''کھوہ کھاتے....نیکی بربادگناہ لازم''
  13  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

دانش مندہمیشہ اپنی غلطیوں پرنادم اورحالات سے سیکھتاہے جبکہ جاہل اس کے بالکل برعکس کرتاہے۔موجودہ حکومت مکافاتِ عمل کے ایسے دورسے گزررہی ہے کہ انتخابات سے قبل ہی تنہائی کاشکارہوتی جارہی ہے۔صوبہ بلوچستان اورکراچی میںسینکڑوں آدمیوں کواپنے مکروہ عمل سے لقمہ اجل بنانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن پرپلک جھپکتے ہی ایسی مہربان ہوگئی کہ اچانک اس کی والدہ اوربیوی کوبابائے قوم کے یوم پیدائش پر وزارتِ خارجہ کے خصوصی سیل میں ملاقات کااہتمام کرکے اس عمل کوخارجہ پالیسی کی اہم کامیابی سے تعبیرکررہی ہے جبکہ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل نے بصدالتزام اوربغیرکسی سوال کے خوشخبری دی ہے کہ یہ کلبھوشن سے آخری ملاقات نہیں تھی۔ادھروزیرخارجہ خواجہ آصف نے اس سے بھی پہلے بھارت کورام کرنے کیلئے عندیہ دے چکے ہیں کہ بھارت کوکلبھوشن تک قونصلرکی رسائی بھی دی جاسکتی ہے۔وزیرخارجہ نے توبھارتی دہشتگردکلبھوشن کی رحم کی اپیل کے حوالے سے ممکنہ فیصلے کے حوالے سے رعایتوں کے امکان کابھی تاثردیاہے۔ اسے پاکستان کے مخصوص ماحول اورفیصلہ سازی کے کلچرمیں کہاجاسکتاہے کہ یہ اہل وطن کی ذہن سازی کی کوششوں کاحصہ بھی ہوسکتاہے۔بیرونی طاقتوں کامثبت اشارہ اورپاکستان کے ازلی دشمن بھارت کیلئے ایک خوشگوارپیغام بھی۔اس بارے میں معاملہ صاف ہونے میں اب شایدزیادہ دیرنہ لگے لیکن ماضی میں جس طرح حکومت کی سطح سے بھارتی بحریہ کے دہشتگردافسرکے بارے میں اندازاختیارکیاگیااسے وزیرخارجہ کی تازہ گفتگو اوردفترخارجہ کی متجاوزوضاحت کہ یہ آخری ملاقات نہیں تھی،کے ساتھ ملاکردیکھاجائے تواس معاملے میں شکوک وشبہات کوبڑھاواملتاہے کیونکہ یہ سامنے کی بات ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے ٣مارچ٦١٠٢ء کوکلبھوشن کی صوبہ بلوچستان سے گرفتاری سے لیکراب اپنے سابق ہوجانے تک اورموجودہ وزیراعظم خاقان عباسی نے اس معاملے پرلب کشائی سے گریزکی یکساں حکمت عملی اختیارکررکھی ہے۔اس لمبی چپ کوبلاوجہ نہیں ماناجاسکتاخصوصاًجب وزیرخارجہ کے حوالے سے یہ بھی انکشافات ہوچکے ہوں کہ کلبھوشن کے معاملے میں موصوف امریکی حکام سے کچھ ہدایات لیکراورکچھ وعدے کرکے آئے تھے کہ بھارت کواس سلسلے میں کچھ رعائتیں دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سے پہلے رواں سال ہی بھارت میں لوہے کی صنعت کی ایک اہم شخصیت جندال بھی نوازشریف سے مری میں ایک انتہائی غیرمعمولی ملاقات میں کلبھوشن کیلئے بھارتی خواہشات پہنچاچکے ہیں جبکہ ہماراماضی کاریکارڈریمنڈڈیوس جیسے قاتلوں کے حوالے سے بھی شکست خوردی،فرمانبرداری اورخون فروشی پرمبنی رہاہے۔یوں یہ ساری باتیں اس معاملے کواوربھی مشکوک بناتی ہیں کہ کہیں بھارتی دہشتگرد کلبھوشن کورہاکرنے کی تیاری یاذہن سازی تو جاری نہیں ہے۔پھانسی کے منتظرایک بھارتی دہشتگردقیدی کوآخریہ ساری آؤٹ آف باکس سہولیات اوررعائتیں کیونکردی جارہی ہیں۔اس تناظرمیں پاکستان کے ایک غداراورامریکاکیلئے ہیروکادرجہ رکھنے والے شکیل آفریدی کی رہائی اورامریکاروانگی کے بارے میں ایک مرتبہ پھرشکوک پیداہونے لگے ہیں۔لامحالہ امریکی اشاروں پرکلبھوشن کی رہائی کی باتیں ہوسکتی ہیںتوشکیل آفریدی جس کابراہ راست امریکی آشاؤں اورمفادات سے تعلق ہے اس کیلئے نرمی کااسلوب کیوں سامنے نہیں لایاجاسکتاہے؟ کلبھوشن کیلئے نرمی اورلچک پرمبنی روّیہ اورمہربانیوں کے اس اندازکوانسانی حقوق کی پاسداری کانام دیاگیاہے۔اسی کھاتے میں پہلے کلبھوشن کی درخواست پراس کی اہلیہ کودعوت دی گئی ،جب بھارت کی طرف سے والدہ کی ملاقات کیلئے کہاگیاتویہ مطالبہ بھی مان لیاگیا۔یوں معاملہ بھارت کے حق میں طے ہوگیا۔بھارت جواس معاملے کوشروع سے انسانی بنیادوں پرڈیل کرنے کی بجائے خالصتاًریاستی مفادات کے حوالے سے ڈیل کررہاتھاکہ اس نے پونے دوبرسوں میں کلبھوشن کے اہل خانہ بشمول اس کی والدہ اوراہلیہ کسی کومیڈیاکی دسترس میں نہیں آنے دیا۔ گویاپاکستان میں دہشتگردی اور جاسوسی کے الزام میںکلبھوشن کیا گرفتار ہوا بھارت میں اس کے اہل خانہ غیراعلانیہ حراست میں چلے گئے۔ اب اس موقع کوبھی بھارت نے اپنے سیاسی اورریاستی مفادات کیلئے استعمال کرنے کی حکمت عملی اپنائی۔ اسلام آبادمیں موجود بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر اس مقصدکیلئے بطورخاص دہلی گئے۔ کلبھوشن کی والدہ اوراہلیہ کوپاکستان میں لانے تک طوطے کی طرح سبق رٹانے کی کوشش کی کہ جس ماں کواپنے بیٹے اوربیوی کواپنے شوہرسے ملاقات کاموقع مل رہاتھابھارت نے اپنے منفی مقصداورریاستی مقاصدکیلئے استعمال کرتے ہوئے ان دونوں خواتین کواپنے من پسند سوالات اورنکات سے لاددیا۔ادھرنئی دہلی میں بھارتی دفترخارجہ اورمیڈیاکوان دونوں خواتین کی بے بسی اورمحرومی کوبیچتارہاجبکہ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن خالصتاًاپنے اس ماں اوربیوی کے احساسات کومسل کچل کراپنی ضرورت پوری کرنے کی کوشش میں رہا۔اس مقصدکیلئے دونوں خواتین کے اسلام آبادائیرپورٹ پہنچنے ہی انہیں طے شدہ پروگرام کے برعکس بھارتی ہائی کمیشن لیجایاگیا کہ انہیں بھارتی سبق کے مطابق کلبھوشن سے بات چیت کرکے کچھ بھارت کوبچانے والے جوابات حاصل کرنے کی کوشش کریں،گویاانسانی حقوق کی آڑمیں بھارت نے اپناالوسیدھاکرنے کی پوری کوشش کی اورحکومت پاکستان نے اسے اس کاپوراموقع دیے رکھا حتیٰ کہ بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنرکوبھی اس خصوصی طورپرتیارکئے گئے کمرے میں موجودگی کاحق دے دیاگیاتاکہ وہ کلبھوشن اوراس کی ملاقات کیلئے ّنے والے اہل خانہ کی کم ازکم باڈی لینگویج سے ضرورکچھ فائدہ اٹھاسکاتواٹھالے۔ وزیرخارجہ خواجہ آصف نے بھارتی سفارتکارکی اس موجودگی کوقونصلرکی رسائی کانام ہی دیاہے،بلاشبہ یہ قونصلرکی ملاقات یارسائی تونہ تھی لیکن اس جانب ایک پیش رفت ضرورکہی جاسکتی ہے۔کل بھارت اسی کوبنیادبناکرحکومت پاکستان میں کلبھوشن اوربھارت کیلئے پیداہوچکی نرمی کوآگے بڑھانے کی کوشش کرسکتاہے۔ادھرحکومت پاکستان جویہاں تک تو پہنچی،یہاں تک توآئی کہ مصداق بھارت پرمہربانی کوتیارپائی گئی ہے اورجس نے اس چکرمیں کہ اس کیلئے باہراچھاپیغام جائے گاایک طرح سے کلبھوشن کیلئے آئندہ دنوں میں مزید نرمی کاتاثردے دیاہے۔یہ سب کچھ اس کے باوجودکیاجارہاہے کہ کلبھوشن ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کی جانیں لینے کابراہِ راست یابالواسطہ ذمہ دارہے۔بلوچستان میں آج بھی جاری دہشتگردکاروائیوں میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی حدتک اس کاکردارہے۔

حیرت انگیزامریہ ہے کہ ایک بھارتی دہشتگردکے انسانی حقوق کیلئے تڑپ دکھانے والی ہماری حکومت نے آج تک اس احساسیت کاعشرعشیربھی پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی کیلئے اظہارنہیں کیاہے۔اپنی جانب سے کوئی کوشش توایک طرف سابق امریکی صدر اوباماکی جانب سے قیدیوں کیلئے معافی کی اعلان کردہ سہولت سے بھی فائدہ اٹھانے اورقوم کی اس بیٹی کوواپس لانے کی کوشش نہیں کی گئی۔اس کے باوجودعافیہ کی والدہ اوربہن فوزیہ صدیقی کی جانب سے مطالبہ بھی کیاجاتارہا،پکاراورفریادبھی کی جاتی رہی،صرف یہی نہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اہل خانہ کی ٥١٠٢ء کی اس سلسلے میں ایک درخواست پراسلام آبادہائی کورٹ کافیصلہ بھی آچکالیکن کلبھوشن کیلئے مری جانے والی حکومت پاکستان بشمول سابق وزیر اعظم نوازشریف ،موجودہ وزیراعظم خاقان عباسی اوروزیرخارجہ خواجہ آصف کسی نے توجہ نہیں کی۔ (جاری ہے)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved