اقوامِ متحدہ کی ذمہ داریاں
  15  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

گھریلو زندگی میں فتنے اور فساد کی جڑیں اس درخت کی طرح ہیں جو مختلف زمینی زرخیزی سے رس لیتا ہے اور پانی کی آمیزش کے اثرات سے طاقت حاصل کرتا ہے۔ماحول کی خشکی کو حاصل کرتا ہے۔آب و ہوا کی تازگی کا محتاج ہوتا ہے۔انسانی اور حیوانی رویوں کے تضادات سے متاثر ہوتا ہے۔طوفانوں کے جھٹکے برداشت کرتا ہے۔خاندانی زندگی کی ابتداء مختلف خاندانوں کے رویوں کا ملاپ، مختلف عادات کے جوڑ، کئی مزاجوں کا امتزاج، مختلف فطری اثرات کی یکجائی، متعدد سوچوں کا اکٹھ، مختلف مفادات کی ہم آہنگی کا سوال ہوتا ہے۔جو مختلف ماحول میں جنم لیتے ہیں مختلف سوچوں کے اثرات قبول کرتے ہیں ۔ کہیں معاملات کی نزاکت درگزراور برداشت کا تقاضا کرتی ہے کہیں جوش اور جذبوں کے اصول اثر انداز ہوتے ہیں ۔کہیں چرب زبانی میں حقیقتوں کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ کہیں شرافت کی خاموشی کو بے وقوفی سمجھا جاتا ہے ۔ کہیں انتقامی جذبے حقیقتوں کو محسوس کرنے میں رکاوٹ بنتے ہیں ۔کہیں ایک دوسرے کی مجبوریوں پر فوقیت کا عمل فتنوں کو جنم دیتا ہے۔کہیں سرگوشیوں اور پروپیگنڈوں کے اثرات انسانی زندگی میں ہلچل پیدا کرتے ہیں ۔ کہیں قیاس آرائیاں ، قیافے اور فتنہ سازوں کی مداخلت دوری کا باعث بنتی ہے۔خوشیوں اور غموں کے اجتماعات، بے عملی اور بے کاری کی لذت ، جاہلیت، لا علمی کا خمیر، دوراندیشی سے ناواقفیت، منافقت کی چاشنی، ہنگامہ خیزی میں اثرات چھوڑتے ہیں ۔یہ ساری تمہید گھریلو زندگی پر محیط ہے ۔لیکن آج ہم نے اس سے آگے کا سبق پڑھنا ہے۔اپنے ملک کے متعلق سوچنا ہے ، اپنی اوقات پر غور کرنا ہے۔اپنی جغرافیائی حالت کو مدنظر رکھنا ہے۔آج ہمیں ملک کے اندر کے معاملات سیاسی ، سماجی، مذہبی، لسانی اور صوبائی سمیت اپنے ملک کے اندر گھسے ہوئے دہشت گردوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں بہت سارے معاملات پر بڑے اہم اور سنجیدہ فیصلے کرنے ہیں ۔آج کے تبصرے اور تجزئیے پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اقوامِ متحدہ کی سرے سے کوئی ذمہ داری ہے ہی نہیں اور نہ ہی آج تک کوئی ایسا تاریخی کارنامہ سرانجام دیا ہے جس سے اقوامِ متحدہ کے وجود کو محسوس کیا جا سکے۔برصغیر کا سب سے بڑا مسئلہ جس میں اقوامِ متحدہ نے مداخلت کر کے یہ فیصلہ کروایا تھا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کیا جائے گا۔اس پر کشمیری عوام نے اعتماد کیا کہ دنیا کے اہم ترین ادارے نے کشمیر کے مسئلے بلکہ لاکھوں مسلمانوں کو ہندوستان سے آزادی کی ذمہ داری اٹھائی ہے جب یہ فیصلہ ہوا کہ کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی یا ووٹوں سے کرایا جائے گا۔اس بات کو آج 70سال ہونے کو ہیں لیکن اقوامِ متحدہ کہ گونگی ، بہری بھینس کی طرح چپ سادھے ہوئے ہے۔کشمیر کے ساتھ ساتھ ہندوستان مسلسل پاکستان کے اندر بھی بارود اور گولے پھینک کر تباہی اور بربادی کر رہا ہے۔گزشتہ روز بھی ہندوستان نے لائین آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی حدود میں بلااشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک60سالہ پاکستانی مسلمان خاتون شہید ہو گئیں ۔کھوٹی وٹہ سیکٹر کے سرحدی گاؤں پیر خانہ پھلنی پر بھارتی فوج کا بلااشتعال فائرنگ کا احتجاج ہر جگہ ہو رہا ہے۔لیکن اقوامِ متحدہ سوئی ہوئی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اقوامِ متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل پاکستان آئے تو اس ایک دن میں کئی جگہ ہندوستان نے لائین آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں کیں بلکہ کشمیر کے اندر بھارتی فوج کے ظالم درندوں نے کئی نوجوان کشمیریوں کو شہید کر دیا لیکن اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ایک لفظ کی بھی تعزیت پاکستان سے نہ کی اور نہ ہی ہندوستان کو کسی قسم کیتنبیہ کی۔جبکہ اس نے پاکستان سے سیدھا ہندوستان جانا تھا۔کشمیری آج بھی اقوامِ متحدہ کے فیصلوں اور ان کی منظور کردہ قراردادوں کی طرف دیکھ رہا ہے۔پاکستانی وزرائے اعظم بھی اقوامِ متحدہ کی ہر جنرل اسمبلی میں صرف اور صرف کشمیر کے مسئلے پر بات کر کے اقوامِ عالم کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔لیکن اقوامِ متحدہ ایک مستند ادارہ ہونے کے ساتھ ساتھ اقوامِ عالم کی تمام طاقتیں بھی اقوامِ متحدہ کے ضمیر کو جگانے میں ناکام رہیں ۔سچی بات یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نے کبھی بھی اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں پر عمل کرانے کی کوشش ہی نہیں کی۔وہ تما م گرتی لاشوں ، لٹتی عصمتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے پھر بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔میرے منہ میں خاک، شاید میرے خیالات صرف وہم تک محدود ہوں لیکن ہندوستان نے پاکستان میں مذہبی اور لسانی ہر قسم کے فسادات کرانے کی کوشش کی اور ان تمام چالوں میں وہ ناکام رہے۔مجھے پاکستان میں معصوم بچوں او ر بچیوں کو اغواء ، زیادتی اور پھر قتل جیسی وارداتوں کے پیچھے بھی ہندوستانی ظالم درندوں کا ہاتھ نظر آتا ہے۔کیونکہ قصور ہندوستانی بارڈر کے نزدیک ہے اور کبھی بھی ایسی بھیانک وارداتوں کے ملزم پکڑے نہیں گئے۔ایسے لوگ عام مجرم نہیں ہوتے۔عام مجرم اپنی کچی حرکتوں اور معاشرے میں اپنے رویوں سے پکڑے جاتے ہیں ۔یہ انتہائی سفاک، ظالم اور ماہر لوگ ایسی وارداتیں کرتے ہیں ۔اقوامِ متحدہ اپنی آنکھیں کھولے اور کشمیر کے مسئلے کو صفِ اول پر رکھ کر حل کرنے کی کوشش کرے تاکہ ظلم و ستم کے علاوہ اس قسم کے وسوسوں کا بھی خاتمہ ہو سکے۔عالمی طاقتیں بھی اس سوئے ہوئے ادارے کو جگانے کی کوشش کریں ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved