کون کس کے ساتھ ہے؟
  14  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

آپ نے وہ لطیفہ سنا ہو گا، نہیں سنا توہم سنا دیتے ہیں۔نئے بھرتی شدہ فوجیوں کی ٹریننگ جاری تھی۔صوبیدار انہیں دوڑانے، بھگانے،لیفٹ رائٹ کرانے،ہاتھ اوپر نیچے کرانے، سلیوٹ کی مشق کرانے اور دو چار کے پٹھو لگانے کے بعد انہیں لیکچر دے رہا تھا۔ایک رنگروٹ سے پوچھنے لگا 'جوان!یہ بتائو کہ تم ایک بیابان میں ہو ،ایک دم ایک شیر سامنے آ جاتا ہے، فوری طور پر تم کیا کرو گے؟'رنگروٹ بولا 'سر!بندوق سے اسے گولی مار دوں گا'۔' لیکن اگر تمہارے پاس بندوق نہ ہو تو پھر؟'صوبیدار نے پھر پوچھا۔'سر!میں اپنے ساتھیوں کو مدد کے لئے پکاروں گا'اس نے جواب دیا۔صوبیدار ایک رنگروٹ سے اتنی جلدی ہار ماننے والا نہیں تھا۔پھر پوچھا'اگر تم اکیلے ہو تو پھر؟'رنگروٹ نے کہا ' سر! میں چھلانگ لگا کر درخت پر چڑھ جائوں گا''لیکن اگر وہاں کوئی درخت بھی نہ ہو تو پھر؟'صوبیدار نے پھر سوال کیا۔رنگروٹ تنگ آ کر بولا'سر! اس بات کا جواب تو میں بعد میں دوں گا، پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ میرے ساتھ ہیں یا شیر کے ساتھ؟ صاحبو!بات یہ ہے اکہ ایک عمرہماراتعلق، بالواسطہ یا بلا واسطہ ،پولیس سے رہا ہے ؛ اور یہ سارا عرصہ ، ہمارا دل بار بار چاہتا تھا کہ پولیس والوں سے کبھی پوچھ کر دیکھیں کہ یہ تو بتائیں کہ آپ ہمارے ساتھ ہیں یا چوروں کے ساتھ، شریفوں کے ساتھ ہیں یا بدمعاشوں کے ساتھ،مغویوں کے ساتھ ہیں یا بھتہ لینے والوں کے ساتھ، لُٹنے والوں کے ساتھ ہیں یا لوٹنے والوں کے ساتھ۔ لیکن ہم نے عافیت ہمیشہ اسی میں سمجھی کہ اس سوال کو اپنے دل کے نہاں خانے میں ہی پڑا رہنے دیں۔ اب ایک چینل نے اس کھلے راز سے پردہ اٹھایا ہے کہ پولیس مجرموں کے ساتھ ہے؛ اور یہ پردہ بھی اس وقت اٹھایا ہے جب پولیس ماشائﷲترقی کے کئی مدارج طے کرکے، کہیں کی کہیں پہنچ چکی ہے کیونکہ اسی چینل کی ساتھ خبر یہ بھی ہے کہ دو ایسے مغویان کو برآمد کیا گیا ہے کہ جنہیںخود پولیس اہلکاروں نے اغوا کیا تھااور بدقسمتی سے بھتہ لیتے ہوئے پکڑے گئے۔جہاں تک بھتے کا تعلق ہے پولیس اس میں پہلے ہی کافی طاق تھی لیکن اس بھتے کے لئے کافی محنت کرنی پڑتی تھی۔ پھر اس میں کئی حصے دار بھی پیدا ہو جاتے تھے۔اغوا کے بھتے میں ایک تو سو پرچوں کا بھتہ ایک ہی ہلے میں ہاتھ آ جاتا ہے، کسی کو کانون کان خبر بھی نہیں ہوتی، خود ہی تفتیش کرتے ہیں خود ہی مقدمہ عدم پتہ داخل دفتر کر دیتے ہیں اور کوئی حصہ مانگنے والا بھی نہیں ہوتا۔ 'کون کس کے ساتھ ہے کی بات چلی ہے تو خدا لگتی یہ ہے کہ اس حمام میں پولیس بیچاری اکیلی نہیں ہے۔ہم نے تو جس محکمے اور افسر کو بھی دیکھا، ہمیں کبھی پتہ نہیں چلا یہ کس کے ساتھ ہے۔تنخواہ کسی سے لیتے ہیں،کام کسی اور کے آتے ہیں؛ دفتر کہیںہوتا ہے،معاملات کہیں اور طے ہوتے ہیں، افسر کوئی ہوتا ہے، ماتحتی کسی اور کی کرتے ہیں۔محکمہ تحفظ جنگلی حیات کا مقصد تو ہرن، چکور، تیتر، کشمیرا اور تلورجیسے چرند پرند کی ناپید ہوتی نسلوں کو بچانا ہے مگر یہ سارے چرند ے پرندے محکمے کے آگے ہاتھ باندھے ، سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ حضور!آپ ہمارے ساتھ ہیں یا بندوقیں اور جال لئے ہماری جانوں کے درپے شکاریوں کے ساتھ؟اس سوال کا جواب لینے کے لئے پاکستان میں کم ہی ہرن،چکور ،کشمیرے اور تلور رہ گئے ہیں۔ جو رہ گئے ہیں وہ بھی بس دو چار سال کی مار ہیں۔محکمے کا کمال یہ ہے کہ شکار کے ساتھ بھی دوڑتا ہے اور شکاریوں کو بھی ناراض نہیں کرتا۔ ایک محکمہ زراعت کا ہے کہ جس کے بارے میں پتہ نہیں چلتا کہ کسانوں کے ساتھ ہے یاحکمرانوں کی طرح امریکی سنڈیوں کے ساتھ۔چلتا کسان کے ساتھ ہے اور افزائش سنڈیوں کی ہوتی ہے۔ایک محکمہ صحت کا ہے کہ جو بیماریوں کے ساتھ زیادہ اور بیماروں کے ساتھ کم ہے۔ماشائﷲڈاکٹر ہیں جو کلینک مریضوں کے لئے بنا کر بیٹھے ہوتے ہیں اور خدمت دوا ساز کمپنیوں کی کرتے ہیں۔اس شعبے میں وارد ہونے کے خواہشمند طلبہ سے بھی ہم گزارش کریں گے کہ اب یہ دعوے کرنے چھوڑ دیں کہ' میں ڈاکٹر بن کر قوم کی خدمت کروں گا'۔ صاف صاف کہیں کہ' میں ڈاکٹربن کراپنی اور دوا ساز کمپنیوں کی خدمت کروں گا'۔بعض َڈاکٹر تو ہم نے ایسے دیکھے ہیں کہ جن کے نعمت خانوں میںکوئی ایک چیز بھی ایسی نظر نہیں آتی جوان کمپنیوں کی مرہونِ منت نہ ہو۔دین اور دنیا ، دونوں کی ساری بھلائیاں انہیں، انہی کی وساطت سے ملتی ہیں کہ انہی کے طفیل خدا کا گھر بھی دیکھتے ہیں اور خدا کی شان بھی۔ہم نے ایک دوا ساز کمپنی کے ایک نمائندے سے ایک دفعہ از راہِ تفنن کہا کہ اب تو ڈاکٹروں کی شادیوں والا کام ہی ایسا رہ گیا ہے جو آپ لوگ نہیں کرتے، باقی سارے اعمال و اشغال کا گناہ اور ثواب تو آپ ہی کے کھاتے میں ہے۔ہنس کے فرمانے لگے'محترم! میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ غلط فہمی محض آپ کی کم علمی کی وجہ سے ہے'۔

ایک کمال کا محکمہ ہم نے انکم ٹیکس کا بھی دیکھا ہے ۔حکومت سمجھتی ہے کہ ہمارے ساتھ ہے اور ہمیں انکم ٹیکس اکٹھا کرکے دیتا ہے؛ اورٹیکس دینے والوں کو خوش فہمی یہ ہے کہ ان کے ساتھ ہے کہ کروڑوں دینے ہوں تو لاکھوں میں جان چھوٹ جاتی ہے۔ایک دفعہ ہم نے اپنے شناسا ایک انکم ٹیکس افسر سے یہ پوچھ ہی لیا کہ بھئی یہ تو بتائو کہ تم لوگ ٹیکس لینے والوں کے ساتھ ہو یا ٹیکس دینے والوں کے ساتھ؟وہ سینے پر ہاتھ مار کر بولا' ہم نہ اِ س کے ساتھ ہیں نہ اُس کے ساتھ۔ہم تو صرف اپنے ساتھ ہیں۔'ان کا یہ نعرئہ حق سن کر ہم پر یہ حقیقت وا ہوئی کہ ہمارے پیارے ملک میں کوئی کسی کے ساتھ نہیں ہے؛ہر ایک صرف اپنے اور اپنے مفادات کے ساتھ ہے۔البتہ آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے ایسے نعرے لگانے میں کوئی حرج نہیںکہ 'قدم بڑھائو!۔۔۔۔!ہم تمہارے ساتھ ہیں'۔نو از شریف کے ساتھ ان لوگوں کی کمی نہیں تھی جن کے گلے یہ نعرے لگاتے ہوئے خشک ہو گئے کہ'قدم بڑھائو نواز شریف ! ہم تمہارے ساتھ ہیں'۔ اور جب اس نے قدم بڑھائے اور پیچھے مڑ کر دیکھاتو الا ماشائﷲ، سب پرویز مشرف کے ساتھ کھڑے نعرے لگا رہے تھے' قدم بڑھائو پرویز مشرف! ہم تمہارے ساتھ ہیں'۔ایسا ہی کچھ عالم بھٹو مرحوم کے ساتھ ہوا تھا کہ ہم تمہارے ساتھ والے سارے جنرل ضیاء کی مجلسِ شوریٰ میں تھے ؛ اور پھر بے نظیر آئیں تو سارے جنرل ضیا ء کو گالیاں دینے میں آگے آگے تھے۔ اب تو عالم یہ ہے کہ صبح کو زرداری صاحب کو کہتے ہیںکہ قدم بڑھائو تو شام کو عمران خان کو قدم بڑھانے کی دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔ صبح نواز شریف کی وفاداری کا دم بھر رہے ہوتے ہیں تو شام کو اسے کوسنے میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved