ایک عظیم پاکستانی کی یاد میں
  21  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) قائد اعظم نے پاک فضائیہ کے، جسے اس وقت رائل پاکستان ایئر فورس کہا جاتا تھا، ایک یونٹ سے اپریل 1948میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: پاکستان کو جتنا جلد ممکن ہوسکے اپنی فضائیہ کی تشکیل کرنا ہوگی۔ اسے انتہائی اہلیت کا حامل فورس بننا ہوگا جو اپنی قابلیت میں کسی سے پیچھے نہ ہو اور پاکستان کے دفاع میں بری و بحری افواج کے ساتھ اپنا درست مقام حاصل کرنا ہوگا.....لیکن طیاروں اور افراد کی کوئی بھی تعداد زیادہ کار گر نہیں ہوگی جب تک فضائیہ میں مل کر کام کرنے کا جذبہ اور نظم و ضبط کا گہرا احساس پیدا نہیں ہوجاتا۔ میرے نزیک یہ بات یاد رکھنا آپ کی ذمے داری ہے کہ نظم و ضبط اور خود انحصاری ہی سے رائل پاکستان ایئر فورس پاکستان کے لیے قابل قدر اثاثہ بن سکتی ہے۔'' قائد کا یہ فرمان اصغر خان کی زندگی کا نصب العین رہا۔ فضائیہ میں اصغر خان دوسری عالمی جنگ میں خدمات انجام دینے والے قدرے نئے یونٹ میں شامل ہوئے تھے۔ پاک فضائیہ میں اپنی ذمے داریاں دی سنبھالنے کے بعد انہوں نے اسے دنیا کی بہترین جنگجو فضائیہ بنایا، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کی بلندیوں پر پہنچایا اور جب 1965میں یہ فورس طیاروں اور جنگی وسائل کے اعتبار سے برتری رکھنے والی قوت کے مقابل آئی تو اس نے خود کو بابائے قوم کے فرمودات کے مطابق ثابت کردکھایا۔ پی اے ایف کا شمار پیشہ ورانہ اہلیت اور جنگی صلاحیتیں رکھنے والی بہترین فورسز میں ہوتا ہے۔ قائد اعظم اگر آج ہوتے تو انہیں ضرور اس فورس پر فخر ہوتا اور یہ اطمینان بھی کہ ستر برس پہلے وہ اس ملک کے لیے جو لائحہ عمل چھوڑ کر گئے تھے ان میں سے کم از کم اس ایک پر تو مکمل عمل درآمد ہوا۔ اصغر خان بے باکی کے ساتھ اپنے اصولوں پر قائم رہنے والے کامیاب لوگوں میں سے تھے۔ انہوں نے پاک فضائیہ اور بعدازاں پی آئی اے میں ترقیوں اور تعیناتیوں میں میرٹ پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ وکی پیڈیا کے مطابق''انہوں نے کلیدی عہدوں پر، خصوصاً جنگی یونٹس میں، انتہائی قابل افراد کی تعیناتی یقینی بنائی۔'' اپنے پورے دور میں انہوں نے اپنے لیے متعین کردہ اصولوں اور روایات سے کبھی انحراف نہیں کیا، اپنے مقام و مرتبے سے کبھی کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا۔ وہ اس عہد کے لوگوں میں سے تھے جب روایات و اخلاقی قدروں کی پیروی پر یقین رکھتے تھے۔ آج اس کا رواج نہیں رہا اور یہ ایک نایاب وصف بن چکا ہے۔ اصغر خان 23جولائی 1965کو اس لیے ریٹائرڈ ہوگئے کہ فضائیہ کے سربراہ ہونے کے باوجود انہیں (بحریہ کے سربراہ کو بھی) ''آپریشن جبرالٹر'' سے لاعلم رکھا گیا۔ ایک اور انتہائی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہوا بازایئر مارشل نور خان نے ان کی جگہ لی اور اصغر خان کی تیار کردہ اس فورس کی کمان سنبھالی جس نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں ہمارا پلڑا بھاری رکھا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پی آئی کے سی ای او کے طور پر اصغر خان نے اسے منافع بخش ادارہ بنایا۔ بیڑے میں نئے طیارے شامل کیے، نئی پروازوں کا آغاز کیا اور کیبن کرو کے لیے نئی وردیاں متعارف کروائیں۔ حفاظتی معیارات کو بلند کرکے پی آئی اے میں حادثات کی شرح کو انتہائی کم کردیا، جلد ہی یہ ادارہ انتہائی منافع بخش ہوگیا اور اس کا شمار دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں ہونے لگا۔ نورخان نے پی آئی اے کا چیئرمین کے بعد یہ تسلسل قائم رکھا اور اسے بلاشبہ پی آئی اے کا سنہرا دور قرار دیا جاسکتا ہے جب یہ ادارہ اپنے سلوگن "Great People to Fly With!" پر پورا اترتی تھا۔ اس کے بعد اقربا پروری ، نااہلی اور بدعنوانی نے اس ادارے کو تباہ کردیا۔ آج پی آئی اے برسراقتدار آنے والوں کے مفادات حاصل کرنے کا ذریعہ بن چکی ہے اور سالانہ اربوں روپے خسارے کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ اس ادارے کا اب یہی مقصد ہے کہ اس میں غیر تعلیم یافتہ اور نااہل سیاسی موقع پرستوں کی بھرتیاں کی جاتی ہیں، جونک کی طرح جو اس سے چمٹے ہوئے ہیں۔ فوجی حکومت کے سخت مخالف اور شفافیت پر یقین رکھنے والے اصغر خان 1968میں پاکستانی سیاست میں داخل ہوئے اور مشرقی و مغربی پاکستان میں ایوب مخالف کئی مظاہروں اور مہمات کی سربراہی کی۔ انہوں نے جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کی بھی مخالفت کی اور احتجاجاً قومی اعزازات واپس کردیے۔ 1970میں تحریک استقلال کی بنیاد رکھی اور انتخابات میں حصہ لیا لیکن کوئی نشست حاصل کرنے میں کام یاب نہیں ہوئے۔ بھٹو دور میں وہ حزب مخالف کے نمایاں ترین رہنما تھے اور ان کی پارٹی پاکستان قومی اتحاد میں شامل تھی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں وہ 1979سے 1984تک نظر بند رہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انہیں ''ضمیر کا قیدی'' قرار دیا۔ ان کی سیاسی جدوجہد انہیں کبھی اقتدار کی راہ داریوں تک نہیں لے جاسکی۔ جولائی 2002میں اردشیر کاؤس جی نے لکھا تھا:'' پرانے وقتوں کا یہ انتہائی معزز افسر، کم وسائل رکھنے والا ایک دیانت دار انسان تھا جو غربت زدہ اور ناخواندہ عوام کی بہتری کا حقیقی معنوں میں آرزومند رہا۔ لیکن ملک میں جو ماحول اور فضا پیدا ہوچکی تھی اور اکثریت جو انداز فکر اختیار کرچکی تھی، بطور سیاست دان اصغر خان کے کام یاب ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔''انہوں نے انتہائی خلوص اور دیانت سے اس ملک کی خدمت کی اور اپنے اصولوں کی بھاری قیمت چکائی۔ پاکستانی سیاست میں اصولوں اور اخلاقیات کی علم برداری نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتی، اصغر خان اس کی مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

جب میں نے بریگیڈیئر تفضل صدیقی کے مشورے پر بریگیڈیئر اے آر صدیقی سے ڈیفنس جنرل خریدا تو یہ خیال میرے ذہن میں تھا کہ اس جریدے پر بطور سرپرست اعلیٰ کسی قابل احترام سابق فوجی افسر کا نام ہونا چاہے۔ جن سابق افسران کو میں اپنے لیے رول ماڈل تصور کرتا ہوں ان میں پی ایم اے میں میرے پلاٹون کمانڈر رہنے والے لیفٹیننٹ جنرل امتیاز اﷲ وڑائچ، لیفٹیننٹ جنرل لہراسب خان، لیفٹیننٹ جنرل علی قلی خان، میجر جنرل ہدایت اﷲ خان نیازی، بریگیڈیئر محمد تاج، اور کرنل ایس جی مہدی جیسے بے مثال افسران کے نام شامل ہیں، اس کے باوجود میرے خیال میں ایئر مارشل اصغر خان کا نام سب سے موزوں تھا۔ کرنل ایس جی مہدی کے ساتھ مشاورت کے بعد ایئر مارشل اصغر بطور سرپرست اعلیٰ اس جریدے پر اپنا نام شائع کرنے کے لیے آمادہ ہوئے۔ وہ دنیا سے رخصت ہوچکے لیکن ڈیفنس جنرل پر ان کا نام ہمیشہ جگمگاتا رہے گا اور وہ ہمارے درمیان موجود رہیں گے۔ (فاضل مصنف سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved