''کھوہ کھاتے....نیکی بربادگناہ لازم''
  14  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) اس کے باوجودعافیہ کی والدہ اوربہن فوزیہ صدیقی کی جانب سے مطالبہ بھی کیاجاتارہا،پکاراورفریادبھی کی جاتی رہی،صرف یہی نہیں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اہل خانہ کی ٥١٠٢ء کی اس سلسلے میں ایک درخواست پراسلام آبادہائی کورٹ کافیصلہ بھی آچکالیکن کلبھوشن کیلئے مری جانے والی حکومت پاکستان بشمول سابق وزیر اعظم نوازشریف ،موجودہ وزیراعظم خاقان عباسی اوروزیرخارجہ خواجہ آصف کسی نے توجہ نہیں کی۔ کسی کوخیال نہیں آیاکہ عافیہ صدیقی کوامریکی عدالت نے ٦٨سال کی سزاغیرقانونی طورپردی ہے،بلاجوازدی ہے۔امریکی عدالت کے اس غلط فیصلے پرذاتی نہیں توحکومتی سطح پرہی آوازاٹھادیتے کہ امریکامیں عدل کی بحالی تحریک کااثرپہنچ جاتا۔ایک بے حسی کاایسا ماحول ہے کہ الاامان الحفیظ!اب ڈاکٹرعافیہ کے اہل خانہ وفاقی محتسب سے بھی اس سلسلے میں رجوع کرچکے ہیں،شائدکوئی حکومتی عہدیداریاکسی دوسرے معتبرادارے کاذمہ دار کلبھوشن جتنی انسانی ہمدردی کااظہارڈاکٹرعافیہ کیلئے بھی کردے کہ عافیہ کی ممتاکے بھی انسانی حقوق ہیںلیکن شائد انسانی حقوق ہماری حکومتوں نے بلیک واٹرکے دہشتگرد اور برسرعام دوپاکستانیوں کے قاتل ریمنڈڈیوس اورکلبھوشن جیسوں کے ہی تسلیم کئے ہیں کہ ان کی پشت پرامریکااوربھارت ہوتاہے۔ حکومت پاکستان کی اس نرم دلی کاکلبھوشن کے ساتھ معاملہ جس ٥٢ دسمبر کو کیا گیا،اسی روزکلبھوشن کی والدہ اوراہلیہ اسلام آبادسے نئی دہلی کیلئے روانہ نہیں ہوئی تھیں کہ بھارت نے بدلہ چکادیا۔عسکری ذرائع کاکہناہے بھارتی قابض فوج نے راولاکوٹ کے نزدیک پانچ بجکرپچاس منٹ پر کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اچانک گولہ باری کرکے پاکستان کے تین فوجیوں کو شہید کردیا۔ فاعتبرو یااولی الابصار... فاعتبرویااولی الابصار۔ آپ بھارتی دہشتگرد کے نخرے اٹھانے کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں اورجوانوں کی لاشیں بھی اٹھانے کیلئے تیاررہیں۔واضح رہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق بھارت ٧١٠٢ء کے دوران لائن آف کنٹرول کی تیرہ سوسے زائدمرتبہ خلاف ورزی کرچکاہے ،اس کے باوجود بھارتی دفترخارجہ ،بھارتی ذرائع ابلاغ اورہیگ کی بین الاقوامی عدالت انصاف میں دہشتگردکلبھوشن کاکیس لڑنے والے وکیلوں سمیت سبھی نے ایک ایک ہی راگ الاپ رکھاہے کہ پاکستان کی اس نیکی کو''کھوہ کھاتے''ہی نہیں ڈالابلکہ الٹاپاکستان کوموردِ الزام ٹھہرایاہے کہ کلبھوشن کی بیوی کی جوتی یہاں رہ گئی ،کپڑے بدلوادیئے اوردرمیان میں شیشہ حائل کردیا،وغیرہ وغیرہ، گویانیکی بربادگناہ لازم والی بات ہوگئی۔ مہاراج!آپ نے کون سے پاکستانی قیدی کوانہی انسانی حقوق کی بنیادپراس کے اہل خانہ سے ملوایا؟بھارت نے توابھی تک پاکستانی فوج کے ریٹائرڈکرنل حبیب کاکچھ اتہ پتہ نہیں دیاجسے بھارتی اداروں نے نیپال سے اغواء کیاتھالیکن افسوس کہ حکومت پاکستان کی ساری ہمدردی بھارتی اورامریکی دہشت گردوں کیلئے ہے جبکہ بھارت ان کشمیری مسلمانوں اورحریت پسندوں کے ساتھ بھی انسانی اندازاختیارکرنیکوتیارنہیں حالانکہ کشمیرکواپنااٹوٹ انگ بتاتی ہے۔اگرایک سیکنڈکیلئے یہ فرض کرلیں(جوکہ میرے لئے مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے) بھلا دنیا میں کون ساایساملک ہے جواپنے ہی ایک لاکھ سے زائدشہریوں کوبے رحمانہ اورظالمانہ ندازمیںنہ صرف قتل کردے بلکہ اس ملک کی فوج بے گناہ خواتین کوبے آبرواوربچوں کویتیم کردے اوربلاتخصیص کشمیری مردوزن کومحض اس لئے دیوارزنداں کے پیچھے قیدکردے کہ وہ اقوام متحدہ میںخودبھارت کے تسلیم کردہ حق خودارادیت کامطالبہ کرتے ہوں۔ بزرگ علیل کشمیری رہنماجناب سیدعلی گیلانی کوپچھلے آٹھ سالوں سے گھرمیں نظربندکرکے رکھنا،انہیں ملک کے اندر اور باہرنقل وحرکت کی اجازت نہ دیناکیاانسانی حقوق کا مسئلہ نہیں بنتاہے ؟ اورایک بیمار خاتون آسیہ انداربی کوکئی مرتبہ آہنی سلاخوں کے پیچھے دھکیل کرکون سی جوانمردی کااظہارکیاجارہاہے۔محترمہ آسیہ اندرابی کے شوہرڈاکٹرقاسم کوپچھلے ٥٢ سالوں سے غیرقانونی طورپرجیل میں بندکررکھاہے جبکہ آسیہ اندرابی کاچھ مہینے کابیٹامحمدبن قاسم بھی جیل میں رہ چکاہے جسے کئی سال بعدجیل سے رہائی ملی تھی جبکہ وہاں کی عدالتوں کے فیصلوں کے مطابق یہ سب کچھ غیرقانونی ہے اوراسی نام نہاداٹوٹ انگ کے شہری یٰسین ملک کی اہلیہ اورتین سالہ بیٹی کوبھی ملنے کی اجازت نہیں۔کیامشعال ملک یااس کی تین سالہ بیٹی کوئی دہشتگردہیںیاپھریٰسین ملک بھی تو ایک سیاسی رہنماء ہیں جوکشمیرکی آزادی کی قانونی اورجائز جدوجہدکررہے ہیں۔کیاماں بیٹی کی ملاقات سے مہان بھارت ٹوٹ جانے کاخطرہ ہے مگرافسوس کہ حکومت پاکستان نے دہشتگرد کلبھوشن کیلئے تواپنادل واتوکردیا،ان بھارتی مظالم اورجبرواستبدادکی جانب توجہ مبذول نہ کروائی اورنہ ہی اس کااہتمام کیاکہ ایک دہشتگردکے اہل خانہ کی ملاقات کاموقع فراہم کررہے ہیں توبھارت بھی کم ازکم سکہ بندسیاسی رہنماؤں اورحریت پسندوں کے ساتھ انسانی سلوک کرے۔ پاکستان کی طرف سے نرمی کایکطرفہ زم زم بہتارہا اس کے باوجودمکارصنم خوش نہ ہوسکاجبکہ دنیاکے بتکدے میں سب سے بڑابت امریکابھی ٹس سے مس نہیں ہوا بلکہ امریکاکی جانب سے بھی مسلسل پاکستان کے خلاف منفی طرزِعمل سامنے نظرآرہاہے۔یقیناًیہ سارادباؤ پاکستان کومزیددباؤ میں لاتے ہوئے اس سے اپنی مرضی کے فیصلے کروانے اوراس سے اپنی مرضی کے کام کرانے کیلئے ہے۔اس لئے یہ بھی سمجھناچاہئے کہ جوں جوں ان امریکی اوربھارتی آشاؤں کوپوراکرنے کیلئے اچھابچہ بننے کیلئے حاضررہے گا،پاکستان پرامریکی ہی نہیں بلکہ بھارتی دباؤبھی بڑھتاجائے گا۔اس لئے ضروری ہے کہ کلبوشن اوراس کے اہل خانہ کے کھاتے میں بھارت کیلئے سہولت کاری نہ کی جائے ۔کل کلاں پاکستانی یادوسرے ملکوںسے تعلق رکھنے والے دہشتگردبھی درجہ اوّل کے دہشتگردبننے کیلئے امریکی اوربھارتی شہریت کاحصول ممکن بناکر پاکستان کارخ نہ کرنے لگیں کہ ان دونوں ملکوں کے دہشتگردوں کیلئے پاکستان میں کافی نرم گوشہ پایاجاتاہے۔ اب پاکستان کے مقتدرحلقوں کیلئے ازحدضروری ہوگیاہے کہ وہ کشمیریوں پرہونے والے مظالم کاسختی سے نوٹس لیتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کرے کہ بزرگ حریت پسندرہنماء جناب سیدعلی گیلانی کی نظربندی کوفی الفورختم کرکے ان کے تمام انسانی وسیاسی حقوق کوبحال کیاجائے اوران کی نقل وحرکت پرغیرقانونی پابندی ختم کی جائے اورپچھلے پچیس برسوں سے ڈاکٹرقاسم کی اسیری کوختم کروانے کیلئے اقوام متحدہ اورنسانی حقوق کے عالمی اداروں کوباقاعدہ مطلع کرکے بھارت سے برابری کی سطح پرسلوک روا رکھا جائے۔ یادرکھیں کہ اس وقت امریکا کی تلملاہٹ اوربے چینی اس لئے عروج پرہے کہ وہ افغانستان میں نہ صرف مکمل طورپرہزیمت وشکست کا شکار ہے بلکہ اس خطے سے مکمل طورپراس کے اثرورسوخ کے خاتمے کاوقت آن پہنچاہے۔

امریکا،اسرائیل اوربھارت کی ٹرائیکاآنے والوں دنوں میں پاکستان پردباؤبڑھانے کیلئے تمام تر زورلگائیں گے جس میں پاکستان پربے پناہ بڑھتے ہوئے قرضوں کی آئندہ سودکی قسط کی ادائیگی پرسودے بازی کرنے کی کوشش کی جائے گی اورعلاوہ ازیں ملک کے اندرانتشاربڑھانے کیلئے دہشتگردی کی لہرکوخطرناک حدتک بڑھاوا دیا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کوختم کروانے کیلئے افغانستان میں بیٹھے ہوئے ٹی ٹی پی کو''را'' بلیک واٹراورموسادکے اشتراک سے دہشتگردوں کو بلوچستان میں سلیپنگ سیلزکی مددسے فرقہ وارانہ اورمذہبی مقامات پرحملے کروانے کے بعدیورپی یونین اورخودامریکامیں چلائی جانے والی ''فری بلوچستان''کی تحریک میں تیزی لاکرپاکستان پردباؤ بڑھایاجائے گا۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ ان حالات میں ملکی سلامتی کے ایک نکاتی ایجنڈے پرمکمل یکجہتی کااعلان کرتے ہوئے نہ صرف دشمن کے مذموم عزائم کوناکام بنایاجائے بلکہ دنیاکوبھی یہ پیغام دیاجائے کہ پاکستان اپنی سلامتی کیلئے کسی بھی حدتک جانے میں لمحہ بھرتاخیرنہیں کرے گا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved