رائو انوار' گل سڑے نظام کا مکروہ چہرہ
  23  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

کسے معلوم نہ تھا کہ رائو انوار وردی اور قانون کی آڑ میں … بے گناہ نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں مار کر … دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹ رہا ہے؟ جس طرح آصف علی زرداری' میاں نواز شریف ' عمرا ن خان اور دیگر بعض سیاست دانوں کی اولادیں اور جائیدادیں دبئی' لندن اور امریکہ میں پائی جاتی ہیں … بالکل اسی طرح قانون کے نام پر دھبہ بننے والے اس پولیس افسر نے بھی اپنے بیوی بچوں کو دبئی میں سٹیل کررکھا ہے … یہ ہفتے میں کتنی مرتبہ دبئی کے دورے کرتا تھا …؟ اور مہینے کے کتنے دن دبئی میں گزارتا تھا؟ آئی جی کراچی ' وزیر اعلیٰ سندھ… آصف علی زرداری' بلاول زرداری اور وزیر داخلہ سندھ … کیا اس سے لاعلم تھے؟ کسی نے کبھی بھی اس نکتے پر غور کرنے کی زحمت گوارا کیوں نہ کی … کہ آخر ایک درمیانے درجے کے پولیس آفیسر کے پاس اس قدر دولت کہاں سے آتی ہے کہ اس کا خاندان نہ صرف دبئی میں سٹیل ہے بلکہ ہر ہفتے وہ خود بھی دبئی کے سفر پر ہوتا ہے؟ یہ تو مقتول نقیب اللہ محسود … خوش پوش' اسٹائلش اور کھلنڈرا نوجوان تھا جس کی خواہش ''ماڈل'' بننے کی بھی تھی … وہ اپنی خوبصورت تصویریں سوشل میڈیا پر ہی ڈالتا رہتا تھا اس کے چہرے پر نہ قبائلیوں کی طرح گھنی داڑھی تھی اور نہ ہی سر پر بھاری پگڑی' شاید یہی وجہ ہے کہ رائو انوار جیسے درندے کے ہاتھوں … جب نقیب اللہ محسود کے جعلی مقابلے میں مارے جانے کی خبریں منظر عام پر آئیں تو سوشل میڈیا کی دنیا میں کہرام مچ گیا اور پھر موم بتی مافیا کے لبرل اور سیکولر بھی اس جعلی مقابلے کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے … سوشل میڈیا پر ہونے والے احتجاج پر مجبوراً وزیر اعلیٰ کو ثناء اللہ عباسی کی قیادت میں انکوائری کمیٹی بنانا پڑی۔ نقیب اللہ محسود کی ہلاکت پر چیف جسٹس کو بھی ازخود نوٹس لینا پڑ گیا … اگر خدانخواستہ نقیب اللہ محسود کے چہرے پر گھنی داڑھی' سر پر بھاری پگڑی ہوتی… اگر نقیب اللہ کا تعلق کسی مدرسے ' کسی مسجد یا کسی جہادی تنظیم سے ثابت ہو جاتا تو پھر نہ سوشل میڈیاپر آواز اٹھتی … نہ موم بتی مافیا متحرک ہوتی … نہ وزیر اعلیٰ سندھ کو نوٹس لینا پڑتا … اور نہ ہی چیف جسٹس ازخود نوٹس لینے پر مجبور ہوتے' نہ نجی چینلز کے اینکرز کو اس پر پروگرام کرنا پڑتے ' نہ اخبارات نقیب اللہ کے مظلومانہ قتل پر ایڈیشنز شائع کرتے اور نہ ہی کالم نگار لکھتے … بلکہ گھنی داڑھی اور بھاری پگڑی کی وجہ سے رائو انوار نقیب اللہ کا تعلق کسی داعش' لشکر یا کالعدم جہادی تنظیم سیبتا کر نہ صرف اس سے لوٹی گئی رقم ہضم کرچکا ہوتا … بلکہ ایک ''دہشت گرد'' کو مارنے کی وجہ سے میڈیا سے بھی داد و تحسین سمیٹ لیتا۔ 3 جنوری2018 ء کو رات دس بجے نقیب اللہ' الاآصف اسکوائر کے ایک ہوٹل میں بھاری رقم کے ساتھ موجود تھا … کپڑے کے کاروباری لین دین کی وجہ سے رقم اس کے پاس موجود تھی … بھاری رقم کی بو سونگھتے ہوئے رائو انوار کی خصوصی ٹیم کے باوردی بدمعاش اسے اٹھا کر لے گئے … نقیب اللہ کے لاپتہ ہونے کی خبر جیسے ہی اس کے رشتہ داروں تک پہنچی تو انہوں نے رائو انوار پر اس کی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کی' مگر ''نقیب اللہ'' کی بھاری رقم ہضم کرنے والے باوردی درندے نے اس کی رہائی کے لئے مزید رقم کا مطالبہ کر دیا … اس سے پہلے کہ نقیب اللہ محسود کے غریب رشتہ دار رقم کا بندوبست کرتے … رائو انوار نے اپنی مخصوصی ''حیوانی'' جبلت کے تحت ٹی ٹی پی کمانڈر قرار دے کر گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ نقیب اللہ محسود … رائو انوار کا پہلا شکار نہ تھا … بلکہ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق تو کہتے ہیں کہ اس کے دامن پر 424 بے گناہ نوجوانوں کا خون ہے … یہ خاکسار تو گزشتہ سال اپنے دوست مولانا پیر نصیر الدین عثمانی کے ہمراہ سٹیل ٹائون سے آگئے … نیشنل ہائی وے کے دائیں بائیں… کچی گوٹھوں کی ان جھاڑیوں اور گڑھوں ' ٹبوں کا دورہ بھی کرچکا ہے کہ جہاں نقیب اللہ جیسے معصوم نوجوانوں کو ٹی ٹی پی اور کالعدم تنظیمو ں کے دہشت گرد قرار دے کر … تڑپا ' تڑپا کر یہ د رندہ مارا کرتا تھا۔ بقول سراج الحق رائو انوار نے جعلی پولیس مقابلوں میں چار سو سے زائد نوجوانوں کو مارا 'مگر ہر قتل کے بعد اس کی دولت اور اختیارات میں اضافہ ہوتا رہا … ذمہ دار ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ''رائو'' انوار … آصف علی زرداری کا بندہ خاص تھا … جعلی مقابلوں میں انسانوں کو مار کر اپنی دولت اور رینک بڑھانے والا یہ خونی درندہ وردی کی آڑ میں … کراچی کی مائوں کی گودیں اجاڑتا رہا … مگر جمہوریت زدہ سندھ کے حکمران ہوں … وفاق کے حکمران ہوں … یا دیگر بالادست طبقے وہ یہ سب کچھ ہوتا ہوا کھلی آنکھوں سے دیکھتے رہے' ساری دنیا جانتی ہے کہ رائو انوار پر جعلی پولیس مقابلے کرنے کا یہ الزام کوئی پہلی مرتبہ تو نہیں لگا 'بلکہ اس کی سروس کے دوران کئی مرتبہ ان پر لگ چکا ہے 'مگر کسی ادارے کو توفیق نہ ہوئی کہ یہ اس ''درندے'' کے خلاف شفاف تحقیقات کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرے۔ ایس ایس پی ملیر رائو انوار نے جعلی مقابلوں کے لئے خونی درندوں پر مشتمل پوری ایک ٹیم بنا رکھی تھی … یہ خبریں بھی گردش میں رہیں کہ نوجوانوں کواٹھا کر ان پر داعش' لشکر' کالعدم جہادی تنظیموں کا الزام عائد کرکے … ان کے والدین سے رہائی کے عوض لاکھوں روپے وصول کرنا اس کا مضبوط ''کاروبار'' تھا۔ ''ڈیل'' نہ ہوسکنے کے باعث نوجوانوں کو گولی مارنا اس کا من پسند کھیل تھا … مگر برس ہا برس سے رائو انوار معطل بھی ہوتا رہا … اپنے عہدے سے بھی ہٹایا جاتا رہا مگر اس کے باوجود اپنی من پسند جگہ پر پہلے سے بھی زیادہ اختیارات کے ساتھ تعینات بھی رہا۔

کیا ''رائو انوار'' ان سارے جعلی مقابلوں میں تن تنہا ملوث تھا؟ رائو انوار کہ جس کو قانون کے نام پر دھبہ اور کراچی کے عوام کے لئے ایک خونخوار درندہ قرار دے دیا جائے تو یقینا غلط نہ ہوگا … اس قدر طاقتور کیسے ہوگیا کہ … وہ کسی عدالت' کسی ''قانون'' کو ہی خاطر میں لانے کے لئے تیار نہیں ہے … کراچی ' سندھ اور پاکستان کے بھولے بھالے لوگو! سوچہ … غور کرو کہ کہیں تمہارے ''ووٹ'' لے کر منتخب ہونے والوں میں سے کوئی اس کے پیچھے تو نہیں؟


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved