بھارتی جارحیت اور احتجاجی تحریکیں
  19  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

پاکستان ایک خود مختار اور خوددار ملک ہے۔لیکن بدقسمتی سے دشمنی کی چالوں سے نا آشنا ہے۔ وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کا دشمن دنیا کا مکار ترین، جھوٹا اور الزام تراش ہے لیکن مجھے کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ شاید ہم میں سے بہت سے لوگ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر دشمن کی چالوں کو سمجھے بغیر اس کی مرضی کے مطابق کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارے مکار دشمن کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور پہلے سے بڑھ کر بڑی واردات کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ کل بھی لائین آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیز فائر کے معاہدے کو نظر انداز کرتے ہوئے بلا اشتعال فائرنگ کر کے پاک فوج کے چار جوانوں کو شہید اور چند ایک کو زخمی کر دیا یہ الگ بات ہے کہ پاک فوج کے شیر دل جوانوںنے اسی وقت فوری طور پر کاروائی کر کے بھارتی افواج کے تین جوانوں کو ہلاک اور متعدد کو زخمی کر دیا۔بھارتی فوج نے کنٹرول لائین پرجنرووٹ اورکوٹلی سیکٹرز میں انتہائی اشتعال انگیز فائرنگ کر کے پاک فوج کے جوانوں کو شہید کیا۔پاک فوج کے جوان کمیو نیٹیشن لائین کی مرمت کر رہے تھے کہ اس دوران بھارتی فوجیوں نے فائرنگ کر دی۔گزشتہ اور دفتر خارجہ نے بھارتی ڈپٹی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر میں طلب میں شدید احتجاج کیا۔اس جارحانہ زیادتی پر وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی، وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سمیت متعدد قومی رہنماؤں نے شہداء کے قریبی عزیزوں سے دلی ہمدردی اور ہندوستان سے احتجاج کیا اور اس کی اس وحشیانہ حرکت کی مذمت کی۔مودی سرکار جانورکی طرح ہر کسی پر حملہ آور ہو رہی ہے۔خاص طور پر خطے میں دہشت گردی کو ہوا دے رہی ہے۔ادھر بھارت اور کشمیر میں اقلیتوں اور کشمیری عوام کا بھی قتلِ عام جاری ہے۔کل شام بھارتی میڈیا نے اپنی نشریات میں بتایا کہ پاک بھارت کنٹرول لائین پر کشیدگی کے باعث پونچھ راولا کوٹ میں سروس معطل کر دی گئی ہے۔کل ہی ایک اور واردات میں ہندوستان فورسز نے مزید چھ نوجوان کشمیریوں کو بھی شہید کر دیا۔جن پر دراندازی اور جیشِ محمد سے تعلقات ہونے کا الزام لگایا لیکن کشمیر میں بسنے والے بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں اور مقامی لوگوں نے بھارت کے اس الزام کوبالکل ہی مسترد کر دیااور فورسز سے لاشیں حوالے کرنے کا مطالبہ کر دیا۔بھارتی الزام تراش میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارہ مولہ کے علاقے اوڑی سیکٹر میں بھارتی فورسز سے 6نوجوانوں کو شہید کر دیا۔اس حملے میں ہندوستانی فورسز کی طرف سے شدید فائرنگ کی گئی۔بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیانے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوموار کی صبح بھارتی افواج کو انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اطلاع دی کہ مبینہ مجاہدین اوڑی کے سرحدی علاقے دولنجہ میں دراندازی کی کوشش کر رہے ہیں ۔جس پر علاقے کو محاصرے میں لے کر کاروائی کی گئی۔اس جھڑپ میں 6نوجوان مارے گئے۔جن کا تعلق جیشِ ِ محمد سے تھا۔شہید ہونے والوں کی شناخت کی جارہی ہے اور لاشیں ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیا کے جھوٹ اور الزام کا اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ لاشوں کی ابھی شناخت ہی نہیں ہوئی۔لاشیں صرف ہسپتال پہنچی ہی تھیں اور انہوں نے الزام لگا دیا کہ مقتولین کا تعلق جیش محمدی سے ہے۔ ہندوستان پروپیگینڈہ کئی بار میڈیا اور فوج کے جھوٹے ترجمانوں کے لئے چاہیئے کہ پوری قوم متحد ہو کر جواب دے لیکن کتنی بڑی بدقسمتی ہے کہ ہم ہندوستان کو کوئی مؤثر جواب دینے کی بجائے اپنے ملک میں ہی انتشار پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں ۔جس کا فائدہ ہندوستان اٹھا رہا ہے۔مجھے اس بات سے 100 فیصداتفاق ہے کہ قصور کی زینب کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہوا ہے۔موت سے بھی بڑی اگر کوئی سزا ہو تو زینب کے مجرم کو ملنی چاہیئے۔لیکن میں نے اپنے پچھلے کالم میں لکھا تھا کہ ایسی وارداتوں میں بھی مجھے اپنے ازلی دشمن پر شک پڑتا ہے کہ وہ پاکستان اور خاص کر مسلمانوں میں افراتفری پھیلانے ، پورے ملک میں خانہ جنگی جیسے حالات پیدا کرنے اور جلاؤ گھیراؤ کرانے کے لئے کوئی بھیانک واردات نہ کرا دیتا ہو۔ہندوستان اور کشمیر کے اندر مسلمان پر کس قدر ظلم و ستم ہو رہا ہے ۔ اس کی صرف کل کی وارداتوں کا ذکرکیا گیا ہے جس پر کسی مذہبی جماعت تنظیم نے کوئی ایک بھی بیان نہیں دیا اور زینب کے کیس سے اخبارات بھرے ہوئے ہیں ۔ہونا بھی چاہیئے ہر غیرت مند انسان کا یہی رویہ ہو سکتا ہے لیکن ہمیں یہ بھی غورو فکر کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا کس مکار دشمن سے واسطہ ہے ۔نوجوان اورمعصوم بچیوں کی عزتیں لوٹی جاتی ہیں ۔لیکن ہم خاموش ہیں شاید ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ لڑنا صرف پاکستانی افواج کا کام ہے ۔

ہندوستانی افواج کی تمام تر زیادتیوں کا جواب دینا بھی شاید صرف آئی ایس پی آر کا کام ہے۔ہمیں بین الاقوامی میڈیا سے بھی ہندوستانی زیادتیوں کی خبریں موصول ہوتی ہیں۔پھر کشمیری حریت پسند رہنماؤں کے حقیقت پر مبنی بیان مختلف میڈیا شائع یا نشر ہوتے رہتے ہیں ۔ان کے مطابق بھی ہمارے میڈیا کا فرض بنتا ہے کہ وہ ہندوستان کے جھوٹے پروپیگینڈے کا مثبت جواب دے کر عالمی طاقتوں کو بھارت کے ظلم اور زیادتیوں کے متعلق سوچنے کا موقع دینے کو ہی تیار نہیں ہے ۔ ہم ہندوستان کی زیادتیوں اور ظلم و ستم پر اس طرح قوم کو آگاہ کرنے کی ہی کوشش نہیں کرتے۔جس طرح ہم زینب کے کیس کا مطالبہ کرر ہے ہیں اور زینب سے بھی ہماری ساری ہمدردی حکومت مخالفت میں ہے کہ ہم حکومت کو کس حد تک بدنا م کر سکتے ہیں ۔پاکستان میں کتنی بے چینی افراتفری اور توڑ پھوڑ کرا سکتے ہیں ۔اب وقت سوچنے کا ہے ۔ دشمن کی چالوں کو سمجھنے کا ہے تاکہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں کاخون بہنا بند ہو سکے۔ پاکستان میں خود کش حملہ آور بھیجنے والوں کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔جو ہزاروں بے گناہوں کو شہید ، زخمی ، اپاہج یا معذور بنا چکے ہیں ۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved