جمعہ‬‮   19   جنوری‬‮   2018
حیراں ہوں' دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کومَیں!
  12  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭سمجھ میں نہیںآرہا کہ کیا لکھاجائے، کیسے لکھاجائے؟ قلم لرز رہا ہے ،الفاظ کانپ رہے ہیں۔ سات سالہ زینب ! میری بیٹی، پوری قوم کی بیٹی! اس قدر ظلم! ایسی درندگی!ایسی وحشت ! سارادن ذہن سُن رہا۔ بڑی مشکل سے کالم لکھا۔ حالت اب بھی وہی ہے۔ ملک کے ہر سیاسی رہنما، قومی اسمبلی کے سپیکر ، سینیٹ کے چیئرمین، نوازشریف، عمران خاں، فاروق ستار،سراج الحق، چودھری پرویزالٰہی ، بلاول زرداری ، بہت سے دوسرے اہم نام!سخت الفاظ میں مذمت کررہے ہیں۔ پہلی بارایسا ہوا کہ چیف آف آرمی نے دوٹوک واضح الفاظ میں اس گھناؤنی واردات کی مذمت اور اسے ناقابل برداشت حرکت قراردیاہے۔ سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس حضرات نے اس معاملے کا فوری نوٹس لیا ہے۔ مرزا غالب کا شعر یاد آرہا ہے کہ ''حیراں ہوں' دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کومَیں!مقدور ہوتو ساتھ رکھوں نوحہ گر کومیں''۔ افسوس کہ مجھ میںاس ہولناک واقعہ کی تفصیل میں جانے کی تاب نہیں۔اخبارات کے صفحے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ تو ایک ستم تھا، دوسرا خوفناک ستم یہ ہے کہ پنجاب کی پولیس نے ماڈل ٹاؤن والے سانحہ(14افراد شہید)کی طرح قصور میں مظاہرین پر سیدھی فائرنگ کردی، دوافراد شہید، کچھ زخمی ہوگئے! انا للہ واناالیہ راجعون! مزید یہ کہ زینب کا واقعہ پہلا نہیں، اس سے پہلے اسی بابا بلھے شاہ، سید وارث شاہ کے شہر قصور میں ایک سال میں اسی نوعیت کے گیارہ واقعات ہوچکے ہیں۔ اس ایک سال میں پولیس نے کوئی کارروائی کی؟ کسی کو سزا دلائی؟ ہر بارکرپشن میں ڈوب کر ایسے مقدمے بنائے کہ کسی ایک شخص کو کوئی عبر ت ناک سزا تو درکنار معمولی سزا بھی نہ ہوسکی۔ حیرت ہے کہ صوبے کے آئی جی پولیس نے ابھی تک استعفا نہیںدیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اچھا کیا کہ فوری طورپر قصور پہنچے اورمظلوم دکھی خاندان کے ساتھ ان کے غم میں شریک ہوئے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے بھی خود قصور جا کر بچی کی نماز جنازہ پڑھائی۔ عمران خاں کے جانے کی اطلاع بھی آگئی۔ اورلوگ بھی جائیں گے۔ بچی تو چلی گئی۔اس کے ساتھ ہونے والی درندگی نے پورے ملک کوہلا دیا ہے، ہرشخص دہل کررہ گیا ہے۔پاک فوج بھی اس انتہائی گھناؤنے جرم کی تفتیش میں شریک ہوگئی۔اس واردات کا کوئی مجرم پکڑاجائے تو اس کی واحد سزا کسی چوراہا پر ان گنت کوڑے اور پھرزمین میں گاڑ کر سنگ ساری ہے۔ یہ اس سنگین جرم کی شرعی سزا بھی ہے۔ یہ سزا ایک بار لاہورمیں دی جاچکی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے ابتدائی دو رمیں تین افراد نے رائل پارک لاہور کے ایک کم سن بچے پپوکے ساتھ اسی قسم کی واردات کی تھی۔ جنرل ضیاء الحق کے حکم پر شادمان کالونی میں واقع جیل کے باہر خصوصی پھانسی گیٹ بنا کر ان تینوں افراد کوسر عام سولی پر لٹکا دیاگیا۔ ہزاروں افراد نے یہ منظر دیکھا۔ا س کے بعد برسوں تک کوئی ایسی واردات سننے میں نہ آئی۔ اب بھی باربارسعودی عرب کے چکر لگانے والی شریف حکومتوں کے عہد میں پہلی واردات پر ہی مجرموں کو سرعام پھانسی پر لٹکا دیاجاتا تو باقی گیارہ وارداتیں نہ ہو پاتیں۔ گزشتہ روزپورے صوبے میں وکلاء نے ہڑتال کردی، اور عدالتیں بند رہیں۔ اسی روزشیخوپورہ سے خبر آئی کہ ایک کم سن بچے کے ساتھ ایسے ہی ناقابل بیان جرم پر مجرم کو پولیس مقابلہ میں ختم کردیاگیا ۔ عام حالات میں اس طرح کارروائی کی حمائت نہیں کی جاتی مگر پھر دوسرا طریقہ کیا ہے؟ ملک میں کہنے کوایک آئین ہے ، قانون ہے ان پر عمل کرانے والا کون ہے ؟ کوئی حکومت، کوئی قوم کا حقیقی غم خوار حکمران؟ کوئی باربار سعودی عرب جارہاہے کوئی ایک آدھ دن پاکستان میں رہ کر اپنے وطن دبئی بھاگ جاتا ہے۔ غضب خدا کا ! ایک سال میں ایک جیسی بارہ وارداتیں اور وہ بھی ایک ہی شہر میں! میں ان حکمرانوں، اس پولیس پر خدا کا غضب ٹوٹنے کا انتظار کررہاہوں۔ ٭قارئین کرام: ہمدرد دوا خانہ اوریونیورسٹی کے بانی اور سندھ کے سابق گورنر حکیم محمد سعید بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ ایک قاری نے ان کی 35سال قبل کہی جانے والی ایک دلچسپ نظم بھیجی ہے جو عوام کی صحت کے بارے میں ہے۔یہ نظم پڑھئے:۔ جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے وہاں تک چاہیے بچنا دوا سے اگر خون کم بنے، بلغم زیادہ تو کھا گاجر، چنے، شلجم زیادہ جگر کے بل پہ ہے انسان جیتا اگر ضعف جگر ہے کھا پپیتا جگر میں ہو اگر گرمی کا احساس مربہ آملہ کھا یا انناس اگر ہوتی ہے معدہ میں گرانی تو پی لے سونف یا ادرک کاپانی تھکن سے ہوں اگر عضلات ڈھیلے تو فوراً دودھ گرما گرم پی لے جو دُکھتا ہو گلا نزلے کے مارے تو کر نمکین پانی کے غرارے اگر ہو درد سے دانتوں کے بے کل تو انگلی سے مسوڑھوں پر نمک مل جو طاقت میں کمی ہوتی ہو محسوس تو مصری کی ڈلی ملتان کی چوس شفا چاہیے اگر کھانسی سے جلدی تو پی لے دودھ میں تھوڑی سی ہلدی اگر کانوں میں تکلیف ہووے تو سرسوں کا تیل پھائے سے نچوڑے اگر آنکھوں میں پڑ جاتے ہوں جالے تو دکھنی مرچ گھی کے ساتھ کھالے تپ دق سے اگر چاہیے رہائی بدل پانی کے گنا چوس بھائی دمہ میں یہ غذا بے شک ہے اچھی کھٹائی چھوڑ کھا دریا کی مچھلی اگر تجھ کو لگے جاڑے میں سردی تو استعمال کر انڈے کی زردی جو بدہضمی میں تو چاہے افاقہ تو دو اِک وقت کا کرلے تو فاقہ ٭گوجرانوالہ سے ن لیگ کے ایم این اے چودھری محمد بشیر نے وفاقی وزیر قانون کا حلف اٹھایا۔ کابینہ کے ارکان کی تعداد62ہوگئی ہے۔ اسمبلی کی چار ماہ کی مدت باقی ہے، مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ پرانا لطیفہ: ایک شخص ایک کنوئیں پرکھڑا بولے جارہاتھا، چھ چھ چھ! ایک راہ گیر نے پوچھا کہ کیا کہہ رہے ہو؟اس نے کہا کنوئیں میں جھانک کر دیکھو۔ راہ گیر کنوئیں میں جھکا ۔ اس شخص نے اسے کنوئیں میں دھکا دے دیا اور آواز لگا دی سات، سات ، سات! ٭ایس ایم ایس: ایک خاتون کا اٹک سے فون: '' میری بیٹی کی پندرہ سولہ دن کے بعد شادی ہے ۔ گھرمیں چند برتنوں اورکپڑوں کے سوا کچھ نہیں۔ میرا شوہر محبت خاں (0312-9090013) عارضی ملازمت کررہاہے۔ ہم بہت مشکل میں ہیں۔ ہمارے لیے امدادی اپیل چھاپ دیں، ساری عمر دعائیں دیں گے۔ میں ہمسایہ کے فون (0333-0399944) سے بات کررہی ہوں''۔

( کسی قسم کی امداد سے پہلے ذاتی طورپر پوری تحقیق اور اطمینان ضروری ہے) ٭پشاور سے لے کر راولپنڈی تک سڑک پر کوئی ٹراماسنٹر نہیں۔ کوئی حادثہ ہو جائے تو متاثرہ افراد کو راولپنڈی یا پشاور لے جانا پڑتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے اپیل ہے کہ حسن ابدال کے اردگرد کسی جگہ ٹراما سنٹر بنا دیا جائے۔ نابینا ظہیر احمد محلہ اکبر آباد موضع شین باغ تحصیل اٹک(0300-8301566)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved