جمعہ‬‮   19   جنوری‬‮   2018
صرف ''زینب '' نہیں بلکہ حکمرانوں کا ضمیر بھی سپرد خاک
  12  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے نوٹس لے لیا' چیف جسٹس سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا' وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب کی سخت سرزنش کرتے ہوئے ... قصور واقعے کا نوٹس لے لیا... آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے قصور واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوج کو ہدایت دے دی کہ ... سول انتظامیہ سے تعاون کیا جائے... رانا ثناء اللہ نے انکوائری کا حکم دے دیا... لیکن کیا ان سارے نوٹسز اور انکوائری احکامات سے معصوم ''زینب'' واپس لوٹ آئے گی؟ قصور کی سات سالہ بیٹی زینب پانچ دن تک ... درندوں کے پاس رہی... لیکن ایک ہتھیلی میں سما جانے والے چھوٹے سے شہر ''قصور'' کی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ''زینب'' کو بچانا تو درکنار... برآمد بھی نہ کر پائے... شیطان درندوں نے پنجاب کی ''شہباز'' پولیس کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ رسید کرتے ہوئے ... خود ہی ''زینب'' بیٹی کو کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر لاپھینکا۔ لیکن پولیس کا کارنامہ ملاحظہ کیجئے... وہ ''زینب'' کو تو نہ برآمد کر سکی اور نہ ہی درندوں سے بچا سکی... ہاں البتہ جو ''زینب'' پر ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج کر رہے تھے... ان پر گولیاں چلا کر ... دو مزید شہری مار ڈالے... شاید یہی وہ وجہ ہے کہ جس کی بناء پر ... پولیس عوام میں نفرت کی علامت بنی ہوئی ہے۔ ''زینب'' بیٹی پر ڈھائے جانے والے ظلم پر میری آنکھیں رو' رو کر سوجنے پہ آچکی ہیں... کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں... میری آنکھوں سے تو اشک رواں ہیں ہی... میرے تو الفاظ بھی ''آبدیدہ'' ہیں' پھول جیسی بچی کو درندگی کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کی یہ کوئی پہلی واردات نہیں ہے... بلکہ معصوم بچوں اور بچیوں کے لئے پورا ملک ہی ''قصور'' بنا ہوا ہے... ستم بالائے ستم کہ قصور کے تھانہ صدر کے علاقے میں بچیوں کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کا یہ بارہواں واقعہ تھا... صرف ایک سال میں 12 میں سے 11بچیاں جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والے شیطانوں نے جان سے مار کر ان کی لاشیں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر پھینکیں۔ دس معصوم بچیوں کے وحشیانہ قتل پر... نہ پولیس جاگی... نہ وزیراعلیٰ شہباز شریف کے کانوں پر جوں رینگی... نہ کسی منصف نے سوموٹو ایکشن لیا... اور نہ ہی میڈیا نے ان کے قتل اور اغوا کا نوٹس لیا۔ تاآنکہ ''زینب'' درندوں کے ہاتھوں اغوا ہو کر ... اپنی آبرو اور جان گنوا بیٹھی۔ سوال یہ ہے کہ ان ڈھیر سارے نوٹسز اور اداروں کی پھرتیوں کے بعد اگر ''زینب'' کے قاتل پکڑ بھی لئے گئے... تو کیا ملک میں اس قسم کے غلیظ واقعات ہونا بند ہو جائیں گے؟ اس لئے یہ لکھے بغیر چارہ نہیں ہے کہ 7سالہ زینب کی لاش... ن لیگی حکمرانوں اور طاقت کے دیگر مراکز سے سوال کر رہی ہے کہ تمہاری حکومت اور طاقت کس کام کی؟ تم سارے حکومت' طاقت اور انصاف دینے والے لوگ... آخر کسی ''زینب'' کی لاش کے ہی منتظر کیوں رہتے ہیں؟ پھر جیسے ہی کسی ''فاطمہ'' کسی ننھی ''عائشہ'' یا ''زینب'' کی سوختہ جاں لاش کہیں سے برآمد ہوتی ہے... تو پھر حکمرانوں اور عدلیہ میں سوموٹو ایکشن 'سخت نوٹسز اور انکوائریوں کا مقابلہ شروع ہو جاتا ہے ' آخر قوم کے معصوم بچوں اور بچیوں کے تحفظ کے لئے اقدامات پہلے کیوں نہیں کئے جاتے؟ کیا ساری سیکورٹی جاتی امراء محل اور شریف خاندان کے بچوں اور بچیوں کے لئے ہے؟ کیا سیکورٹی صرف بلاول ہائوسز' زرداریوں' ججز اور جرنیلوں کی اولادوں ہی کا حق ہے؟ کیا سیکورٹی... صرف سرمایہ داروں اور جاگیرداروں ہی کی اولادوں کا حق ہے؟'' زینب'' جیسی لاکھوں معصوم بیٹیوں کو سیکورٹی کون دے گا؟ یہ ملک ایٹمی ملک ہے... ایک ایٹمی ملک اگر اپنی معصوم بیٹیوں کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتا... تو پھر دوسروں سے شکوہ کیسا؟ جب 70سال کے ملک میں رائج نظام گلی سڑی لاش بن جائے گا' جب حکمرانوں کا ضمیر متعفن لاش میں تبدیل ہو جائے گا... جب الیکٹرانک چینلز ''لاشوں'' میں تبدیل ہو کر بے حیائی اور فحاشی کی سڑاند کو ملک میں پھیلائیں گے' جب ''قانون'' مجرموں کے سامنے بے بس و بے حس لاش کی مانند ہو جائے گا' تو پھر زینب جیسی پاکباز بیٹیاں ''لاش'' بن کر قبروں کے پاتال میں اترتی رہیں گی۔ معصوم بیٹی ''زینب'' کی لاش پر چیخنے اور چلانے والے الیکٹرانک چینلز کے پنڈتوں کو کوئی بتائے کہ ... اب رونا 'چیخنا اور چلانا کیسا؟ کیا وہ تم ہی نہیں ہو کہ جنہوں نے اس ملک میں بے حیائی' فحاشی اور عریانی کے کلچر کو پروان چڑھایا؟ مسلمان قوم اور مسلمان معاشرے کو کبھی یورپین طرز اور کبھی انڈین روشن خیالی کے قالب میں ڈھالنے کے لئے دن رات محنت کی؟ بے حیائی و فحاشی' لہوولعب اور گانے بجانے' ڈسکو ڈانس والا کلچر...''تہجد گزار'' اور ''نیکو کار'' تیار نہیں کرتا...بلکہ ''زانیوں'' '' شرابیوں'' ''بدکاروں'' ''بدنظروں اور بے حیائوں کی فوج ظفر موج کی پرورش کیا کرتا ہے؟

پاکستان کو اسلامی نظام کے راستے سے ہٹانے کے لئے ... یورپ سے ڈالروں کی بھیک لینے والی سیکولر اور لبرل لابی کے خرکار اور موم بتی مافیاء ' ''زینب'' کی لاش پر مگرمچھ کے آنسو بہانے کی بجائے... اس قوم کو جواب دے کہ ''زینب'' جیسی معصوم بیٹیوں کی آبرو اور جانوں کے تحفظ میں موجودہ نظام بھی ناکام ثابت ہوا۔ ''روشن خیالی'' بھی شکست سے دوچار ہوئی' عدالتیں بھی ہار گئیں... پولیس کی نااہلی بھی ثابت ہوئی اور میڈیا بھی ہار گیا... تو کیا اب وہ وقت نہیں آگیا کہ فوری طور پر ملک میں اسلامی نظام کو نافذ کرکے... ملک کے کروڑوں معصوم بچوں اور بچیوں کے تحفظ کو یقینی بنا لیا جائے' ملک سے فحاشی اور عریانی کے کلچر کو ختم کرنے کی بھرپور کوششیں کی جائیں' یاد رکھیئے کائنات میں ''اسلام'' ہی وہ واحد مذہب اور دین ہے کہ جس نے سب سے پہلے ''عورت'' کی عظمت و رفعت اور تقدس کو بحال کیا تھا... اسلام ہی وہ دین ہے کہ جس نے معصوم بچوں پہ شفقت کا درس دیا' اسلام ہی وہ دین ہے کہ جس نے حیا و پاکدامنی کا درس دیا... جب سے پاکستانی قوم کے معصوم بچوں کو الیکٹرانک چینلز کے پنڈتوں نے گلوکار اور اداکار بنانے کی کوششیں شروع کیں' جب سے انٹرنیٹ' موبائلز اور نجی چینلز نے ... عریانی و فحاشی کے اتوار بازار سجائے... تب سے پاکستانی قوم کے بچے اور بچیاں لاوارث ہوگئیں... ہمیں بحیثیت قوم اسلام اور اس کے مقدس احکامات کی طرف واپس لوٹنا پڑے گا... ہمیں اپنے معاشرے کو دین کے سنہری اصولوں پہ استوار کرنا پڑے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved