بے حس حکمران ظالم امریکہ !
  13  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

سمندر کا ایک دم سے چپ ہو جانا کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ یہ امریکہ نے یک دم گہری چپ کیوں سادھ لی۔ صدر ٹرمپ خاموش کیوں ہوگئے؟ ان کی زبان کے چھالے کیوں سہم گئے؟ ان کے بڑے بول کہاں گم ہوگئے؟ کہیں وہ بڑا قدم اٹھانے سے پہلے زمین تو نہیں ناپ رہے؟ امریکہ،بھارت اور اسرائیل کی خفیہ ایجنسیز نے بھی چپ کی بکل مار لی ہے ۔ ہمارے حکمران کیا پیش بندی کر پائے ہیں؟ پاک فوج کی تیاری کا کیا عالَم ہے ؟ عوام کے اندر پھیلا خوف فروتر ہو رہا ہے ،کہ حکمرانوں کو آپس کی نبرد آزمائی سے فر صت نہیں،شاہد خاقان عباسی کو ابھی تک یہ یقین نہیں ہوا کہ وہی وزیر اعظم ہیں ،وہ عدالت عظمیٰ سے سینگ پھنسانے میں جتے ہوئے ہیں ،اور وہ جن کی بد اعمالیوں اور بے اعتدالیوں کی بنا پر فقط عہدے اور منصب سے ہٹا دیا گیا ہے،وہ اپنے زخموں کا رونا رو رہے ہیں ،رازوں سے لدے سینے سے زندگی کرنے کے عذاب سے دوچار ہیں ،مگر قوم کو یہ بتانا گوارہ نہیں کرتے کہ کون سے اہم راز ان کے سینے میں دفن ہیں جو کھل گئے تو قوم جادہء نشاط پالے گی۔ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے لئے کندھے عوام کے ،مگر ان پر اعتبار اتنا بھی نہیں کہ اعتماد کر لیا جائے ،اب جبکہ دشمن چاروں اور سے گھیرے ہوئے ہے اور تباہی و بربادی کے کھلے عام دھمکیا ں دیئے جارہاہے اور کسی رات کے اندھیرے میں ہماری آزادی بھی ویسے ہی اُچک لے جانے پر مصر ہے جیسے اسامہ بن لادن کو اٹھالے گیا اور ہمارے راڈار سوئے رہ گئے۔ اب دشمن ''ٹاما ہاکا '' میزائیل داغنے کی روح فرسا خبریں دیتے ،دیتے ناجانے چپ کیوں ہو گیا ہے اور کوئی اس چپ کے سراغ میں گھلتا دکھائی نہیں ہیں دے رہا،حیرت ہے! پاک فوج پر ذرہ بھر شک نہیں کہ وہ کسی خوش فہمی یا بھول میں ہو ،مگر یہ بھول اس سے بہرحال ایک بار پہلے ہو چکی ہے کہ دشمن اس کے سارے آلات کو مات دے گیا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی وراگر اس سارے حال سے کوئی واقف تھا تو اسے قوم پر آشکار تاحال نہیں کیا گیا۔ یہ کیسی رُت ہے کہ سلامتی کو درپیش خطرات کے ،بادل منڈلا رہے ہیں ،قوم کا بچہ بچہ سہما ہوا ہے اور بڑے منصبدار ،بڑی بڑی زبانیں نکال کر عدالتی فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے عندیئے دینے پر بضدہیں ،اور عدالتیں بھی کانوں میں تیل ڈالے کمال صبر سے (جسے مداہنت کہیں تو غلط نہ ہوگا)اپنے ہی مجرموں کے ناز اٹھاتی نظر آتی ہیں ،یوں لگتا ہے ان کے اندر بھی کوئی چور گجھی مارے بیٹھاہے جسے چوری کے پکڑے جانے کا خوف اندر ہی اندرچاٹے جا رہا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عوام بھی صدائے حق بلند کرنے سے گریزاں ہیں ،شاید وہ لاہور میں گرائے جانے والی چودہ لاشوں سے خوف زدہ ہیں یا قصور میں درندگی کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کا جو حشر ہواہے ،اس کا ڈر مانع ہے ۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ امریکی فضائیہ فقط یہ نہیں کہ دہشت گردوں کی آڑ میں ہماری اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا عزم ِ بد دل و دماغ میں لئے اس ٹوہ میں ہے کہ پلک جھپکتے میں سب کچھ تاراج کر دیا جائے ؟

کیا انڈیا اس انتظار میں نہیں کہ امریکہ ذرا سا اشارہ دے اور وہ ہماری قومی سلامتی پر حملہ آور ہو جائے؟ کیا عجیب بات ہے کہ حکمران اس بارے چین ،ایران اور شمالی کوریا سے مانگی گئی امداد سے بھی قوم کو بے بہرہ اور نا آشنا رکھے ہوئے ہے! قوم کو یہ بتانے سے کیوں اعراض برتا جا رہا ہے کہ خطرات سے نبرد آزما ہونے کی کس قدر تیاریاں مکمل ہیں ؟ امیریکہ اچانک سے خاموش کیوں ہوگیا ہے ؟بھارت کے جنگی جنون پر چپ کیوں مسلط ہے؟ ہمارے حکمرانوں پر یہ کیسی بے حسی طاری ہے؟سیاستدان قومی سلامتی کو درپیش خطرات پر بول کیوں نہیں رہے؟ قوم کے سر پر دروغ مصلحت آمیز کی چادر کیوں تانی ہوئے ہے ؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved