پیر‬‮   22   جنوری‬‮   2018
وقت نے ایک بار پھر دولہا بنا دیا
  13  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

شاعر کہتے ہیں پیار کرنا کوئی گناہ تو نہیں۔ پیار کرنا تو ایک عبادت ہے سیاستدان کہتے ہیں کہ سیاست ایک عبادت ہے۔ پیار اورسیاست کرنا اگر عبادت ہے تو پھر شادی کرنا تو اس سے بھی کئی گنا بلند درجہ فریضہ ہے تو پھر اس پر اتنا ہنگامہ ہے کیوں برپا۔ عمران خان نے شادی ہی تو کی ہے کوئی چوری تو نہیں کی کوئی ڈاکہ تو نہیں ڈالا۔ جی ٹی روڈ پر سفر کرنے والوں کی نظروں سے دوران سفر بسوں اور ویگنوں کے پیچھے لکھا ہوا یہ جملہ اکثر و بیشتر ضرور گزرا ہوگا کہ ''وقت نے ایک بار پھر دلہن بنا دیا'' یہ جملہ بڑے ماڈل کی ان بسوں اور ویگنوں کے پیچھے لکھا ہوا دکھائی دیتاہے جن کی ڈیٹنگ پینٹنگ کے بعد ان کا بنائو سنگھار کرکے دوبارہ روڈ پر لایا جاتا ہے یہاں یہ امر توجہ طلب ہے کہ ٹرکوں اور رکشائوں کے پیچھے کبھی بھی یہ لکھا ہوا دکھائی نہیں دیتا کہ ''وقت نے ایک بار پھر دولہا بنا دیا'' حالانکہ ان کی بھی ڈیٹنگ پینٹنگ کرائی جاتی ہے' انہیں بھی سجایا اور سنوارا جاتاہے شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ لوگ صنف نازک کو دیکھنا زیاد ہ پسند کرتے ہیں۔ جیسے شادیوں میں لوگ دولہا کے بجائے دلہن کو دیکھنے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ کیوں وہ یہ جانتے ہیں کہ شاید آج کے بعد دوبارہ کبھی دلہن کو دیکھنے کا موقع نہ ملے اوردولہے کا کیا ہے وہ تو شادی کے چند دن بعد ہی گلی محلے میں گھومتا گھماتا نظر آہی جائے گا۔ اکثر مردوں کی زندگی میں ایک بار ہی شادی ہوتی ہے لیکن بعض مرد ایک سے زیادہ شادیاں بھی کرتے ہیں۔ دست شناس ہاتھ دیکھ کر بھی بتا دیتے ہیں کہ کس مرد کے ہاتھ میں شادی کی کتنی لکیریں ہیں۔نہ جانے عمران خان کو کسی نجومی نے یہ بتایا تھا یا نہیں کہ ان کے ہاتھ میں شادی نہیں بلکہ شادیوں کی لکیریں ہیں۔ تب ہی انہیں وقت نے ایک بار پھر دولہا بنا دیا ہے۔ جس پر تحریک انصاف کے کھلاڑی خوشیاں منارہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) والے طرح طرح کی باتیں بنارہے ہیں۔ عجیب و غریب قسم کے اعترافات کررہے ہیں۔ بشریٰ بی بی المعروف پنکی اور عمران خان کے درمیان گزشتہ اڑھائی برسوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری تھا ان کی پہلی ملاقات دسمبر2015 ء میں این اے 154 لودھراں کے ضمنی انتخابات کے موقع پر ہوئی تھی۔ اکثر لوگ کہتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں لیکن خان اور بشریٰ بی بی کے جوڑے کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتاہے کہ اب جوڑے آستانوں پر بھی بنتے ہیں۔2016 ء میں بھی ایک خبر سننے میں آئی تھی کہ عمران خان نے بشریٰ بی بی کی ایک بہن سے خفیہ شادی کرلی ہے جو برطانیہ میں مقیم ہیں لیکن تب عمران خان نے ٹویٹ کے ذریعے اس خبر کی سختی سے تردید کر دی تھی لیکن اس بار پہلے تو وہ خاموش رہے لیکن بعد ازاں انہوں نے کہا کہ کیا شادی کرنا کوئی گناہ ہے میں نے کوئی چوری تو نہیں کی' کوئی ڈاکہ تو نہیں ڈالا۔ اب خان صاحب کو کون یہ سمجھائے کہ اس نوعیت کی شادیاں چوری اور ڈاکے سے بھی زیادہ سنگین فعل ہے۔ بعض ذرائع اس امر کی تصدیق بھی کررہے ہیں کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران عمران خان متعدد بار شب کی تاریکی میں پاکپتن جاچکے ہیں اور اس موقع پر ان کے ہمراہ صرف ان کے ذاتی اور بااعتماد محافظ ہوا کرتے تھے ۔ عمران خان بشریٰ بی بی کے حکم پر بابا فرید شکر گنج کے مزار پر ہر دفعہ لازمی حاضری دیا کرتے تھے تاکہ وہ مخالفین کے غلبے اور بداثرات سے محفوظ رہیں۔ عمران خان نے اپنے دائیں ہاتھ کی ایک انگلی میں ''عقیق'' جڑی انگوٹھی بھی پہن رکھی ہے جو انہیں جادو ٹونے اور نظربد سے محفوظ رکھنے میں انتہائی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ عمران خان کی رات کو پاکپتن حاضری کے تذکرے پر ہمیں غلام مصطفی کھر کا وہ دور یاد آگیا ہے جب وہ گورنر پنجاب تھے اور تہمینہ درانی (اب وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی اہلیہ ہیں) سے ملنے کے لئے رات کے اندھیرے میں ہی اوکاڑہ کے ایک نواحی علاقے کسوال میں جایا کرتے تھے جہاں تہمینہ درانی اپنی ایک عزیزہ کے ہاں مقیم تھیں۔ عمران خان کی بشریٰ بی بی اور مصطفی کھر کی تہمینہ درانی سے شادی میں چند ''قدریں'' مشترک ہیں۔ مصطفی کھر بھی رات کے اندھیرے میں تہمینہ درانی سے اور عمران خان بشریٰ بی بی سے ملنے کے لئے رات کو ہی پاکپتن جایا کرتے تھے۔ تہمینہ درانی نے بھی مصطفی کھر کے چکر میں آکر اپنے شوہر انیس سے علیحدگی اختیار کرلی تھی جبکہ بشریٰ بی بی نے بھی عمران خان کی خاطر اپنے شوہر خاور مانیکا سے پانچ بچوں کی ماں اور دو بچیوں کی نانی ہونے کے باوجود علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ عمران خان کے ناقدین ان کی بشریٰ بی بی سے شادی کا سارا ملبہ ان پر ہی ڈال رہے ہیں لیکن بشریٰ بی بی کوئی اتنی ''کاکی چھنی'' نہیں ہیں کہ عمران خان نے انہیں چکنی چوپڑی باتوں سے ورغلالیا ہے ۔ وہ پچاس برس کی ایک باشعور خاتون ہیں۔ عمر کے اس حصے میں اور تیس سالہ خوشگوار ازدواجی زندگی گزارنے کے باوجود شوہر سے علیحدگی کا فیصلہ یہ ثابت کرتا ہے کہ آگ دونوں طرف ہی برابر لگی ہوئی تھی۔ عمران خان کی شادی کی جتنی تکلیف مسلم لیگ (ن) والوں کو ہو رہی ہے شاید ہی کسی اور کو اتنی تکلیف ہو رہی ہو۔ لیگی لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ عمران خان قابل اعتبار نہیں ہیں۔ حالانکہ اس حوالے سے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ ترین قیادت کا ریکارڈ بھی کوئی مثالی نہیں ہے ان کے معاشقوں اور ''نامعلوم'' شادیوں کی داستانیں ہمیشہ ہی زبان زد عام رہی ہیں۔ علم نجوم کے ماہرین متعدد بار یہ پیش گوئی کرچکے تھے کہ عمران خان کی تیسری شادی پتھر پر لکیر ہے اور ان کی یہ شادی کامیاب رہے گی۔ شیخ رشید احمد نے تو عمران خان کو جمائما سے شادی کا مشورہ دیا تھا لیکن عمران خان کی قسمت میں کاتب تقدیر نے بشریٰ بی بی لکھی ہوئی تھی جو اب بشریٰ خان کہلائیں گی۔ مسلم لیگ (ن) کے راہنما امیر مقام کا کہنا ہے کہ عمران خان نے جو شیروانی وزارت عظمیٰ کے لئے سلوائی تھی وہ اب انہوں نے اپنی شادی پر پہن لی ہے۔ شاید امیر مقام کے ذہن میں یہ بات نہیں ہے کہ شیروانی' شیروانی ہی ہوتی ہے جو شادی پر بھی پہنی جاسکتی ہے اور وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے موقع پر بھی زیب تن کی جاسکتی ہے' عمران خان اس ''امید سے ہیں کہ'' یہ شادی ان کے لئے نیک شگون ثابت ہوگی اور وہ ایک دن ضرور پاکستان کے وزیراعظم بنیںگے کیونکہ عمران خان کو ان کی ''پیرنی'' نے یہی بتایا ہے کہ اگر آپ ہمارے (بشریٰ ماینکا) کے خاندان میں شادی کریںگے تو وزارت عظمیٰ کا ہما ضرور آپ کے سر پر بیٹھے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved