قادیانیت کے حوالہ سے سرکاری پالیسیوں کا یکساں تسلسل
  24  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) ان مقاصد کے لیے پاکستانی عوام نے ہمیشہ مصلحتوں سے بالاتر ہو کر قربانیاں دی ہیں اور اسلام اور ختم نبوت نے جب بھی پکارا ہے، غیور مسلمانوں نے سود و زیاں سے بے نیاز ہو کر سب کچھ نثار کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب صدر ضیا نے اسلامی نظام کے نفاذ کا وعدہ کیا تو پاکستانی عوام نے بجا طور پر ان سے یہ توقع باندھ لی کہ وہ اسلامی نظام کے ساتھ ساتھ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے دینی اور قومی مسئلہ پر بھی توجہ دیں گے، اور کے آئین میں ملتِ اسلامیہ نے کی عظیم الشان تحریک ختم نبوت کے نتیجہ میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا جو فیصلہ شامل کرایا تھا اس پر عملدرآمد کی راہ میں سابقہ حکومت کی مصلحتوں کی دیوار ہٹ جائے گی اور یہ فیصلہ اپنے آئینی اور دینی تقاضوں کی تکمیل کی منزل سے ہمکنار ہوگا۔ مسلمانوں کو بجا طور پر یہ توقع تھی کہ:قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے آئینی فیصلوں کے مطابق اب قانون سازی کا کام مکمل ہوگا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم کی حیثیت قبول کرنے پر قانونا پابند کیا جائے گا۔انہیں اسلام کے نام پر اپنے مذہب کی اشاعت سے روک دیا جائے گا۔ انہیں امیر المومنین، ام الممنین، خلیفہ، صحابی اور دیگر خالص اسلامی اصطلاحات کے استعمال سے باز کر دیا جائے گا۔ ان کی عبادت گاہوں کا نام اور ہیئت مسلمانوں کی مسجد سے الگ کر دی جائے گی۔ اسلام کے اجماعی عقائد کے خلاف اور انبیا کرام اور صحابہ کرام و بزرگان امت کی کھلم کھلا توہین پر مشتمل قادیانی لٹریچر کی اشاعت پر پابندی لگا دی جائے گی اور ان کی سرگرمیوں کو دوسری اقلیتوں کی طرح عملًا غیر مسلم اقلیت کے دائرہ میں محصور کر دیا جائے گا۔ لیکن اسلامیانِ پاکستان کی یہ توقعات نقش بر آب ثابت ہوئیں اور نہ صرف یہ کہ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلہ میں موجودہ حکومت کا کوئی اقدام (چند جزوی اور وقتی اقدامات سے قطع نظر) ابھی تک سامنے نہیں آیا بلکہ اسلامی نظام کے نفاذ کے سلسلہ میں حکومت کے وعدے اور اقدامات بھی حکومت کی مصلحتوں اور بیوروکریسی کی اٹھکیلیوں کی نذر ہوگئے۔ بھٹو حکومت نے اگر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے آئینی فیصلے پر عملدرآمد کی راہ میں مصلحتوں کی دیوار حائل کر دی تھی تو اس کی وجہ سمجھ میں آتی تھی کہ وہ خود نفاذِ اسلام کے دعویدار نہ تھے اور نہ ہی اب ان کی جماعت اسلام کی دعویدار ہے۔ وہ تب بھی سوشلزم کی بات کرتے تھے اور آج بھی اسی حوالے سے سیاست کا ناٹک رچا رہے ہیں۔ اس میں انہوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے نہیں بلکہ عوام کے بے پناہ دبا کے تحت کیا تھا۔ اس لیے اگر انہوں نے اس فیصلہ پر عملدرآمد کی طرف پیش رفت نہیں کی تو یہ بات پاکستانی مسلمانوں کے لیے زیادہ پریشانی کا باعث نہ تھی۔ مگر جب اسلام کی دعویدار اور اسلام کو اپنا مشن قرار دینے والی حکومت نے ختم نبوت کے تحفظ کے آئینی و قانونی تقاضوں کو نظر انداز کر دیا تو اس کا مسلمانوں کو صدمہ پہنچا، دکھ ہوا اور یہی صدمہ اور دکھ دھیرے دھیرے حساس دلوں کو شکوک و شبہات کی وادی میں لے گیا۔ مارشل لا کے ضابطے اور قادیانی پریس مارشل لا حکومت جب برسرِ اقتدار آئی تو اس نے پریس پر سنسرشپ نافذ کر دی اور اخبارات و جرائد اور کتابوں پر سنسر کے قواعد کا اطلاق کیا۔ لیکن امر واقعہ ہے کہ قادیانی اخبارات و جرائد، کتابیں و رسائل اور دیگر مطبوعات اب تک سنسر کی گرفت سے دور ہیں۔ دینی حلقوں کے مسلسل مطالبہ پر کچھ دنوں کے لیے روزنامہ الفضل اور ان کے چند ماہناموں پر سنسر بٹھا دیا گیا مگر اس کی گرفت بھی ڈھیلی پڑ گئی۔ جبکہ اس کے برعکس ملک بھر میں سنسر کے قوانین کا سختی کے ساتھ اطلاق کیا گیا۔ متعدد اخبارات و جرائد بند ہوگئے، ڈیکلیریشن ضبط کر لیے گئے، سرکاری اشتہارات روک لیے گئے، مدیرانِ جرائد گرفتار ہوئے اور سنسرشپ کی گرفت کو قائم رکھنے کے لیے ہر حربہ آزمایا گیا مگر قادیانی اخبارات و جرائد ان تمام کاروائیوں سے مستثنی رہے۔ اکا دکا اور جزوی واقعات کے سوا قادیانی قلمکاروں اور ناشروں کو اس بات کا مکمل تحفظ حاصل ہے کہ وہ جو چاہیں لکھیں اور جو چاہیں چھاپیں، ان کے لیے کوئی قاعدہ ہے نہ قانون۔ اور اگر گزشتہ چھ برس کے دوران شائع ہونے والے قادیانی لٹریچر کی چھان بین کسی غیرجانبدار انکوائری ٹیم سے کرائی جائے تو ایسا بے پناہ مواد ریکارڈ پر آسکتا ہے جو سنسر قوانین کے سائے میں سنسرشپ کے تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے دھڑا دھڑ چھپتا اور تقسیم ہوتا رہا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے۔ ووٹر فارموں کا حلف نامہ قادیانیت کے حوالے سے موجودہ حکومت کو اگر کسی اہم فیصلے کا کریڈٹ جاتا ہے تو وہ جداگانہ انتخابات کا فیصلہ ہے، یہ فیصلہ بلاشبہ قادیانیوں پر ضربِ کاری کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور اگر اس فیصلہ پر مخلصانہ طور پر عمل ہو جاتا یا اب بھی اس کا اہتمام ہو جائے تو قادیانیوں کے لیے خود کو اقلیتوں کے کیمپ میں منتقل کرنے کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہیں رہ جاتا۔ لیکن اس فیصلے کو سبوتاژ کرنے کے لیے کیا کیا حربے اختیار کیے گئے ان کی داستان انتہائی دلخراش ہے۔ انتخابات کے لیے ووٹروں کے اندراج کے لیے مسلمانوں کو حلف نامہ پر کرنا تھا جس میں عقیدہ ختم نبوت پر ایمان کے بارے میں آئینی فیصلے کے مطابق عبارت درج ہونا تھی۔ لیکن کروڑوں کی تعداد میں ووٹر فارم ملک میں پھیلا دیے گئے اور اس پر آئینی اور قانونی عبارت کی جگہ ایسا گول مول حلف نامہ درج کر دیا گیا جو قادیانیوں کے لیے قابل قبول تھا اور جس سے مسلمان اور قادیانی کے درمیان امتیاز نہ ہوتا تھا۔ یہ ایک چور دروازہ تھا جس کے ذریعے قادیانی بھی مسلمانوں والا فارم پر کر کے مسلمان ووٹروں کی فہرست میں شامل ہو جاتے اور انہیں غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ عملا بے اثر اور بے نتیجہ ہو کر رہ جاتا۔ اس پر احتجاج ہوا، مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر جماعتوں نے ملک کے طول و عرض میں اس پر احتجاج کیا اور سب سے بڑھ کر حضرت مولانا مفتی محمود نے اس مسئلہ کا سختی سے نوٹس لیا اور کافی تگ و دو اور ردوکد کے بعد بالآخر حلف نامہ کی عبارت کو درست کرایا گیا۔ قادیانی گروہ نے بیوروکریسی کے ذریعے کی جانے والی اس سازش کی ناکامی کے بعد ووٹروں کی فہرستوں میں اقلیت کے افراد کے طور پر اپنے نام لکھوانے سے انکار کر دیا اور اب تک وہ بائیکاٹ کے اس فیصلے پر قائم ہیں۔ مگر آئین اور قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور اس سے انکار کے باوجود ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جا رہی۔ کے آئین کی حذف شدہ دفعات موجودہ حکومت نے مبینہ طور پر بعض آئینی و قانونی تقاضوں کے پیش نظر کے آئین کی بعض دفعات کو آئین سے حذف کرنے کا اعلان کیا تو اس کی زد میں وہ دفعات بھی آگئیں جو میں تحریک ختم نبوت اور عوامی قربانیوں کے نتیجے میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی شکل میں آئین میں شامل کی گئی تھیں۔ اس پر پورے ملک میں احتجاج ہوا، لمبی چوڑی آئینی بحث ہوئی بالآخر حکومت کو مذکورہ بالا دفعات کے حذف کرنے کے بارے میں اپنے حکم نامے میں ترمیم کرنی پڑی۔ جس سے عام حلقوں میں تو کچھ اطمینان پیدا ہوا لیکن بعض آئینی ماہرین کی رائے میں اب بھی آئینی پوزیشن یہی ہے کہ قادیانیوں والا فیصلہ کے آئین کا حصہ نہیں رہا۔ (جاری ہے) عبوری آئین اور قادیانی مسئلہ'موجودہ حکومت نے نظام مملکت کو چلانے کے لیے عبوری آئین کا اعلان کیا جو ابھی نافذ ہے۔ اس آئین میں مسلمان کی تعریف کے حوالے سے عقیدہ ختم نبوت کا ذکر تو آگیا لیکن کے آئین کی جن دفعات میں قادیانیوں کا بطور غیر مسلم اقلیت ذکر تھا انہیں شامل نہ کیا گیا۔ اس پر دینی حلقوں کی طرف سے احتجاج ہوا اور مسلسل مطالبات پر بعد میں ان دفعات کو آئین میں شامل کیا گیا۔ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ'قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے تقاضوں میں ایک تقاضہ یہ بھی تھا کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ بڑھایا جائے تاکہ ہر شہری کا مذہب اس میں درج ہو اور کوئی الجھن پیدا نہ ہو۔ اس کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ سعودی عرب اور بعض دیگر اسلامی ممالک میں قادیانیوں کے داخلہ پر پابندی ہے لیکن پاسپورٹ اور شناختی کارڈ پر مذہب کا اندراج نہ ہونے کی وجہ سے قادیانی امت کے افراد دھوکہ دہی کے ذریعے وہاں جانے اور ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور جب اس ملک کے حکام سے رابطہ کیا جاتا ہے تو وہ برملا کہہ دیتے ہیں کہ یہ قصور آپ کی اپنی حکومت کا ہے کہ اس نے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ نہیں رکھا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہزاروں قادیانی مشرق وسطی میں ملازمت کر رہے ہیں اور ان کی ملازمت سے ہمیں سب سے زیادہ یہ خطرہ اور خدشہ ہے کہ مشرق وسطی کے تیل کے چشمے اس وقت عالمی طاقتوں کی کشمکش کی زد میں ہیں اور خطرات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں قادیانی گروہ جیسے انگریزوں کے پیدا کردہ جاسوس گروہ کے افراد کا اس علاقے میں ملازمتوں پر فائز ہونا اور مسلمانوں کے روپ میں وہاں موجود ہونا مسلمان ممالک اور حکومت کے لیے خطرہ ہی خطرہ ہے۔ حکومت پاکستان کو اس طرف متعدد بار توجہ دلائی گئی ہے اور دینی حلقے اس پر مسلسل زور دے رہے ہیں لیکن حکومت کو اس خطرہ کی سنگینی کا احساس تک نہیں ہے اور نہ ہی وہ اقدامات کے لیے تیار ہے۔ ڈاکٹر عبد السلام کی پذیرائی 'ڈاکٹر عبد السلام معروف قادیانی سائنسدان ہیں، انہیں سائنسی تحقیق پر نوبل انعام ملا لیکن حکومت پاکستان نے سرکاری سطح پر ان کی پذیرائی کا جس طرح اہتمام کیا اس سے مسلمانوں کا ماتھا ٹھنکا کہ آخر اس کا پس منظر کیا ہے۔ انہیں مسلمان سائنسدان کے طور پر متعارف کرایا گیا اور اس واقعہ نے تو دردمند مسلمانوں کو خون کے آنسو رلا دیا کہ اسی ہال میں ڈاکٹر عبد السلام کا مسلمان سائنسدان کے طور پر تعارف کرا کے ان کے اعزاز و تکریم کی محفل سجائی گئی جس ہال میں بیٹھ کر قوم کے منتخب نمائندوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا تاریخی فیصلہ کیا تھا۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ سب کچھ صدر مملکت کی موجودگی میں ہوا۔ ملتِ اسلامیہ نے اسے اپنے جذبات اور قومی فیصلہ کی توہین سمجھا، جذبات بھڑکے، احتجاج ہوا اور ملتِ اسلامیہ کے دینی جذبات کی نمائندگی کرنے والے پرجوش نوجوانوں نے مقدس خون سے وطن کی سڑکوں کو رنگ کر دردمند مسلمانوں کے دلوں کے گھا کو اور زیادہ گہرا کر دیا گیا۔ ڈاکٹر عبد السلام کو نوبل انعام ملنے اور پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں اس قدر پذیرائی ملنے پر دل میں یہ بات کھٹکتی ہے کہ آخر قصہ کیا ہے؟ مگر جب یہ بات منظر عام پر آئی کہ مسلمانوں کی بین الاقوامی سائنس فائونڈیشن کا سربراہ ڈاکٹر عبد السلام کو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو سارے عقدے کھل گئے اور کوئی راز راز نہ رہا۔ یہ سامراجی طاقتوں کی مخصوص حکمت عملی کا ایک حصہ ہے جس کے تحت انہوں نے اپنی مرضی اور اعتماد کے ایک شخص کو نوبل انعام کی منزل تک پہنچایا اور پھر اس کے بہانے پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں اس کی پذیرائی اور اس کا امیج بڑھانے کا اہتمام کیا گیا تاکہ اسے اسلامک عالمی سائنس فانڈیشن کا سربراہ بنانے کی راہ ہموار ہو۔ اور جب عالمی اسلامک سائنس فانڈیشن کا سربراہ سامراجی قوتوں کے اعتماد اور مرضی کا شخص ہوگا تو سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلمانوں کی ترقی کا رخ اپنی مرضی سے متعین کرنا کونسا مشکل رہے گا۔ مگر ہمارے حکمران یا تو اس بین الاقوامی چال کو سمجھ نہ سکے اور یا پھر وہ عالمی مصلحتوں کے حصار میں خود کو بے بس پا رہے ہیں۔ ربوہ کی حیثیت'ربوہ کو قادیانیوں نے پاکستان بننے کے بعد اپنے ہیڈ کوارٹر کے طور پر آباد کیا اور اس کا نام جان بوجھ کر ربوہ رکھا کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح ہونے کے دعویدار ہیں اور قرآن کریم نے جس ذات گرامی کو مسیح قرار دیا ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام ہیں اور ان کے حوالے سے قرآن کریم میں یہ ذکر ہے کہ ہم نے عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ محترم کو ربوہ میں جگہ دی۔ ربوہ کا معنی ہے اونچی جگہ۔ قادیانیوں نے عمدا اپنے نئے ہیڈکوارٹر کا نام ربوہ رکھا تاکہ عام لوگ ایک طرف مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں اپنے بارے میں مسیح ثانی ہونے کا دعوی پڑھیں اور دوسری طرف حضرت عیسی علیہ السلام کے حوالے سے قرآن کریم میں ربوہ کا نام دیکھیں تو ان کے ذہنوں میں التباس پیدا ہو اور اس التباس کو دھوکہ دہی کے جال کے طور پر استعمال کر کے انہیں قادیانیت کے لیے شکار کیا جائے۔ اور پھر اس ربوہ کی آباد کاری اس طرح کی گئی کہ وہ صرف قادیانیوں کے لیے مخصوص ہو کر رہ گیا اور کسی مسلمان کے لیے ربوہ میں آباد ہونے کی گنجائش نہ رہی۔ کی تحریک ختم نبوت کے دوران مرکزی مجلس عمل کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور اس میں مسلمانوں کو آباد ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ چنانچہ تحریک کی کامیابی کے بعد ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے لیے مندرجہ ذیل عملی اقدامات کیے گئے:ٹان کمیٹی کی حدود کو وسعت دے کر اردگرد کے مسلمان دیہات کو اس میں شامل کیا گیا۔ پولیس چوکی ربوہ کو تھانہ کی حیثیت دی گئی اور اس میں تھانہ چنیوٹ اور تھانہ لالیاں کے مسلمان دیہات کو شامل کیا گیا۔ ربوہ میں مستقل ریزیڈنٹ مجسٹریٹ کی تقرری عمل میں لائی گئی۔ لالیاں کی سب تحصیل ربوہ میں منتقل کی گئی اور سب تحصیل کا عملہ وہاں متعین کیا گیا۔ قادیانیوں کی الاٹمنٹ میں سے تیس ایکڑ واپس لے کر اور بیس ایکڑ مزید زمین خرید کر ربوہ کے اندر مسلم کالونی بنائی گئی اور ان پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا کام فیصل آباد ہاسنگ سوسائٹی کی سپرد کیا گیا۔ ظاہر ہے یہ اقدامات قادیانیوں کے مفاد میں نہیں تھے۔ سازش اور جاسوسی جس گروہ کے ضمیر میں ہو اسے بہرحال الگ تھلگ ماحول کی ضرورت ہوتی ہے اور تحصیل اور تھانہ کے واسطے سے ہزاروں مسلمانوں کی ربوہ میں آمد و رفت یقینا قادیانیوں کی مخصوص سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ تھی۔ یہ اقدامات سابقہ حکومت کے ہیں جنہیں اسلام کے نفاذ کا دعوی نہیں تھا۔ موجودہ حکومت سے توقع تو یہ تھی کہ اس کے دور میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے فیصلوں پر نہ صرف عمل ہوگا بلکہ مزید اقدامات بھی ہوں گے۔ مگر اس احساس کو دکھ کے سوا اور کیا عنوان دیا جا سکتا ہے کہ پہلے سے طے شدہ فیصلے بھی ابھی تشنہ تکمیل ہیں اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ: لالیاں سب تحصیل کے ہیڈکوارٹر کو ایک سازش کے تحت ربوہ سے دوبارہ لالیاں منتقل کرایا گیا اور مسلمان عوام کے شدید احتجاج پر اب پھر سب تحصیل ربوہ لائی گئی ہے۔ مسلم کالونی کے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا کام ایک عرصہ سے معطل پڑا ہے اور اس تعطل کو دور کرنے کے لیے کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آرہی۔ قادیانی کلیدی اسامیوں پر اور کی تحریک ختم نبوت کے بنیادی مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ فوج اور سول محکموں کی کلیدی اسامیوں پر فائز قادیانی افسران کو ان کے عہدوں سے الگ کیا جائے کیونکہ: ایک مسلمان ملک میں کلیدی عہدوں پر غیر مسلموں کو فائز نہیں کیا جا سکتا۔ قادیانی اپنے مخصوص جاسوسی کردار اور عالمی سامراجی طاقتوں کا گماشتہ ہونے کے باعث اس اعتماد کے اہل نہیں کہ انہیں کلیدی عہدوں پر فائز کیا جائے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کی حرمت اور منسوخی کا اعلان کیا تھا جبکہ پاکستانی فوج کی بنیاد ہی جذبہ جہاد پر ہے۔ اس لیے فوج میں قادیانی امت کے افراد کی بھرتی اور قادیانی آفیسرز کا تقرر بلاجواز اور خود ان کے عقیدے کے خلاف بلکہ پاکستان کے مجموعی مفاد کے بھی خلاف ہے۔ ملتِ اسلامیہ کے اس مطالبے پر میں ان قادیانیوں کو سامنے سے ہٹا لیا گیا تھا جو نمایاں کلیدی عہدوں پر فوج اور سول میں نظر آرہے تھے۔ لیکن موجودہ حکومت کے دور میں فوج اور سول دونوں شعبوں میں قادیانی افسران دوبارہ کلیدی اسامیوں پر فائز ہو چکے ہیں اور ان کے اثر و رسوخ کا یہ عالم ہے کہ وہ حکومت کی مجموعی پالیسیوں کا رخ اپنے مفادات کی طرف موڑنے پر دسترس رکھتے ہیں جیسا کہ مذکورہ بالا مثالوں سے واضح ہے۔ یہ بات ملت اسلامیہ کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن ہے اور باخبر حلقے فوج اور سول میں کلیدی اسامیوں پر قادیانیوں کی واپسی کو جنوبی ایشیا کی موجودہ علاقائی صورتحال، اس خطہ میں عالمی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور پاکستان کی سلامتی کو درپیش خدشات کے پس منظر میں ب%

تمام مذہبی مکاتب فکر کے اکابر نے مرکزی مجلس عمل کی تشکیل کا فیصلہ اسی لیے کیا ہے کہ وہ قادیانی فتنہ کو ملک و ملت کے لیے تباہ کن سمجھتے ہیں، اس گروہ کی اندرون ملک اور بیرون ملک سرگرمیوں کو ملک و قوم کے لیے شدید خطرات کا باعث سمجھتے ہیں، کلیدی اسامیوں پر قادیانیوں کی واپسی کو ملک و ملت کے مفاد کے خلاف گردانتے ہیں، ان کی بڑھتی ہوئی جارحانہ سرگرمیوں اور مولانا محمد اسلم قریشی کے اغوا کو ملت اسلامیہ کے خلاف چیلنج خیال کرتے ہیں، اور ملت اسلامیہ کے اکابر دیانت داری کے ساتھ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس وسعت پذیر فتنہ کی سرکوبی کے لیے فوری اور مشترکہ جدوجہد نہ کی گئی اور اس کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ فتنہ ملک و قوم کے لیے شدید نقصانات کا باعث بنے گا۔ صدر محمد ضیا الحق اور ان کے رفقا کو اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے اور ملت اسلامیہ کی شکایات پر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ قادیانی جارحیت کے خلاف ملت اسلامیہ کی متحدہ جدوجہد ناگزیر ہے، اس جدوجہد میں حکومت اپنا مقام خود متعین کرے، اسے ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانیوں کا فریق بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ اور اگر خدانخواستہ حکمرانوں نے اپنے لیے یہی رول پسند کر لیا ہے تو پھر عوامی اور دینی بیداری کی راہ تو بہرحال کسی طرح بھی نہیں روکی جا سکے گی البتہ اس کے نتائج و نقصانات کا اندازہ حکمران گروہ جتنی جلدی کر لے بہتر ہوگا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
100%
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved