جعلی پولیس مقابلے
  24  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

مظلوم کا خون بولتا ہے... ظالم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو... رب کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا... فرزند زرداری 'بلاول زرداری کہتے ہیں کہ ... ''پولیس مقابلوں سے دہشت گردی ختم نہیں ہوسکتی... پاکستان بھر میں پولیس مقابلوں پر پابندی عائد کی جائے،، صاحبزادے کا یہ بیان اس بات کا اعتراف ہے کہ ... جعلی پولیس مقابلوں کے ذریعے انسانوں کو مارا جاتا رہا ہے... سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کا بیان بھی اخبارات کی زینت بنا ہے... وہ کہتے ہیں کہ ''سپریم کورٹ پنجاب میں بھی ہونے والے جعلی پولیس مقابلوں کا حساب لے... اس کا مطلب بڑا واضح ہے کہ صرف کراچی اور سندھ ہی نہیں... بلکہ لاہور اور پنجاب بھی جعلی پولیس مقابلوں کی آگ میں سلگ رہا ہے... بلاول زرداری... ابھی نوجوان ہیں... سچ بولنے کی ہمت پیدا کریں... اور قوم کو بتائیں کہ وردی پوش دہشت گرد رائو انور کی سرپرستی میں ان کے والد محترم کا نام ہی بار بار کیوں لیا جارہا ہے؟ یقینا صوبہ پنجاب میں بھی جعلی پولیس مقابلوں کی بازگشت سنائی دیتی رہی ہے... اور ''شریف '' برادران کے ادوار تو اس حوالے سے پوری اک سیاہ تاریخ رکھتے ہیں... سوال یہ بھی ہے کہ کیا جعلی مقابلے میں انسانوں کو مارنے والا... جعلی پولیس مقابلوں میں انسانوں کو مروانے والا... اور ان کی سرپرستی کرنے والے کو قانون پسند کہا جائے یا پھر دہشت گرد؟ ''پیغام پاکستان'' بیانیے کے مفتیان عظام... اس حوالے سے بھی روشنی ڈال سکیں... تو پورا ایک موضوع ان کا منتظر ہے؟ اس وقت کہ جہاں ایک طرف ریاست... پاکستانی فورسز پر حملے کرنے والے دہشتگردوں... فرقہ واریت پھیلانے والوں... اور جہاد و قتال کا نام لے کر بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والوں کے خلاف تمام مسالک کے جید علماء کا اکٹھ کرکے... ان کے خلاف ایک متفقہ فتوے اور بیانیے پر پوری قوم کو جمع کرنے کی کوششیں کر رہی ہے جوکہ انتہائی مستحسن عمل بھی ہے۔ وہاں اس بات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ قانون کی وردی پہن کر ... بے گناہ انسانوں کی جانوں سے کھیلنے والے اپنے ذاتی مفادات... اور تجوریوں کا جہنم بھرنے کے لئے جعلی پولیس مقابلے کرنے والے... قبضہ مافیاء کے اشاروں پر ان کے مخالفین کا قتل کرنے والے بھی قاتل اور دہشت گرد ہیں... ان کے خلاف بھی ریاستی اداروں کو ایک متفقہ بیانہ جاری کرکے ان کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے۔ سوال یہ بھی ہے کہ آخر کراچی کے لوگ... آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور آئی ایس آئی چیف سے یہ مطالبہ کرنے پر مجبور کیوں ہیں کہ رائو انور کے خلاف وہ ایک جے آئی تی تشکیل دے کر اس پر لگنے والے الزامات کی شفاف انکوائری کروائیں... اور اگر یہ مجرم ثابت ہو تو اسے کڑی سزا دی جائے۔اگر جعلی انکائونٹر اسپشلسٹ رائو انوار انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کی بجائے روپوشی میں چلا جائے تو اس کا مطلب بڑا واضح ہے کہ اس وردی پوش دہشت گرد پر ... کسی طاقتور ہاتھ کا سایہ ہے... رائو انوار جیسے درندے نہ عدالتوں کو کچھ سمجھتے ہیں اور نہ ہی اپنے سینئر ایماندار افسروں کو' اور پھر جب جمہوری حکمران خود یہی مافیاء والا روپ دھارے ہوئے ہوں... تو پھر... رائو انوار کو انصاف کے کٹہرے میں لانا مزید مشکل ہو جایا کرتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ کراچی کے دکھی اور مجروح دل عوام... خواہ وہ مہاجر ہوں' بلوچ ہوں' پنجابی ہوں یا پٹھان... سب ہی آرمی چیف کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ شاید ان کی مداخلت سے ہی... رائو انور قانون کے شکنجے میں آجائے... ایک دہشت گرد اور قانون پسند کے درمیان شاید یہی فرق ہوتا ہے کہ دہشت گرد اپنے آپ کو کسی قانون' کسی ضابطے... اور کسی اخلاقی یا سماجی قدروں کا پابند نہیں سمجھتا... اس لئے وہ جہاں موقع ملتا ہے... انسانوں پر حملہ آور ہو جاتا ہے ... لیکن قانون پسند ایسا نہیں کر سکتا... اسے ہر حال میں ''قانون'' کے جھنڈے کو سربلند رکھنا ہوتا ہے اور قانون کے رکھوالوں کی ذمہ داری تو مزید بڑھ جاتی ہے... لیکن اگر قانون کے محافظ ہی جعلی پولیس مقابلوں کے ذریعے قانون شکنی پر آمادہ ہو جائیں... تو پھر اس سے دہشت گردی ختم ہونے کی بجائے... مزید بڑھتی ہے... پیغام پاکستان متفقہ بیانئیے کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ ''رائو انوار'' جیسے باوردی دہشت گردوں سے پاکستانی پولیس کو پاک کیا جائے... اور اب تک جو' جو پولیس افسر جعلی مقابلوں میں شریک رہا... اسے گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے... یاد رکھیے دہشت گرد کا کوئی دین' مذہب یا زبان نہیں ہوتی... دہشت گرد کا کوئی ایک حلیہ نہیں ہوتا... دہشت گرد کے سر پر پگڑی ہو' یا ٹوپی' دہشت گرد کے جسم پر کلف لگے کپڑے ہوں یا کالی وردی... اسے بس ایک دہشت گرد کے طور پر ہی ٹریٹ کیا جانا چاہیے۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں






     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved