رومن اکھاڑے کے محض تماشائی
  19  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

دنیا کے بیشتر ممالک کے موجودہ نقشے اور حدودِ اربعہ، بیسویں صدی کی عالمگیر جنگوں کے زیرِ اثر بنے ہیں۔ یقینا مشرقِ وسطیٰ بھی اس میں شامل ہے۔ اس خطے کے ممالک مگر، تاریخی، جغرافیائی، نسلی، لسانی، تہذیبی،کسی بھی عامل سے زیادہ سابق استعماری قوتوں کی خواہشات کے تحت میز پر کھینچی گئی لکیروں سے بنے ہیں۔ مثلا لبنان، شام، اردن، اسرائیل ، عراق، کویت، سعودی عرب، اومان، وغیرہ کے نقشے دیکھئے،لگتا ہے کہ سیدھی سیدھی لکیریں کھینچ کریہ نئے ممالک، عالمی نقشے میں کاڑھے گئے ہیں۔ یہ تمام ممالک، ماضی میں بڑی سلطنتوں کے صوبے یا ضلعے ہوا کرتے تھے ۔ یورپ کی استعماری اقوام خصوصا برطانیہ اور فرانس نے اپنی استعماری سوچ کے مطابق، یہ نئے ممالک تخلیق کر دیے۔ ان کی تشکیل میں امریکا عملاً شریک نہیں تھا۔ اب تاریخ کا پہیہ ایسے مقام پر آگیا ہے کہ آج کی سب سے بڑی استعماری قوت امریکا اور اس کے اتحادی یورپی ممالک اور اسرائیل کو نیا مشرقِ وسطی درکار ہے۔ چنانچہ گزشتہ صدی کے اختتام کے ساتھ ہی نئے عہد اور نئی سرحدوں کا بگل بجا دیا گیا ہے۔ علاقائی عناصر و عوامل کو مارچ کا حکم مل چکا ہے۔ تمام ہرکارے، کارندے، پیادے،فیل و فرزیں روبوٹس کی طرح حرکت میں آچکے ہیں۔ پرانے زمانے کے راجائوں اور نوابوں کے شکار کے لیے،جس طرح ہانکا لگا کرتا تھا،مشرقِ وسطی میں شکار اور شکاری اور ان کے ہانکا لگانے والے بھی اس کھیل کا حصہ بن کر، اپنا اپنا کردار بخوبی نبھا رہے ہیں۔ شاید اگلے ایک عشرے کے اندر ہی، مطلوب نیا مشرقِ وسطی تشکیل پاجانے کی خواہش و کوشش ہے۔ ہم اہلِ حرم حسبِ سابق اِس رومن اکھاڑے کی سیڑھیوں پر بیٹھے، محض تماشائی ہیں جو اپنی بھوک اور اِفلاس، اپنا دکھ اور غم غلط کرنے کے لیے،یہ کھیل دیکھ رہے ہیں، تبصرے کر رہے ہیں یا زیادہ سے زیادہ اس میں معاون و مددگار بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ مشرقِ وسطی کے حالیہ اکھاڑے میں جاری کھیل کا جائزہ لیا جائے تو چِیدہ چیدہ نکات اس طرح سامنے آتے ہیں:۔ دنیا کے موجودہ تناظر میںچار مسلم ممالک ایسے ہیںجن کے حالات و واقعات، جن کا عمل اور بے عملی (یا بدعملی)، جن کا استحکام یا انہدام اور جن کی قوت و یکجہتی یا کمزوری و انتشار سارے عالمِ اسلام کو سب سے زیادہ متاثر کرسکتا ہے اور کرے گا۔ یہ ممالک سعودی عرب، مصر، ترکی اور پاکستان ہیں!!! اگر یہ چاروں ممالک ہم آہنگ ہوکر، ایک دوسرے کے ہاتھ تھام کر اور باہمی اعتماد و مشاورت کے ساتھ عالمی بساطِ سیاست پر، دھیرے دھیرے ہی سہی، لیکن مضبوط قدم رکھتے چلیں،تو مسلم امہ کی بے چارگی و بے بسی میں تیزی سے قابل لحاظ کمی آتی جائے گی۔ اِس'' اِتحادِ اربعہ'' کے جھرمٹ میں کئی اور مسلم اور غیرمسلم ممالک، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، شامل ہوتے جائیں گے۔ یوں یہ نیا عالمی بلاک آج کی بے توازن اور بے کل دنیا میں،قدرے توازن و قرار کا ذریعہ بن سکے گا۔ چند برس قبل اللہ نے یہ سنہری گھڑی قریب کردی تھی،جب مصر میں ڈاکٹر محمد مرسی کی جسٹس پارٹی کی حکومت قائم ہوگئی تھی، اور ترکی میں اردگان کی اے کے پی کی حکومت سے اس کا بڑا اچھا تعلق پروان چڑھ رہا تھا۔ گویا اتحادِ اربعہ کیلئے حالات سازگار ہونے جارہے تھے۔ بدقسمتی سے آلِ سعود کے پچھلے بادشاہ اور کچھ شہزادے، امارات کے حکمراں، خصوصاً ان کے موجودہ ولی عہد، اسرائیلی لابی اور مغربی استعمار نے مصر پر، اور امت پر نہایت اوچھا وار اور تاریخی ظلم کیا، یہ گویا سنبھلتی اور قسمت بدلتی مسلم دنیا کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دینے کے مترادف تھا۔ اِسی دوران، شام کے معاملہ میں جو ہوا، وہ حکمتِ عملی اور اسٹریٹجی کے لحاظ سے ایک تاریخی بلنڈر تھا۔ اسرائیل کی پشت پناہ مغربی قوتوں نے سازش کا جو جال بنا،بدقسمتی سے اس میں ترکی، سعودی عرب، قطر اور بعض دیگر عرب حکومتیں،یہاں تک کہ شام کے اِخوان بھی، حیرت انگیز طور پربڑی آسانی سے پھنس گئے۔ اب ان کے گلے میں گویا چھچھوندرپڑاہے ۔ ١٨٩١ء میں بھی شام کی اِخوان اپنے نوجون عنصر کے دبا ؤ میں آکر'' خروج'' کی خودکش غلطی کر چکی تھی جس کا خمیازہ ربع صدی تک اسے بھگتنا پڑا۔خدا جانے ہمارے یہ دوست ممالک اس استعماری و صہیونی جال سے بسلامت کیونکر نکل پائیں گے؟ ایک مضبوط رائے رہی ہے کہ شام کو اس کے حال پر ہی چھوڑ دینا چاہیے تھا۔ بشار الاسد کی علوی یا نصیری حکومت سے امتِ مسلمہ کویا اتحادِ امت کوکوئی فوری خطرہ لاحق نہیں تھا بلکہ دمشق میں حماس کو ایک مناسب اور مضبوط ٹھکانا میسر تھا، جو اب اس سے چِھن چکا ہے۔ شامی فوج کی صورت میںاسرائیل کے سامنے ایک مضبوط عسکری قوت بھی موجود تھی، جو کلیتاً تباہ ہوگئی ہے۔ اربوں ڈالرز میں خریدے ہوئے لڑاکا جہاز، ٹینک، توپیں، میزائل، گولا بارودیا تو استعماری قوتوں کی بمباری سے تباہ ہوگئے، یا اپنے ہی لوگوں سے لڑنے میں ضائع ہوگئے۔ شام، اِس علاقہ میں نسبتا بہتر فوج رکھتا تھا۔ وہ فوج اسرائیلی نفسیات کو کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی۔ خانہ جنگی میں وہ بھی تتر بتر ہو گئی۔ابتدا ہی سے مجھے شام کا یہ سارا جہادسمجھ نہیں آتا تھا۔ اب تو یہ امر اظہر مِن الشمس ہوچکا ہے کہ یہ بہت بڑا اسٹرٹیجک بلنڈر تھا۔ شام میںکئی سال سے ملی خودکشی کی گلوٹین مشین مسلسل چل رہی ہے۔ مسلم دنیا میں صدیوں سے موجودسب سے بڑی فرقہ وارانہ(شیعہ، سنی)تقسیم زیادہ شدت سے نمایاں ہوکر، عالمگیر پیمانے پر سامنے آکھڑی ہوئی ہے۔ عصرِ رواں کی استعماری قوتوں نے اِس تقسیم کو مؤثر طور پر بروئے کار لاکراپنے بہت سے منصوبے آگے بڑھائے ہیں، اور وہ اس کا دائرہ مزید بڑھائیں گی۔ فی الحال اس میں کمی کا بظاہر کم ہی امکان ہے۔ یہاں یہ بھی عرض ہے کہ مسلم ممالک میں، عہدِ ماضی والے تصورِ خروج پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ بالخصوص ایسی دنیا میں جہاں دشمنانِ دین و ملت، ہر قابلِ لحاظ مسلم ملک کا تیا پانچا اور قیمہ کرنے کی مہم پرصاف دِکھائی دے رہے ہیں۔ یہ بھی واضح رہے کہ خروج ایک سیاسی اجتہاد اور فقہ سیاسیات کی ایک اصطلاح ہے۔ یہ نہ ایمانی مسئلہ ہے اور نہ فرائض و واجبات سے اِس کا کوئی تعلق ہے البتہ انسانی تمدن کے ایک خاص دور سے متعلق ضرور رہا ہے۔ (اتفاق سے میں دینی اورعلمِ سیاسیات کا طالب علم بھی رہا ہوں) مصر کو جس طرح، عملاً اسرائیلی تولیت میں دے دیا گیا ہے، اس عاقبت نااندیش اورملی بربادی میں آلِ سعود اور سلفی مکتبِ فکر کے کلیدی کردار پر غور کرتا ہوں تو دل بڑا خراب ہوتا ہے ۔ کئی بار میرا بڑا دل چاہا کہ کچھ صہیونی آلہ کاروں کیلئے قنوت والی بد دعائیں کروں۔ عمرہ پر گیا تو وہاں بھی یہی دل چاہامگر میرے دماغ نے میری زبان پکڑے رکھی۔ اِس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ سعودی عرب کا داخلی انتشار، چاہے وہ شاہی خاندان کے اندر ہویا پوری مملکت میں،فی زمانہ ہرگز باعثِ خیر نہ ہوگا۔ اِس سے ہمارے دین و ملت کو کچھ نہیں ملے گابلکہ امت میں اِس کا نفسیاتی فال آؤٹ ہمارے اندازوں سے کہیں زیادہ ہوگااس لئے حرمین کی حرمت کی وجہ سے ان کے سدھرنے کی دعائیں کرنے کی اشدضرورت ہے۔ عربستان کے جنوب مغربی کونے پر، یمن میں جو ہو رہا ہے،اس کے دو فعال ترین فریقین میں ایک طرف ایران ہے، تو دوسری طرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، دونوں فریقوں نے جس عاقبت نااندیشی کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے یمن تو برباد ہو ہی رہا ہے،مگر تیل کا جو پیسہ دھواں بن کر اڑ رہا ہے، اور ملی وجود میں نفرتوں کا جو زہر سرایت کر چکا ہے،اس کے کامل اثرات آہستہ آہستہ ہی ظاہر ہوں گے۔ آنسو کے قطرے جیسے ننھے سے ملک قطر کے خلاف جو چار کا ٹولہ سامنے آیا ہے، اس کی حیثیت شکاری شِکرہ سے زیادہ نہیں۔ ( جاری ہے ) اصل فیصلہ سازتو وہ ہاتھ اور ذہن ہے جس نے اِن شِکروں کو قطر کا کبوترشکار کرنے پر مامور کیا ہے۔ قطر کے خلاف اقدام کرنے کے بعد، چند ماہ کے اندر ہمارے عرب بھائیوں نے کوئی ڈیڑھ سو ارب ڈالر(ایک سو ساٹھ کھرب روپے)کے سودے، صرف امریکا سے اسلحہ خریدنے کیلئے کر لیے ہیں۔ آنے والے برسوں میں اس سے چھ گنا زیادہ خریداری کی نوید بھی دے دی گئی ہے (پاکستان کا کل بیرونی قرضہ٦٨/ ارب ڈالر ہے)۔یہ اسلحہ کس کے خلاف خریداجارہاہے؟ایک دوسرے کے خلاف!صہیونی ریاست، اسرائیل سے مستقبل قریب میں کوئی جنگ ہونی ہے اور نہ اس سے کوئی خطرہ باقی رہا ہے۔ جنگ اس لیے نہیں ہونی کہ اسرائیلی مقاصدبغیر کوئی گولی چلائے حاصل ہو رہے ہیں، پھر اسے عربوں سے لڑنے کی کیا ضرورت ہے ۔ خطرہ اس لیے نہیں کہ اب اسرائیل سے دوستی کی مسابقت شروع ہو گئی ہے۔ شنید ہے کہ سعودی عرب کا ولی عہد اسرائیل کا خاموش دورہ کر کے آچکا ہے،دونوں حکومتوں میں مسلسل رابطہ ہے اور مفاہمت کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے،شاید تین تا چھ ماہ میں کسی باقاعدہ مفاہمت کا اعلان بھی ہو جائے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ اب لبنان پرحزب اللہ کے خاتمے کے نام پر چڑھائی کا ارادہ ہے۔ ایسی یلغار کو امریکا، اسرائیل، مصر اور سعودی عرب کی تائید حاصل ہو گی۔ اس کے بعد حماس کی باری آئے گی لیکن اسے غالبا ًگلا گھونٹ کر مارنا طے پایا ہے۔ سعودی عرب اور ایران میں تصادم ہو یا زبانی جنگ جاری رہے،دونوں صورتوں میں خطہ، عدم استحکام اور نفرتوں کی آماجگاہ بنا رہے گا۔ اس صورتحال کا بڑا گہرا اثر پوری مسلم دنیا پر پڑے گا۔ وہ بھی عدم استحکام اور نفرتوں کی زہرناک فضا کا شکار ہو گی۔ ایران بھی ساسانی سلطنت کے خاتمے کے بعدپہلی بار عروج کے ایسے زینے کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہے جو اس کیلئے حالات نے اور خود اس کی حکمت کاری نے ممکن بنا دیا ہے۔ مشرق میں زاہدان سے لے کر، مغرب میں بیروت تک، اس کو وسیع و کشادہ عمل داری مل رہی ہے۔ مسلم تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے۔ خود بغداد پر کسی شیعہ حکومت کا قیام اب سے پہلے کبھی ممکن نہیں ہوا تھا(یقیناً امریکی اورمغربی طاقتوں بشمول اسرائیل کی آشیربادکے بغیریہ ممکن نہیں تھا)۔ یہ صورتحال مسلمانوں کے سوادِ اعظم (سنی دنیا)کیلئے ہضم کرنا سہل نہیں۔ امریکااوراہلِ مغرب اس ذہنی و نفسیاتی و جذباتی تقسیم کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ امریکا اور ایران میں غالبا کوئی باقاعدہ مفاہمت نہیں ہے مگر سوئے اتفاق سے دونوں قوتیں تاریخ کے ایک ہی صفحے پر لاکھڑی کی گئی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈپلومیسی میں بہرحال اہلِ فارس بہت آگے ہیں۔ اس کی شہادت آئے دن کے حالات و واقعات دے رہے ہیں۔ سعودی عرب کے حکمراں خاندان میں اِن دنوں جو ٹوٹ پھوٹ اور محلاتی کشمکش جاری ہے،اس سے ملک اور حکمراں طبقے کا داخلی استحکام بری طرح متاثر ہو گا۔ آلِ سعود کی حکومت اب تک باہمی اتفاق و اتحادکے پائے پر کھڑی تھی۔ اگر یہ پایہ کمزور ہو گا تو پورا محل ضعف و انہدام کے خطروں سے دوچار ہو جائے گا۔ ایسے میں استعماری قوتوں کیلئے اپنے من مانے فیصلے کروانا آسان ہو جاتا ہے۔ فی الوقت تو آلِ سعود کا حال وہی ہے، جو مغلوں کی حکومت کے آخری سو سالوں میں ہوا تھا کہ فرنگیوں سے ساز باز کر کے ولی عہد اور بادشاہ تبدیل کروائے جاتے تھے۔ دو عشروں سے، مغرب کی دانش گاہوں اور پالیسی سازی کے مراکز میں دو مسلم اقوام سے ہمدردی کا مروڑ اٹھ رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دو قومیں ایسی ہیں، جنہیں ممالک دستیاب نہیں حالانکہ وہ اپنے لیے الگ الگ ریاستیں بنانے کا پورا استحقاق رکھتی ہیں۔ یہ دو مسلم قومیں'' کرد''اور ''بلوچ ''ہیں۔ ایک طرف کردستان کی پیدائش کیلئے زمین ہموار کی جارہی ہے تو دوسری طرف بلوچستان کیلئے جوڑ توڑ زوروں پر ہے۔ پہلے مشن کیلئے اسرائیل کو اسائنمنٹ دیا گیا ہے، اور دوسرے کی ذمہ داری بھارت کے سپرد کی گئی ہے۔ بیک وقت دونوں پر کام جاری ہے لیکن زیادہ تیزی کردستا ن کے معاملے میں دکھائی جارہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ترکی، شام، عراق، ایران بری طرح متاثر ہوں گے۔ جبکہ گریٹر بلوچستان کے مشن کا ہدف پاکستان، ایران اور افغانستان کو کٹ ٹو سائزکرنا ہے لیکن فی الحال ان کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی فوج ہے۔ سعودی عرب، اپنے اثاثے بیچنے کا اعلان کر چکا ہے۔ اپنے بجٹ کے خسارے پورے کرنے کیلئے اپنا زرِ محفوظ پہلے ہی استعمال کرنا شروع کر چکا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ نیز ایک بہت بڑا پراجیکٹ نیوم (NEOM)کے نام سیاردن،مصراور اسرائیلی سرحد کے قریب شروع کرنے والا ہے۔ تبوک میں ٠٠٥٦٢ اسکوائرکلومیٹر پر مشتمل یہ ایسا سعودی عرب ہو گا، جہاں سعودی عرب کی اقدار و روایات اور شرعی قوانین کا داخلہ ممنوع ہو گا۔ یہ پراجیکٹ مکمل ہو سکے گا یا نہیں، یہ بتانا دشوار ہے البتہ اس کے نام پر پٹرول کی دولت، پانی کی طرح بہے گی اور بہہ کر مغربی استعماری معیشت کا حصہ بنے گی۔ بہت اہم بات جاننے اور سمجھنے کی یہ بھی ہے کہ اِس وقت آٹھ مسلم ممالک، اپنا وجود عملا کھو چکے ہیں۔ وہ صرف اٹلس پر نظر آتے ہیں۔ حقیقتا وہ نان ایگزسٹنٹ ہیں یا ناکام ریاستیں اوروہ ہیں: افغانستان، عراق، شام، لبنان، یمن، لیبیا، صومالیہ اور مالی۔اگر اِس فہرست میں سعودی عرب، ترکی، تیونس، نائیجیریا، الجزائر یا کسی کا بھی اضافہ ہو جائے، تو دین و ملت کو کیا فائدہ پہنچے گا؟؟؟

صورتحال پرہم اپنے غصے یا فرسٹیشن کا اظہار ضرور کریں مگر احوالِ جہاں اپنے اِرد گِرد کے زمینی حقائق اور چاروں طرف پھیلی بارودی سرنگوں کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔ اِنہیں ہرگز نظر انداز نہ کریں۔ ہم سب کی کوشش ہونی چاہیے کہ سب سے پہلے تو اپنی شریانوں سے بہتے لہو کو روکیں، اپنے کمروں اور باورچی خانے سے اٹھتے شعلوں کو سرد کریں اور اپنے ملکوں کو بطور پنچنگ بیگ(Punching Bag) استعمال نہ ہونے دیں۔ یاربّ ِ کریم!ہم پر، اپنے کمزور بندوں پراپنے نام لیوا بے عمل اور بدعمل مسلمانوں پر،اب رحم فرما، کرم فرما،راہِ نجات دِکھا،اس پر چلنے ہی کی نہیں، چلانے کی بھی صلاحیت و فراست، عزم و ہمت اور سلیقہ و توفیق دے۔ آمین، یا ارحم الرٰحمین !


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved