ترنم عزیز(1978)سے زینب تک
  14  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

چالیس سال قبل…ترنم عزیز نامی ایک معصوم طالبہ کے ساتھ کم و بیش وہی کچھ ہوا جو زینب کے ساتھ پیش آیا اور میں چالیس سال سے دو تین برس اور پیچھے جائوں تو ایک اور واقعہ یا د آگیا۔ غالباً 13مارچ1974ء کی بات ہے، عائشہ باوانی کالج میں زیر تعلیم تھا۔ شام کی تدریس میں گھر سے نکلا تو دروازے پر ایک جواں عمر فروکش تھا۔ مجھ سے میرا نام پوچھا…اور حسبِ منشاء جو اب پر گو یا ہوا۔ ''بھائی میری چچا زاد…غائب ہو گئی ہے چار سال عمر ہے پانچ چھ گھنٹے سے لاپتہ ہے۔ بڑی مہر بانی ہو گی مسجد میں اعلان کردو''اس نے اپنا…بچی کا اور اس کے والد کا نام بتا یا۔ مکان نمبر بھی اور بچی کا حلیہ مع ملبوسات…بھی گوش گزار کیا۔ یہاں میں واضح کر دوں ''گوش گزار'' ایک تنبیہی اصطلاح ہے۔ یعنی کانوں میں ٹھونسنا… اکثر لوگ اسے ادبی معنوں میں استعمال کرتے ہیں…مگر کسی کو تنبیہ کرنا ہو تو یہ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ اسی طرح ایک اور اصطلاح غلط رائج ہے''کرم نوازی''جس کا مطلب ہے کرم کو نوازنا…لوگ سمجھتے ہیں یہ''کرم سے نوازنا''کی جگہ بہت خوبصورت ترکیب ہے۔ ذرہ نوازی یا بندہ نوازی مناسب الفاظ ہیں۔ خیر صاحب!ہم نے اعلان کیا، کئی مساجد میں اعلان ہوا ہم کالج سے واپس آئے تو محلے میں جا بجا اسی''گمشدگی'' کے چر چے ہو رہے تھے ۔ گھر پہنچے تو ماموں زاد بھائی…(اللہ خلیق عالم بھائی کو غریقِ رحمت فرمائے۔ آمین ثم آمین)…تشریف فرما تھے۔ ان سے پتہ چلا کہ…جو''شریف زادہ'' اپنی چچا زاد معصوم بہن کے لئے پریشانی کی تصویر بنا ہوا تھا وہ حد سے زیادہ''شریف زادہ'' ثابت ہوا۔ بے غیرت…کرائے کی سائیکل پر معصومہ کو لے کر ساحل سمندر پہنچا…وہاں اس کے ساتھ بدتمیزی کی انتہاء کی اور ساحل کے قریب ایک پہاڑ کی کھوہ میں اس کی نعش چھوڑ کر واپس گھر آیا۔ جب دیر ہونے کے باوجود بچی گھر نہیں پہنچی تو اس کے والدین اور اقرباء کو فکر ہوئی، وہ بھی''مفکر'' بن گیا…اتفاق سے کرائے پر سائیکلیں دینے والے نے بتا یا کہ وہ خبیث بچی کو پڑوس میں بکنے والی پکوڑیاں دلا کر…سائیکل پر بیٹھا کر لے گیا تھا۔ چونکہ پولیس نے بھی تفتیش شروع کر دی تھی…سائیکل والے کے انکشاف پر نحوست مارے کو پکڑ لیا…بے غیرت اسم بامسمیٰ جلال میں آیا۔ پولیس والوں نے دھنائی کی تو جائے وقوعہ لے کر گیا وہاں سے بچی کی لاش خراب حالت میں دریافت ہوئی پکوڑوں کی تھیلی اور دو تین کانچ کی گولیاں بھی وقوعے سے لاش کے ساتھ بر آمد ہوئیں…کئی سال جیل میں رہا، پے رول پر آتا رہا اور چچا چچی کو دھمکا تا رہا کہ میرے خلاف مقدمہ واپس لے لو…بھٹو سے ضیاء کا دور آیا…اور نتیجہ کیا ہوا شاہ زیب کیس کا حوالہ کافی ہے۔ مترنم عزیز کو بھی شو مئی قسمت اس کے چچا زاد نے ہوس کا نشانہ بنا یا تھا۔ ناچیز اس زمانے میں جناب ظہور الحسن بھوپالی شہید کے ہفت روزہ ''افق'' سے وابستہ ہے۔ یہ باقاعدہ صحافت کا آغاز تھا اور تعلیمی سلسلہ بھی جاری و ساری تھا۔ کئی دن ہنگامہ آرائی ہوئی۔ بھوپالی صاحب نے مقالہ خصوصی لکھوایا عنوان تحریر کیا ''جنرل صاحب! کراچی سوگوار ہے'' ہفت روزہ افق دنیائے صحافت میں ایک مثالی جریدہ تھا…جنرل ضیاء الحق نے ایک مہینے کی تفتیشی کارروائی کے منفی نتائج پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سخت ترین احکامات جاری کئے اور بالآخر…منحوس و مردود چچازاد پکڑا گیا…ان دو واقعات کو ضابطہ تحریر میں لانے کا مقصد یہ ہے کہ قصور میں جو المیہ رونما ہوا ہے اس کے تناظر میں چند معروضات پیش کی جائیں۔ دس بارہ برس پہلے ایک جنونی عطائی ڈاکٹر جاوید اقبال کا چر چا ہوا تھا جس نے سو سے زیادہ بچے اپنے جنسی جنون کی نذر کئے تھے، اور جہاں تک قصور کا تعلق ہے…وہاں یہ واقعات روایتی انداز میں منظر عام پر آتے رہتے ہیں تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں، اس وقت ٹی وی پر چک جھمرہ قصور کی ایک معصوم بچی عائشہ کی خبر چل رہی ہے جسے دو جنوری 2017کو اغواء کیا گیا تھا اور11جنوری کو چار دن بعد اس کی لاش بر آمد ہوئی تھی۔ درجنوں بچیوں کے اسی نوع کے معاملے کی خبروں کی بھی بازگشت ابھی تک محسوس ہو رہی ہے او ر دوپہر کو سندھ میں کسی بچے کے ساتھ جنسی تشدد کی خبریں چل رہی تھیں جن کانوٹس وزیر اعلیٰ سندھ مراد شاہ نے جمعہ12جنوری2018ء کو لیا ہے…اللہ رحم فر مائے آمین۔

شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور پنجاب حکومت مظاہرین اور زینب کے لواحقین کو طفل تسلیاں دے رہے ہیں۔ مرے پر سو درے یہ کہ آئی جی پنجاب ذوالفقار چیمہ فرما رہے ہیں کہ زینب کے مسئلے پر لوگ سیاست چمکا رہے ہیں۔ ارے بھئی!آئی جی صاحب'' اور بھی غم ہیں سیاست کے سوا''…لوگوں کو اتنی آسائشیں کہاں میسر ہیں کہ وہ سیاست چمکائیں۔میری معصوم بیٹی جو پانچویں جماعت کی طالبہ ہے مجھ سے پوچھ رہی ہے پا پا زینب کی اتنی خبریں چل رہی ہیں، اسکول استانیاں بھی اسی مسئلے پر باتیں کر رہی ہیں…بتائیے کیا معاملہ ہے…یہ کوئی سیاسی تحریک ہر گز نہیں، سیاست دانوں میں جو کھچڑی پک رہی ہے اس میں ضرور سیاست کی الزام تراشی کی گنائش ممکن ہو سکتی ہے۔ عوام الناس کو تو یہ دوش نہ دیں کہ لوگ سیاست چمکا رہے ہیں۔ اس مسئلے پر میں کچھ کہنے یا لکھنے کی جسارت نہیں کر سکتا کہ دل و دماغ مائوف ہے صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ ارباب حکومت کو اپنی ذمہ داری محسوس کرنی چاہیے اور قانون ساز اداروں کو موثر قانون سازی کے ذریعے اس لعنت کا مستحکم حل یقینی بنا نا چاہیے ساتھ ہی عدلیہ اور انتظامیہ کو جس میں پولیس کا کر دار بہت اہم ہے۔ انہیں بھی…صراطِ مستقیم کے مفہوم کی تعبیر و تعیل کرنا چاہیے۔ آمین ثم آمین


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 انٹر نیٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضا مینں
loading...

 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved