پیر‬‮   22   جنوری‬‮   2018
جنرل باجوہ کا جنرل جوزف سے ٹاکرا
  14  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

٭امریکہ کی سنٹرل کمان کے جنرل جوزف ووٹل میں کو ذرا سی عقل ہوتی تو وہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے 'متھّا'لگانے کی بجائے وزیر خارجہ خواجہ آصف سے رابطہ قائم کرتا اور اپنی مرضی کے مطابق بیان حاصل کرکے اپنے گاڈ فادرڈونالڈ ٹرمپ کو بھی خوش کردیتا! اس سے غلطی ہوگئی کہ جنرل باجوہ سے ٹاکرا شروع کردیا۔ اس کا جو نتیجہ نکلا اس پر آنکھیں جھپکا رہاہے کہ یہ کیا ہوا؟ یوں لگتا ہے کہ امریکہ کے سارے نتھا سنگھ اور پریم سنگھ ، وَن اینڈ دی سیم تھِنگ ہیں۔ جیسا ڈونالڈٹرمپ ویسااس کا جرنیل!( پتہ نہیں ٹرمپ کے دماغی معائنہ کا کیا بنا ؟) جنرل جوزف جنرل باجوہ سے ٹیلی فون پر کہتا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے خلاف کسی یک طرفہ کارروائی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا! یعنی یہ جوپاکستان کی فوجی اور مالی امداد بند کی ہے یہ اقدام پاکستان کے کہنے پردوطرفہ طورپر کیا ہے! اور یہ کہ یہ امداد کی بندش عارضی ہے، توقع ہے کہ بحالی کاامکان پیدا ہو جائے گا! اس پر جنرل باجوہ نے جو سخت جواب دیا اس پر اس کی آنکھیں کھلی رہ گئیں!پاکستان کے آرمی چیف کا جواب کچھ اس نوعیت کا تھا کہ ''میں بازآیا محبت سے اٹھالو پاندان ا پنا!''۔ جنرل جوزف کودوٹوک جواب دیا کہ ہمیں تمہاری مدد کی کوئی ضرورت نہیں، پاکستان کی قوم سمجھتی ہے کہ تم نے دھوکا دیا ہے! پاکستان پر اب بھی حملے ہورہے ہیں، افغان شہری افغان مہاجرین کے کیمپوں کو پناہ گاہ بنا کر دہشت گردی کررہے ہیں۔ اس لیے افغان مہاجرین کو واپس بھیجنا ضروری ہے( ان کے پختونخوا ہ کو افغانستان کا حصہ قرار دینے والے سرپرست محمود اچکزئی کا کیا بنے گا؟)۔ جنرل باجوہ کا سخت جواب سن کر جنرل جوزف ''ڈومور'' کہنا بھول گیا! جنرل جوزف یہی رابطہ وزیر خارجہ خواجہ آصف سے کرتاتو آگے سے مودبانہ جواب ملتا کہ بالکل درست فرمایا آپ نے اور ٹرمپ صاحب ! میں نے پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ پاکستان میں داعش موجود ہے، اگرچہ منظم نہیں ہے اور یہ بھی باربار کہا ہے کہ ہمیں پہلے اپناگھردرست کرناچاہئے ! جنرل جوزف بہت خوش ہوتا۔ اس کی سمجھ میں علامہ اقبال کا یہ شعر آجاتا کہ ''پرواز ہے دونوں کی اُسی ایک فضا میں، کرگس کا جہا ں اور ہے شاہیں کاجہاں اور!''۔ ویسے ٹرمپ کو جھٹکے پہ جھٹکا لگ رہاہے۔ شمالی کوریا کو سخت کارروائی کی دھمکی دی اس نے جواب دیا کہ ہوش میں رہنا، پورا امریکہ ہمارے میزائلوں کی زدمیں ہے۔ ٹرمپ چپ ہو گیا۔ پہلے پاکستان کودھمکیاں دیں پھرایران کو حکم نہ ماننے پر جوہری معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی دی اور اس کی آخری تاریخ بھی مقرر کردی جوگزشتہ روز گزر گئی۔ ایران نے آنکھیں دکھائیںتو یہ مدت تین ماہ مزید بڑھادی۔ اس نے انڈیا کولے پالک کادرجہ دیا اس پر واری قربان ہونے لگا۔انڈیا نے جنرل اسمبلی میں اس کے خلاف ووٹ دے دیا تو چیخنے لگا کہ انڈیا نے بھی دھوکا دیا ہے، ناقابل اعتبار نکلا! میں نے ٹرمپ کے دماغی معائنہ کا ذکر کیا ہے تو بات یہ ہے کہ جمعہ کے روز اس کا سرکاری طورپر ایک فوجی میڈیکل سنٹرمیں سالانہ طبی معائنہ ہوناتھا۔ امریکہ میں بعض حلقوں نے شور مچایا کہ دماغی معائنہ بھی ضروری ہے۔ اصل معائنہ تو دماغ کا ہی ہوناچاہئے۔ اس پر سرکاری حلقوں نے چپ سادھ لی۔ اب تک طبی معائنہ ہوچکا ہوگا۔ ممکن ہے نتیجہ بھی آگیا ہو مگر صرف معائنہ سے تو دماغی خلل کا علاج نہیں ہوسکتا، اس کے لیے جنرل باجوہ جیسے جرنیل سے بات کرناضروری ہے۔ ٭ڈاکٹر طاہر القادری نے17 جنوری کولاہور کی مرکزی مال روڈ پر قبضہ کرکے احتجاج (دھرنایا جلسہ) کا اعلان کیا ہے ۔ بلی کے بھاگوں چھیٍنکا ٹوٹا! تحریکِ انصاف اور پیپلز پارٹی نے موقع سے فائدہ اٹھا کر حکومت کے خلاف طاہر القادری کے دائیں بائیں کھڑے ہونے کااعلان کردیا ہے۔ عمران خاں نے کہا کہ ان کی پارٹی اس 'کا رخیر' میں بھر پور شرکت کرے گی۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر الزمان نے اپنے عام سٹائل سے ہٹ کر گرجتے برستے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس روز مال روڈ پر پارٹی کے جیالوں کا جشن اوررقص ہو گااورپیپلز پارٹی حکومت کو بھگا دے گی۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے پارٹی کے ارکان کو ہدائت کی ہے کہ پوری تیاری کے ساتھ آئیں۔ اس 'پوری تیاری'میں ڈنڈے، پٹاخے، پانی کی بوتلیں،خشک چنے، گرم کپڑے، لحاف، چھتریاں ، جانماز اور موبائل فون شامل ہو سکتے ہیں۔ یہ ساراہنگامہ پنجاب کے ہر وقت بولتے رہنے والے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے استعفے کے لیے کیا جارہاہے۔اب اس میں وزیراعلیٰ کاا ستعفا بھی شامل کرلیاگیا ہے۔ رانا ثناء اللہ نے استعفا کی بجائے مال روڈ پر کسی کو نہ آنے دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایسا اعلان اسلام آباد کے پچھلے دھرنے پر وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے بھی کیا تھا مگر پھر جاناپڑا تھا۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ تین پارٹیوں کے ایک دوسرے سے بغل گیرہوکر ہنگامے کا جوا اعلان کیاگیا ہے، اس پر لاہور کا ہر شہری تشویش میں مبتلا ہوگیاہے۔ اتنے بڑے جارحانہ اجتماع کاسیدھا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مرکزی سڑک بند ہو جانے سے پورے شہر کی ٹریفک جام ہوجائے گی۔ مال روڈ کے دونوں طرف بہت سی سڑکیں، ایک طرف ملک کا سب سے بڑا میو ہسپتال ، جانکی دیوی، لیڈی ایچی سن ہسپتال اور دوسری طرف گنگارام ، سروسز، جناح، جنرل اور شیخ زید ہسپتال ہیں۔ ان کے درمیان ہروقت ایمبولینسیں دوڑتی رہتی ہیں۔ بے پناہ ٹریفک جام میں ، ہزاروں گاڑیاں اور ایمبولینس پھنس جائیں گی۔ ہزاروں طلباء اور ملازمین اپنے تعلیمی اداروں اور دفاتر میں نہیں پہنچ سکیں گے۔ اور اگر انتظامیہ نے لاٹھی چارج، آنسوگیس ، فائرنگ پانی کا چھڑکاؤ وغیرہ اختیار کیا تواسی قسم کی جوابی کارروائی ہوسکتی ہے جس کا مظاہرہ اسلام آباد میں ہوچکا ہے! بہت کچھ ہوسکتا ہے مگر رانا ثناء اللہ پرآنچ نہیںآنے دی جائے گی۔ ٭قارئین کرام!دوخبریں اکٹھی پڑھیں اور خود ہی تبصرہ کرلیں۔ ایک خبر: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کراچی میں کسی سکیورٹی یا پولیس کے بغیر اپنی گاڑی میں قائداعظم کے مزار پہنچ گئے۔ دوسری خبر: عمران خاںنے اپنی سکیورٹی کے پیش نظرقصور میں مظلوم بچی زینب کے گھر جانے سے انکارکردیا۔

٭وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ چار ادارے عدلیہ، میڈیا، نیب اورفوج ریاستی نظام کو چلنے نہیں دے رہے ان اداروں کے سامنے انتظامیہ(افسر شاہی) بے بس ہوگئی ہے۔ میاں نوازشریف اور ان کے پیروکار تو ایک وقت میں ایک یاد و نام لیتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کویہ اندیشہ ستائے جارہا ہے کہ چار ماہ کے بعد ان کاوزیراعظم کاعہدہ ختم ہو جائے گا،آئندہ کے لیے شہباز شریف کا نام پکا ہوگیا ہے ، ہر گزرنے والے دن سے وزارت عظمیٰ کا ایک دن کم ہو جاتا ہے۔ ایسے میں شاہ کے نام جو قصیدہ پڑھا جاسکتا ہے پڑھ لیاجائے۔سو انہوں نے بیک وقت عدلیہ ، میڈیا، نیب اور فوج پر حرف زنی کردی ہے۔ مجھے مشہورلوک داستان 'مرزا صاحباں' کا ایک قصہ یاد آگیا ہے جس میں صاحباں بددعا دیتی ہے کہ اللہ کرے میری چار پانچ ہمسائیاں مر جائیں، جو رہ جائیں انھیں بخار چڑھ جائے اور خدا کرے کہ گلی کے کونے میں واقع ہندو دکاندار کی کتُیا مر جائے جو ہر وقت بھونکتی رہتی ہے، یوں گلیاں سُنجیاں (ویران) ہو جائیں اور ان میں میرا مرزا یارپھرے! ٭ایک خبر بلاتبصرہ: گوجرانولہ میںوزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کادورہ ملتوی ہوگیا۔ ان کے استقبال کے لیے آنے والے ارکان نے اُن کے حق میں ایک ریلی نکالی۔اس کے شرکاء نے قصور کی بچی زینب کی تصویریں اٹھائی ہوئی تھیں۔ جلوس کے شرکاء نے ڈھول دھمکے کے ساتھ بھنگڑا ڈالا! ٭ڈونالڈ ٹرمپ نے کچھ افریقی ممالک کا نام لے کر کہاہے کہ ان ممالک کے گھٹیا لوگ امریکہ آرہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترجمان نے اس بیان کو انتہائی شرم ناک قراردیا ہے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

  قائد اعظم محمد علی جناح  
  اسکندر مرزا  
  لیاقت علی خان  
  ایوب خان  
آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کار ٹونز

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved