''ٹرمپ کارڈ''
  14  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) باقاعدہ جنگ یا سرحدی خلاف ورزی کے علاوہ محاذ آرائی کبھی اچھا آپشن نہیں ہوتی کیوں کہ ایسی صورت میں اپنے دفاع کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں رہتا۔ ایسی صورت حال میں ویسے ہی زمینی و فضائی راستوں تک رسائی کا سوال ختم ہوجاتا ہے۔ دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام پاکستان پر لگایا جارہا ہے اور اس کے لیے امریکی ثبوت پیش کرنے کی بات کرتے ہیں ہمیں خود کو ان الزامات کی ٹھوس انداز میں تردید کے قابل بنانا ہوگا۔ اندرون ملک ایسی سرگرمیوں میں ملوث گروہوں کا صفایا ہمارے اپنے مفاد میں بھی ہے۔ اس صورت میں آخر کار امریکا یہ بات سمجھ جائے گا کہ مضبوط اور فعال پاکستان خطے میں اسی کے مفاد میں ہے اور پاکستان کے بغیر افغانستان کے مسائل کا حل ممکن نہیں۔ نو گیارہ کے بعد امریکا ہمیں 33ارب ڈالر امداد دینے کا دعوی کرتا ہے۔ ڈاکٹر حفیظ پاشا کہتے ہیں''واشنگٹن کے سینٹر فار گلوبل ڈیولپمنٹ کے مطابق تقریباً 22ارب ڈالر، جو مجموعی امداد کے دو تہائی بنتے ہیں، دفاعی معاونت کی مد میں دیے گئے، زیادہ تر رقم سے کولیشن سپورٹ فنڈ(سی ایس ایف) کی ادائیگی کی گئی۔ بقایا 11ارب ڈالر(یا ایک تہائی رقم) کو اقتصادی امداد کہا جاسکتا ہے۔ مشرف دور میں حاصل ہونے والی کل امداد 12بلین بنتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے دور میں کیری لوگر بل کے ذریعے پانچ برسوں میں 16ارب ڈالر دیے گئے۔ ڈاکٹر پاشا کے مطابق بدترین اقتصادی منظر نامہ تشکیل پارہا ہے اور پاکستان کے پاس آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ جس کے بعد آئی ایم کی کڑی اور تقریباً ناقابل عمل شرائط تسلیم کرنا پڑیں گی اور اس صورت میں افراط زر میں اضافے، مہنگائی، ٹیکسوں اور توانائی کے نرخوں کی شرح میں اضافے جیسے دیگر اقدامات کرنا پڑیں گے۔ کیا اہم ان اقدامات کے متحمل ہوسکتے ہیں؟

افغان پناہ گزینوں کی تعداد تیس لاکھ ہے جس میں سولہ لاکھ وہ بھی شامل ہیں جو کبھی غیر رجسٹرڈ شدہ تھے۔ دفاعی ماہرین سرحدی علاقوں میں داعش کی موجودگی سے متعلق مسلسل خبردار کررہے ہیں اور اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ دیگر پہلوؤں کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کے 11لاکھ تارکین وطن کو نکالنے کا وعدہ امریکی سیاست میں ایک ہنگامہ برپا کرچکا ہے۔ میکسیکو کی سرحد پر وال کی پرزور حمایت کی گئی اور تارکین وطن کو امریکا سے دور رکھنے کے نعرے نے ٹرمپ کو منصب صدارت تک پہنچادیا۔ 3جنوری کو وفاقی کابینہ نے 31دسمبر 2017کو پناہ گزینوں کو دی گئی مہلت ختم ہونے پر اس مدت میں مزید کچھ اضافے کی منظوری دی۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے ارکانِ کابینہ مولانا امیر زمان اور اکرم خان درانی ، جو عام طور پر پناگزینوں کی حمایت کرتے ہیں، اس موقعے پر خاموش رہے۔ خیبر پختون خوا حکومت کی پناہ گزینوں کو کیمپوں تک محدود رکھنے کی 2016میں کی گئی کاوشوں سے 5لاکھ پناہ گزینوں کی وطن واپسی ہوئی جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوسکی تھی۔ افغان پناہ گزینوں کی ایگزیکٹیو کونسل کے چیف عبدالغفار شنواری کے مطابق''کئی دہائیوں تک میزبانی کرنے پر ہم پاکستانی حکومت کی تحسین کرتے ہیں لیکن دونوں ممالک کے مابین باہمی کشیدگی کی صورت میں ہمیں نشانہ نہیں بنانا چاہیے۔پاکستان کو ان افغان پناگزینوں کو اپنی سرزمین پر رہنے کی اجازت دینی چاہیے جو باعزت انداز میں وطن واپس جانے کے لیے تیار ہیں۔'' بھارت کو بھی افغانوں سے اپنی ''بے مثال محبت'' کے ثبوت کے طور پر دس لاکھ پناہ گزین اپنے ملک میں ٹھہرانے چاہیں، کم از کم دس ہزار ابتدائی مرحلے ہی میں سہی؟ افغان عوام سے ہمارے قریبی تعلقات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک لچک دار ویزا پالیسی تشکیل دی جائے جس میں کسی خاندان کے ایک یا دو افراد کو افغان پاسپورٹ پر ویزا فراہم کیا جائے جب کہ بقیہ خاندان وطن واپسی اختیار کرے۔تحمل اور حقیقت پسندانہ مؤقف پر قائم رہتے ہوئے اور عزت نفس پر کوئی سمجھوتا کیے بغیر ہمیں امریکا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی کوشش کرنی چاہیے۔ گو کہ ہم ایسے کسی قدم کو خود بھی پسند نہیں کرتے لیکن امریکی صدر کی جانب سے غیر قانونی تارکین وطن کو بے دخل کرنے کے پختہ عزم کی وجہ سے افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی ہمارا ''ٹرمپ کارڈ'' ثابت ہوسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس جملے میں معنی خیزی سوچی سمجھی ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
25%
ٹھیک ہے
25%
کوئی رائے نہیں
25%
پسند ںہیں آئی
25%


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved