آنکھیں بے حیا' زبانیں بے لگام
  22  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

قاتل اعلیٰ' پاگل خان' مونچھوں والا بندر' پنڈی کا شیطان' یوٹرن خان'ڈاکو' چور'بازاری' ٹریکٹر ٹرالی' کوئی ان حکمرانوں اور سیاست دانوں سے پوچھے کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟ جب شائستگی اور تہذیب ہمارے سیاست دانوں سے منہ چھپانے پر مجبور ہو جائے تو سمجھ لیجئے کہ اس ملک میں سیاست دان نہیں بلکہ کوئی ''مافیا'' چھایا ہوا ہے... جو ''سیاست'' کے نام پر گالی گلوچ' ''سیاست'' کے نام پر الزام تراشیوں اور دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے کے عمل کو فروغ دے رہا ہے... اب تو بات ''لعنت'' ملامت تک آن پہنچی ہے سرعام ہزاروں کے اجتماع میں پارلیمنٹ پر لعنتیں بھیجی جارہی ہیں جبکہ پارلیمنٹ کے اندر حکمران پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے والوں کو انتہائی نازیبا لفظوں سے نواز رہے ہیں۔ یہ تو ہوگئی چوٹی کے سیاست دانوں' حکمرانوں اور قائدین کی باتیں' اب آتے ہیں ان کے فالورز کی طرف سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے قائدین اور ان کی بیوی بچوں کے حوالے سے اس قدر گھٹیا اور لچر پوسٹیں کی جاتی ہیں کہ پناہ بخدا! مخالف سیاست دانوں کی گھروں میں بیٹھی ہوئی عفت مآب بیٹیوں اور بیویوں تک کو معاف نہیں کیا جاتا اور اس حمام میں کیا مذہبی' کیا غیر مذہبی' کیا سیکولر اور کیا لبرل سب ہی ننگے ہیں' پاکستان ایک مذہبی اور نظریاتی ملک ہے... پھر یہ غیر نظریاتی قسم کا سیاسی مافیاء یہاں پر کہاں سے در آیا ہے؟ ایک نظریاتی اسلامی ریاست کے سیاست دانوں اور حکمرانوں کی حرکتیں دیکھ اور گفتگو سن کر عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اگر ''سیاست'' اس کا نام ہے تو پھر ''غلاظت'' اور عامیانہ پن کس بلا کا نام ہوگا؟ کبھی ''سیاست'' شرافت کا نام ہوتا تھا... ''سیاست'' شائستگی اور خدمت خلق کا نام قرار پاتی تھی... افسوس کہ آج ''سیاست'' دھوکا دہی' فریب' مکڑ' دجل' فراڈ اور گالی گلوچ کا نام بنا دیا گیا... چیئرمین سینٹ جناب رضا ربانی جیسے سیاسی مفکر کیا اس بات کا جواب دیں گے؟ یہ سب کیسے ہوگیا؟ ہر سیاست دان کو الیکشن جیت کر پارلیمنٹ میں پہنچنے کی جلدی ہوتی ہے ... لیکن جب وہ پارلیمنٹ میں پہنچتے ہیں تو پھر 5سال تک برف کی مانند ٹھنڈا ہو کر خوب گلچھرے اڑانا اپنا آئینی و قانونی حق سمجھتا ہے وہی شخص کہ جو کل تک ایک ایک درپہ جا کر ووٹ کی بھیک مانگتا تھا... ایم این اے یا ایم پی اے بننے کے بعد وہ سب سے پہلے اپنے ہی ووٹرز کے لئے فرعون بن جاتا ہے... کیا ایسے ''سسٹم'' کو جمہوری قرار دیا جاسکتا ہے؟ ابھی چند دن قبل لاہور مال روڈ پر متحدہ اپوزیشن کے نام پر جو سیاسی ''سرکس'' سجایا گیا اور پھر مختلف الخیال سیاست دانوں نے وہاں... جس لب و لہجے میں جو گفتگو کی... کیا اسے ''سیاسی'' گفتگو قرار دیا جاسکتا ہے؟ اپنی پارٹی کے اکلوتے قائد شیخ رشید نے جس طرح سے پارلیمنٹ پر ہزار بار لعنتیں بھیجیں... نواز شریف کو شیخ مجیب الرحمن اور مریم نواز کو حسینہ واجد قرار دیا... کیا یہ ''سیاست'' ہے؟ جناب طاہرالقادری حسب روایت لفظوں کی شکل میں مخالفین پر شعلے برساتے نظر آئے... بوٹی' بوٹی کرنے' کپڑے تار تار کرنے اور جاتی امرارء کی اینٹ سے اینٹ بجا دینے کی دھمکیاں دینا کیا یہ ''سیاست'' ہے؟ رانا ثناء اللہ یا خواجہ آصف حکومت مخالف سیاست دانوں کے لئے جو الفاظ استعمال کرتے ہیں کیا اسے ''سیاست'' قرار دیا جاسکتا ہے؟ ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو... ''سیاست'' اور فساد کے بیچ میں تھوڑا سا فاصلہ بھی رکھنا چاہیے ''فساد'' پر سیاست کی مہر لگا کر نفرتوں کو عام کرنے والے سیاست دان نہیں بلکہ ''فساد ستان'' کہلائے جانے کے زیادہ مستحق ہیں'جب اپنے آپ کو قائد' لیڈر اور بڑا سیاست دان سمجھنے والے... سرعام دوسروں کو گالیاں دیں گے 'مخالفین کے کپڑے پھاڑنے اور ان کی تکا بوٹی کرنے کی دھمکیاں دیں گے تو پھر ان کے نچلے درجے کے کارکنان کا مخالفین کے حوالے سے لب و لہجہ اور طرز عمل کس قسم کا گھٹیا ہوگا یہ سوچ کر ہی جھرجھری سی آجاتی ہے۔ پاکستان کا سیاسی کلچر اس وقت جس غلاظت پن کا شکار ہے اگر اس کی درستگی کی طرف توجہ نہ دی گئی تواس بدبودار کلچر کے نتیجے میں بننے والی حکومتیں سوائے امریکہ کی غلامی کرنے کے اور کچھ نہ کر پائیں گی۔ کوئی سیکولر یا لبرل دانشور بتا سکتا ہے کہ ہمارے چوٹی کے سیکولر اور لبرل سیاست دانوں کی زبانیں... اتنی بے لگام کیوں ہیں کہ پہلے انڈین فلمیں بچوں کے ساتھ بیٹھ کر دیکھتے ہوئے شرم سی محسوس ہوتی تھی... اور اب ان بے لگام سیاست دانوں کی ... تقریریں بھی گھر والوں کے ساتھ بیٹھ کر سنتے ہوئے شرم آتی ہے' سب سے بڑے مجرم تو وہ الیکٹرانک چینلز ہیں کہ جو اوئے' توئے' دشنام طرازیوں' دوسرے انسانوں پر توہین آمیز پھبتیاں کسنے والوں اور گالم گلوچ کرنے والوں کے جلسے اور تقریریں لائیو نشر کرکے پورے معاشرے کو نفرتوں سے آلودہ کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ عمران خان کہتے ہیں کہ ''پارلیمنٹ'' کے لئے ''لعنت'' کا لفظ چھوٹا ہے جو لفظ کہنا چاہتا تھا وہ اس سے زیادہ سخت ہے'' سوال یہ ہے کہ ''لعنت'' سے بڑھ کر اور کون سا لفظ ہوسکتا ہے؟ کہ جو عمران خان پارلیمنٹ کے خلاف استعمال کرنا چاہتے تھے باوجود اس کے کہ شاہ محمود قریشی سمیت ان کے اپنے درجنوں ساتھی بھی پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں موجود رہتے ہیں... پاکستان کاسیاسی کلچر کبھی بھی قابل رشک تو نہیں رہا... لیکن سیاست دانوں کی آنکھ اور زبان بہرحال حیاء کی آئینہ دار ہوا کرتی تھی' شاید یہ بھی جدید دور کی عنائت ہے کہ آنکھوں سے حیاء کا مادہ نکلا تو زبانیں بھی بے لگام ہوگئیں...اناللہ وانا الیہ راجعون


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved