پیر‬‮   22   جنوری‬‮   2018
بہت ہوگئی! اب تو انصاف ہونا چاہیے
  14  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

یہ مردوں کا سماج ہے۔ یہ مردوں کا معاشرہ ہے ۔ اس سماج میں ایک لڑکی کیا کرسکتی ہے یا سب لڑکیاں کیا کرسکتی ہیں؟ یہاں انسان نما بھیڑیئے پھرتے ہیں۔ اکیلے رہ جانے والے معصوم سے جانور کی تلاش میں پھرتے ہیں اور پھر ان کا شکار کرنے میں دیر نہیں کرتے۔ یہاں درندوں کا راج ہے۔ معصوم او ر بے بس ہرن اپنی جانیں بچانے کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ یہاں ظالموں کا بسیرا ہے جہاں مظلوموں کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ یہاں ڈاکو' لٹیروں اور قاتلوں کی حکومت جہاں مقتولین کا خون رائیگاں جارہا ہے۔ انصاف انصاف کی دہانی دی جارہی ہے مگر شنوائی نہیں ہوتی۔ چند درندوں نے پورے معاشرے کو یرغمال بنا رکھاہے۔ حکمرانوں نے چپ سادھ رکھی ہے۔ ساڑھے نو سال سے مسلسل پنجاب پر حکومت کرنے والوں نے نوٹس لینے اور تصویریں بنانے کے علاوہ کچھ کام نہیں کرنا۔ اگر مظلوم دہائی دے اور اسے ظالموں سے چھٹکارا نہ مل سکے' حکمران اس مظلوم کی آواز پر کان نہ دھریں تو سمجھ لینا لے کہ ان ظالموں کی پشت پناہ وہی حکمران ہوتے ہیں۔ انہی کی شہ پر درندے معصوم شہریوں کو چیر پھاڑ کھاتے ہیں۔ یہ سفاک درندے کھلے عام پھر رہے ہیں مگر افسوس کہ ہمارے صوبائی اور وفاقی وزراء کہتے ہیں کہ والدین اپنے بچوں کی حفاظت کریں۔ یہ کیسا معاشرہ ہے اور یہ کیسے حکمران ہیں۔ خدا کاخوف دل سے جاتا رہا۔ اللہ کے حاکم مطلق ہونے کا یقین محو ہوچکاہے وگرنہ ان حکمرانوں کی کیسے مجال اور جرات تھی جو یہ کہتے کہ قصور میں درندگی کا شکار ہونے والی زینب کے واقعہ کو میڈیا بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے۔ اے ظالمو! کچھ تو خدا کا خوف کھائو۔ اے حکمرانو! قیامت کے روز تم لوگوں نے خدا کو جواب دیناہے۔ قیامت کے روز نہیں بلکہ دل کے بند ہونے اور سانس اکھڑنے کے فوراً بعد احتساب کی منزل آن پہنچتی ہے۔ کس منہ سے نبی پاکۖ کا سامنا کرو گے اپنا منہ شافع محشرۖ کو کیسے دکھا پائو گے۔ زینب کے قتل' درندگی اور سفاکیت کو سیاست کانام دینے والے پنجاب کے حکمرانو! ڈرو اس وقت سے جب قدرت کا انتقام تمہارے گھروں تک پہنچ جائے۔ حکمرانی سدا رہنے والی نہیں۔ یہ جاہ و جلال اور شان و شوکت چند روزہ ہیں۔ آنکھیں کھولو' یہ کروفر ختم ہونے والے ہیں۔ جب کبھی اسلام آباد کا دورہ کرنا ہو تو دارالحکومت کے ایچ ایٹ قبرستان چلے جانا۔ کوئی بات نہیں وہاں بھی پروٹوکول کے ساتھ جانا۔ ہر قبر پر لگی تختی کو توجہ سے پڑھنا۔ بڑے بڑے نام والوں کے نام لکھے ہیں۔ شاید ان میں سے بعض بھی آپ حکمرانوں جیسا مزاج رکھتے ہوں گے۔ شاید وہ بھی تمام انسانوں کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہوں گے۔ مگر اب ان کا مسکن ایسا مقام ہے جہاں کوئی ان کی مدد نہیں کرسکتا۔ سارے محل' سارے پروٹوکول گاڑیاں' اسی دنیا میں چھوڑ چھاڑ کر اپنی اصل منزل کو چلے گئے۔ اس دنیا میں رہنے والے ہم سب نے بھی اسی طرف لوٹ کر چلے جائیں گے۔ کاش اس حقیقت کا راز ان ظالم حکمرانوں پر بھی کھل جاتا۔ کاش زینب اور اس جیسی بے شمار معصوم جانوںکے ساتھ ظلم کرنے والوں کو عبرت کا نشانہ بنا دیا گیاہوتا۔ زینب ایک بیٹی تھی' میری بیٹی' آپ کی بیٹی' سب کی بیٹی تو پھر بھی اسے ہمارے معاشرے کے خونخوار درندے چیڑ پھاڑ گئے۔ کوئی ان درندوں کا ہاتھ نہیں روک سکا۔ یہ قصور کی اکیلی زینب کا معاملہ تو نہیں۔ روزانہ نجانے ایسی کئی معصوم بچیاںان انسان نما درندوں کے ظلم کا شکار ہوتی ہوں گی۔ مگر ان کا معاملہ دبا دیا جاتا ہوگا۔ والدین پر ذمہ داری ڈالنے والے حکمران ذرا دیکھیں تو سہی وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ لوگوںنے انہیں ووٹ دے کر کیوں منتخب کیا۔ اگر وہ لوگوں کو انصاف نہیں دلاسکتے' اگر وہ عام شہریوں کا تحفظ نہیں کرسکتے تو انہیں حکمرانی کا حق حاصل نہیں ہے۔ وہ کس منہ سے خود کو خادم اعلیٰ کہتے ہیں۔

اور پھر ستم بالائے ستم زینب پر ہونے والے ستم اور سفاکیت کے خلاف آواز اٹھانے اولوں پر ان حکمرانوں کی فرمانبردار پولیس سیدھے فائر کردیتی ہے۔ درندگی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے۔ ان سپاہیوں کو کس نے حکم دیا تھا' وہ کس کے کہنے پر اتنا بڑا قدم اٹھا رہے تھے۔ کیا وہ حکمرانوں کی فرمانبرداری میں اس قدر بے رحم ہوچکے ہیں کہ اپنے جیسے عام شہریوںپر گولیوںکی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ ہاں! شاید ماڈل ٹائون لاہور کے سانحے میں ایک سو افراد کو گولیاں مارنے والی پولیس اپنے ظلم میں دیدہ و دلیر ہوچکی ہے۔ سانحہ ماڈل ٹائون نے انہیں جرات فراہم کی ہے۔ حکمرانوں کی تھپکیوں نے انہیں حوصلہ بخشا ہے۔ آج وہ اس قدر سنگدل ہوچکے ہیں کہ پرامن شہریوں پر گولیاں برسانے میں انہیں جھجھک نہیںہوتی۔ شکر ہے کہ اس سانحے کا شدید نوٹس فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے لے لیا ہے۔ ہمیں میڈیا کا بھی شکر گزار ہونا چاہیے کہ جس کی وجہ سے امید ہے کہ اس معصوم زینب کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved