قادیانیت کے حوالہ سے سرکاری پالیسیوں کا یکساں تسلسل
  23  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

قادیانی مسئلہ کے بارے میں راقم الحروف کا پینتیس سال قبل کا ایک مضمون یاددہانی کے طور پر قارئین کی خدمت میں دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے جو ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے دسمبر کے شمارے میں قادیانی مسئلہ: صدر کی وضاحت اور اس کے عملی تقاضے کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ اس سے قادیانیت کے حوالہ سے سرکاری پالیسیوں کے یکساں تسلسل کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ نومبر کو شیرانوالہ لاہور میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی دعوت پر ملک کے تمام مذہبی مکاتب فکر کے سرکردہ نمائندوں کا ایک اجلاس حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی زیرصدارت منعقد ہوا جس میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ اکابر کے علاوہ جماعت اسلامی کے ذمہ دار حضرات بھی شریک ہوئے۔ اور اس میں چودہ رکنی کنویننگ کمیٹی قائم کر کے اسے مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کی تشکیل و تنظیم کے لیے عملی اقدامات کی ذمہ داری سونپی گئی اور نومبر کو لاہور میں کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کی تشکیل اور کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس کے انتظامات کے سلسلہ میں گفت و شنید اور اقدامات کا سلسلہ جاری تھا کہ نومبر کو کراچی میں مولانا ولی رازی کی تصنیف ہادی عالمۖ کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت جنرل محمد ضیا الحق نے اپنے بارے میں بعض حلقوں کی طرف سے قادیانی ہونے کے پراپیگنڈے کا نوٹس لیا اور قادیانیت کے بارے میں اپنے جذبات و اعتقادات کا پہلی بار کھل کر اظہار کیا۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ میرے والد محترم کا نام محمد اکبر علی تھا، ان کی تمام زندگی قادیانیوں کے ساتھ مخالفت میں گزری۔ وہ کہا کرتے تھے کہ یہ فتنہ انگریزوں نے کھڑا کیا تھا۔ میں انہی کا بیٹا ہوں اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اسے کافر نہ کہوں۔ میرے نزدیک اگر کافر سے بھی بڑی کوئی چیز ہے تو نبوت کے جھوٹے دعویدار کو وہ بھی کہنے کے لیے تیار ہوں۔ صدر نے یہ بھی کہا کہاگرچہ میں گنہگار ہوں لیکن مسلمان ہوں۔ رسول اکرمۖکو نبی آخر الزماں سمجھتا ہوں، ان کے بعد جو شخص بھی دعوائے نبوت کرے یا کہے کہ میں مہدی ہوں وہ میرے نزدیک کافر ہی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ ہے۔ صدر نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہایک دوست میرے پاس آئے اور کہا کہ آپ ایک بیان دے کر اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے ختم کیوں نہیں کر دیتے۔ اس پر میں نے کہا کہ اگر آپ مجھے یقین دلا دیں کہ اس بیان کے بعد یہ سوال نہیں اٹھے گا تو میں اخبارات میں ایک صفحے کا اشتہار اپنے خرچ پر چھپوانے کو تیار ہوں کہ میں قادیانیوں پر لعنت بھیجتا ہوں۔ (بحوالہ روزنامہ جسارت کراچی ۔ نومبر ) صدر جنرل محمد ضیا الحق کی اس دوٹوک اور پرجوش وضاحت کے بعد ان کی ذات کے بارے میں شکوک و شبہات کی وہ دھند چھٹ گئی ہے جو بعض حلقوں کے مسلسل پراپیگنڈے کی وجہ سے فضا پر اثر انداز ہوگئی تھی۔ اور اب کسی شخص یا طبقے کے پاس اس امر کی کوئی قانونی، شرعی یا اخلاقی گنجائش باقی نہیں رہ گئی کہ وہ صدر موصوف کی ذات کا تذکرہ قادیانیت کے حوالے سے کرے یا شکوک و شبہات کے نت نئے نکتے پیدا کرنے کا تکلف روا رکھے۔ لیکن صدر ضیا کی اس وضاحت کا قادیانی مسئلہ کی مجموعی صورتحال پر کیا اثر پڑا ہے اور مرکزی مجلس عمل ختم نبوت کو اپنی صف بندی اور طریق عمل کے تعین کے لیے اب کیا رخ اختیار کرنا ہوگا، اس مسئلہ کا ٹھنڈے دل کے ساتھ جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہم نے صدر ضیا کو ذاتی طور پر نہ کبھی قادیانی سمجھا ہے اور نہ کہا ہے بلکہ ہمارے کسی مخدوم و محترم بزرگ نے کسی مرحلہ میں اگر اپنی ذاتی رائے کے طور پر اس امر کا اظہار بھی کیا ہے تو ہم نے اس بات سے بلاجھجھک اختلاف کیا ہے۔ ہمارا موقف شروع سے یہ رہا ہے کہ کسی مسلمان کو محض ظاہری قرائن و شواہد کے حوالے سے قادیانی قرار دینا درست نہیں ہے۔ البتہ ہم نے یہ ضرور کہا ہے کہ جب ایک مسلمان ملک کے سربراہ کے بارے میں کھلے بندوں اس قسم کے شکوک و شبہات کا اظہار کیا جارہا ہو تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی پوزیشن کی وضاحت کرے۔ ہمارے نزدیک قادیانی مسئلہ کی بات کو صدر کی ذات کے حوالے سے کرنا ہی غلط تھا۔ بات سرکاری پالیسیوں اور اصولوں کی تھی اور اسے اسی حوالے سے سامنے آنا چاہیے تھا تاکہ ذات کا مسئلہ وضاحت کے عمل سے گزر جانے پر اصول اور پالیسی کی بات کمزور نہ پڑ جائے۔ مگر ہمارے بعض پرجوش بزرگوں نے ذات کو ہدف بنانا ضروری سمجھا اور اس موقف پر اس قدر شدت اختیار کی کہ یہ ہدف سامنے سے ہٹ جانے پر بھی ان کا ذہن صورتحال کی اس تبدیلی کو قبول نہیں کر رہا۔ جہاں تک قادیانی مسئلہ کی مجموعی صورتحال اور صدر ضیا الحق کی حکومت کی پالیسیوں کا تعلق ہے ہمیں یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ ملتِ اسلامیہ اور قادیانی امت کے تقابل میں حکومت کی مجموعی پالیسیوں کا وزن قادیانیوں کے پلڑے میں جاتا ہے۔ اور گزشتہ چھ برس میں قادیانیت کے حوالے سے مسلسل ایسے واقعات ہوئے ہیں جن سے قادیانی گروہ کی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے، ان کے حوصلے بڑھے ہیں جس سے مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے۔ اور یہی شکوک و شبہات بالآخر اس مفروضے کی تخلیق کی بنیاد بنے ہیں جس کی تردید و وضاحت میں صدر ضیا الحق کو مذکورہ بالا بیان دینا پڑا ہے۔ صدر موصوف کو قادیانی قرار دینے میں ایسا کرنے والوں کے ذہنوں کی شدت اور سیاسی عوامل بھی یقینا کارفرما ہوں گے لیکن ان سے کہیں زیادہ اس میں صدر موصوف کی حکومت کی ان پالیسیوں کا دخل ہے جو گزشتہ چھ برس سے قادیانیت کے حوالے سے سامنے آئی ہیں اور اگر ان پالیسیوں اور اقدامات کے تسلسل کو خود صدر محترم ایک عام شہری کی نظر سے دیکھیں گے تو ان کا راہوارِ فکر بھی یقینا اسی راہ پر دوڑے گا جو تھوڑی دور چل کر انسان کو شکوک و شبہات کی دلدل سے دوچار کر دیتا ہے۔ اس مرحلہ پر ہم یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ قادیانیت کے سلسلہ میں ضیا حکومت کی مجموعی پالیسی پر ایک نظر ڈال لی جائے اور قادیانیت کے حوالے سے سرکاری اقدامات کے تسلسل کو سامنے رکھ لیا جائے تاکہ قادیانی مسئلہ کے بارے میں مرکزی مجلس عمل کے موقف، ہدف اور طریق کار کے تعین میں کوئی الجھا باقی نہ رہے۔ آئینی فیصلہ پر عملدرآمدصدر ضیا جولائی میں برسرِ اقتدار آئے تھے اور ان کا مسندِ اقتدار پر فائز ہونا نتیجہ تھا اس بے مثال تحریک کا جس میں پاکستان کے عوام، علما، طلبا، وکلا، تاجروں، خواتین، محنت کشوں اور دیگر تمام طبقوں نے ظلم و جبر کے تاریک دور سے نجات اور نظامِ مصطفی ۖ کے نفاذ کے جذبے سے قربانیاں دیں۔ ہزاروں نوجوانوں نے خون کا نذرانہ پیش کیا اور لاکھوں جیالوں نے جیلوں کی کال کوٹھڑیوں کو آباد کیا۔ پردہ دار خواتین نے اپنے آنچلوں کو تحریک نظامِ مصطفی ۖ کا پرچم بنا کر ایثار و قربانی کی تاریخ میں نیا باب رقم کیا اور علما نے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملتِ اسلامیہ کی متحدہ اور جرات مندانہ قیادت کی۔ اس عظیم الشان تحریک کے نتیجے میں جب صدر ضیا نے برسرِ اقتدار آکر انتخابات کرانے اور اسلامی نظام نافذ کرنے کا وعدہ کیا تو پوری قوم نے جشن منایا اور مسرت و شادمانی کا برملا اظہار کیا۔ یہ ایک لازوال حقیقت ہے کہ پاکستان کے عوام کے لیے اسلامی نظام کا نفاذ اور عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہی ہر دور میں جذباتی اور حساس مسئلے رہے ہیں۔ (جاری ہے) ان مقاصد کے لیے پاکستانی عوام نے ہمیشہ مصلحتوں سے بالاتر ہو کر قربانیاں دی ہیں اور اسلام اور ختم نبوت نے جب بھی پکارا ہے، غیور مسلمانوں نے سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر سب کچھ نثار کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب صدر ضیا نے اسلامی نظام کے نفاذ کا وعدہ کیا تو پاکستانی عوام نے بجا طور پر ان سے یہ توقع باندھ لی کہ وہ اسلامی نظام کے ساتھ ساتھ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے دینی اور قومی مسئلہ پر بھی توجہ دیں گے، اور کے آئین میں ملتِ اسلامیہ نے کی عظیم الشان تحریک ختم نبوت کے نتیجہ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا جو فیصلہ شامل کرایا تھا اس پر عملدرآمد کی راہ میں سابقہ حکومت کی مصلحتوں کی دیوار ہٹ جائے گی اور یہ فیصلہ اپنے آئینی اور دینی تقاضوں کی تکمیل کی منزل سے ہمکنار ہوگا۔ مسلمانوں کو بجا طور پر یہ توقع تھی کہ:قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے آئینی فیصلوں کے مطابق اب قانون سازی کا کام مکمل ہوگا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم کی حیثیت قبول کرنے پر قانونا پابند کیا جائے گا۔انہیں اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی اشاعت سے روک دیا جائے گا۔ انہیں امیر المومنین، ام الممنین، خلیفہ، صحابی اور دیگر خالص اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے باز کر دیا جائے گا۔ ان کی عبادت گاہوں کا نام اور ہیئت مسلمانوں کی مسجد سے الگ کر دی جائے گی۔ اسلام کے اجماعی عقائد کے خلاف اور انبیا کرام اور صحابہ کرام و بزرگان امت کی کھلم کھلا توہین پر مشتمل قادیانی لٹریچر کی اشاعت پر پابندی لگا دی جائے گی اور ان کی سرگرمیوں کو دوسری اقلیتوں کی طرح عملًا غیر مسلم اقلیت کے دائرہ میں محصور کر دیا جائے گا۔ لیکن اسلامیانِ پاکستان کی یہ توقعات نقش بر آب ثابت ہوئیں اور نہ صرف یہ کہ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلہ میں موجودہ حکومت کا کوئی اقدام (چند جزوی اور وقتی اقدامات سے قطع نظر) ابھی تک سامنے نہیں آیا بلکہ اسلامی نظام کے نفاذ کے سلسلہ میں حکومت کے وعدے اور اقدامات بھی حکومت کی مصلحتوں اور بیوروکریسی کی اٹھکیلیوں کی نذر ہوگئے۔ بھٹو حکومت نے اگر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے آئینی فیصلے پر عملدرآمد کی راہ میں مصلحتوں کی دیوار حائل کر دی تھی تو اس کی وجہ سمجھ میں آتی تھی کہ وہ خود نفاذِ اسلام کے دعویدار نہ تھے اور نہ ہی اب ان کی جماعت اسلام کی دعویدار ہے۔ وہ تب بھی سوشلزم کی بات کرتے تھے اور آج بھی اسی حوالے سے سیاست کا ناٹک رچا رہے ہیں۔ اس میں انہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے نہیں بلکہ عوام کے بے پناہ دبا کے تحت کیا تھا۔ اس لیے اگر انہوں نے اس فیصلہ پر عملدرآمد کی طرف پیش رفت نہیں کی تو یہ بات پاکستانی مسلمانوں کے لیے زیادہ پریشانی کا باعث نہ تھی۔ مگر جب اسلام کی دعویدار اور اسلام کو اپنا مشن قرار دینے والی حکومت نے ختم نبوت کے تحفظ کے آئینی و قانونی تقاضوں کو نظر انداز کر دیا تو اس کا مسلمانوں کو صدمہ پہنچا، دکھ ہوا اور یہی صدمہ اور دکھ دھیرے دھیرے حساس دلوں کو شکوک و شبہات کی وادی میں لے گیا۔ مارشل لا کے ضابطے اور قادیانی پریس مارشل لا حکومت جب برسرِ اقتدار آئی تو اس نے پریس پر سنسرشپ نافذ کر دی اور اخبارات و جرائد اور کتابوں پر سنسر کے قواعد کا اطلاق کیا۔ لیکن امر واقعہ ہے کہ قادیانی اخبارات و جرائد، کتابیں و رسائل اور دیگر مطبوعات اب تک سنسر کی گرفت سے دور ہیں۔ دینی حلقوں کے مسلسل مطالبہ پر کچھ دنوں کے لیے روزنامہ الفضل اور ان کے چند ماہناموں پر سنسر بٹھا دیا گیا مگر اس کی گرفت بھی ڈھیلی پڑ گئی۔ جبکہ اس کے برعکس ملک بھر میں سنسر کے قوانین کا سختی کے ساتھ اطلاق کیا گیا۔ متعدد اخبارات و جرائد بند ہوگئے، ڈیکلیریشن ضبط کر لیے گئے، سرکاری اشتہارات روک لیے گئے، مدیرانِ جرائد گرفتار ہوئے اور سنسرشپ کی گرفت کو قائم رکھنے کے لیے ہر حربہ آزمایا گیا مگر قادیانی اخبارات و جرائد ان تمام کاروائیوں سے مستثنی رہے۔ اکا دکا اور جزوی واقعات کے سوا قادیانی قلمکاروں اور ناشروں کو اس بات کا مکمل تحفظ حاصل ہے کہ وہ جو چاہیں لکھیں اور جو چاہیں چھاپیں، ان کے لیے کوئی قاعدہ ہے نہ قانون۔ اور اگر گزشتہ چھ برس کے دوران شائع ہونے والے قادیانی لٹریچر کی چھان بین کسی غیرجانبدار انکوائری ٹیم سے کرائی جائے تو ایسا بے پناہ مواد ریکارڈ پر آسکتا ہے جو سنسر قوانین کے سائے میں سنسرشپ کے تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے دھڑا دھڑ چھپتا اور تقسیم ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔ ووٹر فارموں کا حلف نامہ قادیانیت کے حوالے سے موجودہ حکومت کو اگر کسی اہم فیصلے کا کریڈٹ جاتا ہے تو وہ جداگانہ انتخابات کا فیصلہ ہے، یہ فیصلہ بلاشبہ قادیانیوں پر ضربِ کاری کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اگر اس فیصلہ پر مخلصانہ طور پر عمل ہو جاتا یا اب بھی اس کا اہتمام ہو جائے تو قادیانیوں کے لیے خود کو اقلیتوں کے کیمپ میں منتقل کرنے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہیں رہ جاتا۔ لیکن اس فیصلے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کیا کیا حربے اختیار کیے گئے ان کی داستان انتہائی دلخراش ہے۔ انتخابات کے لیے ووٹروں کے اندراج کے لیے مسلمانوں کو حلف نامہ پر کرنا تھا جس میں عقیدہ ختم نبوت پر ایمان کے بارے میں آئینی فیصلے کے مطابق عبارت درج ہونا تھی۔ لیکن کروڑوں کی تعداد میں ووٹر فارم ملک میں پھیلا دیے گئے اور اس پر آئینی اور قانونی عبارت کی جگہ ایسا گول مول حلف نامہ درج کر دیا گیا جو قادیانیوں کے لیے قابل قبول تھا اور جس سے مسلمان اور قادیانی کے درمیان امتیاز نہ ہوتا تھا۔ یہ ایک چور دروازہ تھا جس کے ذریعے قادیانی بھی مسلمانوں والا فارم پر کر کے مسلمان ووٹروں کی فہرست میں شامل ہو جاتے اور انہیں غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ عملا بے اثر اور بے نتیجہ ہو کر رہ جاتا۔ اس پر احتجاج ہوا، مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر جماعتوں نے ملک کے طول و عرض میں اس پر احتجاج کیا اور سب سے بڑھ کر حضرت مولانا مفتی محمود نے اس مسئلہ کا سختی سے نوٹس لیا اور کافی تگ و دو اور ردوکد کے بعد بالآخر حلف نامہ کی عبارت کو درست کرایا گیا۔ قادیانی گروہ نے بیوروکریسی کے ذریعے کی جانے والی اس سازش کی ناکامی کے بعد ووٹروں کی فہرستوں میں اقلیت کے افراد کے طور پر اپنے نام لکھوانے سے انکار کر دیا اور اب تک وہ بائیکاٹ کے اس فیصلے پر قائم ہیں۔ مگر آئین اور قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور اس سے انکار کے باوجود ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی۔ کے آئین کی حذف شدہ دفعات موجودہ حکومت نے مبینہ طور پر بعض آئینی و قانونی تقاضوں کے پیش نظر کے آئین کی بعض دفعات کو آئین سے حذف کرنے کا اعلان کیا تو اس کی زد میں وہ دفعات بھی آگئیں جو میں تحریک ختم نبوت اور عوامی قربانیوں کے نتیجے میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی شکل میں آئین میں شامل کی گئی تھیں۔ اس پر پورے ملک میں احتجاج ہوا، لمبی چوڑی آئینی بحث ہوئی بالآخر حکومت کو مذکورہ بالا دفعات کے حذف کرنے کے بارے میں اپنے حکم نامے میں ترمیم کرنی پڑی۔ جس سے عام حلقوں میں تو کچھ اطمینان پیدا ہوا لیکن بعض آئینی ماہرین کی رائے میں اب بھی آئینی پوزیشن یہی ہے کہ قادیانیوں والا فیصلہ کے آئین کا حصہ نہیں رہا۔ عبوری آئین اور قادیانی مسئلہ'موجودہ حکومت نے نظام مملکت کو چلانے کے لیے عبوری آئین کا اعلان کیا جو ابھی نافذ ہے۔ اس آئین میں مسلمان کی تعریف کے حوالے سے عقیدہ ختم نبوت کا ذکر تو آگیا لیکن کے آئین کی جن دفعات میں قادیانیوں کا بطور غیر مسلم اقلیت ذکر تھا انہیں شامل نہ کیا گیا۔ اس پر دینی حلقوں کی طرف سے احتجاج ہوا اور مسلسل مطالبات پر بعد میں ان دفعات کو آئین میں شامل کیا گیا۔ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ'قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے تقاضوں میں ایک تقاضہ یہ بھی تھا کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ بڑھایا جائے تاکہ ہر شہری کا مذہب اس میں درج ہو اور کوئی الجھن پیدا نہ ہو۔ اس کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ سعودی عرب اور بعض دیگر اسلامی ممالک میں قادیانیوں کے داخلہ پر پابندی ہے لیکن پاسپورٹ اور شناختی کارڈ پر مذہب کا اندراج نہ ہونے کی وجہ سے قادیانی امت کے افراد دھوکہ دہی کے ذریعے وہاں جانے اور ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور جب اس ملک کے حکام سے رابطہ کیا جاتا ہے تو وہ برملا کہہ دیتے ہیں کہ یہ قصور آپ کی اپنی حکومت کا ہے کہ اس نے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ نہیں رکھا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہزاروں قادیانی مشرق وسطی میں ملازمت کر رہے ہیں اور ان کی ملازمت سے ہمیں سب سے زیادہ یہ خطرہ اور خدشہ ہے کہ مشرق وسطی کے تیل کے چشمے اس وقت عالمی طاقتوں کی کشمکش کی زد میں ہیں اور خطرات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں قادیانی گروہ جیسے انگریزوں کے پیدا کردہ جاسوس گروہ کے افراد کا اس علاقے میں ملازمتوں پر فائز ہونا اور مسلمانوں کے روپ میں وہاں موجود ہونا مسلمان ممالک اور حکومت کے لیے خطرہ ہی خطرہ ہے۔ حکوم%

صدر محمد ضیا الحق اور ان کے رفقا کو اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے اور ملت اسلامیہ کی شکایات پر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ قادیانی جارحیت کے خلاف ملت اسلامیہ کی متحدہ جدوجہد ناگزیر ہے، اس جدوجہد میں حکومت اپنا مقام خود متعین کرے، اسے ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانیوں کا فریق بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ اور اگر خدانخواستہ حکمرانوں نے اپنے لیے یہی رول پسند کر لیا ہے تو پھر عوامی اور دینی بیداری کی راہ تو بہرحال کسی طرح بھی نہیں روکی جا سکے گی البتہ اس کے نتائج و نقصانات کا اندازہ حکمران گروہ جتنی جلدی کر لے بہتر ہوگا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved