پیر‬‮   22   جنوری‬‮   2018
ایسے لوگوں کو زمیں چاٹ لیا کرتی ہے
  13  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭پورا ملک ماتم کناں ہے۔ پشاور سے لے کراچی ، سکھر اور کوئٹہ تک ہر شہر میں معصوم ننھی زینب کے دکھ میں احتجاج، ریلیاں، شمعیں! یہ صرف زینب کے گھروالوں کا ہی نہیں، پورے ملک کے والدین کا مسئلہ ہے۔ قصور میں ہنگامے رک گئے ہیں۔ نارمل زندگی بحا ل ہورہی ہے۔ ملک بھر کی ایسوسی ایشنیں ، مذہبی تنظیمیں، سیاسی اور سماجی رہنما اس بربریت پر نالہ کناں ہیں۔ اسمبلیاں مذمت کی قرار داددیں منظور کررہی ہیں۔ سندھ اسمبلی میں اس واقعہ کے ذکر پر خاتون رکن نصرت عباسی رونے لگیں۔ یہ ساری خبریں اخبارات کے صفحات میں بھری ہوئی ہیں۔ اب ذرا دو تین باتیں، زینب کے چچا نے بتایا کہ ایک سپاہی نے بچی کی لاش کا پتہ چلایا۔ ڈسٹرکٹ پولیس افسر ذوالفقارنے بچی کے والدین کو حکم دیا کہ اس کانسٹیبل کو انعام کے طورپر دس ہزارروپے دیئے جائیں! اس ظالم افسر کو عارضی طورپر صرف تین ماہ کے معطل کیا گیا ہے۔تین ماہ کے بعد پھر معاشرے میں دندنانے لگے گا۔ دوسری بات! ملک کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اس بچی کے سانحہ کو سیاست میں لانا سیاسی اوراخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ خواجہ آصف کی جگہ کوئی غیرت مند باپ ہوتا تو ایسا بیان دینے پر شرم سے پانی پانی ہو جاتا! اورپنجاب پولیس فخر سے اعلان کررہی ہے کہ اس ہولناک جرم کا پہلا سراغ مل گیا ہے وہ یہ کہ یہ کام کسی عادی مجرم نے کیا ہے! اس پر کیا بات کی جائے؟ اس پولیس کا عالم یہ ہے کہ اس نے اس کیس کے مجرم کا ایک فرضی خاکہ جاری کیا اور اسے اسی روز واپس لے لیا کہ یہ خاکہ غلط ہے۔ یہ سنگین بات ہے۔ اس فرضی خاکہ سے ملتی جلتی شکل والے کسی بھی شخص کے ساتھ کوئی خوفناک واقعہ پیش آ سکتا تھا۔ اتنی نااہلی ،اتنی غلط کارپولیس! مہذب ملکوں میں ایسے حالات میں نہ صرف پولیس اپنے عہدوں بلکہ حکومتوں کے سربراہ اقتدار سے محروم ہو جاتے ہیں اور یہاں کیا ہورہا ہے! ایک لاش دریافت کرنے والے سپای کو دس ہزارروپے انعام کا حکم ! اناللہ وانا الیہ راجعون!بزرگ شاعر مرتضیٰ برلاس کا ایک مصرع یاد آرہاہے کہ ''ایسے لوگوں کوزمیں چاٹ لیا کرتی ہے!''۔ ٭یہ کیسا دیار ہے؟ رائے ونڈ کے جاتی عمرا محل میں ایک بلّی ایک مور کو ہلا ک کردیتی ہے اور مور کی سکیورٹی کے ذمہ دار ایس پی پولیس کو معطل کردیاجاتا ہے۔ یہ بات چودھری اعتزاز احسن نے کہی ہے کہ جاتی عمرا محل، جس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں، اس کے تحفظ کے تین ہزار پولیس اہلکار متعین ہیں۔ تین ہزار کی تعداد درست نہ بھی ہو، مصدقہ اطلاعات کے مطابق سرکاری خزانے کے اخراجات پر سینکڑوں اہلکا ر ڈیوٹی دے رہے ہیں۔ اور سکیورٹی! سابق وزیراعظم اور ان کی بیٹی اسلام آباد کی عدالت میں پیش ہونے جاتے ہیں تو سکیورٹی کی25 گاڑیاں ساتھ چلتی ہیں۔ اسی ملک میں ا ور بھی سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی ، راجہ پرویز اشرف، میر ظفر اللہ جمالی اور چودھری شجاعت حسین بھی رہ رہے ہیں۔ ان کے ساتھ سکیورٹی کی کتنی گاڑیاں چلتی ہیں؟ سکیورٹی کے نام پر عمران خاں کا حال دیکھیں۔ موصوف نواز شریف کی سکیورٹی پر بڑھ چڑھ کر اعتراض کرتے ہیں اور اپنا عالم یہ ہے کہ خود اپنی سکیورٹی کے نام پر قصور میں بچی زینب کے گھرجانے سے انکار کردیا!! اس پرعوامی لیڈر ہونے کے دعوے! جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور ڈاکٹر طاہر القادری اس سانحہ کی تعزیت کے لیے قصور جاسکتے ہیں، ہر قسم کے لوگ جارہے ہیں اور عمران خاں کی سکیورٹی کا مسئلہ سب سے اہم ہے! مجھے روزنامہ اوصاف کی کالم نگار سلمیٰ اسد کے کالم کی سرخی نے رُلا دیا ہے کہ ''پیاری زینب ! ہمیں معاف کردینا!'' ۔ اس کے بعد اس موضوع پر مزید کچھ لکھنے کی ہمت نہیں رہی۔ کالم کا دوسرا حصہ ٹھہر کے لکھوں گا! ٭ایک خبرباتصویر: پیپلز پارٹی کے ولی عہد شہزادہ بلاول زرداری کے سیہون شریف آنے کی اطلاع پر وہاں کی ضلعی انتظامیہ میں بھاگ دوڑ مچ گئی۔ پولیس الرٹ ہوگئی، درجنوں ملازمین سیہون کے بازاروں اور گلیوں کی صفائی پر لگا دیئے گئے۔ جن راستوں سے شہزادے نے گزرناتھا، وہاں سڑکیں مرمت کردی گئیں! تمام ضلعی افسر مودب انتظار کرنے لگے۔ یہ ایک جمہوری ملک کا نظام ہے! جاتی عمرا کی طرح بلاول ہاؤس اور اس کے مکینوں کو کوئی سرکاری حیثیت حاصل نہیں مگر اہتمام دیکھیں! اسی بلاول زرداری کے کراچی کے ایک ہسپتال میںآنے پر مریضوں کو ہسپتال میں آنے سے روک دیا گیا تھااور ایک مریض بچی ہسپتال کے دروازے کے باہر چل بسی تھی۔ اسی طرح شاہدرہ لاہور میں عمران خاں کی ریلی کے باعث ہسپتال نہ پہنچ سکنے پر ایک مریض بچہ زندگی سے محروم ہو گیا۔ ادھر سیہون شریف میں یہ نازبردار یاں اور ادھر تھر (سندھ) میں صرف 10دنوں میں 18 غریب بے بس بچے بھوک پیاس اور علاج نہ ہونے کے باعث چل بسے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق نومبر میں 44،دسمبر میں47 بچے اسی عالم میں زندگی سے محروم ہوگئے تھے۔ مجھے یاد نہیں آرہا کہ کبھی آصف زرداری یا بلاول زرداری نے اس علاقے کارُخ کیا ہو۔ اُن دونوں کاپہلامستقل رخ دبئی اور وہاں سے چند روز کے لیے دوسرا رخ کراچی ہوتاہے۔ جس وزیراعلیٰ کے ڈھائی ماہ سے بھی کم عرصے کے دور میں 109غریب بچے قحط کے باعث دم توڑ گئے ہوں ، آصف زرداری نے اسی وزیراعلیٰ کوآئندہ کے لیے بھی اسی عہدہ پرپھر نامزد کردیا ہے!!!

٭قارئین محترم! ایسے ماحول میں کہ ہرطرف نفسا نفسی اور لوٹ مار کی فضا پائی جارہی ہے۔ کچھ ایسے برگزیدہ انسان دوست لوگ بھی ہیں جو دن رات بے بس، محتاج اور لاوارث لوگوں کی بے لوث خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ ملک انہی لوگوں کے دم قدم سے چل رہاہے۔ ان میں ایدھی ٹرسٹ کا نام سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے خدا ترس لوگ اپنی اپنی جگہ دکھی خلق خدا کے دُکھ بانٹ رہے ہیں۔ ان میں ایک ادارہ لبیک کینسر کیئر فاؤنڈیشن ہے۔ یہ ادارہ کینسر کے نامور ڈاکٹروں نے ستمبر2009ء میں وحدت روڈ لاہور پر ایک ہسپتال کی شکل میں قائم کیا۔ اس کابنیادی خیال پاکستان کے کینسر کے علاج کے سرکاری اداروں'انمول' کی سابق ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر سعیدہ اصغر کے ذہن میںآیا۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعدان مریضوں کے آرام اور ان کی تکلیف میں کمی اور آسودگی کے لیے ایک رفاہی ادارہ بنانے کاارادہ کیا جو کینسر کی آخری سٹیج پر لا علاج قرار پانے پر اپنے گھروں کے لیے ایک مستقل مسئلہ بن جاتے ہیں۔ ان کے اہل خانہ تمام تر خونی رشتوں کی محبت اور ہمدردی کے باوجود ایسے مریضوں کی مسلسل دیکھ بھال سے عاجز آجاتے ہیں۔ علاج کے بے پناہ اخراجات کے باوجود ایسے مریض کو آرام پہنچانا مشکل ہوجاتا ہے۔لبیک ہسپتال میں عام دواؤں کے علاوہ ان کے نفسیاتی اور روحانی مسائل حل کرنے میں مدددی جاتی ہے۔ ایسے مریضوں کو ان کی زندگی کے آخری دنوں میں ان کی تکلیف کم کرنے اور آرام پہنچانے کاانتظام کیاجاتا ہے۔ یہ سار ا کام اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر بلامعاوضہ کیاجاتا ہے۔ مریضوں کو ایمبولینس کے ذریعے انمول ہسپتال میں کیموتھریپی اور لیزر علاج کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے۔ ایسے مریضوں کو ان کے لواحقین کے لیے بلامعاوضہ رہائش بھی فراہم کی جاتی ہے۔ انھیں صرف 10روپے میں سستا کھانا فراہم کیاجاتا ہے۔ ڈاکٹر سعیدہ اصغر صوم وصلوٰة کی پابند تہجد گزار خاتون ہیں۔ انہوں نے بیرون ملک سے کینسر کے علاج کے لیے اعلیٰ ترین ڈگریاں حاصل کی ہوئی ہیں۔ ان کے ساتھ ڈاکٹر فائزہ زریں اور ڈاکٹر شاہینہ پروین بھی معاونت کرتی ہیں۔ اب تک سینکڑوں مریضوں کی دیکھ بھال کی جاچکی ہے۔یہ برگزیدہ لوگ کسی منافع ، کسی کاروباری فائدہ سے قطع نظر صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اورخلق خدا کی خدمت کے لیے دن رات کام کررہے ہیں۔ ان کے کچھ انسان دوست مخیر ادارے بھی مدد کرتے ہیں۔ یہ سارا کام باہم چندوں پر چل رہاہے۔ علاج معالجہ کے لیے ہسپتال کا رابطہ نمبر 0344-2331185


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved