خون سے آبیاری کی ہے۔اس معاملے میں کشمیر کی بیٹیوں کی جدو جہد اور قربانیوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ہے۔70سال سے کشمیری لوگوں نے کبھی آرام کی طلب کی اور نہ کبھی انہیں آرام نصیب ہوا۔سڑکوں پر ہر طرف ہندوستان کی 7لاکھ فوج میں سے خونخوار درندے ظلم کے پہاڑ توڑتے ہیں ۔نوجوان بچیوں کی عزتیں لوٹتے رہے۔کشمیری نوجوانوں کو سنگینیوں میں پروتے رہے لیکن دنیا کے منصفوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔لاکھوں لوگوں کو شہید، زخمی، معذور، اپاہج اور نابینا کر دیاگیا۔لیکن عالمی طاقتیں خواب خرگوش میں مدہوش رہیں ۔شاید ہی ایسا دن گزرتا ہو جس دن کشمیریوں کی لاشیں نہ گرتی ہوں ۔پھر ہندوستان اپنی طاقت کے نشے میں اس حد تک آگے چلا گیا ہے کہ اب تو وہ ہر روز بلکہ ایک دن میں کئی کئی علاقوں میں بیک وقت لائین آف کنٹرول کی خلاف ورزی کر کے پاکستان کی حدود کے اندر فائرنگ اور گولے پھینک کر بے گناہ خواتین ، بچوں اور اپنی زمینوں میں کام کرتے کسانوں کو شہید کر دیتا ہے۔

ہم نے بحیثیت صحافی سلامتی کے ضامنوں کے ضمیروں کو کچوکے لگا کر جگانے کی کوشش کی ہے لیکن ان کچوکوں کا اثر تب ہوتا ہے کہ ان لوگوں میں ضمیر نام کی کوئی چیز ہوتی۔کیا وہ میڈیا پر کشمیر میں ہونے والی ظلم کی داستانوں کا ذکر نہیں پڑھتے یا الیکٹرانک میڈیا پر نہیں دیکھتے۔لیکن کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے کشمیر میں جلتی ہوئی آگ کے شعلوں کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ہندوستان کے ظلم و ستم سے ستائے ہوئے مجاہدین نے کبھی آواز بلند کی یا ہندوستانی افواج کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوئے تو شعلوں کو ہوا دینے والوں نے اس کا الزام پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیوں پر لگانے کی کوشش کی۔تاکہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی اور سماجی رشتوں کا خاتمہ کرے۔کشمیری ہندوستان سے آزادی حاصل کرنے کے لئے اپنی جنگ خود لڑ رہے ہیں اور اس وقت لڑتے رہیں گے جب تک وہ آزادی حاصل نہیں کر لیتے۔ہندوستان کشمیر پر مکمل قبضہ حاصل کرنے کے لئے پاکستان کو چاروں طرف سے گھیرے میں لینے کی کوشش کر رہا ہے ۔ مشرقی محاذ پر راجستھان سے لے کر کشمیر بلکہ چین کے محاذ تک جس میں سیاچین بھی شامل ہے کوئی نہ کوئی ظلم کی واردات کرتا رہتا ہے۔پھر اب تو وہ امریکہ کے ذریعہ افغانستان میں بھی مکمل گھس چکا ہے اور افغانستان کے ہی راستے سے پاکستان خاص کر فاٹا ، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں آئے دن دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث رہتا ہے۔صرف یہاں تک ہی نہیں پاکستان کے انتہائی قریبی مسلمان دوست ایران میں بھی چاہ بہار بندرگاہ کے ذریعے گھس چکا ہے۔اس بندرگاہ کو بہانہ بنا کر اپنے جاسوس اور خطرناک مجرموں کو ایران میں داخل کر کے پھر نا کے کے ذریعے پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کرے گا۔لیکن میں ذاتی طور پر افغانستان اور ایران کے ساتھ ملحقہ بارڈروں کا معائنہ کر چکا ہوں۔میں پاکستانی چوکس افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیوں سے مکمل پر امید ہوں کہ اس طرف ہزار میں سے کوئی ایک واردات کرنے میں ہندوستان کامیاب ہو جائے ورنہ ہمارے ایجنسیاں مکمل طور پر چوکس ہیں ۔اور ان درندوں کی ہر نقل و حمل پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں۔صرف کشمیر ایسی جگہ ہے جہاں ہندوستان نے خونخوار پنجے گاڑ رکھے ہیں ۔میری اقوامِ متحدہ اور دوسری عالمی طاقتوں سے گزارش ہے کہ وہ اس طرف نظرِ کرم کریں ۔ ہندوستان کو کشمیر سے باہر نکالیں ۔کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق آزادی سے جینے کا حق دیں ورنہ یہ ظلم کی داستانیں رقم ہوتی رہیں گی جن کو پڑھ کر کشمیر کی آنے والی نسل ہندوستان کے لئے ہائیڈروجن بم سے خطرناک ثابت ہوگی۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں

  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved