رومن اکھاڑے کے محض تماشائی
  20  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) اصل فیصلہ سازتو وہ ہاتھ اور ذہن ہے جس نے اِن شِکروں کو قطر کا کبوترشکار کرنے پر مامور کیا ہے۔ قطر کے خلاف اقدام کرنے کے بعد، چند ماہ کے اندر ہمارے عرب بھائیوں نے کوئی ڈیڑھ سو ارب ڈالر(ایک سو ساٹھ کھرب روپے)کے سودے، صرف امریکا سے اسلحہ خریدنے کیلئے کر لیے ہیں۔ آنے والے برسوں میں اس سے چھ گنا زیادہ خریداری کی نوید بھی دے دی گئی ہے (پاکستان کا کل بیرونی قرضہ٦٨/ ارب ڈالر ہے)۔یہ اسلحہ کس کے خلاف خریداجارہاہے؟ایک دوسرے کے خلاف!صہیونی ریاست، اسرائیل سے مستقبل قریب میں کوئی جنگ ہونی ہے اور نہ اس سے کوئی خطرہ باقی رہا ہے۔ جنگ اس لیے نہیں ہونی کہ اسرائیلی مقاصدبغیر کوئی گولی چلائے حاصل ہو رہے ہیں، پھر اسے عربوں سے لڑنے کی کیا ضرورت ہے ۔ خطرہ اس لیے نہیں کہ اب اسرائیل سے دوستی کی مسابقت شروع ہو گئی ہے۔ شنید ہے کہ سعودی عرب کا ولی عہد اسرائیل کا خاموش دورہ کر کے آچکا ہے،دونوں حکومتوں میں مسلسل رابطہ ہے اور مفاہمت کے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے،شاید تین تا چھ ماہ میں کسی باقاعدہ مفاہمت کا اعلان بھی ہو جائے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ اب لبنان پرحزب اللہ کے خاتمے کے نام پر چڑھائی کا ارادہ ہے۔ ایسی یلغار کو امریکا، اسرائیل، مصر اور سعودی عرب کی تائید حاصل ہو گی۔ اس کے بعد حماس کی باری آئے گی لیکن اسے غالبا ًگلا گھونٹ کر مارنا طے پایا ہے۔ سعودی عرب اور ایران میں تصادم ہو یا زبانی جنگ جاری رہے،دونوں صورتوں میں خطہ، عدم استحکام اور نفرتوں کی آماجگاہ بنا رہے گا۔ اس صورتحال کا بڑا گہرا اثر پوری مسلم دنیا پر پڑے گا۔ وہ بھی عدم استحکام اور نفرتوں کی زہرناک فضا کا شکار ہو گی۔ ایران بھی ساسانی سلطنت کے خاتمے کے بعدپہلی بار عروج کے ایسے زینے کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہے جو اس کیلئے حالات نے اور خود اس کی حکمت کاری نے ممکن بنا دیا ہے۔ مشرق میں زاہدان سے لے کر، مغرب میں بیروت تک، اس کو وسیع و کشادہ عمل داری مل رہی ہے۔ مسلم تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو رہا ہے۔ خود بغداد پر کسی شیعہ حکومت کا قیام اب سے پہلے کبھی ممکن نہیں ہوا تھا(یقیناً امریکی اورمغربی طاقتوں بشمول اسرائیل کی آشیربادکے بغیریہ ممکن نہیں تھا)۔ یہ صورتحال مسلمانوں کے سوادِ اعظم (سنی دنیا)کیلئے ہضم کرنا سہل نہیں۔ امریکااوراہلِ مغرب اس ذہنی و نفسیاتی و جذباتی تقسیم کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ امریکا اور ایران میں غالبا کوئی باقاعدہ مفاہمت نہیں ہے مگر سوئے اتفاق سے دونوں قوتیں تاریخ کے ایک ہی صفحے پر لاکھڑی کی گئی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ڈپلومیسی میں بہرحال اہلِ فارس بہت آگے ہیں۔ اس کی شہادت آئے دن کے حالات و واقعات دے رہے ہیں۔ سعودی عرب کے حکمراں خاندان میں اِن دنوں جو ٹوٹ پھوٹ اور محلاتی کشمکش جاری ہے،اس سے ملک اور حکمراں طبقے کا داخلی استحکام بری طرح متاثر ہو گا۔ آلِ سعود کی حکومت اب تک باہمی اتفاق و اتحادکے پائے پر کھڑی تھی۔ اگر یہ پایہ کمزور ہو گا تو پورا محل ضعف و انہدام کے خطروں سے دوچار ہو جائے گا۔ ایسے میں استعماری قوتوں کیلئے اپنے من مانے فیصلے کروانا آسان ہو جاتا ہے۔ فی الوقت تو آلِ سعود کا حال وہی ہے، جو مغلوں کی حکومت کے آخری سو سالوں میں ہوا تھا کہ فرنگیوں سے ساز باز کر کے ولی عہد اور بادشاہ تبدیل کروائے جاتے تھے۔ دو عشروں سے، مغرب کی دانش گاہوں اور پالیسی سازی کے مراکز میں دو مسلم اقوام سے ہمدردی کا مروڑ اٹھ رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دو قومیں ایسی ہیں، جنہیں ممالک دستیاب نہیں حالانکہ وہ اپنے لیے الگ الگ ریاستیں بنانے کا پورا استحقاق رکھتی ہیں۔ یہ دو مسلم قومیں'' کرد''اور ''بلوچ ''ہیں۔ ایک طرف کردستان کی پیدائش کیلئے زمین ہموار کی جارہی ہے تو دوسری طرف بلوچستان کیلئے جوڑ توڑ زوروں پر ہے۔ پہلے مشن کیلئے اسرائیل کو اسائنمنٹ دیا گیا ہے، اور دوسرے کی ذمہ داری بھارت کے سپرد کی گئی ہے۔ بیک وقت دونوں پر کام جاری ہے لیکن زیادہ تیزی کردستا ن کے معاملے میں دکھائی جارہی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ترکی، شام، عراق، ایران بری طرح متاثر ہوں گے۔ جبکہ گریٹر بلوچستان کے مشن کا ہدف پاکستان، ایران اور افغانستان کو کٹ ٹو سائزکرنا ہے لیکن فی الحال ان کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان کی فوج ہے۔ سعودی عرب، اپنے اثاثے بیچنے کا اعلان کر چکا ہے۔ اپنے بجٹ کے خسارے پورے کرنے کیلئے اپنا زرِ محفوظ پہلے ہی استعمال کرنا شروع کر چکا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ نیز ایک بہت بڑا پراجیکٹ نیوم (NEOM)کے نام سیاردن،مصراور اسرائیلی سرحد کے قریب شروع کرنے والا ہے۔ تبوک میں ٠٠٥٦٢ اسکوائرکلومیٹر پر مشتمل یہ ایسا سعودی عرب ہو گا، جہاں سعودی عرب کی اقدار و روایات اور شرعی قوانین کا داخلہ ممنوع ہو گا۔ یہ پراجیکٹ مکمل ہو سکے گا یا نہیں، یہ بتانا دشوار ہے البتہ اس کے نام پر پٹرول کی دولت، پانی کی طرح بہے گی اور بہہ کر مغربی استعماری معیشت کا حصہ بنے گی۔ بہت اہم بات جاننے اور سمجھنے کی یہ بھی ہے کہ اِس وقت آٹھ مسلم ممالک، اپنا وجود عملا کھو چکے ہیں۔ وہ صرف اٹلس پر نظر آتے ہیں۔ حقیقتا وہ نان ایگزسٹنٹ ہیں یا ناکام ریاستیں اوروہ ہیں: افغانستان، عراق، شام، لبنان، یمن، لیبیا، صومالیہ اور مالی۔اگر اِس فہرست میں سعودی عرب، ترکی، تیونس، نائیجیریا، الجزائر یا کسی کا بھی اضافہ ہو جائے، تو دین و ملت کو کیا فائدہ پہنچے گا؟؟؟

صورتحال پرہم اپنے غصے یا فرسٹیشن کا اظہار ضرور کریں مگر احوالِ جہاں اپنے اِرد گِرد کے زمینی حقائق اور چاروں طرف پھیلی بارودی سرنگوں کو بھی پیشِ نظر رکھیں۔ اِنہیں ہرگز نظر انداز نہ کریں۔ ہم سب کی کوشش ہونی چاہیے کہ سب سے پہلے تو اپنی شریانوں سے بہتے لہو کو روکیں، اپنے کمروں اور باورچی خانے سے اٹھتے شعلوں کو سرد کریں اور اپنے ملکوں کو بطور پنچنگ بیگ(Punching Bag) استعمال نہ ہونے دیں۔ یاربّ ِ کریم!ہم پر، اپنے کمزور بندوں پراپنے نام لیوا بے عمل اور بدعمل مسلمانوں پر،اب رحم فرما، کرم فرما،راہِ نجات دِکھا،اس پر چلنے ہی کی نہیں، چلانے کی بھی صلاحیت و فراست، عزم و ہمت اور سلیقہ و توفیق دے۔ آمین، یا ارحم الرٰحمین !


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved