قادیانیت کے حوالہ سے سرکاری پالیسیوں کا یکساں تسلسل
  25  جنوری‬‮  2018     |     کالمز   |  مزید کالمز

(گزشتہ سے پیوستہ) عبوری آئین اور قادیانی مسئلہ'موجودہ حکومت نے نظام مملکت کو چلانے کے لیے عبوری آئین کا اعلان کیا جو ابھی نافذ ہے۔ اس آئین میں مسلمان کی تعریف کے حوالے سے عقیدہ ختم نبوت کا ذکر تو آگیا لیکن کے آئین کی جن دفعات میں قادیانیوں کا بطور غیر مسلم اقلیت ذکر تھا انہیں شامل نہ کیا گیا۔ اس پر دینی حلقوں کی طرف سے احتجاج ہوا اور مسلسل مطالبات پر بعد میں ان دفعات کو آئین میں شامل کیا گیا۔ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ'قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے تقاضوں میں ایک تقاضہ یہ بھی تھا کہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ بڑھایا جائے تاکہ ہر شہری کا مذہب اس میں درج ہو اور کوئی الجھن پیدا نہ ہو۔ اس کی ضرورت اس لیے بھی پیش آئی کہ سعودی عرب اور بعض دیگر اسلامی ممالک میں قادیانیوں کے داخلہ پر پابندی ہے لیکن پاسپورٹ اور شناختی کارڈ پر مذہب کا اندراج نہ ہونے کی وجہ سے قادیانی امت کے افراد دھوکہ دہی کے ذریعے وہاں جانے اور ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور جب اس ملک کے حکام سے رابطہ کیا جاتا ہے تو وہ برملا کہہ دیتے ہیں کہ یہ قصور آپ کی اپنی حکومت کا ہے کہ اس نے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ نہیں رکھا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ہزاروں قادیانی مشرق وسطی میں ملازمت کر رہے ہیں اور ان کی ملازمت سے ہمیں سب سے زیادہ یہ خطرہ اور خدشہ ہے کہ مشرق وسطی کے تیل کے چشمے اس وقت عالمی طاقتوں کی کشمکش کی زد میں ہیں اور خطرات دن بدن بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں قادیانی گروہ جیسے انگریزوں کے پیدا کردہ جاسوس گروہ کے افراد کا اس علاقے میں ملازمتوں پر فائز ہونا اور مسلمانوں کے روپ میں وہاں موجود ہونا مسلمان ممالک اور حکومت کے لیے خطرہ ہی خطرہ ہے۔ حکومت پاکستان کو اس طرف متعدد بار توجہ دلائی گئی ہے اور دینی حلقے اس پر مسلسل زور دے رہے ہیں لیکن حکومت کو اس خطرہ کی سنگینی کا احساس تک نہیں ہے اور نہ ہی وہ اقدامات کے لیے تیار ہے۔ ڈاکٹر عبد السلام کی پذیرائی 'ڈاکٹر عبد السلام معروف قادیانی سائنسدان ہیں، انہیں سائنسی تحقیق پر نوبل انعام ملا لیکن حکومت پاکستان نے سرکاری سطح پر ان کی پذیرائی کا جس طرح اہتمام کیا اس سے مسلمانوں کا ماتھا ٹھنکا کہ آخر اس کا پس منظر کیا ہے۔ انہیں مسلمان سائنسدان کے طور پر متعارف کرایا گیا اور اس واقعہ نے تو دردمند مسلمانوں کو خون کے آنسو رلا دیا کہ اسی ہال میں ڈاکٹر عبد السلام کا مسلمان سائنسدان کے طور پر تعارف کرا کے ان کے اعزاز و تکریم کی محفل سجائی گئی جس ہال میں بیٹھ کر قوم کے منتخب نمائندوں نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا تاریخی فیصلہ کیا تھا۔ اور ستم بالائے ستم یہ کہ سب کچھ صدر مملکت کی موجودگی میں ہوا۔ ملتِ اسلامیہ نے اسے اپنے جذبات اور قومی فیصلہ کی توہین سمجھا، جذبات بھڑکے، احتجاج ہوا اور ملتِ اسلامیہ کے دینی جذبات کی نمائندگی کرنے والے پرجوش نوجوانوں نے مقدس خون سے وطن کی سڑکوں کو رنگ کر دردمند مسلمانوں کے دلوں کے گھا کو اور زیادہ گہرا کر دیا گیا۔ ڈاکٹر عبد السلام کو نوبل انعام ملنے اور پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں اس قدر پذیرائی ملنے پر دل میں یہ بات کھٹکتی ہے کہ آخر قصہ کیا ہے؟ مگر جب یہ بات منظر عام پر آئی کہ مسلمانوں کی بین الاقوامی سائنس فائونڈیشن کا سربراہ ڈاکٹر عبد السلام کو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو سارے عقدے کھل گئے اور کوئی راز راز نہ رہا۔ یہ سامراجی طاقتوں کی مخصوص حکمت عملی کا ایک حصہ ہے جس کے تحت انہوں نے اپنی مرضی اور اعتماد کے ایک شخص کو نوبل انعام کی منزل تک پہنچایا اور پھر اس کے بہانے پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک میں اس کی پذیرائی اور اس کا امیج بڑھانے کا اہتمام کیا گیا تاکہ اسے اسلامک عالمی سائنس فانڈیشن کا سربراہ بنانے کی راہ ہموار ہو۔ اور جب عالمی اسلامک سائنس فانڈیشن کا سربراہ سامراجی قوتوں کے اعتماد اور مرضی کا شخص ہوگا تو سائنس اور ٹیکنالوجی میں مسلمانوں کی ترقی کا رخ اپنی مرضی سے متعین کرنا کونسا مشکل رہے گا۔ مگر ہمارے حکمران یا تو اس بین الاقوامی چال کو سمجھ نہ سکے اور یا پھر وہ عالمی مصلحتوں کے حصار میں خود کو بے بس پا رہے ہیں۔ ربوہ کی حیثیت'ربوہ کو قادیانیوں نے پاکستان بننے کے بعد اپنے ہیڈ کوارٹر کے طور پر آباد کیا اور اس کا نام جان بوجھ کر ربوہ رکھا کیونکہ مرزا غلام احمد قادیانی مسیح ہونے کے دعویدار ہیں اور قرآن کریم نے جس ذات گرامی کو مسیح قرار دیا ہے وہ حضرت عیسی علیہ السلام ہیں اور ان کے حوالے سے قرآن کریم میں یہ ذکر ہے کہ ہم نے عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ محترم کو ربوہ میں جگہ دی۔ ربوہ کا معنی ہے اونچی جگہ۔ قادیانیوں نے عمدا اپنے نئے ہیڈکوارٹر کا نام ربوہ رکھا تاکہ عام لوگ ایک طرف مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں اپنے بارے میں مسیح ثانی ہونے کا دعوی پڑھیں اور دوسری طرف حضرت عیسی علیہ السلام کے حوالے سے قرآن کریم میں ربوہ کا نام دیکھیں تو ان کے ذہنوں میں التباس پیدا ہو اور اس التباس کو دھوکہ دہی کے جال کے طور پر استعمال کر کے انہیں قادیانیت کے لیے شکار کیا جائے۔ اور پھر اس ربوہ کی آباد کاری اس طرح کی گئی کہ وہ صرف قادیانیوں کے لیے مخصوص ہو کر رہ گیا اور کسی مسلمان کے لیے ربوہ میں آباد ہونے کی گنجائش نہ رہی۔ کی تحریک ختم نبوت کے دوران مرکزی مجلس عمل کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے اور اس میں مسلمانوں کو آباد ہونے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ چنانچہ تحریک کی کامیابی کے بعد ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے لیے مندرجہ ذیل عملی اقدامات کیے گئے:ٹان کمیٹی کی حدود کو وسعت دے کر اردگرد کے مسلمان دیہات کو اس میں شامل کیا گیا۔ پولیس چوکی ربوہ کو تھانہ کی حیثیت دی گئی اور اس میں تھانہ چنیوٹ اور تھانہ لالیاں کے مسلمان دیہات کو شامل کیا گیا۔ ربوہ میں مستقل ریزیڈنٹ مجسٹریٹ کی تقرری عمل میں لائی گئی۔ لالیاں کی سب تحصیل ربوہ میں منتقل کی گئی اور سب تحصیل کا عملہ وہاں متعین کیا گیا۔ قادیانیوں کی الاٹمنٹ میں سے تیس ایکڑ واپس لے کر اور بیس ایکڑ مزید زمین خرید کر ربوہ کے اندر مسلم کالونی بنائی گئی اور ان پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا کام فیصل آباد ہاسنگ سوسائٹی کی سپرد کیا گیا۔ ظاہر ہے یہ اقدامات قادیانیوں کے مفاد میں نہیں تھے۔ سازش اور جاسوسی جس گروہ کے ضمیر میں ہو اسے بہرحال الگ تھلگ ماحول کی ضرورت ہوتی ہے اور تحصیل اور تھانہ کے واسطے سے ہزاروں مسلمانوں کی ربوہ میں آمد و رفت یقینا قادیانیوں کی مخصوص سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ تھی۔ یہ اقدامات سابقہ حکومت کے ہیں جنہیں اسلام کے نفاذ کا دعوی نہیں تھا۔ موجودہ حکومت سے توقع تو یہ تھی کہ اس کے دور میں ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کے فیصلوں پر نہ صرف عمل ہوگا بلکہ مزید اقدامات بھی ہوں گے۔ مگر اس احساس کو دکھ کے سوا اور کیا عنوان دیا جا سکتا ہے کہ پہلے سے طے شدہ فیصلے بھی ابھی تشنہ تکمیل ہیں اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ: لالیاں سب تحصیل کے ہیڈکوارٹر کو ایک سازش کے تحت ربوہ سے دوبارہ لالیاں منتقل کرایا گیا اور مسلمان عوام کے شدید احتجاج پر اب پھر سب تحصیل ربوہ لائی گئی ہے۔ مسلم کالونی کے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا کام ایک عرصہ سے معطل پڑا ہے اور اس تعطل کو دور کرنے کے لیے کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آرہی۔ (جاری ہے) قادیانی کلیدی اسامیوں پر اور کی تحریک ختم نبوت کے بنیادی مطالبات میں ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ فوج اور سول محکموں کی کلیدی اسامیوں پر فائز قادیانی افسران کو ان کے عہدوں سے الگ کیا جائے کیونکہ: ایک مسلمان ملک میں کلیدی عہدوں پر غیر مسلموں کو فائز نہیں کیا جا سکتا۔ قادیانی اپنے مخصوص جاسوسی کردار اور عالمی سامراجی طاقتوں کا گماشتہ ہونے کے باعث اس اعتماد کے اہل نہیں کہ انہیں کلیدی عہدوں پر فائز کیا جائے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کی حرمت اور منسوخی کا اعلان کیا تھا جبکہ پاکستانی فوج کی بنیاد ہی جذبہ جہاد پر ہے۔ اس لیے فوج میں قادیانی امت کے افراد کی بھرتی اور قادیانی آفیسرز کا تقرر بلاجواز اور خود ان کے عقیدے کے خلاف بلکہ پاکستان کے مجموعی مفاد کے بھی خلاف ہے۔ ملتِ اسلامیہ کے اس مطالبے پر میں ان قادیانیوں کو سامنے سے ہٹا لیا گیا تھا جو نمایاں کلیدی عہدوں پر فوج اور سول میں نظر آرہے تھے۔ لیکن موجودہ حکومت کے دور میں فوج اور سول دونوں شعبوں میں قادیانی افسران دوبارہ کلیدی اسامیوں پر فائز ہو چکے ہیں اور ان کے اثر و رسوخ کا یہ عالم ہے کہ وہ حکومت کی مجموعی پالیسیوں کا رخ اپنے مفادات کی طرف موڑنے پر دسترس رکھتے ہیں جیسا کہ مذکورہ بالا مثالوں سے واضح ہے۔ یہ بات ملت اسلامیہ کے لیے سب سے زیادہ پریشان کن ہے اور باخبر حلقے فوج اور سول میں کلیدی اسامیوں پر قادیانیوں کی واپسی کو جنوبی ایشیا کی موجودہ علاقائی صورتحال، اس خطہ میں عالمی طاقتوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور پاکستان کی سلامتی کو درپیش خدشات کے پس منظر میں بھی شدید خطرات کا پیش خیمہ سمجھ رہے ہیں۔ مولانا محمد اسلم قریشی کا اغوا'مولانا محمد اسلم قریشی کے اغوا اور ان کی بازیابی میں مسلسل نو ماہ کی تاخیر نے بھی مسلمانوں کے اس احساس اور شبہ کو تقویت پہنچائی ہے کہ قادیانی گروہ موجودہ حکومت کے سائے میں خود کو نہ صرف مضبوط دیکھ رہا ہے بلکہ مسلمانوں کے خلاف جارحانہ اقدامات اور اشتعال انگیز کاروائیوں کا بھی حوصلہ رکھتا ہے۔ مولانا محمد اسلم قریشی کا اغوا قادیانیوں نے کیا اور اس ضمن میں مولانا موصوف کے فرزند صہیب اسلم قریشی کو اغوا کرنے کی کوشش میں گرفتار ہونے والے شخص صفدر رانا نے کرائمز برانچ کی تفتیش میں اعتراف کیا ہے کہ وہ قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا طاہر سے ملا ہے اور ان کے حکم پر لاہور میں ریٹائرڈ قادیانی بریگیڈیر وکیع الزمان سے ملا ہے اور پھر اس کی ہدایت پر سیالکوٹ میں صہیب اسلم قریشی سے ملاقاتوں کا سلسلہ اس نے جاری رکھا ہے۔ ملت اسلامیہ کا مطالبہ ہے کہ مرزا طاہر کو گرفتار کر کے اسلم قریشی کیس میں شامل تفتیش کیا جائے اور جب صفدر رانا نے تسلیم کیا ہے کہ مرزا طاہر اس کیس میں ملوث ہیں مگر حکومت مولانا اسلم قریشی کیس میں مرزا طاہر کو شامل تفتیش کرنے سے مسلسل گریزاں ہے بلکہ اس کیس کا رخ موڑنے کی جو کوشش کی جا رہی ہے وہ انتہائی افسوسناک بات ہے۔ ربوہ کالج کی زمین'جب ملک میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے قومی ملکیت میں لیے گئے تو ان کے ساتھ ان کی جائیدادیں بھی قومیا لی گئیں لیکن ربوہ کے تعلیم الاسلام کالج کو قومیاتے وقت اس کے ساتھ ملحقہ کروڑوں روپے کی جائیداد کو قادیانیوں کے تصرف میں رہنے دیا گیا اور مسلمانوں کے مسلسل مطالبے کے باوجود ربوہ کالج کی زمین کو قومیانے سے عملا گریز کیا جا رہا ہے۔ ایک مرحلہ میں موجودہ حکومت کے سربراہ نے اس کے احکام جاری کر دیے تھے مگر خدا جانے وہ احکام کونسے سرد خانے میں ہیں کیونکہ ربوہ کالج کی زمین ابھی تک قادیانیوں کے تصرف میں ہے۔ یہ ہیں وہ چند واقعات اور حکومت کے اقدامات اور پالیسیوں کا تسلسل جس نے لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات کو جنم دیا اور وہ شبہات بڑھتے بڑھتے اس موڑ پر آ پہنچے کہ بعض حلقے خود صدر محمد ضیا الحق کو قادیانی قرار دینے سے بھی نہیں ہچکچائے اور صدر موصوف کو اپنے عقیدہ اور جذبات کا اظہار کرنا پڑا۔ صدر محمد ضیا الحق کی وضاحت سے ہمیں خوشی ہوئی ہے اور ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن یہ وضاحت ان کی ذات کی حد تک ہے جبکہ ان کی پالیسیوں کا مسئلہ جوں کا توں ہے اور اس وقت تک جوں کا توں رہے گا جب تک صدر کے ذاتی عقائد و جذبات کی واضح جھلک ان کی حکومت کی پالیسیوں میں نظر نہیں آتی۔ تمام مذہبی مکاتب فکر کے اکابر نے مرکزی مجلس عمل کی تشکیل کا فیصلہ اسی لیے کیا ہے کہ وہ قادیانی فتنہ کو ملک و ملت کے لیے تباہ کن سمجھتے ہیں، اس گروہ کی اندرون ملک اور بیرون ملک سرگرمیوں کو ملک و قوم کے لیے شدید خطرات کا باعث سمجھتے ہیں، کلیدی اسامیوں پر قادیانیوں کی واپسی کو ملک و ملت کے مفاد کے خلاف گردانتے ہیں، ان کی بڑھتی ہوئی جارحانہ سرگرمیوں اور مولانا محمد اسلم قریشی کے اغوا کو ملت اسلامیہ کے خلاف چیلنج خیال کرتے ہیں، اور ملت اسلامیہ کے اکابر دیانت داری کے ساتھ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اس وسعت پذیر فتنہ کی سرکوبی کے لیے فوری اور مشترکہ جدوجہد نہ کی گئی اور اس کے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو کنٹرول نہ کیا گیا تو یہ فتنہ ملک و قوم کے لیے شدید نقصانات کا باعث بنے گا۔

صدر محمد ضیا الحق اور ان کے رفقا کو اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے اور ملت اسلامیہ کی شکایات پر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔ قادیانی جارحیت کے خلاف ملت اسلامیہ کی متحدہ جدوجہد ناگزیر ہے، اس جدوجہد میں حکومت اپنا مقام خود متعین کرے، اسے ملت اسلامیہ کے خلاف قادیانیوں کا فریق بننے سے گریز کرنا چاہیے۔ اور اگر خدانخواستہ حکمرانوں نے اپنے لیے یہی رول پسند کر لیا ہے تو پھر عوامی اور دینی بیداری کی راہ تو بہرحال کسی طرح بھی نہیں روکی جا سکے گی البتہ اس کے نتائج و نقصانات کا اندازہ حکمران گروہ جتنی جلدی کر لے بہتر ہوگا۔


اس خبر کے بارے میں اپنی رائے دیجئے
پسند آئی
 
ٹھیک ہے
 
کوئی رائے نہیں
 
پسند ںہیں آئی
 


 سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں





  اوصاف سپیشل

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

آج کا مکمل اخبار پڑھیں

کالمز

کالم /بلاگ


     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ روزنامہ اوصاف محفوظ ہیں۔
Copyright © 2016 Daily Ausaf. All Rights Reserved